بہت عرصے سے ہم مغربی دنیا کے گلولائزیشن اور ون ورلڈ آرڈر کے نعروں کی بازگشت سنتے چلے آرہے تھے اور قریب النظر میں مواصلات اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی بنا پر فاصلے سمٹنے سے یہ بات ایک حقیقت کا روپ دھارتی نظر بھی آ رہی تھی کہ اسی دوران مغرب اپنی جنگی خصلت کو بروئے کار لاتے ہوئے نہتی اور خود مغرب کے ہاتھوں کمزور رکھی گئ مسلم دنیا پر چڑھ دوڑا اور سمجھنے لگا کہ اب اس دنیا پر وہ بلا شرکت غیرے حکمران ہے_ دراصل یہ دنیا پر مغربی غلبے کی دوسری فیز تھی_ اسی دوران ان ہی کے گلولائزیشن کے تصور کے تحت چین نے بھی اپنی ٹیکنالوجی، معیشت اور دھیمے مزاج کی بدولت ماحول کو سازگار دیکھتے ہوئے گلولائزیشن کے فوائد سے استفادہ کرتے ہوئے پر پرزے نکالنے شروع کئے تو امریکہ بہادر کے رونگٹھے کھڑے ہوگئے_
امریکہ اکیلا تو کچھ کر نہیں سکتا تھا تو اس نے اپنی Anglo-Saxon اور Judeo-Christian فلاسفی کے تحت اپنے لنگوٹیا دوستوں برطانیہ اور اسرائیل کو چین کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے انھیں پہلے سے طے شدہ منصوبوں کو منسوخ کرنے کا حکم بھی دے ڈالا_ اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اسرائیل اور برطانیہ امریکہ سے کہتے کہ گلولائزیشن کے دور میں ہر قوم کو اپنے معاشی مفادات اور تعلقات کو آگے بڑھانے کا حق ہے، لیکن، ہمہ قسم کے نتائج اور عواقب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے برطانیہ نے اپنے 5G کے پروگرام میں سے چینی کمپنی Hawaii کو، چین کے شور مچانے کے باوجود، بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ اسرائیل نے امریکہ کی حاشیہ برداری میں، چین سے انتہائ قریب تعلقات کے باوجود، پہلے سے طے شدہ ٹھیکوں کے ضمن میں امریکی تدابیر کے مطابق اقدامات اٹھانے شروع کردیئے اور آئندہ کے متوقع چین-اسرائیل منصوبوں سے پسقدمی کرنے کا عندیہ بھی دے دیا_ اس معاملے میں دنیا کی سب سے بڑی عسکری اور معاشی قوت نے اسرائیل اور برطانیہ کو کوئ دھمکی نہیں دی صرف یہی باور کروایا کہ چین انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل اور برطانیہ کے ہمہ قسم ڈیٹابیس تک رسائ کے قابل ہو کر مغربی دنیا کے غلبے کی راہ میں رکاوٹ بن جائے گا_
کہاں گئے قوموں کو اکٹھا کرنے اور گلوبل دوستی، محبت اور ترقی کے مغربی دعوے؟ کہاں گئ اسرائیل اور برطانیہ کی Nationalism؟ اس سے یہ یہ بات بھی عیاں یوگئ کہ گلوبلائزیشن دراصل مغرب کی عالمگیر ٹھگی کا ہی نام تھا جس میں دوسری قوموں کے ذمے بس مغربی میڈیا اور طرز زندگی کے سحر میں مبتلا ہو کر اپنے انسانی اور قدرتی وسائل کو مغربی ساہوکاروں اور دلالوں کے ہاتھوں لٹوائے چلے جانا کا تھا، لیکن چین نے رنگ میں بھنگ کی فضا آشکار کردی_ اگرچہ اس میں اسرائیل کے اپنے مفاد کی عالمی سیاست ایک الگ بحٹ ہے_ سرراہ ایسے ہی جذباتی تعلقات کی ایک اور مثال کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ قوموں کے درمیان آزادی، مساوات اور انصاف کو یقینی طور پر قائم رکھنے کے خدائ دعویدار امریکہ نے ہمیشہ حقائق سے منہ موڑ کر اسرائیل اور بھارت کے کشمیر اور بھارت میں جاری استبداد کی یکطرفہ چشم پوشی اور حمایت کی ہے_ بہر حال، امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے سیاسیات، معاشیات اور عمرانیات کے منطقی فلسفوں، سائنسی حقیقتوں اور عقلی استدلات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے تاریخی اور مذہبی جذبات کو ترجیح دی جو بین الاقوامی معاملات میں جذبات پر مبنی محبت اور تعلق کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں_
اقوام کے باہمی معاملات کا مطالعہ و مشاہدہ کئ طرح سے کیا جاتا ہے لیکن جب بات ترکی اور عربوں کی موجودہ باہمی صورتحال کی ہو تو عالم اسلام میں دونوں فریقوں کے حوالے سے دونوں قریقوں سے مذہبی اور سیاسی پہلوؤں سے اتاہ درجے کی جذباتی کیفیت کو جانے بغیر موجودہ صورتحال کو سمجھنا مشکل اور عالم اسلام کے مستقبل کا تعین ناممکن ہے_ نہ صرف عوامی سطح پر بلکہ ارباب حل و عقد بھی نفسیاتی اعتبار سے ان پہلوؤں کو Primary عوامل سمجھتے ہیں_ اگرچہ ایک لحاظ سے اس کے انتہائ اہم پہلو عربوں اور ترکوں میں قومیت کے جذبات، اندرونی سیاسی معاملات، ریاستوں کے اپنے اپنے معاشی مفادات، ان عوامل سے جڑے عسکری اور بین الاقوامی امور کے اثرات کی بحث بھی ہونی چاہیئے لیکن جذبات کی دنیا میں نہ صرف یہ کہ یہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق مخفی شکل اختیار کئے ہوئے ہیں بلکہ ثانوی حیثیت اختیار کئے ہوؤے ہیں_ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسا دانستہ طور پر نہیں کیا گیا بلکہ یہ ایک قدرتی مظہر ہے_ اس مباحثے سے مسلم دنیا کی سیاسی شعور کی بیداری کا راستہ بھی نکل سکتا ہے اور دونوں فریقوں کے ضد اور عناد کی بنیاد پر کیئے گئے فیصلے اور پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کی غیرجانبداری، نان-سٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے پراکسی وارز کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے اور نظریاتی تنوع کی مباحث کے ذریعے معاشرتی تقسیم کی گہرائ کو کم بھی کر سکتے ہیں اور اسے خطرناک حد تک بڑھایا بھی جا سکتا ہے_ آج ہم جو بیج کاشت کریں گے، کل اسی کا پھل کھائیں گے_
اس تمہید کا مقصد اس بات کی وضاحت ہے کہ اقوام اپنے جذبات کی قوت سے synergical-effect کے ذریعے کس طرح سے کمزوریوں کو طاقت میں بدل کر خطرات میں سے مواقع تلاش کرکے اپنے ویژن کے حصول کیلئے اپنے سنگ میل اور ترجیحات طے کرتی ہیں_ یہ ان لوگوں کیلئے بھی آئینہ ہے جو مسلم دنیا کو اندرونی اور بیرونی طور پر Pan-Islamism اور امت مسلمہ جیسی حقیقت کو fantasy اور myth قرار دینے کی سنجیدہ یا تضحیکانہ کاوش کرتے ہیں؛ یا تو وہ خود الجھن اور مایوسی کا شکار ہیں یا باطنی بغض رکھتے ہیں_ اسی وجہ سے ان میں سے بعض ایک فیشن کے تحت امت کے نیم حکیم بن کر نت نئے غیر فطری اور غیر حقیقی مشورے دے کر لاشعوری طور پر یا شعوری طور پر اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کیلئے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے جان بوجھ کر مایوسی پھیلاتے رہتے ہیں؛ دوسری قسم کے لوگ تو ویسے ہی مسلمانوں میں الجھن اور مایوسی پھیلا کر، ملکی، علاقائ اور عالمی استحکام کے نام پر، اپنا شکار کئے رکھنے کا کھیل ہر لمحہ جاری رکھتے ہیں_ اسی کھیل کا نام انھوں نے خود اسلام اور مسلمانوں کے درمیان ایک جنگ رکھا ہوا ہے_
اگر امت مسلمہ کو اکٹھا کرنے کے خیال کو دور کی کوڑی، خام خیالی اور دیوانوں کا خواب سمجھ بھی لیا جائے بھی تو پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ بھلے دنوں کی دوستی کے مدنظر کرائسز کے خاتمے کیلئے آگے بڑھ کر عالم اسلام کی دو عظیم الشان ذیلی عرب اور ترک تہزیبوں اور اقوام کے درمیان مفاہمتی اور مصالحتی کردار، زبردستی بھی ادا کرنا پڑے تو لازمی کرے_ اس سے مایوسی میں ڈوبی امت مسلمہ کو کچھ تو سہارا ملے گا اور پاکستان کی قدر و قیمت ان کی نگاہ میں بڑھے گی_ اسی سے ٹقافتی، تجارتی، سیاحتی اور سیاسی روابط کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے_ اگر پاکستان اس بارے میں کوئ سرگرم کردار ادا کرتا ہے تو یہ بات پاکستان کے اندرونی فکری اور دیگر استحکام کیلئے بڑی سودمند ثابت ہوگی، پاکستانی قوم کو ایک ویژن اور حوصلہ ملے گا کہ محض جنگی میدان میں ہی نہیں موقع ملنے پر ہم میدان امن میں بھی soft-power رکھتے بھی ہیں اور articulate بھی کر سکتے ہیں_ اس طرح سے ہم اپنی غفلت کے پاداش پیدا ہونے والے اپنے معاشرتی انتشار اور خلفشار کے علاوہ عرب، ترک معاملے پر پیدا ہونے والے ارتعاش کی شدت کو بھی کم، معتدل اور کنٹرول کرنے کے قابل ہو سکیں گے_ سب سے بڑھ کر یہ کہ عالمی سطح پر اجارہ داری کی بڑی طاقتوں کی کشمکش میں ہمیں کچھ بھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملنے والا؛ جیسا کہ حصہ بقدر جثہ والی کہاوت ہے، ہمارا سفارتی قد کاٹھ بڑھے گا تو ہی ہم بڑی طاقتوں سے بارگیننگ کے قابل ہوںگے_ قومیں تو اپنے لیئے مواقع ڈھونڈنے کیلئے، نامعلوم کیا کیا ڈھونگ کرتی ہیں اور پاکستان کو تو اپنے ہی ایک قسم کے competitive-advantage کے تحت موقع مل رہا ہے_ پاکستانی قوم اور مسلم دنیا کی بدقسمتی ہوگی اگر پاکستان اس معاملے میں 360 ڈگری سے اپنی صلاحیت، سفارتی قابلیت اور موقع کو استعمال نہیں کرتا_
میں نہیں کہتا کہ پاکستان کیلئے کوئ کھلی شاہراہ ہے جس پر ڈورتا ہی چلا جائے گا، نہیں بلکہ ذمہ داری، حالات کی نزاکت اور اس سے مستقبل پر پڑنے والے اثرات اور حاصل ہونے والے ملکی اور اجتماعی فوائد کا تقاضہ ہے کہ پاکستان اپنا منصوبہ کی objectivity کو خود مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی پہلو کو عربوں کی دولت کے بہاؤ، ترکوں کی قومیت کے غیرمعقول جذبات سے چوکنا رہے اور ذمہ داری کے ساتھ انھیں سمجھاتا بھی رہے_ اسکے علاوہ پاکستان کو عربوں اور ترکوں کے درمیان قومی اور مذہبی منافرت کے پہلو سے پیدا ہونے والے غیرمتوازن روئیوں کو بھی متوازن کرنا ہوگا؛ اس سلسلے میں عربی اور ترکی زبان، کلچر اور مسلم دنیا کا اجتماعی درد رکھنے والے مسلم مایرین، علماء دانشوروں، صحافیوں اور اساتذہ کی تکلفات اور لوازمات سے پاک ماحول میں لینے کی ضرورت ہے اور انکی کوئ کمی بھی نہیں ہے_ ملیشیا، انڈونیشیا، عرب اور ترکی سب جگہ سے ایسے لوگ اکٹھا کرکے خیرسگالی کی ایک کونسل تشکیل دی جا سکتی یے_ اپنی بات پھر دہراتا ہوں کہ پاکستان میں بین المسلمین فکری اور نظریاتی خلیج کو پاٹنے، عوام اور حکام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کا اس سے بہتر موقع شائد ہی مل پائے_
اسکے علاوہ پاکستان کیلئے کچھ ان دیکھی یعنی absurd رکاوٹیں بھی ہیں مثلاً پاکستان میں مغربی ممالک کی مداخلت قوت کا خوف؛ تو اس سلسلے میں پاکستان کب تک خوف کھاتا رہے گا؟ اب جب سب protectionism کو فوکس کر رہے ہیں تو ہمیں کسی سے خوف کھانے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ سوائے اسکو lame-excuse کے طور پر استعمال کرنے، inactivity اور pessimism کو جاری رکھنے کے_ ایک اور خوف مغربی ممالک سے تجارتی اور معاشی تعلقات بگڑنے کا ہے تو پاکستان، ترکی اور عرب کوئ اس جذبہ خیر سگالی سے ایک نیا ورلڈ آرڈر تھوڑا جاری کرنے جا رہے ہیں بلکہ یہ تو علاقائ استحکام اور دیڑھ ارب مسلمانوں میں عرب، ترک معاملے کو لیکر پیدا ہونے والے اضطراب کو قابو میں رکھنے کا معاملہ ہے، اس سے بڑھ کر انسانیت کی خدمت کیا ہوسکتی ہے؟ اگر پاکستان اعلانیہ یہ سب کچھ نہیں کرسکتا تو پاکستانی حکام، ریاست، ارباب حل و عقد اسکے لیئے alternate-strategies تلاش کرکے بھی معاملات کو چلا سکتے ہیں؛ یہ معاملہ کوئ افغانستان میں چار دہائیوں سے زیادہ پیچیدہ نہیں ہے، جہاں کئ عالمی طاقتوں کے درمیان سینڈوچ بنائے جانے کے باوجود ہم survive کرتے چلے آئے_ اسکے علاوہ ہمیں اس وقت یا مستقبل قریب میں چین اور مغرب کی متوقع مخاصمت اور polarization میں اپنی direction اور dimension کی dynamics کو بھی تو دیکھنا ہے، جس میں ہم اپنے مفادات کا حل ہر دو فریقین کے ساتھ معاملات کو تول کر نکالنے میں کچھ نہ کچھ opportunity-cost تو برداشت کریں گے ہی؟ تو ہم اپننے داخلی استحکام کیلئے اپنی خارجہ پالیسی اور سفارتکاری کو ایک broad-spectrum میں لاکر اپنے ملک کی سفارتکاری کو اس پیچیدہ عمل سے گزار کر کندن کرسکتے ہیں_ اسی میں اس سوال کا جواب اور حل موجود ہے کہ ہم میدان جنگ میں جیتی ہوئ بازی مذاکرات کی میز پر کیوں کھو دیتے ہیں؟ اپنی حکمت عملی تشکیل دے کر سفارتی مشینری کو پیچیدہ سفارتکاری کے عمل سے گزارنا پاکستان کیلئے ایک امتحان بھی ہے اور آگے بڑھنے کیلئے ایک قطب نما بھی_
اگر آج مملکت خداد بطور ایک ایٹمی قوت، ایک بہادر اور پیشہ وارانہ صلاحیت کی حامل فوج اور دفاعی اداروں سے والہانہ محبت رکھنے اور قربانی دینے والی قوم اور عالم اسلام میں مواقع ملنے کے مواقع کے باوجود بھی آگے نہیں بڑھتا تو پھر نہ صرف اہل پاکستان بلکہ پوری ملت اسلامیہ کو ایسا سمجھنے، کہنے اور سننے میں عار محسوس نہیں ہونی چاہیئے کہ پورا عالم اسلام مغربی کے divide and rule کے فلسفہ کی روشنی میں تشکیل دیئے ہوئے nation-state system اور اس neo-nationalism نوقومیتی تصورات اور نظریات میں ٹھٹھر کر رہ گیا ہے_ جسکے تحت جب کسی بڑی قوت کا کوئ منصوبہ پورا کرنے کا پلان ہوتا ہے وہ ہمارے مختلف ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کو جوڑ کر یا لڑوا کر، چند طبقات کی جیب گرم کرکے پیچھے ایک دوسرے کو دست و گریباں کرکے یہ جا اور وہ جا_ سفارتی میدان میں جنبش نہ ہونے کی ایک اور وجہ موجودہ عالمی نظام میں مسلمانوں سے متعلق معاملات کے سلسلے میں، پاکستان کے ارباب اختیار اور مقتدر قوتوں کا اپنی کامیابی کے امکانات کو بہت کم سمجھتا بھی ہو سکتا ہے_ تو اس کے حل کی ذمہ داری بھی منطقی اور تکنیکی اعتبار سے خود انکے اوپر ہی عائد ہوتی ہے کیونکہ Authority اور Responsibility کا تعلق پتھر کے زمانے سے لیکر آج ڈیجیٹل دور تک کے ارباب اختیار و اقتدار سے جسم اور روح والا ہے_ قوم یا قبیلہ چھوٹا ہو یا بڑا، ایک نہ ایک دن اپنے سرداروں اور سرکردہ حلقوں کے تجاہل کے بارے غور ضرور کرتا ہے_ بہتر ہے ہم اسکا ادراک کرتے ہوئے خود کوئ تدارک کرلیں تاکہ عوام کو حوصلہ ملے، ورنہ پھر Social - media کے دور میں عوام کو حکام کی سستیوں اور غفلت، عوام کی محرومیوں اور قومی ناکامیوں کے بارے آگاہ کرنا دشمن ممالک کیلئے کوئ جوئے شیر لانے کے مترادف نہیں رہا_ اس کے ذریعے وہ نہ صرف یہ کہ مایوسی بلکہ اپنے لیئے گماشتے اور غدار پیدا کرنے کی کوشش بھی کریں گے اور سب سے بڑا خطرہ abstract-conceptualization کو ہوا دینے کا ہے؛ دشمن ہمارے عوام کو یہ کہہ کر ورغلا رہا ہے کہ تم لوگ نظریاتی طور پر خالی الدامن ہو یا کھوکھلے نظریات کے حامل ہو_
کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ اسی ورلڈ آرڈر میں پاکستان کے ارباب اختیار اور حکومتی حلقوں کے پاس ملکی اور قومی بقاء کا کوئ نہ کوئ اپنا فارمولہ یا ترجیحات ہیں کہ جس کی بنا پر ان کو کشمیر، فلسطین، افغانستان، عربوں،ترکوں اور ایرانیوں کے مسائل کا حل نچلے درجہ کا محسوس ہوتا ہے اور وہ اس سے بھی کسی مقصد کی تکمیل کیلئے اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلم دنیا کے مقتدر اور حکمران طبقے اور طبقہ اشرافیہ مغربی ورلڈ آرڈر پر اس قدر ریجھ چکے ہیں کہ انھیں اپنے آس پاس کا جمود محسوس ہی نہیں ہوتا جبکہ عوام کو غلام گردش کی آنیاں جانیاں بس عوام کی passion-mangement کے لیئے ہی رواں دواں ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے حکام مغربی طاقتوں کی مداخلتی قوت یا عسکری حملے کے خوف کے سائے میں کب تک زندہ رہ سکتے ہیں؟ اگر یہ تیسری دنیا کے عوام کو قابو میں رکھنے کے ہتھیار تھے تو ہر ہتھیار کے چلنے کا ایک وقت اور دور ہوتا ہے؛ اب مغربی قوتوں کو بھی اسکا اندازہ ہوگیا ہے، اسی لیئے ففتھ-جنریشن اور ہائبرڈ وارفیئر جیسے تصورات، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مائنڈ انجینئرنگ جیسے جنگی امور سامنے لائے گئے ہیں، یہ محض ترقی کے نہیں بوقت انکی ضرورت کسی قوم کے خلاف تنزّلی کے ہتھیار بھی ہیں اور فتح اس ہی کے نام ہوتی ہے جسکا پلان اپنا ہوتا ہے، ہاں آپ ساتھ کھڑے ہو کر دانت نکال کر سیلفی ضرور بنوا سکتے ہیں_
داستان کو جتنا مرضی طول دے لیں، معاملہ قوت ارادی اور احساس کا ہے؛ اگر یہ دونوں قوتیں متحرک ہو جائیں تو قومی تحرک میں کچھ مشکل محسوس نہیں ہوتا_ حالات اتنے گھمبیر ہیں کہ مسلم دنیا میں سرخ فیتے، سفارتی تکلفات، ادب آداب کے لوازمات اور اجلاسوں کی شاہ خرچیوں کی گنجائش بالکل نہیں رہی؛ اب سادگی اپنانے کی اشد ضرورت ہے_ Hologram اور webinar کے اس آسان دور میں میل ملاپ بس ایک کلک پر آچکا ہے، اہمیت اور افادیت ہے تو اپنے نظریات، ویژن، آئڈیئلز اور مفادات کے تحت منصوبہ بندی کرکے اسے قومی امنگوں کے مطابق عملی جامہ پہنانے کی قوت ارادی کی ہے_ پاکستان قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے پہلے دوست مسلم ممالک کو اعتماد میں لے، عربوں اور ترکوں کو حالات اور مستقبل کے تقاضوں کا احساس دلائے اور OIC کا وقار بحال کرے_ اب جو پاکستانی وزیر خارجہ نے تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت سعودی عرب کو او-آئ-سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے میں لیت و لعل کرنے پر جو تنبیہ کی ہے اور متبادل اقدامات کا اعلان کیا ہے ایسا کرنا اب مجبوری ہے_ لیکن، اس اختلاف کو مجبوری کا شاخسانہ سمجھتے ہوئے پاکستان بس اپنی اسٹریٹجی پر توجہ مرکوز رکھے اور اپنے معاملات کے دفاع کے ساتھ ساتھ اندرون خانہ عربوں سے تعلق بھی جاری رکھے_ ویسے بھی مشرق وسطیٰ میں عرب ریاستیں جس طرح سے دباؤ کا شکار ہیں پاکستان کو قیادت کیلئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ عرب نہ تو ترکوں کوقبول کریں گے اور نہ ہی ایرانیوں کو؛ تو یہ خلا پاکستان نے ہی پر کرنا ہے_ اس ضمن میں ریاستی نظریات اور اداروں کو رقیبوں اور انکے گماشتوں کی طرف سے مطعون یا تذلیل کیئے جانا بھی ایک قسم کا خطرناک ہتھیار اور حملہ ہی ہوتا ہے؛ ہم اس حقیقت کو سمجھ کر اس دیے کی نوک پلک کی تیاری جاری رکھیں کہ یہی چراغ جلے گا تو روشنی ہوگی_
(تحریر: عبدالرحمٰن)