Tuesday, September 8, 2020

قومی ترقی کیلئے کس قسم کے شعور کی ضرورت ہے؟

ہمارے دوست علی قیصرانی بھی ہم سب پاکستانیوں کی طرح سسٹم کے بارے آہ و بکا کرتے ہوئے چار بنیادی پہلوؤں پر توجہ دلواتے رہتے ہیں_

1- معیار تعلیم اور صحت عامہ میں بہتری

2- طبقہ اشرافیہ کا منفی کردار

3- باکردار رہنماء اور قیادت کی ضرورت

4- عوامی شعور کی اہمیت

ویسے تو کسی قوم میں ذوق یقیں پیدا ہو جائے تو تدبیریں، شمشیریں اور زنجیریں سب قصہ پارینہ ہو جاتی ہیں، تاہم ماہر عمرانیات تبدیلی کی شعوری کوششوں سے بھی صرف نظر نہیں کرتے_ معاشرے میں ہمہ قسم مظاہر کے اثرات کا سائنٹفک اور شماریاتی جائزہ کوئ چیستان نہیں ہے_ تاہم تبدیلی کی چاہت میں ارباب حل و عقد اور عوام و خواص کو یہ بات ضرور مد نظر رکھنی چاہئے کہ تعلیم تحت الشعور ہوتی ہے_ اس سلسلے میں دو سطح کا شعور کس فرد، قوم اور ملک حتٰی کہ تہزیب کی کایا پلٹنے کیلئے کلیدی ہے ایک اجتماعی یا قومی سطح کا شعور اور دوسرا انفرادی یا فرد کی سطح کا شعور_ جتنا جتنا یہ شعور reversible reaction کی مانند متوازن شکل اختیار کرتا جاتا ہے معاشرہ اتنی ہی تیزی سے متوازن طور پر ترقی اور مفادات کے تحفظ کی راہ پر گامزن ہوتا چلا جاتا ہے_ 

عالم اسلام میں بہت ہی کم لوگ اس دور میں اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ اجتماعی شعور کے تحت فرد، قوم، ملک اور تہزیب کا ایک ویژن بنتا ہے اور اسکی روشنی میں ہی نظام تعلیم تشکیل پاتا ہے؛ ور پھر اسکی روشنی میں اداروں اور فرد کی سطح تک یہ شعور پھیلایا جاتا ہے جس سے معاشرے میں تحرک پیدا ہوتا ہے اور اسی سے فرد، معاشرہ، حکام اور ادارے ایک سمت میں حرکت کرنے میں ہمہ تن گوش ہوتے ہیں_ اسکی عملی مثال مغربی ثہزیب کی شکل میں ہمارے سامنے ہے_ یورپ کی نشاۃ ثانیہ Renaissance کے بعد مغرب نے اجتماعی شعور کے تحت مسلمانوں سے سیکھے ہوئے سائنسی افکارات کی بنیاد پر تعلیمی ادارے قائم. کیئے جس سے یورپ میں سائنسی انقلاب رونماء ہوا جو کہ industrial revolution کا موجب بنا_ اس کے تحت ہی یورپ نے پیداواری ذرائع، ٹیکنالوجی اور خام مال وغیرہ پر گرفت رکھنے کیلئے مغربی قومیت پرستی Nationalism کے ساتھ ساتھ Colonialism کا سہارا لیکر مسلم ممالک کی سرزمین کو قبضہ میں لیکر خاموشی سے یہاں کے قدرتی وسائل خام مال کی شکل میں اپنے اپنے ممالک میں برآمد کیئے اور بدلے میں دس کی چیز پانچ سو میں ہمیں بیچ کر ہمارے وسائل کو لوٹا گیا اور مسلم اقوام کو اپنے نشے میں مست کرکے اسے ترقی کا نام دیا گیا_ جب انھیں یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ شور بیٹھ کر بھی کام چلا لیں گے تو وہ یہاں پر نام نہاد آزادی کے چراغ جلوا کر مقامی لارڈز بلکہ مغرب کے مینیجرز کو حکمران طبقات کی شکل دیکر چلتے بنے_ 

جسے ہم آزادی کہتے ہیں مغرب کے اجتماعی شعور کے مطابق دراصل یہ neo-colonialism کا دور ہے جس میں مغرب نے اپنی نسلی خو کو کبھی بھی بالاۂے طاق نہیں رکھا_ اسکے ساتھ ساتھ آج سے تقریباً سو سال قبل جب مغرب کو محسوس ہوا کہ مغرب محض اپنی قومیت کی بنیاد پر Colonialism اور neo-colonialism کو جاری نہیں رکھ سکے گا تو انھوں نے مغربی قومیت کے چربے کو  عالمگیریت Universalism کے پردے میں بڑھا دینے کے تصور کو پروان چڑھانے کی بنیاد رکھنی شروع کی _ اسے World-System, One World, Internationsl Liberal Order, New World Order اور Globalization کا نام دیا جو کہ درحقیقت Western Political-Ecinomical World Order ہے_ اب آپ دیکھ لیں کہ اسی شعور کے تحت انھوں نے اپنا نظام تعلیم، صنعت و حرفت، نظام معیشت اور تجارت کو ترتیب دیا ہوا ہے_ مغرب نے کتنی خوبصورتی سے ہمیں اپنی قومی، استعماری، نو استعماری اور عالمگیر شعور سے نابلد رکھ کر ہمیں نامعلوم کون سے شعور اور ترقی کے سفر پر روانہ کیا ہوا ہے_ یہی وجہ ہے کہ نہ تو ہمیں اجتماعی شعور کا احساس اور نہ فرد کے شعور، تعلیم اور تربیت کی ہیئت اور خد و حال کا علم_ اسکی وجہ سے آج تک ہمیں اپنی منزل اور نشانات راہ کا علم ہو سکا_

ہم داستان گوئ کے خوگر اقبال اور جناح کی طرح کے مفکرین اور تجزیہ نگاروں کی findings کو مشکل کام سمجھ کر بس قصوں اور کہانیوں سے ہی تبدیلی آ جانے کی تمناء کیئے بیٹھے رہتے ہیں_ ہر چیز کی اپنی ایک حد اور ضرورت ہوتی ہے، خالی motivation سے کام نہیں چلا کرتا، معاشرتی ترقی اور استحکام کیلئے Social Articulation ایک ضروری عمل ہے_ تھوڑا سوچیئے! اس میں آپ کا کتنا حصہ ہے؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مسلم دنیا اب کیا کرے؟ اسی سلسلے میں مسلم دنیا کو اپنی تاریخ کو دوہراتے رہنے کی وجہ سے  nostalgia  کے طعنے دیکر دبانے کی تضحیکانہ کوشش جاری رہتی ہے، کیونکہ اسکے ساتھ ساتھ ہمارا موثر اور مناسب معاشرتی تحرک نظر نہیں آتا_ 

Friday, September 4, 2020

پاکستان عرب ممالک سے کتنا دور ہو سکتا ہے؟

ترکی نے گریٹر ترکی کا جو نیا نقشہ جاری کیا ہے اسکے بارے پاکستان کی جانب سے محتاط ردعمل کے بارے میں بعض حلقوں نے انگلی اٹھائ ہے_ لازمی سی بات ہے پاکستانی حکام مقصدیت کے ساتھ تمام امکانات کا جائزہ لیکر ہی کوئ قدم اٹھائیں گے_ اس سلسلے میں چند بنیادی سوالات میں سے یہ ہیں کہ عالمی قوتیں ترکی کو من مانی کی کس حد تک اجازت دیں گی؟ ترکی مروجہ عالمی نظام میں رہتے ہوئے کس حد تک مزاحمت کا متحمل ہو سکتا ہے؟ پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات پر کیا اثرات رونما ہوں گے؟ پاکستان عربوں کی مخالفت میں کس حد تک جا سکتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ترکی کی کامیابی کے امکانات بالکل کم ہوں اور کسی تصادم کی صورت میں پاکستان عرب ممالک کے ساتھ تعلقات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے؟ ایک بڑی اسلامی مملکت کے قیام کے سلسلے میں چین اور روس کس حد تک مغرب اور اسرائیل کے ساتھ مخاصمت مول لے سکتے ہیں؟ اگر عالمی نظام پر انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی گرفت اتنی ہی کمزور پڑ چکی ہے تو پھر عربوں کو امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ میں آنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر مسلم ممالک OIC کو فعال کرنے میں آزاد کیوں نہیں؟


میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ پاکستان شائد ترکی کا اس سطح تک ساتھ نہ دے جتنا تصور کیا جا رہا ہے یا ترکی امت مسلمہ کے بارے اس سطح پر نہیں جا رہا جس کے بارے میں عالم اسلام کے بعض حلقے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں_ اسکی واحد صورت یہ ہے کہ ترکی اور پاکستان غیر عرب ممالک میں اپنی public relationing کو انتہائ مضبوط کرنے کے علاوہ ہم خیال عرب ممالک اور عوام کو ایک لڑی میں پرو دیں_ یہ سب کچھ کرنا ناممکنات میں سے نہیں، اصل تو باقاعدہ اکٹھے ہو کر بیٹھنے، ایک ویژن مرتب کرنے، ترجیحات طے کرنے اور ذمہ داریاں بانٹنے کے حوالے سے مسائل پر غور فکر کرنا ہے_ کیا عجمی مسلم ممالک اسکے لیئے determined ہیں؟اگر مثبت جواب ہے تو یہی تحرک OIC کا اصل روح کے ساتھ بحالی کی صورت میں سامنے کیوں نہیں آ سکا یا آ سکتا؟ جن عوامل نے اسے ناممکن بنائے رکھا وہ کبھی بھی ترکی اور پاکستان کو یک جان دو قالب ہونے کے باوجود ایک موثر قوت نہیں بننے دیں گے_ اس لئے پاکستان کسی کے جذباتی نعروں کے پیچھے لگ کر عربوں کو UNDER-ESTIMATE کھبی بھی نہیں کرے گا_ 


جہاں تک عالم اسلام میں ترکوں کی مداخلت کے جواز کی بات ہے تو تاریخی طور پر مصر میں مملوک حکمرانوں کے خلاف سلطنت عثمانیہ نے پندرہویں صدی میں حملوں کا آغاز کیا جسکی بنیادی وجہ تجارتی مقاصد تھے تو عثمانیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم جب مغربی اقوام پرتگلایوں وغیرہ نے مصریوں کو کمزور کرنا شروع کیا تو سلطنت عثمانیہ نے سلطان سلیم دوم کی سربراہی میں سولہویں صدی میں مصر کو اپنے قبضے میں لے لیا_ آج یہ صورتحال  ہے کہ بعض حلقوں کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکہ نے عربوں کو اس کمزور حالت میں پہنچا دیا ہے کہ عرب حکومتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے_ بعض اسے عرب حکمرانوں کی اپنی نااہلی کا شاخسانہ بھی قرار دیتے ہیں_ وجہ خواہ کچھ بھی ہو، اسرائیل کی عرب ممالک میں مداخلت مسلم دنیا میں اضطراب کا اس حد تک باعث ہے کہ وہ گریٹر ترکی کی حمایت ضرور کرنا چاہیں گے کہ وہ مسلم دنیا کیلئے کوئ قائدانہ کردار اد کرے_ 


لیکن، عرب اپنے آپ کو اتنا کمزور تو نہیں سمجھتے کہ ترکی مرضی سے کچھ بھی کر سکے_ آخر سعودی عرب بھی G-20 اور OPEC کاایک بڑا رکن ہے_ تاہم ایک طرف ایران اور دوسری طرف گریٹر ترکی کے خطرے نے انھیں اس حد تک محصور کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکہ سے گلے ملنے میں کوئ رکاوٹ محسوس نہیں کرتے کیونکہ International Liberal Order کے تحت عرب حکمرانوں کے دیگر مسلم ممالک کی طرح مغربی ممالک، امریکہ اور اسرائیل یعنی یہودیوں سے قریبی تجارتی تعلقات ہیں_ مثلاً سعودی عرب کے پاس  F-16 بنانے والی کمپنی Lockhead Martin کے حصص ہیں جبکہ پاکستان اور ترکی اب بھی انہی طیاروں کو اپنی جنگی فضائ قوت میں اہم ترین سمجھتے ہیں_ اسی طرح سعودی عرب کے پاس Facebook اور MacDonald کے حصص بھی ہیں اور پورا عالم اسلام ان دونوں برانڈز کے بغیر سانس لینے کا تصور بھی نہیں کرتا، خاص کر میکڈونلڈ تو طبقہ اشرافیہ کیلئے من و سلویٰ کا متبادل ہے اور Facebook تو پھر گھر گھر کی لونڈی ہے_ یہ تو معمولی نوعیت کی مثالیں ہیں_ بڑی بڑی امریکی یہودی ملٹی نیشنلز تمام مسلم ممالک میں چند کنٹری مینیجرز کے ساتھ Global Market کے ہیڈ تلے enjoy کر رہی ہیں_ پاکستان میں یہ موبی لنک، جاز، ٹیلی نار، سام سنگ، نیسلے، کوک، پیپسی اور نوکیا کس کی ملکیت ہیں؟ ان حالات میں ترکی، پاکستان اور ملیشیا کی کامیابی کے کتنے امکانات ہو سکتے ہیں؟ کاش اس وقت ہم OIC کی لاش پر نوحہ خوانی نہ کر رہے ہوتے! 

Friday, August 28, 2020

پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں فیصلہ کن اہمیت

 الحمدﷲ! سپر پاور امریکہ کے وزیر خارجہ جو کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی-آئ-اے کے سابق سربراہ بھی ہیں مشرق وسطیٰ کے پانچ روزہ دورے کے بعد زبردست طریقے سے ناکام ہو کر امریکہ واپس روانہ ہو گئے_ ان کی بوتل میں جتنے بھی جِن اور ٹوکری میں جتنے خطرناک سانپ تھے وہ عربوں کو دکھائے گئے لیکن سب کچھ اکارت گیا_ اسکی بنیادی وجہ عرب حکمرانوں کی دو لحاظ سے پریشانی ہے_ ایک اسرائیل کے وزیراعظم کی کھلم کھلا بڑھکیں اور فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف بیان بازی ہے_ اصل میں تو نیتن یاہو یہ کام اپنے یہودی عوام کو مطمئن کرنے کیلئے کر رہا تھا لیکن اس نے عرب عوام میں پریشانی کو ہوا دی کہ وہ جاگ اٹھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے_ ایک طرف تو عرب حکومتیں دوستی کی بات کر رہی ہیں اور دوسری طرف اسرائیل اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کی بات بھی کر رہا ہے_ عوام کے اس معاملے میں اضطراب نے عرب حکمرانوں کو خاموشی سے اسرائیل کیلئے تر نوالہ بننے کے عمل کو عجیب مخمصے میں ڈال دیا ہے_ عرب حکمرانوں کی پریشانی کا دوسرا پہلو متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے درمیان F-35 جنگی طیاروں کے سودے میں اسرائیل کی فوجی قیادت کی ٹانگ اڑانے سے پیدا ہوا کہ عرب اس سے چونک اٹھے_ اس تمام معاملے نے عرب حکمرانوں اور عرب عوام کو ایک پیج پر نہ صحیح لیکن ایک طرح سے سوچنے کی راہ کے قریب کر دیا ہے_

 اس صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کا یہودی داماد اب خود مشرق وسطیٰ کے دورے پر پہنچ رہا ہے_ اسکا یہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ فلسطین-اسرائیل کے معاملے میں deal of the century دراصل اسکی ہی تخلیق ہے اور دوسرا اس کے عرب حکمرانوں اور حکام کے ساتھ انتہائ قریبی تعلقات ہیں اور اس دورے کے نتیجے میں ہی علم ہوگا کہ عرب حکمرانوں اور عرب عوام کے درمیان انکے مفادات کے تحفظ کو لیکر جو قوت بنتی ہے اسکی طاقت زیادہ ہے یا جیرڈ کوشنر کی اسرائیل، امریکہ، عرب حکمرانوں اور حکام سے دوستی کی؟ اسی دوران امریکن اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے آئندہ کی کسی مجوزہ فلسطینی کا دارالحکومت یروشلم کو بنانے سے قطعاً انکار کر دیا ہے_ یہ معاملہ عرب حکمرانوں اور عوام میں مزید پریشانی کا باعث بنے گا جسکی وجہ سے جیرڈ کوشنر کے دورے کی ناکامی کے امکان کو بھی بڑھا دیا ہے_ اسے کہتے ہیں leak-bucket strategy یعنی اوپر سے ٹونٹی کھول کر نیچے سے بالٹی میں سوراخ کر دینا، ایسی بالٹی کیسے بھر سکتی ہے؟ دیکھا جائے تو یہ ﷲ کی طرف سے اسرائیل کی ناکامی کے اسباب کے علاوہ امت مسلمہ کیلئے سنبھلنے کا موقع بھی ہے_ اگر اسرائیل اس معاملے میں ناکام ہوتا ہے تو پھر وہ مختلف مسلم قوموں کے درمیان یا علاقائ جنگوں حتیٰ کہ نام نہاد تیسری عالمی جنگ کی طرف بھی حالات کو لے جا سکتا ہے_

 بیان کردہ اس صورتحال میں سب سے اہم پہلو پاکستان فوج کے سربراہ جنرل باجوہ، آئ ایس آئ کے سربراہ کے دورہ سعودی عرب اور عمران خان کے بیان سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے_ بعض تجزیہ نگار اسے پاکستان کی اسٹریٹیجک اور سیاسی کامیابی سے بھی تعبیر کر رہے ہیں کہ آگے کی عرب-اسرائیل صورتحال میں پاکستان کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ جب عرب اجتماعی طور پر آخری  فیصلہ کریں گے تو پاکستان کی حکمت عملی کی طاقت یا کمزوری اس میں نمایاں کردار ادا کرے گی_ اگر عرب پاکستان کی پلاننگ کو حالات کے مقابلے میں جاندار سمجھیں گے تو الگ بات ہوگی اور اگر اس میں سقم ہوگا تو عرب ممالک میں معاشرہ تقسیم ہو کر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو کوئ بھی رخ دے سکتا ہے_ اس صورتحال میں پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ امن کی خاطر آخری حد تک جانا چاہئے، چین بھی کسی قسم کی لڑائ نہیں چاہتا اور بھارت پاکستان کی اسی نیک نیتی کو موقع گردانتے ہوئے بھارتی مسلم اقلیت اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے_ یہی حال کم و بیش اسرائیل کا بھی ہے جو مسلم ممالک اور فلسطینیوں کو حقیر سمجھ کر من مانے بیان اور اقدامات کیلئے تلا بیٹھا ہے_ انہی حالات کے مد نظر افواج پاکستان بھی بھرپور طریقے سے اپنے دفاع کیلئے صف بندی کی کوشش میں مصروف ہیں_

 بہر حال جنگ یا امن کا آخری فیصلہ اسرائیل ہی کرے گا کیونکہ اسے اپنی معاشی قوت، ٹیکنالوجی اور فوج پر بڑا ناز ہے اور جسے وہ ڈپلومیٹک سطح پر اپنی strength کی کامیابی کا نام دیتا ہے_ پاکستان اپنے حلیفوں سمیت امن کیلئے بھی مکمل طور پر تیار ہے اور دفاع کیلئے بھی_ پاکستان کو دنیا بھر میں اخلاقی برتری یہ بھی ہے کہ ایک تو وہ امن چاہتا ہے دوسرا عالم اسلام سمیت اسکا موقف فلسطینیوں کو لیکر انصاف پر مبنی ہے_ فتح ہر حالت میں امن و انصاف کی ہی ہوتی ہے_ FATF کے حوالے سے پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی تیاری بھی حریفوں کے پاس اسٹریٹیجک برتری کا ایک ہتھیار ہے، دیکھیں پاکستان اس سے کیسے نمٹتا ہے؟ میری رائے میں پاکستان کمپرومائز کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگا، اصل بات یہ ہے کہ عالم اسلام کو فلسطین کے حوالے سے قربانی کیا دینا پڑتی ہے اور اسرائیل کے اونٹ کو اپنے خیموں میں کس حد تک physically گھسنے سے روک سکیں گے؟ ہم میں سے بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ جسے ہم عالم اسلام سمجھتے ہیں یہ عالمی صیہونی خفیہ قوتوں کے سمندر پر تیرتا ایک Titanic ہے اور  اسرائیل کو قبول کرنا اس جہاز میں ایک سوراخ کرنے کے مترادف ہوگا اور پھر یہ سفینہ خود بہ خود تیرنے سے محروم ہو جائے گا_ معاذﷲ!

Thursday, August 27, 2020

مشرق وسطیٰ پر غلبے کی نئ اسرائیلی چال

سیدھی سی بات ہے مشرق وسطیٰ میں عربوں، ترکوں اور ایرانیوں کو قومیت پرستی Nationalism کی بنیاد پر آپس میں لڑوا کر مشرق وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کی خاطر کھیل کے دوسرے بلکہ آخری مرحلے کے آخری منطقی معرکے کے شروع ہونے کا شدید امکان ہے_ اسکے لیئے ان مسلم اقوام کو مشرق وسطیٰ کا پولیس میں بننے کا الگ الگ خواب دکھایا جا رہا ہے_ اس معاملے میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ خفیہ سفارتکاری اور تینوں اقوام کا اپنی اپنی فتح کے امکانات اور اتحاد کی مضبوطی کی بنیاد پر فیصلے کا اہم کردار ہوگا_ یہی وجہ ہے کہ اس وقت حکمرانوں اور حکام کے خفیہ دوروں کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ، پردہ داری میں ورغلانا، چکمہ دینا، دھمکی دینا اور مکر جانا آسان ہوتا ہے_ اس دوران عوامی سطح پر مسلم دنیا میں ایرانیوں، ترکوں اور عربوں کے حمائتیوں کا ایک دوسرے کے خلاف بڑھتا بخار بھی آپس کی تباہی کے محرک stimuli سے کم نہیں_ 

اب سے پہلے اسرائیل نے عربوں اور ایران کو لڑوانے کی انتہائ کوشش کی لیکن پاکستان نے دونوں کے درمیان صلح کا کردار ادا کیا_ اس سے بھی بہت پہلے اور گزشتہ سال اسرائیل امریکہ کو ایران پر حملے کیلئے اکساتا رہا_ لیکن امریکہ عالمی سیاست میں اپنی ترجیحات کی وجہ سے آگے بڑھنے سے بچتا  رہا_ اسرائیل کا مقصد خطے کو لڑائ میں جھونک کر اپنا مقصد حاصل کرنا تھا، لیکن، اس میں اسے کامیابی نہیں ہوئ_ اسکے بعد اسرائیلی منصوبہ سازوں نے سوچا ہے کہ عربوں کو ڈرا دھمکا کر ساتھ ملا لیا جائے اور خفیہ طور پر پورے معاملات کو اپنی گرفت میں لے لیا جائے_ غور طلب بات یہ ہے کہ ابھی اسرائیل کو عربوں نے قبول ہی نہیں کیا تو  موساد اور دیگر اسرائیلی ایجنسیاں ان ممالک میں اپنی خفیہ مداخلت پر اتنا فخر کرتی ہیں اور اگر عرب ممالک اس سے شکست تسلیم کرکے ساتھ مل جائیں گے تو کتنے خطرناک نتائج نکلنے کا امکان ہے_ شائد عربوں کو کچھ کھیل سمجھ آ گیا ہے اسی لیئے ایک کے بعد ایک اسرائیلی trap میں پھنسنے پر کچھ روک محسوس ہو رہی ہے_ تاہم امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے پہلے اسرائیل عرب ممالک میں توڑ مروڑ کی مکمل کوشش کرے گا اور کر رہا ہے_ اگر عرب دوستی، چکمہ، دھونس، دھمکی، دھاندلی اور اسرائیلی دہشت گردی کے جال میں پھنس گئے تو ٹھیک ورنہ پھر اسرائیل  ایران، ترکی اور عربوں کو مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی Power Politics اور hegemony کی بھینٹ چرھانے کا کھیل شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے_

اس سلسلے میں سب سے پہلے پاکستان اور پھر چین کا کردار انتہائ اہم ہے اور یہ دونوں ممالک ایشیاء کے کسی بھی خطے میں جنگ کو غیر ضروری خیال کرتے ہیں_ پاکستان کے آپشنز ہیں کہ غیر جانبدار رہے؟ تینوں میں سے کسی ایک کے ساتھ مل جائے؟ ترکوں اور ایرانیوں کے ساتھ مل کر عربوں سے لڑے؟ تینوں کو لڑائ سے باز رکھے؟ OIC کو ہنگامی طور پر سرگرم ہو کر بحال کروائے؟ اسرائیل کی پسندیدہ کسی بھی جنگ میں رکاوٹ اسرائیل اور امریکہ بلواسظہ اسرائیل دونوں کو قبول نہیں_ ایسی صورتحال میں بھارت کو پاکستان پر حملے کیلئے اکسانا اسرائیل کی سب سے اہم ضرورت اختیار کر سکتا ہے_ دیکھنا یہ ہوگا کہ چین اس معاملے میں کس طرح سے اپنا کردار ادا کرتا ہے_ خبروں کے مطابق چین مسلم دنیا کو پاکستان کے جھنڈے تلے اکھٹا کرنا چاہتا ہے اور اگر پاکستان غیر عرب ممالک کا ایک مضبوط اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بھی عرب دنیا کو تحفظ ہی ملنے کا  مکمل امکان ہے کیونکہ پاکستان غیر عرب ممالک کا اتحاد قائم کرکے عربوں سے تو لڑائ کا تو سوچ بھی نہیں سکتا_ 

اس تمام صورتحال میں کچھ بھی نہ بن آیا تو اسرائیل کسی نہ کسی طرح سے اپنے آپ کو معصومانہ طور پر محفوظ رکھ کر تیسری عالمی جنگ کا جوا بھی کھیل سکتا ہے_ اسکے لیئے پہلے پانچ فلیش پوائنٹس بتائے گئے تھے جن میں امریکہ اور ترکی، امریکہ اور شمالی کوریا، ساؤتھ چائینہ سمندر میں چین اور امریکہ، کشمیر پر پاک-بھارت جنگ کا امکان ظاہر کیا گیا، اب انکی تعداد چھ ہو گئ ہے جبکہ پورے مشرق وسطیٰ کو ہی آگ میں لپیٹنے کی تیاری ہے _ ان پوائنٹس میں سے تین یا چار کو اسرائیل آہستہ آیستہ ٹائم بم کے طور پر بالکل تیار حالت میں دھکیل رہا ہے_ وجہ چاہے کچھ بھی ہو اور کسی مسلم جتھے کی کامیابی، ملیا میٹ ہونے یا بچنے کے امکانات کم ہوں یا زیادہ اس پورے کھیل کا مقصد صرف اور صرف خطے میں اسرائیل کی بالادستی اور رہے سہے مسلم ممالک کو کمزور ترین حالت میں پہنچانے کے منصوبے کی تکمیل ہے_

ڈی-جی آئ-ایس-پی-آر پاکستان کے نام

محترم ڈی-جی آئ-ایس-پی-آر

السلام علیکم!

میں بطور ایک عام پاکستانی شہری آپ سے مخاطب ہوں امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے_

جناب من! گزشتہ ستر سال میں پاکستان کے دفاعی اداروں نے تمام تر نامساعد حالات، معاشی تحدید اور ہمہ قسم کمزوریوں اور خطرات کے باوجود ملکی سرحدوں کی زمین، فضا اور سمندر میں جو حفاظت کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے_ اسکے علاوہ اسلحہ سازی اور ایٹمی قوت کی منزل کا حصول ایک الگ داستان عظیم ہے_ ہمارے جن بنگالی بھائیوں کو دشمن کی طرف سے جس طرح سے ورغلایا گیا آج انکے سر پاکستان کے دفاعی اداروں کے بارے فخر سے بلند ہونے کے بعد دشمن کی پراکسی بننے کے پاداش جھکے جاتے ہیں_ افواج پاکستان کی تژویراتی وسعت، پروفیشنل صلاحیتوں، اسلام و پاکستان سے محبت اور انسانیت کی خدمت کے مدِ نظر ہی ہم عوام آج ملکی لسانی اور قومیت پرست؛ بعض متعصب سیاسی اور مذہبی طبقات کے دانت کھٹے کرنے میں اتہا طور پر عقلی، شعوری اور جذباتی لحاظ سے فخر محسوس کرتے ہیں اور یہی ملک، قوم اور افواج پاکستان کی طاقت کا اصل متاع اور climax ہے_

محترم! کل کی بات ہے کہ جنگ و حرب کے معمولات کی سرحدیں بحر و بر، فضا اور حساس علاقوں تک physical boundaries کی شکل میں موجود تھیں، لیکن، اب زمانے کی ترقی نے ایسی تیزی پکڑی ہے کہ طبعی سرحدوں کے دائرہ کار کے بڑھنے کے علاوہ یہ نظریاتی طور پر لامحدود طور پر بڑھ چکی ہیں_ خاص کر ان حالات میں کہ موبائل، انٹرنیٹ اور میڈیا ہر ذی شعور کی finger-tip کی ادنیٰ سی جنبش کا مرہون منت ہی رہ گیا ہے_ ان حالات میں حکومتی کنٹرول، اداروں کی good-will اور مانیٹرنگ کا نظام اپنی جگہ لیکن حکام کی جانب سے عوام کی حالات کے مطابق optimal-level تک ذہنی تربیت اور motivation حالات کی تبدیلیوں سے نبرد آزماء ہونے کا ایک اہم ترین تقاضہ ہے_ ہمارے یہاں نظام تعلیم کی ناہمواری، عدم توازن اور تعلیم سے جڑے معاملات کی الث پلٹ سے محض معیار تعلیم ہی متاثر نہیں ہوا بلکہ قوم کی cognitive اور citizen skills کے حوالے سے بہت کچھ کوتاہ نظری اور کوتاہ بینی کی نظر ہوگیا ہے_

آج جب ہم اکثر نوجوانوں کے گفتار اور gestures پر نظر ڈالتے ہیں تو علمی اور تربیتی سقم بدرجہ اتم نظر آتا ہے_ جناب دشمن کے benchmarks میں اس بات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے_ اس سلسلے میں، ہم اپنے سیاستدانوں، سیاسی، مذہبی جماعتوں اور NGOs سے تو ایسی کسی کاوش کی توقع نہیں کر سکتے کہ وہ عوامی شعور اور polarization کے خاتمے کیلئے رضاکارانہ طور پر قوم کی رہنمائ کریں، لیکن، ففتھ-جنریشن وار کی نزاکت کے تحت بطور عوام ہم پاکستان کے دفاعی اداروں کی توجہ اس طرف کروانا چاہتے ہیں کہ ہر تحصیل کی سطح پر پاکستان آرمی کی تمام کورز عوام کیلئے، لاگت کم رکھنے کی خاطر، تکلفات اور لوازمات سے بچ کر، دفاعی، عسکری اور شہری دفاع، جغرافیہ، قدرتی وسائل، کمرشل جغرافیہ، شہریت؛ بائیولوجیکل، ایٹمی، سائبر اور انفارمیشن کے Attacks کے دور میں پراپیگنڈہ سے بچنے کے بارے میں ایک یا دو ہفتے کی ورکشاپس کا سلسلہ وار یا مستقل بندوبست ضرور کریں_ 

مزید برآں اس سے متعلقہ ایک short-course ڈیزائن کرکے اسے آن لائن، پاکستان ٹیلی ویژن یا کسی ویب سائٹ کے ذریعے بھی منعقد کروایا جا سکتا ہے_ یہ بھی محل نظر رہے کہ اگرچہ حکومت و حکام کے عوام کی motivation کے اپنے instruments بھی ہوا کرتے ہیں اور انٹرنیٹ پر اسکا مواد بھی بے تحاشہ ہے، لیکن، قوم کو دفاعی اداروں سے integrate کرنے اور ملکی معاملات پر converge کرنے کے حوالے سے جو 360 ڈگری افادیت خود اداروں یا انکی سرپرستی میں ایک مربوط طریقے سے بروئے کار لانے می‍ں ہے کسی اور ذریعے سے logically موثر نہیں ہوسکتی_ عوام میں abstract conceptualization کے خاتمے کا بھی یہ ایک بہترین ذریعہ ہے_ اسکا ایک فائدہ نوجوانوں کو تجارت اور دوسری اقوام سے معاملات کرتے ہوئے ملکی مفادات کی عمومی red-lines کے علم کے بارے میں بھی یقینی ہے_  یہ کوئ دور کی کوڑی، philosophical cliche یا psychological impulse نہیں بلکہ ہماری ہی کئ ہم عصر اقوام مثلاً اسرائیل، کیوبا اور شمالی کوریا وغیرہ میں یہ عمل طویل عرصے سے جاری ہے_ 

فقط

 ایک پاکستانی شہری


Tuesday, August 25, 2020

بطور ایک سوشل ایکٹیوسٹ پاکستان کیلئے میرا ویژن

نیکی اور بھلائ کا کوئ بھی عمل mutually exclusive نہیں ہوتا_ سوائے اسکے کہ کچھ اعمال بیک وقت اکٹھے سرانجام دینا ممکن ہی نہ ہو_ مثلاً دوران نماز وضو اور دوران وضو نماز نہیں پڑھ سکتے_ دوسری طرف فطرت کا ایک اصول مطابقت اور ہم آہنگی Synergy ہے_ جسے مینیجمنٹ کی زبان میں ایک جمع ایک تین بھی کہتے ہیں_ یعنی یہ طاقت ٹیم ورک کے بغیر پیدا ہو ہی نہیں سکتی_ کاروباری شراکت داری partnership کا تصور بھی اسی سے نکلا ہے_ کسی خطے میں بسنے والے افراد ایک قوم اور ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں_ قوم سے مراد کسی خاص افرادی گروہ کی لی جاتی ہے جس کی اقدار و روایات آپس میں مشترک ہوں_ ہیز کے خیال میں قومیت جب اتحاد اور حاکمانہ خود مختاری حاصل کرلیتی ہے تو قوم بن جاتی ہے_ اسکے کے مقابلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ جمہوریت کسی معاشرے میں تقسیم پیدا کرتی ہے اور اسکا نتیجہ گروہ بندی Factionism کی شکل میں برآمد ہوتا ہے_ اگر کسی قوم میں محض معاشرتی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے بارے میں approaches کے لحاظ سے اختلاف رائے پایا جاتا ہو تو یہ اختلاف کوئ برا نہیں بلکہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسرائیل اور بھارت وغیرہ میں مسائل پر اختلافات کو حل کرنے یا سب سے مناسب اور بہترین ترجیحات اور حل سامنے لانے کیلئے قانون ساز اداروں میں بحث کی جاتی ہے اور اسی بنیاد پر انھیں کامیاب جمہوریت کہا جاتا ہے_ ان ممالک میں جمہوریت کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ان میں پائ جانے والی سیاسی پارٹیوں اور گروہوں کو کوئ بیرونی قوتیں عمومی طور پر خفیہ اور اعلانیہ طریقوں سے بروئے کار manipulate نہیں کرتیں اور نہ ہی ان کے اختلافات کو ہوا دیتی ہیں، سوائے اسرائیل کے جو امریکہ اور مغرب کے معاملات میں اثر انداز ہونے کی کوشش میں لگا رہتا ہے_ بہرحال ان ممالک کو ہر لحاظ سے متحرک معاشرے dynamic societies قرار دیا جاتا ہے_

اسکے مقابلے میں تمام اہم مسلم ممالک کے جمہوری یا بادشاہی نظام میں مذکورہ ممالک کے علاوہ دیگر ممالک بھی مذہبی، سیاسی پارٹیوں اور گروہوں اور انکے اختلافات کو متعدد طریقوں سے اس حد تک hi-jake کیئے رکھتے ہیں یہاں تک کہ ان ممالک کے مفادات کے مطابق انتخابی مراحل، حکومت سازی، قانون سازی اور دیگر معاملات طے نہ ہو جائیں_ اسی وجہ سے مسلم ممالک میں engineered election کی باز گشت سنائ دیتی ہے_ دھونس، دھمکی، لالچ اور trend setting نے مسلم ممالک کی سیاسی شخصیات، پارٹیوں، گروہوں اور طبقات کے اذہان میں یہ حقیقت راسخ کر دی ہے کہ اقتدار کا سنگھاسن ملک و قوم کی خدمت سے نہیں بلکہ غیر ملکی آشیرباد سے آتا ہے_ اسی وجہ سے یہ اپنے اختلافات کے تحت ملک بھر میں تماشہ کرکے اپنے کارکنان کو بھی اسی کی بھینٹ چڑھائے رکھتے ہیں_ جب انکی باری آتی ہے تو پھر یہ بکاؤ جتھے اپنے من پسند افراد کیلئے ملکی خزانے کا منہ کھول دیتے ہیں_ یہی وجہ ہے کہ نام نہاد جمہوری مسلم ممالک کی سیاسی پارٹیوں، گروہوں، کارکنان اور عوام کی اپنے اپنے علاقوں کے معاشرتی مسائل کی طرف توجہ ہونے کی بجائے محض ان ہی issues پر رہتی ہے جن کے بارے میں انھیں اپنے آقاؤں سے ہوم ورک ملتا رہتا ہے یعنی اپنے ملک و قوم کے لحاظ سے non-issues اور پھر ستم یہ کہ اس پورے کھیل کو third world democracies میں جمہوریت کی ناکامی سے تعبیر کیا جاتا ہے_ جبکہ ہمہ قسم میڈیا غیر جانبداری اور جمہوری اقدار کے فروغ کے نام پر ایسے طوفان بدتمیزی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا آیا ہے_

اس طرح سے جب پورا معاشرہ ہی polarization کا شکار ہو جائے تو پھر قومی اتحاد پارہ پارہ ہو جاتا ہے اور قوم پھر قوم نہیں رہتی، ٹکڑوں اور جزیروں islands کی شکل اختیار کر کے آپس میں بیگانی ہو کر ملکی ترقی، وسائل اور ہر سطح کے معاشرتی مسائل سے نابلد و لاتعلق ہو جاتی ہے_ پاکستان میں وسائل کے ضیاع، غیر ملکی مسائل کے انبار، قومی، صوبائ اور مقامی منصوبوں کے عدم تسلسل اور ہر نئ حکومت کا پچھلی حکومتوں کے منصوبوں کو منسوخ کر دینا اسی کا شاخسانہ ہے_ اس اندوہناک صورتحال میں جہاں عالمی سطح پر ملک و قوم کا منفی امیج سامنے آتا ہے بلکہ تقسیم در تقسیم عوام، سیاست کے اس گورکھ دھندے کے بارے نفسیاتی ہراسگی کا شکار ہو کر سیاسی اور معاشرتی عمل و تعامل activity اور interaction کو شجرۃ ممنوعہ سمجھ کر ہمہ قسم مقامی، شہری، صوبائ اور ملکی معاشی، سیاسی اور معاشرتی مسائل سے منہ موڑ کر مایوسی کا شکار ہو جاتی ہے اور اسے ہی قومی بے حسی سے تعبیر کیا جاتا ہے_ یہاں ایک سوال یہ بھی ابھرتا ہے کہ عوام تو مذہبی بنیاد پر بھی تو تقسیم ہوتے ہیں؟ اسکا سیدھا جواب ہے کہ جمہوریت کی طرح اسلام کا یہ تقاضہ نہیں ہے کہ معاشرے کو چنیدہ طبقات کے مفادات اور منافرت کی خاطر منقسم divided کر دیا جائے_ اسلام تو افراد کو ذاتی خواہشات سے بچ کر معاشرتی طور پر اکٹھے ہونے کی تحریک ہے جبکہ اگر جمہوریت میں سب ہی اکٹھے ہو جائیں تو دو یا دو سے زیادہ سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان الیکشن کیسے ہوگا؟ حزب اختلاف کہاں سے آئے گی؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ عوام میں تفرقہ عین جمہوری تقاضہ ہے_

پاکستان میں گزشتہ بتیس سال سے جاری اس جمہوری تماشے نے حکام، سیاستدانوں، مذہبی اور سماجی رہنماؤں کو تو کیا خود عوام کو ہی ان کے بنیادی حقوق اور روزمرہ کے معاشرتی مسائل سے بالکل لا تعلق کر کے پورے معاشرے کو شہریت، عمرانیات، سیاسیات اور بشریات کے پیمانے کے لحاظ سے معاشرتی مفلوج پن social paralyzation کا شکار کر دیا ہے_ سب سے خطرناک مسئلہ قومی زبان سے کٹتے چلے جانے کا درپیش ہے_ اہل مغرب کی ترقی کا راز پڑھنا اور سوچنا read and think ہے اور وہ اپنی اپنی قومی زبانوں میں اس عمل کو جاری رکھ کر اپنے عوام کے شعور میں اضافے کر کے ترقی کی منازل طے کرتے چلے جا رہے ہیں اور پاکستان کے عوام اردو اور انگلش کے پنڈولم میں جھول رہے ہیں_ مغرب یا کوئ اور قوم کب چاہے گی کہ پاکستان اپنی اصل سے جڑے؟ اس قومی عذاب کا سب سے بڑا ناجائز فائدہ پہلے عدالتوں، بیوروکریسی، سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں نے اٹھایا اور اب صحافی، دانشور حتیٰ کہ اساتذہ تک اٹھا رہے ہیں_ قوم کو اس دلدل سے نکالنا سب سے کلیدی حل طلب مسئلہ ہے_

دوسرا سنگین ترین مسئلہ عوام کو امریکہ اور برطانیہ کے دور دراز علاقے میں کسی بطخ کے الٹے پاؤں چلنے کی معلومات تو بخوبی طور پر ہونا ہے لیکن اپنی گلی اور محلے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز، بجٹ اور specifications سے جڑی موٹی موٹی معلومات تک کا علم نہ ہونا ہے_ جب ایک معاملے کا علم ہی نہیں ہوگا تو اداروں، حکام، مقامی منڈی، مارکیٹ، پیداواری عمل، حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعامل interaction سے جڑے قوانین، طریقہ کار اور بےقاعدگیوں کے علاوہ معیار اور مقدار quality اور quantity سے جڑے عملی پہلوؤں کا علم کیا ہوگا؟ اسی وجہ سے انھیں مقامی سیاست اور وسائل کی الف بے بھی معلوم نہیں ہو پاتی تو وہ ملکی سیاست اور وسائل سے جڑے معاملات کو عملی طور پر کیا سمجھ پائیں گے؟ اس سے ثابت ہوا کہ عوام کو مقامی اداروں، حکام، وسائل، مسائل، سیاست اور معاملات کا علم اندرونی ملکی استحکام حتیٰ کہ اسکی عالمی شناخت اور مفادات کی نگرانی اور تحفظ کا بھی ضامن ہے_

جمہوری سیاست اور مذہبی منافرت کی بنیاد پر پیدا ہونے والی تفرقہ بازی اور معاشرتی بے حسی کا تیسرا اہم پہلو عوام کے درمیان بلا وجہ کے تعصب کی بنیاد پر ہونے والی تقسیم کی شکل میں سامنے آتا ہے_ اس تقسیم کا نقصان انتہائ کلیدی اجتماعی معاشرتی اور شہری مسائل پر مقامی طور پر بھی اکٹھے ہو کر مسائل کے حل کے بارے میں سوچنے اور موثر لائحہ عمل اختیار کرنے کے بارے اکٹھے ہونے سے کترانا اور اپنی جان چھڑوانا یے_ جبکہ رسمی اور غیر رسمی مقامی تنظیم یا formal and informal local organization(s) کا وجود، تحرک اور تعامل کو سمجھنا اور اس سے جڑنا ہی تو ملکی ترقی کے عمل کو سمجھنے اور اس سے جڑنے کی ضمانت ہے_

مزید برآں قومی اور مقامی معاملات سے جڑے ان تین منفی اٹرات کے علاوہ تعلیم، صحت، فلاح و بہبود، شہری حقوق، کھیل، تفریح اور ثقافتی سرگرمیوں پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ بھی کسی طور پر کمی نہیں_ لیکن میرا مقصود محض ان پہلوؤں کو اس لحاظ سے اجاگر کرنے کا ہے کہ ان سے نبرد آزماء ہونے کیلئے مقامی کمیونٹی اور مقامی قیادت leadership کے وجود، نشونما اور انکے تحرک کے کلچر کی آبیاری کی افادیت اور اہمیت کے حوالے سے ایک اجمالی اور معروضی خاکہ آپ کے سامنے رکھ سکوں_ دیکھا جائے تو یہ اس سطح کے معاشرتی عمل، تحرک اور تعامل کو ملک و قوم کی capillaries میں زندگی کی رمک کی علامت سے بھی تشبیہ دینا کوئ غیر منطقی اور مافوق الفطرت بات نہیں ہے_ نامساعد ملکی حالات، حکومتی عدم تعاون، سیاستدانوں اور سماجی رہنماؤں کی مفاد پرستی کے باوجود مقامی عوامی قیادت ہمہ قسم منافرت، تفرقہ پرستی، طبقاتی بعد اور دیگر demographic تقسیم کے باوجود عوام کیلئے بہت ساری موثر اور بروقت effective and efficient سرگرمیوں کو منظم manage کر سکتی ہے_ بلکہ اگر باہمی اختلافات کی بنا پر لیکن مثبت مسابقت کے جذبے کے تحت اگر افراد اپنے اپنے طور پر ان مقامی تعمیری اور شعوری سرگرمیوں کو سرانجام دینا چاہیں تو بھی کوئ ہرج نہیں کیونکہ معاشرتی تحرک کو ہر حال میں یقینی بنانا ضروری ہے اور مقابلے کی مثبت فضا سے افراد مزید محنت کرکے خوب سے خوب تر مظاہر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں_ ملکی اور قومی قدرتی اور انسانی وسائل، اتحاد فکر و عمل اور ہمہ قسم و سطح کے مسائل پر ارتکاز ہی دراصل حقیقی قومی اتحاد کی منزل کے اہم ترین سنگ میل ہیں_ اپنی بساط، صلاحیت اور حالات کے مطابق میری ذاتی کوشش ہے کہ میں اسکے کچھ عملی مظاہر نمونہ کے طور پر سامنے لا سکوں؛ جو لوگ اس معاملے میں active ہونا چاہیں انکی تنظیم اور سرگرمیوں کے بارے میں انھیں facilitate اور guide کروں اور outreach حلقوں تک مقامی  معاشرتی فکر و عمل کا یہ شعور پہچانے کا عمل جاری رکھوں_ لیکن یاد رکھئے! ایسے کاموں میں آسانی تب ہی ہو پائے گی جب ہم ہمہ قسم کی تفرقہ بازی سے بالا ہو کر صرف اور صرف ملک و قوم کے قدرتی اور انسانی وسائل کو بچانے، معاشرتی مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کیلئے self-motivated اور مرتکز focused ہوں گے_

Sunday, August 23, 2020

اک تحریر پڑھانے والوں کیلئے

ان دنوں میں شہر کے ایک پوش سکول کی آٹھویں کلاس کا ایک بے پرواہ اور شرارتی سا طالب علم تھا_ کوئ دن ہی گزرتا تھا کہ ہماری کلاس میں میری کلاس نہ لگتی ہو_ ٹیچرز مجھے کلاس کے درمیان کھڑا کر کے ہر لحاظ سے میری تہزیب کرتے اور میں کھیل کود اور دوستوں میں مگن رہنے والا مجال ہے مجھ پر کسی نصیحت، بے عزتی اور سختی کا اثر ہوتا ہو یا مجھے کوئ شرمندگی ہوتی ہو_ بالکل نہیں! یہ کوئ اچھی بات تو نہیں لیکن والدین اور اساتذہ کی توقعات، کوششوں اور قربانیوں کے علاوہ تعلیی اداروں کی حکمت عملیوں کے برعکس بعض اوقات بچوں کی اپنی ہی دنیا ہوا کرتی ہے_ بدقسمتی سے ہمارے یہاں جس میں کوئ جھانک ہی نہیں پاتا_ مجھے آج بھی بچوں کیلئے ایسی دنیا اچھی لگتی ہے جس میں وہ گھر، سکول اور گراؤنڈ میں والدین اور اساتذہ کی نگرانی کے ساتھ ساتھ اپنے کلاس فیلوز، بہن اور بھائیوں کے ساتھ لڑنے، بھاگنے دوڑنے، کھیلنے، چیزیں توڑنے بنانے، مَیلوں ٹھیلوں، شادی بیاہ کے فنکشنز، مینا بازار، نمائشوں، چڑیا گھر، نہر اور دریا، کھیتوں، باغوں اور بازاروں میں گھوم کر اپنی کہانی ٹیچرز کو لکھ کر دکھانے کا موقع ملے_ لیکن، mass-education نے عرصہ دراز سے بچوں کی اس بے خودی کو چھین لیا ہے_ سنا ہے سویڈن میں اسی طرح سے پڑھایا جا رہا ہے_ کاش ہمارے پاس بھی اتنے وسائل ہوں کہ ہم بچوں کو کلاس روم میں مقید کرنے کی بجائے carrot and stick کے ماحول میں گراؤندز، لیبارٹری اور لائبریری میں کھلا چھوڑ دیں_ 


خیر ایک دن میں حسب روایت کلاس ٹیچر کے کٹہرے میں کھڑا تھا اور کلاس میں سوشل ورک ڈے، جو کہ مہینے میں ایک مرتبہ آتا تھا، کے حوالے سے چہمہ گوئیاں بھی ہو رہی تھیں اور ٹیچر نے بزم ادب کا کوئ ذکر نکالا تو مجھے دیکھ کر ایک کلاس فیلو نے مسابقت بھرے لہجہ میں ٹیچر سے سوال کیا "رحمٰن" بھی بزم ادب میں حصہ لے گا؟" نہ تو میں سکول کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتا تھا اور نہ ہی مجھے اپنی دنیا سے فرصت ملتی تھی_ حصہ تو کیا ہی لینا تھا میں اس کلاس فیلو کے تجسس پر کہ کہیں میں اسکے ساتھ نمایاں نہ ہو جاؤ حیران ہوا، لیکن، میں نے فوراً ٹیچر کے چہرے کی طرف دیکھا_ وہ چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ لائیں اور میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا "رحمٰن کا ادب سے کیا تعلق؟" میری ٹیچر کے چہرے پر مسکراہٹ، خفیف سی ہنسی اور انکی آنکھیں آج بھی مجھے یاد ہے کہ مجھے راہ راست پر آنے اور تعلیم و ادب کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حسرت سے بھری ہوئ تھیں_ لیکن موت کے جس کنوئیں کا میں کھلاڑی تھا مجھے پر کلاس کی اس گھٹن کا کیا اثر ہونا تھا_ لیکن قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں_ میں نے بچپن میں تو قصے، کہانیاں اور تاریخی ناول پڑھے ہی تھے لیکن اسکے بعد بیس سال کی عمر میں کتابوں سے ایسا لگاؤ ہوا کہ وہ آج تک نہیں ٹوٹا_ مجھے دین، فلسفہ، سیاست، تاریخ، معاشیات، مینیجمنٹ اور سائنس پڑھنے کا ایسا اتفاق ہوا کہ کتب بینی کے علاوہ ہزاروں کتابیں، آرٹیکلز اور مضامین کی skimming کا موقع ملا_ آج بھی میرا تعلق ادب و تعلیم سے نہیں لیکن بطور ایک social activist ان نزاکتوں کو اتہاء گہرائ سے سمجھنے کے باوصف رہنمائ ضرور کرتا رہتا ہوں اور اس میں مالک کائنات کے فیضان کرم کے ساتھ والدین اور ایسے ہی اساتذہ کی محنت، قربانیوں، شفقت اور دعاؤں کا بہت دخل ہے_


ہوا کچھ یوں بھی کہ میں بچپن سے شہر کے ایک مشہور سکول میں پڑھتا تھا_ ہماری قابل اور ذمہ دار میڈم چار سال سے ہماری میتھ کی کلاس بھی لے رہی تھیں_ انھوں نے پانچ سال ہمارا پیریڈ لیا اور ہر پیریڈ میں میرے پیٹ میں انھیں دیکھ کر خوف کے درد کی لہر ضرور اٹھتی تھی_ ستم یہ کہ جب انھوں نے الجبرا پڑھانا شروع کیا تو میری جان پر بن آئ_ ایک ماہ تک روزانہ وہ کلاس میں میری پٹائ کرتی رہیں اور مجھے کچھ سمجھ نہ آئ کہ کیوں مارتی ہیں_ نہ مجھے معلوم تھا کہ کیا سیکھنا ہے اور نہ ہی میں نے کبھی گھر پر ذکر کیا_ میں نے خود بھی نہیں سوچا کہ ایسا کیوں ہو رہا تھا_ پورے ایک ماہ بعد ایک دن وہ اچانک میری ٹیبل کے قریب آئیں اور کاپی نکالنے کو کہا_ میری کاپی پر انھوں نے دس منٹ میں بڑے پیار سے مجھے algebraic exponent، اسکے parts اور signs کے بارے میں سمجھایا_ وہ دن تھا اور آج، پھر مجھے زندگی میں کبھی الجبراء سے کوفت نہیں ہوئ_ لیکن میں آج بھی سوچتا ہوں کہ اتنی قابل اور disciplined ٹیچر نے مجھے پورے ایک ماہ تختہ مشق کیوں بنائے رکھا_ ایسا ہی رویہ وہ شروع میں بسے اختیار نہیں کر سکتی تھیں؟ یہ خیال رہے کہ میں بے پرواہ ضرور تھا لیکن نکمّا اور کند ذہن نہیں تھا_ ایک اندازہ میں اب لگاتا ہوں کہ ٹیچرز بعض اوقات لا شعوری طور پر اپنے طالب علموں کو اپنی ذہنی مصروفیت، نفسیاتی کیفیت، کمی اور کوتاہی کا شکار بھی بنائے رکھتے ہیں_ حکومت کو ٹیچرز پر خصوصی توجہ دینی چاہیئے کیونکہ کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ کوئ بھی نظام تعلیم اس وقت کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک ٹیچر motivated نہ ہو_


طلسم ہوشربا کی طرح میری بچپن کی شرارتوں کی ایک طویل داستان ہے_ لیکن وہ شرارتیں نہیں تھیں_ وہی تو میرے اندر کا سکول تھا جسمیں میں تنکے کی طرح اڑتا پھرتا تھا_ میں نہیں کہتا کہ بچے شتر بےمہار ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ولیئم ہیزیلٹ نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ rules and models destruct genius and arts_ ایک دن شرارت یہ کی کہ سکول کے پرنسپل کلاس کے دروازے پر ٹیچر سے کچھ بات کر رہے تھے اور میں اپنی جیومیٹری باکس سے وقفہ وقفہ سے ہلکا ہلکا کھڑاک کر رہا تھا_ پرنسپل نے پوچھا یہ کون ہے؟ کلاس میں میرے مخالف جتھے کی لاٹری کھل گئ_ سب نے chorus کے انداز میں میرا نام لے دیا_ بس پھر کیا تھا دو تھپڑ کھانے پڑے_ میری غلطی سنگین تھی کہ ڈسپلن توڑا تھا لیکن پھر بھی مجھ پر ہلکا ہاتھ رکھا گیا_ اگر مجھے مکَّوں اور ڈنڈوں سے مار مار کر لہولہان کر کے سکول سے روانہ کر دیتے تو کیا میں زندگی بھر کسی سکول میں تعلیم حاصل کرنے جاتا؟ بالکل نہیں_ اس لیئے کہتا ہوں corporal punishment بہت ہی نازک مسئلہ ہے اور ٹیچر کو اس سے خود ہی دور رہنا چاہئے، لیکن، کچھ نہ کچھ ہو لیکن انتہائ ضبط کے ساتھ_ بعض بچے نری مار نہیں پیار، نہیں سمجھ پاتے، جنھوں نے اپنی دنیا بسا کر باہر کی دنیا کو کبھی کبھی اپنی شرارتوں سے سجائے   رکھنا ہو_


Thursday, August 20, 2020

عربوں کے بارے میں پاکستانیوں کا اضطراب اور ممکنہ حل

کافی عرصے سے عربوں کی امریکہ اور اسرائیل سے قربت کی جھوٹی سچی خبریں سننے کو ملتی رہی ہیں اور متحدہ عرب امارات کی اسرائیل سے شکست تسلیم کر لینے کے بعد تو عربوں کے خلاف ابلاغیات کا ایک طلاتم خیز سمندر سعودی عرب کے اعلان کے باوجود تھمنے کو نہیں آ رہا_ اس صورتحال میں حکمران، حکام اور مقتدر حلقوں کی اپنی assessnent, priorities اور reservations ہونگی لیکن عوامی سطح پر تذبذب اور انتشار دھیرے دھیرے بڑھ رہا ہے، جس سے نہ صرف یہ کہ مسلم ریاستوں اور امت مسلمہ میں تقسیم کے گہرے ہونے اور عوام میں بھائ چارے کی فضا کو خطرناک ترین حد تک نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے بلکہ اسکے سائے دھیرے دھیرے بڑھتے بھی ہیں؛ ایران، ترکی اور عرب دور بیٹھے رہیں گے لیکن دشمنان پاکستان ایسی صورتحال کو ہر طرح سے exploit کرنے میں کوئ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے_ مجھے حالیہ دنوں میں عربوں کے بارے خدشات پر مبنی ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا تو مجھے خیال آیا کہ میں عوام کو انکی توجہ مرکوز رکھنے پر اپنی رائے ضرور دوں_
اس مضمون کے تمام حقائق قریب النظر میں کم و بیش ٹھیک ہی ہو سکتے ہیں یا ٹھیک ہیں، لیکن، مسلم دنیا خاص تر عوام کو معلوم ہو کہ دنیا کے تمام ممالک کا ایک مشترکہ grey-area ہے جو کہ ایک حقیقت بھی ہے_ اسکا علم، ارباب حل و عقد، دانشوروں، خفیہ ایجنسیوں، دفاعی اداروں اور حکمران طبقوں کو بخوبی ہوتا ہے_ کسی بھی ملک میں یہ لوگ اپنے ملکی، قومی، خاندانی یا گروہی مفادات کے تحت پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں_ خواہ وہ پالیسیاں انکے دعوے کے مطابق ﷲتعالیٰ کی طرف سے الہام کہہ کر ہی کیوں نہ پیش کی جائیں لیکن اسے اس دور کی روح international order کے مطابقت کے مطابق ہی بنا سنوار کر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں سب ہی کم و بیش اپنا کردار اپنی وسعت یا کمزوریوں کے مطابق ادا کرنے کے پابند یا مجبور ہیں_
اب اسکے کچھ ممکنہ حل یہ ہیں کہ یا تو قوم نئے سرے سے، رسمی طور پر, سوچ بچار کرکے اس گرے ایریا کو جان کر اپنی ایک رائے قائم کرے_ دوسرا ریاست اپنی ترجیحات کا اعلان کردے اور عوام کو اسکے عواقب و فوائد سے آگاہ کرے_ عوام قطعی طور پر ایک رائے کا اظہار کرکے بس یک رخ ہوجائیں_ کوئ ریاست اس عالمی نظام اور اس grey-area سے جان چھڑالے_ چند ریاستیں ایک اتحاد قائم کرکے اس عالمی نظام سے جان چھڑائیں یا اس میں ہی bargaining کی صلاحیت اور قوت پیدا کر لیں_ ایک ماڈل انارکی یا اپنے تئیں آزادی کا بھی ہے جو داعش نے اپنایا ہوا ہے_ اس تمام صورتحال میں اگر ہر کسی کی اپنی ڈفلی اپنا راگ ہوگا تو معاشرے میں فکری تجرد، انتشار، مایوسی اور پریشانی بڑھے گی_ اگر ذہنی طور پر عیاش پاکستان کے طبقہ اشرافیہ کو اور انکے جھنڈے تلے ارباب حل و عقد، دانشوروں اور مقدر حلقوں، حکام اور حکمران طبقے, جنھوں نے ستر سال میں ملک کی پائ پائ لوٹ کر دنیا بھر میں empires کھڑی کر لیں, کو امت مسلمہ میں اتنے بڑے schism یعنی نفاق عظیم کا خطرہ لاحق ہوا وا ہے تو میدان میں نکلیں اور OIC کی غیر فعالی اور نااہلی کی حقیقی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کریں اور ادارے کو اپنی اصل روح میں بحال کرنے کی تگ و دو میں اپنا خون پسینا بہائیں_ قومیں لوٹنے اور ایک دوسرے کو دبا کر اور ورغلا کر رکھنے سے نہیں بنتیں_ مجھے تو ایسا کوئ غمگسار دور دور تک نظر نہیں آ رہا_ عربوں نے ہمیں محمد بن قاسم، طارق بن زیاد اور سلطان صلاح الدین ایوبی دیئے تھے تو کیا پورا ایٹمی پاکستان اور اٹھارہ کروڑ پاکستانی مسلم مل کر ایک OIC کو بحال نہیں کروا سکتے؟ جیسے آپ کی مجبوریاں ہیں اور آپ کے ہاں ﷲ، آرمی اور امریکہ کی صدا آتی رہی ہے اب عربوں میں ممکن ہے ﷲ، امریکہ اور اسرائیل نے جڑ پکڑی ہوئ ہو، جیسے ترکی میں پکڑی ہوئ تھی_
لیکن وہ حقیقت اپنی جگہ کہ عرب ہوں یا ترک، ایران ہو یا پاکستان، چین اور امریکہ سب عالمی خفیہ طاقتوں کے حمام میں ننگے ہیں_ اس مبہم صورتحال میں نہ مرکز واضح اور نہ ہی انتشار کی منزل_ مجھے ﷲ سے امید ہے کہ پاکستان کے دفاعی ادارے، اپنے عوام کے جذبات، مسلم دنیا اور موجودہ عالمی سیاست کی بساط پر مواقع اور خطرات سے ڈیل کرنے کیلئے اپنے تھؤرے بہت وسائل کا بھرپور استعمال کریں گے_ اپنے ذہن کو مرتکز رکھنے کیلئے مجھے تو پاکستان کے دفاعی اداروں پر بھروسہ ہے باقی نصیب ہوتا ہے قوموں کا جو ہتھیلی پر سرسوں جمانے سے نہیں بدلا کرتا_
Long-live! Pak Army and Defence Forces of Pakistan.

ہماری نرسری کے اشجار ممنوعہ

سوشل لائف اور سوشل میڈیا میں بہت سے لوگ تو ایسے ہیں جنھیں معلوم ہی نہیں کیا سوچنا، کہنا اور کرنا ہے؛ ماشاءﷲ! لوگ انھیں سنتے بھی بڑی تعداد میں ہیں اور موصوف اسے اپنی کمیونٹی ڈیولپمنٹ کا شاخسانہ بھی قرار دیتے ہیں_ بہت سے ایسے ہیں جو منزل کا پتہ تو دیتے ہیں باقی انھیں نہ نشان راہ کا علم اور اور نہ دوسرے لوازمات کا انھیں بھی بڑی تعداد میں ہمنوا مل جاتے ہیں_ ایک وہ ہیں جنھیں حالات اور اسکے تقاضوں، نشانات راہ کا علم بھی ہے، وہ ان معاملات سے آگاہ بھی کرتے ہیں لیکن اپنے ذاتی زعم اور گروہی خول سے ہی نہیں نکلتے کہ موضوع پر کما حقہ روشنی ڈالنے کی زحمت کریں_ انھیں لوگ صاحب نظر اور فلسفی قرار دیکر ان سے چمٹے رہنے کو اپنی دانش کی معراج سمجھتے ہیں_ ایک وہ بھی ہیں جو ذاتی اور گروہی مفادات اور  رعونت سے بالا ہو کر حالات کی نبض پر ہاتھ بھی رکھے ہوتے ہیں، نشان راہ اور منزل کا علم بھی ہوتا ہے اور فکر کو عمل میں ڈھالنے کی اہمیت کو بھی جانتے ہیں اور اسکی جزیات و ذیلیات تک بیان کرتے ہیں لیکن social activism اور nation building کیلئے عملی طور پر بالکل رغبت ہی نہیں رکھتے_ تاہم جب وہ لوگوں کو سمجھاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں آپ زیادہ فسفہ نہ جھاڑیں یا آپ بڑے فلسفی ہیں یا اپنا فلسفہ اپنے پاس ہی رکھیں_ افراد کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو مخلص اور قربانی دینے والے بھی ہیں اور ان معلومات کو فکری عمل اور فکری عمل کو معاشرتی عمل میں ڈھالنے کیلئے خود کو بھی وقف کرنے کیلئے تیار ہیں انکو ہمارے عوام و خواص فلسفی ہونے کی چھاپ و ٹھاپ دینے کے علاوہ صرف یہ جواب  ھی دیتے ہیں کہ کون کرے؟ آپ کے پاس وقت ہوگا ہمیں اور بھی بہت سے کام ہیں_ کون سا معاشرہ؟ کون سی قوم؟ کون سی فلاح و بہبود؟ فلاں کو دیکھا ہے؟ مولوی یوں، سیاستدان یوں، پولیس یوں، فوج یوں اور عدالتیں یوں_ کچھ عوام. بھی اس قبیل کے مصلحین اور رہنماؤں کی کج فہمیوں اور کج رویوں کا شکار ہونے سے خوف بھی کھاتے ہیں اور کسی حد تک عوام اس میں حق جانب بھی ہیں_

ایسی صورتحال میں آخری دو اقسام کے ناصحین اور ان کے مستفضین معاشرے کو بس جہالت اور جمود کا شکار کہہ کر مایوس ہو جاتے ہیں_  یہ تمام صورتحال معاشرے کو فکری تجرد یعنی abstract conceptualization کا شکار کر دیتی ہے جسکا کہ ہم پاکستانی شکار ہیں_ اس دوران جہاں عوام دل بہلاوے کیلئے اول فول،  تعصبات، غلو، مبہم خیالات، ورغلانے، گمراہ کرنے اور جھوٹی خبروں میں مگن ہوتے ہیں سمجھدار افراد بس معاشرتی جہالت اور بے راہروی پر کڑھتے، طنز کرتے اور مایوسی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں_ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں اصلاح کی بجائے تنقید برائے تنقید اور طنزیہ جفتوں کے ذریعے مسائل کو آشکار کرنے کا ذریعہ زور پکڑے ہوئے ہے_ اس چیز سے معاشرتی یاس social disappointment اور معاشرتی بے حسی social  numbness پیدا ہوتی ہے_ یہ معاملہ معاشرتی شعور social awareness اور سیکھنے کے انفرادی عمل یعنی individual learning اور اجتماعی دانش collective intellectualism کے عمل کو ختم نہ بھی کرے انتہائ سستی کا شکار کر دیتا ہے_ ان حالات میں مایوس اہل فکر و عمل ذرا غور کریں کہ اسکا سبب بھی خود انکی اپنی کوتائیاں اور کوتاہ بینی  ہی ہوتی ہے_ سوشل میڈیا کے اس بلبلے سے باہر گھریلو، مقامی، شہری، علاقائ، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کیا زندگی کا پہیہ بھی جام ہو چکا ہے؟ نہیں! ہم اپنی ذات اور گروہی خول میں مقید ہوں تو ہوں کاروبار زندگی کبھی نہیں رکتا_ 

ان حالات میں اہل دانش اور ارباب حل و عقد کا فرض ہے کہ بڑی عمیق نظری سے ہمہ قسم  شخصیات، گروپس اور فورمز کا جائزہ لیکر عوام کی اس طرف رہنمائ کریں اور اگر وہ ایسے گروپس اور فورمز نہ پا سکیں تو آپس میں جڑ کر انھیں تلاش کریں یا قائم کرنے کی کوشش کریں تاکہ فکری انتشار و تجرد اور معاشرتی عمل و سرگرمیوں سے بے بہرہ یہ عوامی ہجوم ایک قوم کے طور پر سوچنا سیکھے_ اس سلسلے میں میرا دوسرا مشورہ یہ ہے کہ مقامی معاشرتی معاملات، مسائل، انکے حل، وسائل، عوامی اور سماجی تنظیموں کی اہمیت اور مقامی حکومتی اداروں کے بارے عوام کو آگاہی دی جائے_ تاکہ لوگوں کو روزمرہ زندگی میں جہاں جہاں جو مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ اسکے خد و خال اور ان سے نبرد آزما ہونے کے عمل کو سیکھ سکیں_ 

اس سے زیادہ معاشرتی تعامل اور  معاشرتی شعور کو بڑھانے، معاشرتی جمود کو توڑنے، معاشرتی ارتکاز کی فضا قائم کرنے، عوام اور حکومت و حکام کے درمیان فاصلے کم کرنے، ریاست خودمختاری اور ریاست کے قدرتی و انسانی وسائل کی قدر و اہمیت کو سمجھنے اور ہر سطح پر پھیلی مایوسی کی دبیز چادر کو چھاٹنے کا معاشرتی فکر و عمل سے میل کھاتا tangent دوسرا طریقہ حکومتی اختیار ہوا کرتا ہے، لیکن، آپ حکومتی طرز عمل سیاستدانوں، غیر ملکی مداخلت یا جرنیلوں سے مایوسی کا اظہار نہ کیجئے بلکہ عوام کو ان سے کام لینے کا طریقہ سکھائیے اور یاد کیجئے ہم ہر وقت یہی تسبیح پڑھتے سنائ نہیں دیتے کہ جیسے عوام ہوں ویسے ہی حکمران ہوتے ہیں؟ اس سے ثابت ہوا کہ عوام کی اصلاح و تربیت سب سے اولِّین کام ہے اور یہی اہل دانش اور علماء کا کام ہے اور میں ان ہی سے مخاطب ہوں کہ علم و نور، شعور و آگاہی اور معاشرتی خیر و شر کا منبع اور مرجع آپ ہی تو ہیں؛ آپ کی تربیت کون کرے گا؟ یہ آپ ہی سوچ کر بتائیے، کچھ ہل چل آپ بھی کر ہی لیں اگر followers کی جھل مل سے کچھ لمحات نکل سکیں تو! (تحریر :ع

Tuesday, August 18, 2020

موجودہ عالمی نظام میں دو مسلم بلاکس کی بحث

 نیوز اینکر عمران ریاض خان نے اپنی تازہ ترین وڈیو میں ترکی اور اسرائیل کے حوالے سے ترکی کی vindication کی مخلصانہ کوشش کی ہے اور انکا تجزیہ ہے کہ عربوں کا جھکاؤ یورپ کی طرف اور ترکوں کا جھکاؤ اسلام کی طرف ہو رہا یے_ آخر میں انکا کہنا ہے کہ فیصلہ عوام خود کر لے اور اپنی رائے دے_ میرے حساب سے اس وقت کی یہ پوری بحث illogical اور fraud ہے_ میرے اس دعوے کی کیا وجوہات ہیں، ملاحظہ فرمائیں_

یہ جو بین الاقوامی ںظام چل رہا ہے اس میں مسلم کاز کو اکیلے ہی آگے بڑھانا صرف ایک یا دو یا تین ممالک کے بس کی بات نہیں ہے_ دوسری طرف ترکی، عرب اور ایران تینوں قومیت پرستی Nationalism پر یقین رکھتے ہیں_ یہ تینوں اقوام pan-Islamism کی بجائے Nationalism-cum-Islam پر یقین رکھتی ہیں اور تینوں اپنے تہزیبی غلبے کی متمنی ہیں_ سودی عالمی معیشت، نظام تجارت اور بینکنگ سسٹم میں بھی تینوں برابر کے شریک ہیں_ تینوں کا کوئ ایک معاملہ بھی ایسا نہیں کہ ایک کو دوسرے سے بہتر سمجھا جائے_ اسکے مقابلے میں پاکستان خالص pan-Islamism پر یقین رکھتا ہے اور ایک نئ ابھرتی مسلم قوم ہے جو ترکوں، عربوں اور ایران تک سے بھی جذباتی طور پر برادرانہ اور مشفقانہ تعلق رکھتے ہیں_ جبکہ ایران نے بھارتی دہشتگرد کلبھوشن سنگھ کو host کیا_ پاکستان کو ایران اور عربوں نے فرقوں کا میدان جنگ بنائے رکھا_ پاکستانی عربوں اور ایران میں تقسیم ہوگئے اب پاکستانیوں کو ترکوں اور عربوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے جو کہ ٹوٹل فراڈ اور کسی عالمی کھیل کا حصہ ہے_ مسلم دنیا کا صرف ایک حل ہے OIC اور OIC._ جب تک یہ اصلی روح کے ساتھ بحال نہیں ہو جاتی مسلم دنیا بڑی عالمی اور خفیہ طاقتوں کے کھیل سے نہیں نکل سکے گی_ دوسروں کی جنگ لڑنے سے بہتر ہے OIC کیلئے لڑ مر لیں یا اکٹھے ہو کر بیٹھ جائین تاکہ کوئ راستہ نکلے_ دوسروں کے عالمی نظام میں ہر سڑک شاہراہ غلامان ہے_ عربوں کے ساتھ مل کر بھی International Liberal Order کی غلامی کرنی؛ ترکی، پاکستان،ملیشیا اور ایران کے ساتھ مل کر بھی اسی آرڈر کی غلامی کرنی تو اسلام کہاں ہے؟ مسلمانوں کا کیا ہے، سوائے لاشوں، الزامات، مایوسی اور عدم استحکام کے؟ اب بتائیں کہ مسلمان مسلم دنیا میں اپنی مرضی سے جی سکتے ہیں یا اپنا آرڈر لا سکتے ہیں؟ سب بکواس_ ابھی بہت دیر ہے_ اس لیئے قومیت پرستی کی جنگ ختم کر دیں اور اسکے لیئے ایک ہی antidote اور panacea ہے اور وہ OIC ہی ہے_ عربوں، ایرانیوں اور ترکوں کو بتا دیں_ ایسے مسلم ممالک کے blocks کی جنگ تو ایسے ہی ہے جیسے غلاموں کے جتھے ایک دوسرے ملک کے بادشاہ کی غلامی کو برقرار رکھنے کیلئے اتحاد کی تمنا کریں یا مرنے مارنے پر تیار رہیں_

Friday, August 14, 2020

عالمی سیاسی بھنور، مسلم دنیا اور پاکستان

تجزیہ نگار عالمی صورتحال کے حوالے سے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، وہائٹ ہاؤس اور پینٹاگان میں اختلاف رائے کی نشاندہی کرتے ہوئے عالمی معاملات کے الجھن کے واضح نہ ہونے کی ایک اہم وجہ امریکہ میں طاقت کے ان تینوں مراکز کی confusion اور division کو قرار دیا کرتے تھے_ لیکن ہر مرتبہ ایسا ہی ہونا ضروری نہیں کیونکہ موقع کی نزاکت کے مطابق یہ عناصر ایک صفحہ پر بھی اکٹھے ہوتے ہیں_ گزشتہ چند سالوں سے امریکہ کے لیئے سب سے پہلا معاملہ تو چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو لیکر چل ہی رہا تھا_ اس میں امریکہ کیلئے ایک نیا اور حساس پہلو چین-اسرائیل انتہائ حساس معاملہ میں امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی سرزنش کے طور پر سامنے آیا_ اسکے نتیجے میں امریکہ کا دل رکھنے کو اسرائیل چین کے ساتھ تھوڑا سا ہی انیس بیس ہوا ہے اور مجھے تو شبہ پڑتا ہے کہ چین کو ایک حد میں رکھنے کیلئے کہیں خود اسرائیل نے ہی امریکی واعظ و تنقید کو استعمال نہ کیا ہو؟ تاکہ اگر معاہدات میں کوئ سقم رہ گیا ہو تو چین کو اسرائیل کی ریڈ لائنز کا احساس کروایا جا سکےجبکہ زیادہ امکان یہی ہے کہ کھیل ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر امریکہ خود ہی تلملا اٹھا ہے_ اب یہ تو حالات ہی بتائیں گے کہ امریکہ اس میں کتنا کامیاب ہوا اور اسرائیل امریکہ اور دنیا کو بیوقوف بنانے میں کتنا کامیاب ہو رہا ہے؟

 اسکے فوراً بعد امریکہ نے یورپ میں چین کے اثر رسوخ پر توجہ دی اور برطانیہ کے 5G منصوبے سے چینی کمپنی Hawaii کو نکلوا دیا_ حال ہی میں مائک پومپیو نے مشرقی یورپ کا دورہ کیا ہے جسکا مقصد وہاں روس اور چین کے اثر کو کم کرنا اور ان مشرقی یورپی ممالک کو امریکہ کی جانب سے 5G ٹیکنالوجی کی بات کی ہے_ اس ضمن میں امریکہ نے پہلے تو بھارت کی پیٹھ پر چین کے مقابلے کیلئے ہاتھ پھیرا لیکن ہمیں معلوم ہے بھارت کوئ لڑنے والا بٹیرہ نہیں ہے؛ چالاک بنیے نے اپنی تھوڑی بہت سُبکی کروائ اور بڑے جھگڑے سے بچ گیا؛ ادھر امریکہ بیٹھا نہیں کیونکہ منصوبہ تو اسی کا ہے تو وہ آسٹریلیا، جاپان اور تائیوان کو بھی بھارت کی سپورٹ کیلئے لے آیا اور خود بھی جنوبی-ایشیاء کے چینی پانیوں میں چھیڑ چھاڑ کرکے اپنے بڑے پن کا مظاہرہ جتانے لگا، لیکن، چین نے امریکی خر مستیوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیکر امریکہ کو پیغام دیا کہ چین بھی سینگ لڑا سکتا ہے_ بھارت تو ویسے ہی چین سے ڈرا ہوا تھا ادھر چین نے آسٹریلیا کو  اپنی معاشی اہمیت اور تعلقات کا احساس دلوایا تو وہ بھی کچھ ٹھنڈا ہوگیا_ اب جبکہ امریکہ اور اسکے اداروں کی بھرپور توجہ جنوبی ایشیاء اور اسکے اردگرد ہوئ ہے تو بھارت اندرونی طور پر بھارتی اقلیتوں کو دبا کر اور بیرونی طور پر نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان کے خلاف اپنی پراکسی کو مضبوط اور اب تو باقاعدہ سوشل میڈیا اور سائبر حملوں جیسے محاذ کھول کر بھرپور فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے_ 

موجودہ عالمی سیاست میں دفاعی اور تجارتی معاملات سے ہٹ کر سب سے اہم اور دور رس لڑائ انٹرنیٹ صارفین کے ڈیٹے کی custody کو لیکر ہے_ ان معاملات سے جڑے تجزیہ نگاروں کے مطابق اس مخاصمت نے Oil-war کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے_ اسی سلسلے میں امریکہ چاہتا ہے کہ اس ڈیٹا پر اسکی گرفت رہے تاکہ اسکی گرفت کسی عالمی معاملات میں مسلَّم رہے؛ اسکے بعد چین کی بھی یہی چاہت ہے اس فرق کے ساتھ کہ وہ قوموں کو آپس میں لڑوانے کی سیاست پر اپنے مفادات کی بنیاد نہیں رکھنا چاہتا اور چین کی یہی منصوبہ بندی امریکہ کو کھائے جا رہی ہے کیونکہ امریکی تو یہ سمجھتے ہیں کہ عالمی امن ان کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے_ انٹرنیٹ صارفین کے ڈیٹے پر ملکیت کی اس جنگ میں اسرائیل سب ہر بازی لے جانا چاہتا ہے_ اسی مقصد کیلئے اس نے مائیکروسافٹ، گوگل، ٹوئیٹر، فیس بک، یوٹیوب اور ایمازون وغیرہ کے ہیڈ-آفس اسرائیل میں منتقل کرنے کی بات کھلم کھلا کی ہے_ جب تک معاملہ اسرائیل کی حد تک تھا تو امریکہ خاموش رہا اور برطانیہ بھی_ جیسے ہی اسرائیل میں چین کی سرمایہ کاری اور متعدد معاملات میں چین-اسرائیل شراکت داری کی بازگشت سامنے آئ تو فوراً امریکہ نے اسرائیلی عوام کو انکے انٹرنیٹ ڈیٹا تک چین کی رسائ جیسے حساس معاملے کا طوفانِ احساس برپا کر دیا_ کوئ امریکہ سے پوچھے کہ کیا اسرائیلی حکام اور عوام بچے ہیں؟ نہیں، بلکہ، امریکی کو معلوم ہے کہ سوشل میڈیا giants کے مراکز کا مطلب پورے امریکہ، مغربی اور دیگر ممالک کے ڈیٹا تک رسائ ہے جس سے حاملیںِ ڈیٹا کو تجارت، جنگ و حرب اور تہزیب غلبے جیسے فوائد حاصل کرنے میں سہولت ہوگی_ چین یا اسکی دوسری مخالف قوتوں کو اسکا فائدہ پہنچے، امریکہ کیسے برداشت کر سکتا ہے؟ 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل چپکے سے امریکہ اور مغرب کو بہلا پھسلا کر چین کی طرف مائل کیوں اور کیسے ہوا؟ ایک سیدھا جواب تو یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کی آڑ میں اسرائیل نے سوشل میڈیا giants پر اپنی گرفت کے مان پر اپنے ہا‍ں منتقل کرنے کا منصوبہ بنا لیا تاکہ مغرب اور امریکہ سمیت پوری دنیا اسکے ماؤس کے ایک کلک کے نیچے ہو، دوسرا اس نے امریکہ اور مغرب سے جو مفاد اٹھانا تھا اٹھا لیا؛ تیسرا اب امریکہ اور مغرب کے عوام کو اسرائیل کے بارے اسی احساس کا آغاز ہو چلا ہے یا اس احساس کے جاگنے کا اسرائیل کو خدشہ ہے جو کہ ہٹلر کے زمانے میں یہود مخالفت کی شکل میں سامنے آیا تھا_ بعض امریکی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں یہودیوں کا مستقبل انکے جرمنی کے ماضی کے انجام سے مختلف نہیں یوگا_ اسکے علاوہ، یہودیوں نے کرسچیئن دنیا کو تو نیوٹرلائز کرکے ایک طرف رکھ دیا لیکن سفیدفام قوم پرستوں کو قابو کرنا یہودیوں اور اسرائیلوں کے بس کی بات نہیں کیونکہ وہ یہودیوں کیلئے ایک الگ وطن کے معاملے پر تو خاموش رہے کہ اچھا ہے انکے معاشرے کی اس قوم سے جان چھوٹے لیکن انھیں اب اپنے ممالک میں اسرائیلی مداخلت، عالمی صیہونی منصوبوں اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی نسل پرستی اور expansionism جیسے خیالات پر اسرائیلی استقلال ان کے عوام کی آنکھیں کھول رہا ہے_ اسرائیل معاملات کو کتنا ہی sugar-coated کرکے پیش کرے آخر ایک دن saturation تو ہونی ہی ہے_ اسرائیل نے امریکہ اور مغرب کو لایعنی جنگوں میں جھونک کر جو مفادات اٹھانے تھے اٹھا لئے جو کہ خود ایک الگ موضوع ہے_ ان حقائق کی روشنی میں اسرائیل نے حفظ ما تقدم کے طور پر اب چین کی بڑھتی ہوئ معاشی، دفاعی قوت اور چینی قوم کے عالمی سطح کی قوت بننے کے خواب کے پیش نظر اپنی پینگیں چین کے ساتھ بڑھانا شروع کر دیں تاکہ عالمی تجارت، عالمی اداروں، عالمی تعاون اور گلوبلائزیشن کی آڑ میں اسرائیل کی مغرب اور امریکہ سے چین کی طرف transition کا احساس ہی نہ ہو اور چین کی نئ دوستی کی شرما شرمی میں خاموشی کی آڑ میں اسرائیل پوری دنیا کے data تک رسائ اور سیکورٹی کے نام پر اس میں دخل اندازی کا اختیار حاصل کرکے دنیا کو اپنے اشاروں پر چلائے اور پس پردہ رہ کر نئ "سپر پاور" چین اور پھنسے ہوئے مغرب اور امریکہ کی مدد سے ایک عالمی حکومت کے قیام کو ممکن بنائے کیونکہ تمام ریاستیں اور عالمی ادارے کرونا وائرس جیسے موذی امراض اور آئندہ کے  "امکانی" جراثیمی حملوں سے "بچاؤ" کے "قابل" نہیں ہیں_ 

اس صورتحال میں چین کو تو ابھرتی ہوئ پر امن طاقت کے طور پر ہر لحاظ سے free-hand ہے ہی لیکن امریکہ اور مغربی کی اس "عالمی" سیاسی صورتحال سے نمٹنے کی determination کے بارے میں صورتحال مسلم ممالک سے کچھ کم نہیں ہے_ اسرائیل جس طرح سے امریکہ اور مغرب کی جڑوں میں بیٹھا ہے ان حالات میں امریکی stake-holders, یورپ اور یورپی یونین کا نہ ختم ہونے والا اختلاف اور اختلاف رائے بڑھتا ہی چلا جائے گا البتہ اپنے مخالفین کو ختم کروانے کیلئے ایک تیسری جنگ بھی "manage" کی جا سکتی ہے جسکا نشانہ آپس میں "الجھی" ہوئ دراصل الجھائ گئ مسلم ممالک کے عوام، سرزمین اور وسائل بنیں گے_ خفیہ عالمی قوتیں رہے سہے مسلم ممالک کو کمزور ترین سطح پر لے جا کر ابھرتی ہوئ طاقت کے ذریعے مغرب اور باقی دنیا پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہیں_ عالمی خفیہ طاقتوں کو مسلم ممالک کے کسی ممکنہ اتحاد اور مغرب کی عالمی معاملات میں اجارہ داری کے دوام کی خواہش سے خطرہ ہے جو کہ new-norms کے عالمی ماحول میں فِٹ نہیں ہو رہے اور یہ بات الگ چھبتی ہے کہ مسلم ممالک اپنے "دشمن" مغرب سے گٹھ جوڑ کرکے ایک نئ مصیبت کا بیج نہ بو دیں_ ان حالات میں عرب، ایران اور ترکی مسلم ممالک کی قیادت کرنے کے "اسلامی جذبے" کے پردے کی آڑ میں اپنی اپنی قومیت کے مفادات کے تحفظ اور بقاء سے نمٹنے کی کشمکش میں ہیں اسی لیئے انھیں بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ ابھرتی ہوئ "پر امن" قوت کا ساتھ دیں یا "دشمن" مغرب کا یا دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھے جائیں؟ اگر ان مسلم حلقوں کو امت مسلمہ اور عالم اسلام کا ادنیٰ سا بھی احساس ہوتا تو یہ OIC کو فعال بناتے اور آج یہ ادارہ نہ صرف مسلم دنیا بلکہ ابھرتی ہوئ "طاقت" اور مغربی ممالک کے ساتھ متوازن طریقے سے معاملات کرنے میں مسلمانوں کے کام آتی_ 

آج حالت یہ ہے کہ پورے عالم اسلام کی نہ تو اپنی کوئ مشترکہ،نیوز ایجنسی ہے اور نہ ہی کوئ میڈیا گروپ، نہ کوئ مشترکہ ٹی وی چینل ہے اور نہ ہی کوئ و قابل اعتماد سوشل میڈیا پلیٹ فارم_ اس سب کے باوجود مسلم دنیا اس جنگی ماحول، قدرتی آفات، بیماریوں، بھوک، افلاس اور نفسا نفسی کے چکر میں نہ آئیں بلکہ اب بھی OIC میں اسکی صحیح روح پھونک کر اسے فعال کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ، اس تمام نام نہاد عالمی کھیل کا مقصد یہ بھی ہے کہ اگر یہ مسلم ممالک، جن میں اکثر کی آزادی کو آئندہ چند سالوں میں ایک صدی مکمل ہونے والی ہے، مضبوط ہوگئے تو اسرائیل کی پوزیشن ان سب کے مقابلے میں کیا ہوگی؟ اس معاملے کا خصوصی جائزہ لینے کیلئے آج سے دو تین سال قبل امریکہ میں Zionists-Neocoms کانفرنس بھی ہوئ تھی_ لیکن مسلم دنیا نے اس پر توجہ نہیں دی تھی_ اس وقت پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ مذکورہ مسلم اقوام کی طرح قومیت پرستی یعنی Nationalism پر ارتکاز کرتا ہے تو اسکا اندر کا تانا بانا یعنی matrix تباہ ہوتا ہے کیونکہ اندر کے قوم پرست اس جذبے کو اپنے مفاد میں استعمال کریں گے اور پہلے ہی ملک دشمن قوتیں انکو اکساتی رہتی ہیں اور اگر پاکستان اسلام کی بات کرتا ہے تو مسلمانان پاکستان عالم اسلام اور OIC کی بات کرتے ہیں_ اصل مسئلے پر تو غور نہیں ہوتا بس ایران، سعودی عرب اور ترکی کے اسلام کے لبادے میں قومیت کے جھگڑے پر ہم پاکستان میں ہی اکھاڑہ بنا کر سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کر دیتے ہیں_  

اب وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان ان ممالک سے سنجیدگی سے، تمام مصلحتوں، تقاضوں اور حالات کی نزاکتوں سے بالا ہوکر بات کرے اور یہی عالمی سیاست کی بھلبھلیوں سے نبرد آزما ہونے کا ٹھوس اور دیرپا راستہ ہے_ اگر پاکستان اس پر توجہ نہیں دیتا تو عالمی سیاست کا طوفان تھمنے کے بعد اسکا fall-out اپنے اندر بظاہر تعمیری  نظریاتی تخریب کا latent-potential رکھے ہوگا اور اسے انارکی میں بدلنے میں کتنا وقت درکار ہوگا؟ خاص کر جب خفیہ قوتیں انقلاب اور بہتری کے نام پر اسے خاموشی سے بھڑکانے کیلئے ہمہ تن گوش ہوں؛ اور اس انارکی اور شورش  کے پاداش کم و بیش تمام مسلم ریاستیں اپنی جغرافیائ حدو‍ں کو کھو بیٹھنے کے اندیشے سے دو چار ہو جائیں گی_ پاکستان کی پوزیشن کم و بیش اس وقت سلطنت عثمانیہ کے آخری ادوار سے ملتی جلتی ہے، قدرت نے شائد عثمانیوں کیلئے options اور opportunities محدود کردیئے تھے، انکا انجام جو ہونا تھا ہوا، لیکن، پاکستان کو ﷲ تعالیٰ نے جو مواقع دیئے ہوئے ہیں اس عالمی سیاست کے مخمصے سے وہ تمام مسلم قوتوں کو سمیٹ کر ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے جیسے عالمی بھنور کی چکی میں سے اسرائیل ابھرا تھا_ فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان کی طاقت ہر حالت میں OIC کے جھنڈے تلے ہی اپنی بقاء کا ساماں کر پائے گی_ (تحریر: عبدالرحمٰن) 

Wednesday, August 12, 2020

عالمی غلام گردش کی کہانی

آج سے چند ہزار سال قبل سیارہ مریخ کے کسی ملک میں طاقتور ممالک نے ایک بہت بڑا شہر آباد کیا ہوا تھا_ ایک دن میں مریخ پر گھومتے ہوئے اس شہر میں داخل ہوگیا_ میرا ارادہ زمین پر واپس آنے کا تھا لیکن میرے دماغ میں لگی چِپ میں انٹرنیٹ کا پیکج ختم ہو گیا تھا تو مجھے انتظار میں وہیں رکنا پڑا_ میں نے کہیں آرام کرنے کی بجائے شہر کی سیر کا فیصلہ کیا_ کوئ دو تین گھنٹے بعد میں اس شہر کے ایک کونے سے گزرا تو لاتعداد عوام ایک بڑے سے اسٹیڈیم کے گرد چہل پہل میں مصروف تھی اور بعض لوگ پریشانی میں اسٹیڈیم کے دروازوں میں جھانکتے ہوئے ہاتھ بھی مل رہے تھے اور ایک دوسرے سے گلے مل کر رونے بھی لگتے تھے اور ان میں سے کچھ ہاتھ مَلتے، روتے اور پھر چہل پہل کرتے لوگوں کے ساتھ مل کر ہَلَّہ گُلَّہ بھی کرنے لگ جاتے_ میں کچھ دیر کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا اور بِل آخر میں نے اسٹیڈیم میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا_ اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں ریسلنگ کا ایک اکھاڑہ Ring بنا ہوا تھا اور اس میں کوئ دس بارہ پہلوان دو پہلوانوں کو کبھی بری طرح مارتے اور کبھی انکے جسم پر گُدگیاں کرکے ہنسانے کی کوشش کرتے_ مار کھا کھا کر وہ پہلوان آدھ موؤے ہو چکے تھے اور گُدگدی کی صورت میں انھیں بے حسی کے ساتھ ہنسنا بھی پڑتا تھا؛ مجھے مارنے اور ہنسانے کا یہ کھیل سمجھ میں نہیں آسکا_ بس میں دور کھڑا حیرانی سے یہ منظر دیکھتا رہا_ کچھ ہی دیر بعد مار کھانے والےایک پہلوان نے گُدگدی شروع ہوتے ہی اچانک سے ہنسنا شروع کر دیا اور اسی دوران اس نے رِنگ کے باہر کھڑے ایک اور پہلوان کو نامعلوم کیا اشارہ کیا کہ وہ بھی اس یکطرفہ مقابلے میں کود پڑا_ اسکے اندر داخل ہوتے ہی سارے پہلوان ان پر پِل پڑے اور انھیں خوب زدکوب کیا اور پھر ان تینوں کے ساتھ وہی مار اور ہنسی دلوانے کا کھیل شروع کر دیا_ میں نے حیران ہوتے ہوئے ساتھ کھڑے ایک تماشائ سے پوچھا یہ ریسلنگ کب ختم ہوگی؟ اس نے بتایا کہ یہ کھیل اسی طرح چلتا رہتا ہے_ یہ مار کھانے والے پہلوان ساتھ والے چھوٹے شہر کے رہنے والے ہیں اور ان کی برادری کے بڑے بڑے پہلوانوں کو تو اس رِنگ میں ہر وقت اس ریسلنگ میں یکطرفہ مار لگتی رہتی ہے البتہ یہ مارنے والے پہلوان وقت بہ وقت آرام کی غرض سے رنگ میں آتے جاتے رہتے ہیں_ میں نے پوچھا آخر یہ پہلوان اس رِنگ میں داخل ہی کیوں ہوتے ہیں؟ اس نے بتایا کہ اس دن سے کوئ سو سال قبل ایک شیطان نے ان دونوں پہلوان گروپوں کو ایک معاہدہ کے تحت اکٹھا کر دیا تھا بس یہ اسی شیطانی معاہدے کی پاسداری ہے_ اسکے علاوہ اس نے یہ بھی بتایا کہ کچھ عرصہ بعد مار کھا کھا کر ان میں سے بعض پہلوان اپنے شہر میں واپس چلے جاتے ہیں اور انھوں نے وہاں ایسا ہی ریسلنگ رِنگ بنایا ہوا ہے اور یہ وہاں اپنے سے چھوٹے پہلوانوں کو اسی طرح مارتے اور ہنساتے ہیں_ میں اس عجیب کھیل سے بڑی الجھن میں پڑا ہوا تھا کہ اچانک مجھے سگنل ملا کہ میرا انٹرنیٹ پیکج لگ چکا ہے_ ان رونے اور ہنسنے والے پہلوانوں اور انکو دیکھ کر ہاتھ مَلتے اور ایک دوسرے کے گلے لک کر رونے والے اور کچھ خوشی سے جھومتے تماشائیوں کو دکھ بھری نظروں سے دیکھتا ہوا اور ان ظالم پہلوانوں کو غصے سے دیکھتا ہوا میں اسٹیڈیم سے باہر نکل ہی رہا تھا کہ اچانک سے میرے دماغ میں وائبریشن ہوئ؛ میں نے ڈیوائس آن کرکے میسج پڑھا تو لکھا تھا کہ زمین پر لوٹتے ہی مجھے کڑی سزا دی جائے گی اور میرا جرم یہ تھا کہ میرے دل و دماغ میں مار کھانے والے پہلوانوں کیلئے دکھ اور مارنے والے پہلوانوں کیلئے نفرت تھی جو کہ new-norms کی سنگین خلاف ورزی تھی اور گواہی کے طور پر میرے visual-cortex کے اسکرین شارٹس اور اسی لمحے خارج ہونے والے enzymes اور harmones کی لسٹ بھی موجود تھی_ خیر میں کافی عرصے بعد زمین پر واپس آگیا اور فوراً ہی اپنے دماغ میں لگی چپ نکال کر پھینک دی اور عارضی طور پر اپنے ملک کے کسی دور دراز گاؤں میں رہنے کا فیصلہ کیا_ ایک دن میرے میزبان نے میری فراغت کو دیکھتے ہوئے عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور عالمی سیاسی نظریات پر پڑھنے کیلئے کچھ کتابیں لا دیں اور میں نے انکا مطالعہ شروع کر دیا_ جوں جوں میں کتابیں پڑھتا گیا مجھے عالمی سیاسی نظام، اقوام متحدہ جیسے ادارے، ترقی یافتہ اور تیسری دنیا، جنگ، امن، عالمی معیشت، عالمی تجارت carrot and stick جیسی پالیسیز کا علم بھی ہوتا گیا_ اسکے ساتھ ہی میرے ذہن میں وہ مریخ سیارے والے واقعات کی تصویر بھی گھومنے لگی اور جب میں نے تمثیل یعنی analogy قائم کی تو مجھے یہاں اور وہاں کے اکھاڑے، پہلوانوں، عجیب و غریب کُشتی اور تماشائیوں کی بے بسی کی حقیقت سمجھ میں آئ_ سچی بات ہے اب میں نہ زمین کا رہا کہ نہ ہی مریخ کا؛ اب میرا ارادہ ہے کہ چاند پر جانے والی پہلی فلائٹ میں ہی سیٹ ریزرو کروا لوں؛ شائد وہاں جا کر کچھ سکون ملے_ لیکن مجھے پتا چلا ہے کہ وہاں بھی یہی کچھ ہوگا کیونکہ  وہاں پر بھی تو انسان ہی ہونگے اور قرآن کے الفاظ میں انسان جلدباز، جھگڑالو اور خواہشات کے پیچھے چلنے والا ہے_ میں نے کسی دور اندیش سے اسکا حل پوچھا تو اس نے کہا رب کے فیصلے تو رب ہی جانے لیکن مقتدر حلقوں یعنی ایلیٹ کلاس کا ٹارگٹ تو یہی ہے کہ معاشی بد حالی، طرح طرح کی جنگیں، بے ڈھنگی افواہیں، نت نئ بیماریاں، بھوک، افلاس اور مصنوعی آفات پھیلا کر ویکسین کے نام پر مخصوص دوائیاں اور سیکورٹی کے نام پر مائیکرو چپس اور نینو ٹیکنالوجی کے آلات فٹ کرکے غریب عوام کو زمین، خلا، مریخ سے لیکر چاند تک بری طرح سے جکڑ کر اپنی گرفت میں میں رکھا جائے_ ویسے بھی ہمیں سائنسی ترقی کا بہت شوق تھا اب Post-modern اور Nano-based slavery سے ڈر کیوں لگ رہا ہے؟ میں نے ایک لمحے کیلئے سوچا اور واپس اپنے شہر اور اپنے گھر لوٹ آیا_ مجھے گھر واپس آئے کوئ دن ہی گزرے ہونگے کہ گیٹ پر گھنٹی بجی اور کچھ ہی لمحوں بعد میرا بڑا پوتا بھاگتا ہوا میرا پاس آیا اور کہنے لگا وہ محکمہ صحت والے گیٹ پر آئے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ کے دادا نے ویکسین کے قطرے پی لیئے ہیں؟ ابھی میں خاموش ہی تھا تو وہ اگلی ہی سانس میں بولا، دادا جان! کل چِپ لگانے والے بھی پوچھ رہے تھے_ میں نے سوچا آپ کو یہ ساری کہانی سناؤں کہ کیا ہمارے پاس اس کا کا کوئ حل بھی ہے یا بس پہلوانوں کی لڑائ میں کمزور پہلوانوں اور کچھ نورا کُشتیوں کو دیکھ کر بس ہا ہو ہی کریں گے یا ہاتھ ہی ملتے رہیں گے؟ آج جس بے بسی نے ہمیں طرح طرح کے نہ ختم ہونے والے خوف اور غم میں مبتلا کیا ہوا ہے، یقیناً یہ خوف اور غم، رب کی نافرمانی کا ہی نتیجہ ہیں_ بے شک انسان نقصان میں ہے؛ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے_ 

حکومت پاکستان سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی کا نوٹس لے گی؟

اگر سعودی عرب کی دوستی اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کرے اور ایران کی دشمنی اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کرے تو بحیثیت ایک پاکستانی مجھے نہ تو ایسی دوستی قبول اور نہ ایسی دشمنی قبول_  پاکستان اور سعودی عرب کے فہمِ حالات کے اختلاف کو ہوا دینا اور اسے شیعہ-سنی لڑائ میں بدلنا کون سے اسلام اور پاکستان کی خدمت ہے؟ ہم اہل السنۃ تو سعودی عرب اور پاکستان کی حالیہ اونچ نیچ سے پریشان ہیں اور نہ تو ہم پاکستان کی برائ سن سکتے اور نہ ہی سعودی عرب کی تو پھر یہ سوشل میڈیا پر اس آگ کو کون بھڑکا رہا ہے؟ اس وقت تو پاکستانیوں کا خون جل رہا ہے کہ ہمارے دو بھائیوں میں اختلافات سر اٹھا رہے ہیں_ ہم پاکستانیوں نے ہر محاذ پر عالم اسلام کیلئے خون دیا ہے_ جبکہ ہمارے بعض برادر مسلم ممالک نے بھارت کا ساتھ دیکر اور بھارتی جاسوسوں کو پناہ دیکر ہماری ہی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے_ اس موقع پر بھی بھارتی سورما اور انکے گماشتے پاکستان میں اختلاف پیدا کرکے پاکستان کے پوٹینشل کو کمزور کرنے کی پوری کوشش کرنے میں مصروف ہیں_ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان سعودی عرب سے دور ہو کر سپر پاور بن جائے گا؟ کیا سعودی عرب پاکستان سے کٹ کر سپر پاور بن جائے گا؟ نہیں بھائیو! اگر سعودی عرب پاکستان سے بگاڑ کر اسرائیل اور امریکہ کے پاس جائے گا تو اسکی وہ عزت نہیں ہوگی اور اگر پاکستان سعودی عرب سے کٹ کر چین اور امریکہ سے معاملات کرے گا تو ہماری وہ عزت نہیں ہوگی جو ایک عالم اسلام کے نمائندہ کے طور پر پاکستان، سعودی عرب ایران اور ترکی کی ہو سکتی ہے_ان حالات میں کون بدبخت سعودی عرب اور پاکستان یا ترکی اور عربوں کے اختلاف کو بڑھاوا دے گا اور کون بدخواہ اس لڑائ پر خوش ہوگا؟ میں برملا کہتا ہوں کہ مسلمانوں کے دشمنوں کو سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی اور تعلقات برے لگتے تھے؛ اب خوشی کی لہر بھی تو انہی کے اندر پھیلی ہے_ وہی اپنے بغض کا اظہار دونوں اطراف کو اکسا کر کر رہے ہیں_ بحیثیت مسلم میں سمجھتا ہوں کہ دشمن ہمارے ہاتھ اور بازو ایک ایک کرکے کاٹنا چاہتا ہے_ ہم پاکستانی، پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکی چاروں کیلئے پریشان ہیں اور ہمارے اندر سے ہی کچھ پیدا گیروں کی لاٹری کھل گئ ہے_ سوشل میڈیا پر تو ہر قسم کے تجزیہ نگار موجود ہیں؛ کچھ مخلص اور کچھ بھڑکانے والے؛ عوام کو چاہئے انکی رائے پر غور کریں نہ کہ پاکستان اور سعودی عرب اختلاف کے نام پر اپنے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں_  پاکستانی حکام، حکمران، سیاستدان اور مذہبی رہنماء کسی کو ایک ہی بات سے ہیرو اور کسی کو زیرو کر دینے کے رویے سے گریز کریں کیونکہ یہ وطن عزیز پاکستان اور امت مسلمہ کی بقاء کا مسئلہ ہے؛ اس سے کھلواڑ ہی اصل غداری اور کفر ہے_ میں بحیثیت ایک پاکستانی شہری، حکومت پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ وطن عزیز پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی سلامتی اور استحکام کی خاطر سوشل میڈیا پر کی جانے والی تخریبی وڈیوز کا نوٹس لے یا پھر ان موضوعات پر پابندی لگا دے اور یہ بھی سمجھ لے کہ دکھ کس کو کس بات کا ہے اور خوشی کس کو کس بات کی ہے اور کون پاکستان کی قوت کو کمزوری میں بدلنے کی تمنا لیئے بیٹھا ہے_

Friday, August 7, 2020

پاکستان مسلم دنیا کی قیادت کیوں نہیں کر سکتا؟

بہت عرصے سے ہم مغربی دنیا کے گلولائزیشن اور ون ورلڈ آرڈر کے نعروں کی بازگشت سنتے چلے آرہے تھے اور قریب النظر میں مواصلات اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی بنا پر فاصلے سمٹنے سے یہ بات ایک حقیقت کا روپ دھارتی نظر بھی آ رہی تھی کہ اسی دوران مغرب اپنی جنگی خصلت کو بروئے کار لاتے ہوئے نہتی اور خود مغرب کے ہاتھوں کمزور رکھی گئ مسلم دنیا پر چڑھ دوڑا اور سمجھنے لگا کہ اب اس دنیا پر وہ بلا شرکت غیرے حکمران ہے_ دراصل یہ دنیا پر مغربی غلبے کی دوسری فیز تھی_ اسی دوران ان ہی کے گلولائزیشن کے تصور کے تحت چین نے بھی اپنی ٹیکنالوجی، معیشت اور دھیمے مزاج کی بدولت ماحول کو سازگار دیکھتے ہوئے گلولائزیشن کے فوائد سے استفادہ کرتے ہوئے پر پرزے نکالنے شروع کئے تو امریکہ بہادر کے رونگٹھے کھڑے ہوگئے_

امریکہ اکیلا تو کچھ کر نہیں سکتا تھا تو اس نے اپنی Anglo-Saxon اور Judeo-Christian فلاسفی کے تحت اپنے لنگوٹیا دوستوں برطانیہ اور اسرائیل کو چین کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے انھیں پہلے سے طے شدہ منصوبوں کو منسوخ کرنے کا حکم بھی دے ڈالا_ اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اسرائیل اور برطانیہ امریکہ سے کہتے کہ گلولائزیشن کے دور میں ہر قوم کو اپنے معاشی مفادات اور تعلقات کو آگے بڑھانے کا حق ہے، لیکن، ہمہ قسم کے نتائج اور عواقب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے برطانیہ نے اپنے 5G کے پروگرام میں سے چینی کمپنی Hawaii کو، چین کے شور مچانے کے باوجود، بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ اسرائیل نے امریکہ کی حاشیہ برداری میں، چین سے انتہائ قریب تعلقات کے باوجود، پہلے سے طے شدہ ٹھیکوں کے ضمن میں امریکی تدابیر کے مطابق اقدامات اٹھانے شروع کردیئے اور آئندہ کے متوقع چین-اسرائیل منصوبوں سے پسقدمی کرنے کا عندیہ بھی دے دیا_ اس معاملے میں دنیا کی سب سے بڑی عسکری اور معاشی قوت نے اسرائیل اور برطانیہ کو کوئ دھمکی نہیں دی صرف یہی باور کروایا کہ چین انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ ہونے کی وجہ سے اسرائیل اور برطانیہ کے ہمہ قسم ڈیٹابیس تک رسائ کے قابل ہو کر مغربی دنیا کے غلبے کی راہ میں رکاوٹ بن جائے گا_ 

کہاں گئے قوموں کو اکٹھا کرنے اور گلوبل دوستی، محبت اور ترقی کے مغربی دعوے؟ کہاں گئ اسرائیل اور برطانیہ کی Nationalism؟ اس سے یہ یہ بات بھی عیاں یوگئ کہ گلوبلائزیشن دراصل مغرب کی عالمگیر ٹھگی کا ہی نام تھا جس میں دوسری قوموں کے ذمے بس مغربی میڈیا اور طرز زندگی کے سحر میں مبتلا ہو کر اپنے انسانی اور قدرتی وسائل کو مغربی ساہوکاروں اور دلالوں کے ہاتھوں لٹوائے چلے جانا کا تھا، لیکن چین نے رنگ میں بھنگ کی فضا آشکار کردی_ اگرچہ اس میں اسرائیل کے اپنے مفاد کی عالمی سیاست ایک الگ بحٹ ہے_ سرراہ ایسے ہی جذباتی تعلقات کی ایک اور مثال کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ قوموں کے درمیان آزادی، مساوات اور انصاف کو یقینی طور پر قائم رکھنے کے خدائ دعویدار امریکہ نے ہمیشہ حقائق سے منہ موڑ کر اسرائیل اور بھارت کے کشمیر اور بھارت میں جاری استبداد کی یکطرفہ چشم پوشی اور حمایت کی ہے_ بہر حال، امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے سیاسیات، معاشیات اور عمرانیات کے منطقی فلسفوں، سائنسی حقیقتوں اور عقلی استدلات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے تاریخی اور مذہبی جذبات کو ترجیح دی جو بین الاقوامی معاملات میں جذبات پر مبنی محبت اور تعلق کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں_

اقوام کے باہمی معاملات کا مطالعہ و مشاہدہ کئ طرح سے کیا جاتا ہے لیکن جب بات ترکی اور عربوں کی موجودہ باہمی صورتحال کی ہو تو عالم اسلام میں دونوں فریقوں کے حوالے سے دونوں قریقوں سے مذہبی اور سیاسی پہلوؤں سے اتاہ درجے کی جذباتی کیفیت کو جانے بغیر موجودہ صورتحال کو سمجھنا مشکل اور عالم اسلام کے مستقبل کا تعین ناممکن ہے_ نہ صرف عوامی سطح پر بلکہ ارباب حل و عقد بھی نفسیاتی اعتبار سے ان پہلوؤں کو Primary عوامل سمجھتے ہیں_ اگرچہ ایک لحاظ سے اس کے انتہائ اہم پہلو عربوں اور ترکوں میں قومیت کے جذبات، اندرونی سیاسی معاملات، ریاستوں کے اپنے اپنے معاشی مفادات، ان عوامل سے جڑے عسکری اور بین الاقوامی امور کے اثرات کی بحث بھی ہونی چاہیئے لیکن جذبات کی دنیا میں نہ صرف یہ کہ یہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق مخفی شکل اختیار کئے ہوئے ہیں بلکہ ثانوی حیثیت اختیار کئے ہوؤے ہیں_ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسا دانستہ طور پر نہیں کیا گیا بلکہ یہ ایک قدرتی مظہر ہے_ اس مباحثے سے مسلم دنیا کی سیاسی شعور کی بیداری کا راستہ بھی نکل سکتا ہے اور دونوں فریقوں کے ضد اور عناد کی بنیاد پر کیئے گئے فیصلے اور پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کی غیرجانبداری، نان-سٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے پراکسی وارز کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے اور نظریاتی تنوع کی مباحث کے ذریعے معاشرتی تقسیم کی گہرائ کو کم بھی کر سکتے ہیں اور اسے خطرناک حد تک بڑھایا بھی جا سکتا ہے_ آج ہم جو بیج کاشت کریں گے، کل اسی کا پھل کھائیں گے_

اس تمہید کا مقصد اس بات کی وضاحت ہے کہ اقوام اپنے جذبات کی قوت سے synergical-effect کے ذریعے کس طرح سے کمزوریوں کو طاقت میں بدل کر خطرات میں سے مواقع تلاش کرکے اپنے ویژن کے حصول کیلئے اپنے سنگ میل اور ترجیحات طے کرتی ہیں_ یہ ان لوگوں کیلئے بھی آئینہ ہے جو مسلم دنیا کو اندرونی اور بیرونی طور پر Pan-Islamism اور امت مسلمہ جیسی حقیقت کو fantasy اور myth قرار دینے کی سنجیدہ یا تضحیکانہ کاوش کرتے ہیں؛ یا تو وہ خود الجھن اور مایوسی کا شکار ہیں یا باطنی بغض رکھتے ہیں_ اسی وجہ سے ان میں سے بعض ایک فیشن کے تحت امت کے نیم حکیم بن کر نت نئے غیر فطری اور غیر حقیقی مشورے دے کر لاشعوری طور پر یا شعوری طور پر اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کیلئے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے جان بوجھ کر مایوسی پھیلاتے رہتے ہیں؛ دوسری قسم کے لوگ تو ویسے ہی مسلمانوں میں الجھن اور مایوسی پھیلا کر، ملکی، علاقائ اور عالمی استحکام کے نام پر، اپنا شکار کئے رکھنے کا کھیل ہر لمحہ جاری رکھتے ہیں_ اسی کھیل کا نام انھوں نے خود اسلام اور مسلمانوں کے درمیان ایک جنگ رکھا ہوا ہے_ 

اگر امت مسلمہ کو اکٹھا کرنے کے خیال کو دور کی کوڑی، خام خیالی اور دیوانوں کا خواب سمجھ بھی لیا جائے بھی تو پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ بھلے دنوں کی دوستی کے مدنظر کرائسز کے خاتمے کیلئے آگے بڑھ کر عالم اسلام کی دو عظیم الشان ذیلی عرب اور ترک تہزیبوں اور اقوام کے درمیان مفاہمتی اور مصالحتی کردار، زبردستی بھی ادا کرنا پڑے تو لازمی کرے_ اس سے مایوسی میں ڈوبی امت مسلمہ کو کچھ تو سہارا ملے گا اور پاکستان کی قدر و قیمت ان کی نگاہ میں بڑھے گی_ اسی سے ٹقافتی، تجارتی، سیاحتی اور سیاسی روابط کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے_ اگر پاکستان اس بارے میں کوئ سرگرم کردار ادا کرتا ہے تو یہ بات پاکستان کے اندرونی فکری اور دیگر استحکام کیلئے بڑی سودمند ثابت ہوگی، پاکستانی قوم کو ایک ویژن اور حوصلہ ملے گا کہ محض جنگی میدان میں ہی نہیں موقع ملنے پر ہم میدان امن میں بھی soft-power رکھتے بھی ہیں اور articulate بھی کر سکتے ہیں_ اس طرح سے ہم اپنی غفلت کے پاداش پیدا ہونے والے اپنے معاشرتی انتشار اور خلفشار کے علاوہ عرب، ترک معاملے پر پیدا ہونے والے ارتعاش کی شدت کو بھی کم، معتدل اور کنٹرول کرنے کے قابل ہو سکیں گے_ سب سے بڑھ کر یہ کہ عالمی سطح پر اجارہ داری کی بڑی طاقتوں کی کشمکش میں ہمیں کچھ بھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملنے والا؛ جیسا کہ حصہ بقدر جثہ والی کہاوت ہے، ہمارا سفارتی قد کاٹھ بڑھے گا تو ہی ہم بڑی طاقتوں سے بارگیننگ کے قابل ہوںگے_ قومیں تو اپنے لیئے مواقع ڈھونڈنے کیلئے، نامعلوم کیا کیا ڈھونگ کرتی ہیں اور پاکستان کو تو اپنے ہی ایک قسم کے competitive-advantage کے تحت موقع مل رہا ہے_ پاکستانی قوم اور مسلم دنیا کی بدقسمتی ہوگی اگر پاکستان اس معاملے میں 360 ڈگری سے اپنی صلاحیت، سفارتی قابلیت اور موقع کو استعمال نہیں کرتا_

میں نہیں کہتا کہ پاکستان کیلئے کوئ کھلی شاہراہ ہے جس پر ڈورتا ہی چلا جائے گا، نہیں بلکہ ذمہ داری، حالات کی نزاکت اور اس سے مستقبل پر پڑنے والے اثرات اور حاصل ہونے والے ملکی اور اجتماعی فوائد کا تقاضہ ہے کہ پاکستان اپنا منصوبہ کی objectivity کو خود مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی پہلو کو عربوں کی دولت کے بہاؤ، ترکوں کی قومیت کے غیرمعقول جذبات سے چوکنا رہے اور ذمہ داری کے ساتھ انھیں سمجھاتا بھی رہے_ اسکے علاوہ پاکستان کو عربوں اور ترکوں کے درمیان قومی اور مذہبی منافرت کے پہلو سے پیدا ہونے والے غیرمتوازن روئیوں کو بھی متوازن کرنا ہوگا؛ اس سلسلے میں عربی اور ترکی زبان، کلچر اور مسلم دنیا کا اجتماعی درد رکھنے والے مسلم مایرین، علماء دانشوروں، صحافیوں اور اساتذہ کی تکلفات اور لوازمات سے پاک ماحول میں لینے کی ضرورت ہے اور انکی کوئ کمی بھی نہیں ہے_ ملیشیا، انڈونیشیا، عرب اور ترکی سب جگہ سے ایسے لوگ اکٹھا کرکے خیرسگالی کی ایک کونسل تشکیل دی جا سکتی یے_ اپنی بات پھر دہراتا ہوں کہ پاکستان میں بین المسلمین فکری اور نظریاتی خلیج کو پاٹنے، عوام اور حکام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کا اس سے بہتر موقع شائد ہی مل پائے_

اسکے علاوہ پاکستان کیلئے کچھ ان دیکھی یعنی absurd رکاوٹیں بھی ہیں مثلاً پاکستان میں مغربی ممالک کی مداخلت قوت کا خوف؛ تو اس سلسلے میں پاکستان کب تک خوف کھاتا رہے گا؟ اب جب سب protectionism کو فوکس کر رہے ہیں تو ہمیں کسی سے خوف کھانے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ سوائے اسکو lame-excuse کے طور پر استعمال کرنے، inactivity اور pessimism کو جاری رکھنے کے_ ایک اور خوف مغربی ممالک سے تجارتی اور معاشی تعلقات بگڑنے کا ہے تو پاکستان، ترکی اور عرب کوئ اس جذبہ خیر سگالی سے ایک نیا ورلڈ آرڈر تھوڑا جاری کرنے جا رہے ہیں بلکہ یہ تو علاقائ استحکام اور دیڑھ ارب مسلمانوں میں عرب، ترک معاملے کو لیکر پیدا ہونے والے اضطراب کو قابو میں رکھنے کا معاملہ ہے، اس سے بڑھ کر انسانیت کی خدمت کیا ہوسکتی ہے؟ اگر پاکستان اعلانیہ یہ سب کچھ نہیں کرسکتا تو پاکستانی حکام، ریاست، ارباب حل و عقد اسکے لیئے alternate-strategies تلاش کرکے بھی معاملات کو چلا سکتے ہیں؛ یہ معاملہ کوئ افغانستان میں چار دہائیوں سے زیادہ پیچیدہ نہیں ہے، جہاں کئ عالمی طاقتوں کے درمیان سینڈوچ بنائے جانے کے باوجود ہم survive کرتے چلے آئے_ اسکے علاوہ ہمیں اس وقت یا مستقبل قریب میں چین اور مغرب کی متوقع مخاصمت اور polarization میں اپنی direction اور dimension کی dynamics کو بھی تو دیکھنا ہے، جس میں ہم اپنے مفادات کا حل ہر دو فریقین کے ساتھ معاملات کو تول کر نکالنے میں کچھ نہ کچھ opportunity-cost تو برداشت کریں گے ہی؟ تو ہم اپننے داخلی استحکام کیلئے اپنی خارجہ پالیسی اور سفارتکاری کو ایک broad-spectrum میں لاکر اپنے ملک کی سفارتکاری کو اس پیچیدہ عمل سے گزار کر کندن کرسکتے ہیں_ اسی میں اس سوال کا جواب اور حل موجود ہے کہ ہم میدان جنگ میں جیتی ہوئ بازی مذاکرات کی میز پر کیوں کھو دیتے ہیں؟ اپنی حکمت عملی تشکیل دے کر سفارتی مشینری کو پیچیدہ سفارتکاری کے عمل سے گزارنا پاکستان کیلئے ایک امتحان بھی ہے اور آگے بڑھنے کیلئے ایک قطب نما بھی_

اگر آج مملکت خداد بطور ایک ایٹمی قوت، ایک بہادر اور پیشہ وارانہ صلاحیت کی حامل فوج اور دفاعی اداروں سے والہانہ محبت رکھنے اور قربانی دینے والی قوم اور عالم اسلام میں مواقع ملنے کے مواقع کے باوجود بھی آگے نہیں بڑھتا تو پھر نہ صرف اہل پاکستان بلکہ پوری ملت اسلامیہ کو ایسا سمجھنے، کہنے اور سننے میں عار محسوس نہیں ہونی چاہیئے کہ پورا عالم اسلام مغربی کے divide and rule کے فلسفہ کی روشنی میں تشکیل دیئے ہوئے nation-state system اور اس neo-nationalism نوقومیتی تصورات اور نظریات میں ٹھٹھر کر رہ گیا ہے_ جسکے تحت جب کسی بڑی قوت کا کوئ منصوبہ پورا کرنے کا پلان ہوتا ہے وہ ہمارے مختلف ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کو جوڑ کر یا لڑوا کر، چند طبقات کی جیب گرم کرکے پیچھے ایک دوسرے کو دست و گریباں کرکے یہ جا اور وہ جا_ سفارتی میدان میں جنبش نہ ہونے کی ایک اور وجہ موجودہ عالمی نظام میں مسلمانوں سے متعلق معاملات کے سلسلے میں، پاکستان کے ارباب اختیار اور مقتدر قوتوں کا اپنی کامیابی کے امکانات کو بہت کم سمجھتا بھی ہو سکتا ہے_ تو اس کے حل کی ذمہ داری بھی منطقی اور تکنیکی اعتبار سے خود انکے اوپر ہی عائد ہوتی ہے کیونکہ Authority اور Responsibility کا تعلق پتھر کے زمانے سے لیکر آج ڈیجیٹل دور تک کے ارباب اختیار و اقتدار سے جسم اور روح والا ہے_ قوم یا قبیلہ چھوٹا ہو یا بڑا، ایک نہ ایک دن اپنے سرداروں اور سرکردہ حلقوں کے تجاہل کے بارے غور ضرور کرتا ہے_ بہتر ہے ہم اسکا ادراک کرتے ہوئے خود کوئ تدارک کرلیں تاکہ عوام کو حوصلہ ملے، ورنہ پھر Social - media کے دور میں عوام کو حکام کی سستیوں اور غفلت، عوام کی محرومیوں اور قومی ناکامیوں کے بارے آگاہ کرنا دشمن ممالک کیلئے کوئ جوئے شیر لانے کے مترادف نہیں رہا_ اس کے ذریعے وہ نہ صرف یہ کہ مایوسی بلکہ اپنے لیئے گماشتے اور غدار پیدا کرنے کی کوشش بھی کریں گے اور سب سے بڑا خطرہ abstract-conceptualization کو ہوا دینے کا ہے؛ دشمن ہمارے عوام کو یہ کہہ کر ورغلا رہا ہے کہ تم لوگ نظریاتی طور پر خالی الدامن ہو یا کھوکھلے نظریات کے حامل ہو_ 

کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ اسی ورلڈ آرڈر میں پاکستان کے ارباب اختیار اور حکومتی حلقوں کے پاس ملکی اور قومی بقاء کا کوئ نہ کوئ اپنا فارمولہ یا ترجیحات ہیں کہ جس کی بنا پر ان کو کشمیر، فلسطین، افغانستان، عربوں،ترکوں اور ایرانیوں کے مسائل کا حل نچلے درجہ کا محسوس ہوتا ہے اور وہ اس سے بھی کسی مقصد کی تکمیل کیلئے اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلم دنیا کے مقتدر اور حکمران طبقے اور طبقہ اشرافیہ مغربی ورلڈ آرڈر پر اس قدر ریجھ چکے ہیں کہ انھیں اپنے آس پاس کا جمود محسوس ہی نہیں ہوتا جبکہ عوام کو غلام گردش کی آنیاں جانیاں بس عوام کی passion-mangement کے لیئے ہی رواں دواں ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے حکام مغربی طاقتوں کی مداخلتی قوت یا عسکری حملے کے خوف کے سائے میں کب تک زندہ رہ سکتے ہیں؟ اگر یہ تیسری دنیا کے عوام کو قابو میں رکھنے کے ہتھیار تھے تو ہر ہتھیار کے چلنے کا ایک وقت اور دور ہوتا ہے؛ اب مغربی قوتوں کو بھی اسکا اندازہ ہوگیا ہے، اسی لیئے ففتھ-جنریشن اور ہائبرڈ وارفیئر جیسے تصورات، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مائنڈ انجینئرنگ جیسے جنگی امور سامنے لائے گئے ہیں، یہ محض ترقی کے نہیں بوقت انکی ضرورت کسی قوم کے خلاف تنزّلی کے ہتھیار بھی ہیں اور فتح اس ہی کے نام ہوتی ہے جسکا پلان اپنا ہوتا ہے، ہاں آپ ساتھ کھڑے ہو کر دانت نکال کر سیلفی ضرور بنوا سکتے ہیں_

داستان کو جتنا مرضی طول دے لیں، معاملہ قوت ارادی اور احساس کا ہے؛ اگر یہ دونوں قوتیں متحرک ہو جائیں تو قومی تحرک میں کچھ مشکل محسوس نہیں ہوتا_ حالات اتنے گھمبیر ہیں کہ مسلم دنیا میں سرخ فیتے، سفارتی تکلفات، ادب آداب کے لوازمات اور اجلاسوں کی شاہ خرچیوں کی گنجائش بالکل نہیں رہی؛ اب سادگی اپنانے کی اشد ضرورت ہے_ Hologram اور webinar کے اس آسان دور میں میل ملاپ بس ایک کلک پر آچکا ہے، اہمیت اور افادیت ہے تو اپنے نظریات، ویژن، آئڈیئلز اور مفادات کے تحت منصوبہ بندی کرکے اسے قومی امنگوں کے مطابق عملی جامہ پہنانے کی قوت ارادی کی ہے_ پاکستان قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے پہلے دوست مسلم ممالک کو اعتماد میں لے، عربوں اور ترکوں کو حالات اور مستقبل کے تقاضوں کا احساس دلائے اور OIC کا وقار بحال کرے_  اب جو پاکستانی وزیر خارجہ نے تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت سعودی عرب کو او-آئ-سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے میں لیت و لعل کرنے پر جو تنبیہ کی ہے اور متبادل اقدامات کا اعلان کیا ہے ایسا کرنا اب مجبوری ہے_ لیکن، اس اختلاف کو مجبوری کا شاخسانہ سمجھتے ہوئے پاکستان بس اپنی اسٹریٹجی پر توجہ مرکوز رکھے اور اپنے معاملات کے دفاع کے ساتھ ساتھ اندرون خانہ عربوں سے تعلق بھی جاری رکھے_ ویسے بھی مشرق وسطیٰ میں عرب ریاستیں جس طرح سے دباؤ کا شکار ہیں پاکستان کو قیادت کیلئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ عرب نہ تو ترکوں کوقبول کریں گے اور نہ ہی ایرانیوں کو؛ تو یہ خلا پاکستان نے ہی پر کرنا ہے_ اس ضمن میں ریاستی نظریات اور اداروں کو رقیبوں اور انکے گماشتوں کی طرف سے مطعون یا تذلیل کیئے جانا بھی ایک قسم کا خطرناک ہتھیار اور حملہ ہی ہوتا ہے؛ ہم اس حقیقت کو سمجھ کر اس دیے کی نوک پلک کی تیاری  جاری رکھیں کہ یہی چراغ جلے گا تو روشنی ہوگی_
(تحریر: عبدالرحمٰن) 

Thursday, August 6, 2020

غداروں کے ایک سوداگر کے نام

راشد مراد صاحب کوئ ایسا نسخہ بھی ہے کہ غدار قطعاً اپنے ضمیر سے نہ شرمائے نہ گھبرائے نہ چھپ سکے؟ کیا یہ بات درست ہے کہ غدار کے میزبانوں کو سب سے بڑا خطرہ اسکے ضمیر کے جاگ جانے کا ہوتا ہے؟ کوئ ایسا نسخہ ہے آپ کے پاس کہ غدار بالکل ہی بے ضمیر ہوجائے؟ اگر کسی غدار کا دل ضمیر کی آواز پر لپکنے لگے تو اسے کیا کرنا چاہیئے؟ یہ بھی بتائیے گا کہ غدار کی کوئ پینشن وغیرہ بھی ہوتی ہے یا بس استعمال کیا اور پھینک دیا؟ تھوڑا اس پر بھی روشنی ڈالئے گا کہ یہ غداری کا نصاب آپ کی اپنی تخلیق ہے یا ولایت والوں نے ہی تھما دیا آپ کے نازک ہاتھوں میں؟ آپ اپنی فیملی میں پہلے غدار لیکچرار ہیں یا آپ کا آبائ پیشہ ہے؟ ہاں! یاد آیا! غدار کی آمدنی زیادہ ہوتی ہے یا اسکی ڈور ہلانے والوں کی؟ جناب تھوڑی اس بات کی معلومات دیجئے گا کہ برطانیہ سے مخاصمت کے باوجود کوئ غدار کبھی سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ سے بھاگ کر ہندوستان اور پاکستان میں آکر کیوں نہیں چھپا؟ راشد صاحب آپ کو یہ غدار مینجمنٹ کے لیکچر کا کوئ معاوضہ بھی ملتا ہے یا قبضہ گروپ ہی کھا جاتا ہے؟. میرے خیال میں تو آپ کو غدار سمجھنے والا عقل سے ہی فارغ ہوگا کیونکہ بھلا ایک غدار یوں انگلینڈ میں بیٹھ کر علی الاعلان درس پاک دے سکتا ہے؟ ویسے میں نے سنا ہے برطانیہ غداروں کیلئے دنیا میں ہی جنت ہے اور کراچی والا غدار بھی تو ادھر ہی پایا جاتا ہے ناں؟ آپ تو ناراض ہی ہوگئے یہ بتائیے، خاکم بدھن، اگر آپ کی تصوراتی سلطنت میں کوئ احمق غداری کا عہدہ اختیار کر بیٹھے تو وہ بھی بھارت، امریکہ اور مغرب میں پناہ لے گا یا اسے آپ دل سے لگا کر رکھیں گے؟ اگر غداروں کو امریکہ، اور برطانیہ کے دارالامان کی بجائے افریقہ کے کسی صحرا میں چھوڑ دیا جائے تو شرح غداری بڑھے گی یا کم ہوگی؟ کوئ قوم غداروں کو اچھے نام سے کیوں نہیں یاد کرتی؟ یہ کون لوگ ہیں جو غیر ملکی سفارتکاروں کو کچھ معلومات دینے لینے، تھوڑا سا فنڈ لینے، امریکہ سمیت دو چار مغربی ممالک کے چکر لگانے اور غیر ملکی این-جی-اوز کے ساتھ مل کر دن رات قوم کی ترقی کے بارے سوچنے والوں پر غداری کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں؟ یہ پاکستان کے غدار بھارت کو اتنے پسند کیوں ہیں؟ ہو سکے تو غداری کی فلاسفی، غداروں کی نفسیات اور کسی غدار کی خودنوشت کے 'سانحہ حیات' کے بارے چند تصانیف کے نام تو بتا دیجئے گا_ راشد صاحب معاف کیجئے گا یہ غدار اور غداری کے چکر میں آپ سے پوچھنا بھول ہی گیا کہ آپ پاکستان کے غدار ہیں یا پاکستان آپ کا غدار ہے یا میں آپ کا غدار ہوں؟ ناں بابا! میں کیوں غدار بنوں میں اسطرح دیار غیر میں بیٹھ کر غدار فیکٹری نہیں لگا سکتا اور ویسے بھی سنا ہے کہ فرنگی جب تک غیرت کا مکمل جنازہ نہ نکال دیں اپنی خاص الخاص فہرست میں شامل ہی نہیں کرتے_ واہ! بھئ کیا بات ہے آپ کے لیکچر کی جو بھی ان پر ایمان لائے گا غداری کے جینز اسکی اگلی نسل تک ضرور منتقل ہونگے_ لیکن ضروری بھی نہیں؛ ہوسکتا ہے ﷲ اسے شیاطین سے بچالے اور غداری اسکے حلق سے نیچے ہی نہ اترے؟ آخر میں یہ تو بتا ہی دیں اصلی، نسلی اور جعلی غدار میں کیا فرق ہوتا ہے؟

Wednesday, August 5, 2020

متوقع عالمی نظام اور مسلم معاشرہ

فیس بک پر میرے ایک نو شناس نے اپنی وال پر لکھا "اب کہ مسلم امہ کو اکٹھا ہو جانا چاہئے_ ان جمہوریت کی زنجیروں کو توڑ کر ایک ہی نظام حکومت اور اسکے پرچم تلے رہنے کو ترجیح دینی چاہیئے_ لبنان ہو یا کشمیر یا پھر غربت میں گھری پاکستانی عوام سب کے مسائل کا حل ایک ہی"الخلافۃ علیٰ المنہاج النبوۃ" اسکے بعد انھوں نے کلمہ طیبہ لکھے ہوئے ایک جھنڈے کی تصویر بھی پوسٹ کی جسکے ساتھ لکھا "بے شک اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں_" 

میں اس تحریر کا تنقیدی تجزیہ نہیں کر رہا البتہ اس طرف توجہ دلوانا چاہتا ہوں کہ مسلم دنیا میں موجودہ یا متوقع عالمی نظام میں معاملات کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے زیادہ تر کون کون سے ماڈلز پر رسمی اور غیر رسمی سوچ بچار چل رہی ہے_ ان میں ایک ماڈل تو ان حکومتوں، حکمران طبقوں اور ان سے جڑے عوام کا ہے جو اس نظام پر ریجھ چکے ہیں یا مجبوراً اسے قبول کر چکے ہیں یا کر لیں گے_ میرا خیال ہے ریاستی سطح پر کوئ ایک ملک بھی اس سے انحراف کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا یا ہو سکے گا یا پھر اپنی جغرافیائ شناخت کھو بیٹھے گا_ دوسرا ماڈل عوام کی سطح پر ہے جنھیں پرواہ ہی نہیں کل کیا تھا، آج کیا ہے اور کل کیا ہوگا_ بلکہ ان میں سے بعض کی سوچ یہ بھی ہے کہ یہ سب باتیں فضول ہیں، بس زندگی کے مزے اڑاؤ اور chill کرو_ بعض لوگ حکومتی حلقوں کی رضا پر ہی راضی ہیں کہ جیسے حکام کریں گے بس ٹھیک ہے_ عوام کا ایک طبقہ اس سارے نظام کی بساط کو یک لخت لپیٹنے کی تمنا بھی کرتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اس کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہے_ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ امت مسلمہ کی تاریخ میں یہ عجیب ترین دور ہے کہ نہ صرف یہ کہ دشمن طبعی طور پر مسلم ممالک کے اندر اور باہر سرگرم ہیں بلکہ نظریاتی طور پر اسے ہر طرف سے یلغار کا سامنا ہے_ جسکی سب سے خطرناک شکل اندرونی نظریاتی مباحث کے پاداش پیدا ہونے والے مختلف نقطہ نظر کے بارے باہمی عدم برداشت اور غیر ملکی پیادے بننے کے شوقین حلقوں کی جانب سے خلفشار کی صورت میں سر اٹھاتا رہتا ہے_ ان حالات میں ارباب حل و عقد اور دانشوروں کا فریضہ ہے کہ وہ ہمہ قسم انتہاؤں سے مسلم معاشرے، نوجوانوں اور وسائل کو بچانے پر متوازن اور غیر جذباتی انداز میں غور کرکے رہنمائ کریں_

حقیقت حال یہ ہے کہ مروجہ عالمی معاشی اور سیاسی نظام کے باعث تمام مسلم اقوام ایک nation-state system کے تحت عالمی نظام کی پابند ہیں_ یہ نظام عالمی مالیاتی اداروں، عالمی تجارتی نظام اور ملٹی نیشنلز کی مرہون منت ہے جسے ہم پیار سے "Capitalism" یعنی سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہیں؛ دارصل یہ دنیا کے ایک طبقے کی مادی خواہشات کا شاخسانہ ہے، جسکی رگ و پے میں سود اور جوا ودیعت کیئے ہوئے ہے اور جسے "مادیت" سے موسوم کیا جاتا ہے_ پہلے مسلم دنیا کے سیکولر، نان سیکولر اور قومیت پسند حکمران، لیڈرز اور جماعتیں یعنی نان-سٹیٹ عناصر اپنی اپنی ریاستوں کو، اکثر اپنے ملک کے انسانی اور قدرتی وسائل کی قدر کیئے بغیر، بہتری، تبدیلی اور انقلاب کے تصورات سے، ایک طاقت بنانے کی بزعم خود کوششیں کرتے رہے، لیکن، اس میں کسی ایک ملک کو بھی کامیابی نہ مل سکی_ درحقیقت اکثر نے حقیقی طور پر اپنے اپنے ممالک کو مضبوط کیا ہی نہیں تھا_ ہر اقدام نظریہ ضرورت یا بیرونی دباؤ اور امداد کی مرہون منت اٹھاتے رہے_ جنکا داؤ لگا مال و متاع سمیت پیا گھر سدھار گئے یعنی مغربی ممالک کا رخ کیا؛ عوام انقلابات اور تبدیلیوں کے ثمرات کی راہیں تکتے رہے اور اسی وجہ سے OIC منہ چڑاتی رہ گئ، حتیٰ کہ مسلم دنیا مل کر ایک میڈیا گروپ اور ٹی وی چینل بھی قائم کرنے کے قابل نہیں ہو سکی_ موجودہ عالمی نظام اور اسکے پاداش تھونپے گئے مسلم حکمران طبقات اور سسٹم کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کے یکلخت اتحاد اور خلافت کی طرف قدم کا تصور تو آسان ہے، میں بھی کرتا ہوں، لیکن، عملی طور پر ممکن نظر نہیں آتا_ فی الحال دیکھنا یہ ہے کہ نئے عالمی نظام کے تحت مسلم حکمران، حکمران طبقات اور ادارے کس کس کروٹ بیٹھتے یا بٹھائے جاتے ہیں_ اسکے بعد ہی مسلم تحریکیں کوئ لائحہ عمل بنا سکیں گی_ لیکن اب دیڑھ اینٹ کی مسجد،  حلالہ اور متعہ کے سینٹرز اور شخصیات کے بتوں کی پوجا کا زمانہ گیا_ اب انتہائ سمجھدار، مخلص، باعلم، اتحاد پر یقین رکھنے والے، صابر، برداشت سے کام لینے والے اور ہمہ قسم قربانی دینے والے متوازن افراد اور تحاریک ہی میدان عمل میں اتر سکیں گی_ بہرحال مسلمان کسی صورت میں بھی اپنے حکمرانوں سے لڑائ نہ کریں کیونکہ اس سے ہماری اپنی سرزمین، قدرتی اور انسانی ذرائع اور اب تک کی حاصل کی گئ بہتری اور ترقی کو بھی بچانا ضروری ہے_ آپ زندہ ہیں تو دشمن آپ کو engage اور manage کرکے یا کرواکے اپنے ٹارگٹس بھی پورا کر رہا ہے اور آپکی مزاحمت اور جینے کی تمنا کا مقابلہ بھی کر رہا ہے؛ اگر آپس میں ہی لڑ کر ایک دوسرے کو کمزور اور نیست و نابود کردیں گے تو دشمن کو اس میں کیا مضائقہ ہو سکتا ہے؛ وہ تو پہلے ہی یہی خواہش رکھتا ہے_ 

سوال یہ ہے کہ عام مسلم کمیونٹی اب کیا کرے؟ سب سے پہلے یہ یاد رکھیں اسلام بنیادی اور غالب طور پر نظریات سے ہے مطلقاً جغرافیائ سرحدوں سے نہیں_ ہمیں اپنی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی کرنی ہے اور جغرافیائ سرحدوں کی بھی_ المیہ یہ ہے کہ عالمی قوتیں آپ کے اندر قومیت کا ایسا تصور نہیں چاہتیں جو انکے مقاصد اور کارخانہ حیات میں حائل ہو؛ ہاں انکے ہاں آپ کے لیئے قومیت کا تصور یہ ہے کہ آپ ایک علاقے میں اپنی دنیا میں مگن رہیں، اپنے انسانی اور قدرتی وسائل انکے لیئے جھونکے رکھیں؛ اگر آپ کے پڑوس میں کوئ ملک انھیں آنکھیں دکھانے کی کوشش کرے تو آپ بھی ان طاقتوں کے اشارے پر اپنے پرانے سرحدی، تاریخی، ٹقافتی، مذہبی،سمندری، سیاسی اور تجارتی جھگڑے کھڑے کرکے اس پڑوسی ملک کی آواز دبانے میں انکا ساتھ دیں_ ان حالات میں ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو اپنی اور اپنے اہل و عیال کی متوازن تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا چاہیئے_ اسکے علاوہ اپنے اپنے علاقے کی کمیونٹی میں ہر لحاظ سے متحرک ہونا پڑے گا کیونکہ اگر آپ صرف مسجد میں ہی بیٹھے رہے تب بھی معاملہ حل نہیں ہوگا؛ صرف مارکیٹ اور کمیونٹی کی سرگرمیوں سے چپکے رہے تو بھی کافی نہیں_ غرض یہ کہ آپ کو کم از کم مقامی سطح پر متوازن اور اجتماعی زندگی کا ڈھنگ سیکھ کر آگے کا لائحہ عمل بنانا پڑے گا اور فطرت کے قریب ترین جانا ہوگا، ورنہ، آپ چار و ناچار ایک عالمی نظام کی کڑی نگرانی میں ویسے ہی جکڑے جائیں گے؛ آپ ویسے ہی مطالعہ کرنا اور سوچنا نہیں چاہتے تھے اب آپ کو اسکی مزید ضرورت ہی نہیں پڑے گی_ جب افراد اپنی ذات کو اور اپنے اہل و عیال کو سنبھالیں گے تو انکے محلے اور علاقے میں بہتری آئے اسی کو مقامی ترقی کے راستے کھلتے ہیں؛ مقامی ترقی کا شعور بیدار ہوگا تو علاقائ اور قومی ترقی کے راستے کھلتے چلے جائیں گے_ اسے ہی اندرونی استحکام کہتے ہیں اور جب آپ اپنے آپ کو علمی اور معاشرتی لحاظ سے تیار کرکے اپنے حکام اور حکمرانوں سے کام لینا سیکھ لیں گے تو آپ کی مخالف قوموں کو آپ کی طاقت کا علم ہوگا اور پھر آپ اپنے بین الاقوامی مسائل حل کرنے کے قابل ہوں گے_ اپنے آپ کو، اپنے، اپنے اہل عیال اور  اپنے معاشرے کی معاشرتی تعلیم و تربیت کا کوئ نقصان بھی نہیں ہے_ کل کو آپ کی ریاست کو یا مسلم دنیا کو آپ کی ضرورت پڑی تو آپ اپنے آپ کو تیار پائیں گے_  اگر آپ اس سے غفلت کریں گے تو یاد رکھیئے کہ آپ کی مخالف قومیں آپ کے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے آپ کی اور آپ کی آئندہ نسلوں کی دماغی تربیت کر رہی ہیں؛پھر آپ انکے کام ہی آئیں گے اور اس صورت میں اسلام اور مسلمانوں کے درد کے رونے کا کوئ جواز رہ جاتا ہے؟ جب ہم خود ہی اپنا نہیں سوچیں گے دوسری قوموں کو کیا ضرورت ہے؟ مغرب ہو یا اسرائیل یا کوئ اور کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ آپ خود کفیل ہو کر اپنے مفادات کا تحفظ خود کر سکیں_ فی الحال اپنے باصلاحیت اور مخلص علماء، دانشوروں اور صحافیوں سے یہ معلومات تو لیں کہ آپ کے آس پاس ہو کیا کیا رہا ہے؟ کون کیا کر رہا ہے؟ اس میں آپ کے معاشرتی طبقات، ملک اور قوم کے بارے عالمی سطح پر کیا portfolio بنایا گیا ہے؟ اسکے بعد ہی سوچیں گے ناں کہ مسلم دنیا اور مسئلہ خلافت کہاں کھڑے ہیں؟ آپ کو سوچنا پڑے گا کہ اس متوقع نظام کے ساتھ چلنا ہے یا مخالف یا دونوں کو ساتھ ساتھ چلانا ہے؟ ساتھ چلانا ہے تو کب تک یا بس ایک دوسرے کو امیدیں دلوا کر مستقبل میں بہتری کا چکمہ دیکر ان عالمی قوتوں کے کارخانہ زندگی کو چلائے رکھنا ہے؟ جیسا کہ ہم سب گزشتہ سو سال سے پھنسائے گئے ہیں_ ہماری دعا ہے کہ ﷲ ہمیں، ہمارے عوام اور حکام کو اولیاۃ الرحمٰن میں رکھے اور اولیاۃ الشیاطین کے ٹیگ سے بچالے_ آمین!

Monday, August 3, 2020

انقلابی جذبات کی ہیکنگ اور ہائ جیکنگ

کسی بھی قوم کے نوجوان نفسیاتی کیفیت کے اعتبار سے انقلابی جذبات کی قوت سے مالا مال ہوتے ہیں_ جن اقوام کے حکام، ادارے اور ہمہ قسم رہنماء ان جذبات کو شعور کے ساتھ Manage کر لیتے ہیں وہ حالات کے نشیب و فراز کو زیادہ موثر حد تک جھیلنے کا قابل ہوجاتی ہیں_ مثلاً جاپان، امریکہ اور آسٹریلیا اپنے نوجوانوں میں بہترین مینیجرز بننے کی روح پھونکنے کی کاوشیں کرتے ہیں_ اسکے علاوہ امریکہ میں تو ایلیمنٹری کلاسز سے ہی بچوں میں لیڈرشپ اور انٹرپرینئرشپ کی روح پھونکنے کا التزام و انتظام شروع کر دیا جاتا ہے_ اس تصور کو leadership-develipment from gross-root level کہا جاتا ہے_ اسی وجہ سے اپنی تمام تر کمزوریوں اور ٹوٹ پھوٹ کے باوجود امریکی معاشرہ اندرونی خلفشار اور آفتوں سے تباہ ہو کر بھی ہر معاشرتی سطح پر لیڈرشپ اور اجتماعی کمیونٹی تعامل کی قوت سے پھر سے کھڑا ہو جاتا ہے_ دوسری طرف مسلم دنیا سمیت خصوصاً پاکستان کے بعض کج علم اور کج فہم نوجوان ہیں جو اپنی صلاحیتوں، اپنے روزمرہ، اپنے ماحول اور اپنی ہمہ قسم قیادت اور رہنماؤں کے اعمال پر غور کرنے کی بجائے بے ڈھنگے؛ ور غیر منطقی انداز میں خود اپنے ہی دفاعی اداروں پر تنقید برائے اصلاح کی بجائے تنقید برائے فساد کے مظاہر سوشل میڈیا پر بطور فیشن پھیلاتے نظر آتے ہیں_ جس زاویئے ستمے بھی سوچ لیں یہ ہماری اجتماعی غفلت کا ہی شاخسانہ ہے_ ہم ان نوجوانوں سے عقل و دانش کی امید کر بھی کیسے سکتے ہیں کیونکہ انکے cherry-picked دلائل ہی انکی سوچ کے ہیک اور ہائ جیک ہوؤے وے ہونے پر دلالت کرتے ہیں_ اگر انکی اپنی سوچ ہو تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ اس قسم کا طوفان بدتمیزی بلند کریں_ 

میں یہ سوچتا ہوں میری قوم، میرے ملک اور میرے دین کے نوجوانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنے ہی ملکی اداروں کے خلاف طرح طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں_ یا تو ہمارے بڑے اور ہم سوئے رہے یا اب ہم اپنوں سے لڑنے مرنے کو تیار ہیں؟ ہم غور کیوں نہیں کرتے کہ یمارے روئیے میں یہ دو ابتہائیں کیوں ہیں؟ ہمیں یہ انتہاپسندی چھوڑ کر معاملات کے حل کی مناسب راہیں تلاش کرنی چاہیئیں_ ہم آج بھی غفلت میں ڈوبی ہوئ قوم ہیں_ آپ کو معلوم ہے کہ ہماری مالی اور اخلاقی کمزوریوں کے سبب غیر ملکی طاقتوں نے ہمارے اداروں اور ہمارے تمام سسٹم میں مداخلت کرکے ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی_ اس دوران ملک کے مخلص طبقات نے ڈٹ کر ان سازشوں کا مقابلہ کیا اور ہم قوموں کے درمیان کچھ نہ کچھ سر اٹھانے کے قابل ہوئے_ اس دوران ہم میں سے ہی کچھ ابن الوقتوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ بھی دھوئے؛ بلاشبہ ان میں جرنیل، بیوروکریٹ، سیاستدان، دانشور، صحافی، میڈیا گروپس،اساتذہ حتیٰ کہ علماء بھی شامل ہیں_ اب دشمن نے یہ چال چلی کہ آپ نے، من حیث القوم، جو قوت پکڑی اسے ہمیں آپس میں ہی لڑوا کر ضائع کروا دیا جائے_ اس لیئے انھوں نے آپ کے اور دیگر کئ قسم کے نوجوانوں کے جذبات سے کھیلنے کا کھیل شروع کیا ہوا ہے_ 

میں آپ کا ذہن تبدیل تو نہیں کر سکتا، لیکن، آپ کو اتنا تو بتا سکتا ہوں کہ آپ لوگ عقلی اور منطقی اعتبار سے کہاں کھڑے ہیں_ میں آپ کو اپنے معاشرے کی کم عقلیاں بتاتا ہوں_ ذرا سوچیئے ہمارے ملک کی بیوروکریسی خصوصاً ریونیو آفس ہم سے روزانہ کتنی رشوت لیتا ہے؟ ہم پٹواری یا کمپیوٹر سیکشن سے ایک کاغذ بھی بغیر رشوت کے نہیں نکلوا سکتے_ ہمارے کلرک صرف پانچ ہزار رشوت نہ ملنے پر فائلیں دبا کر سینکڑوں لوگوں کو بے روزگار اور کئ لوگوں کے کاروبار تباہ کردیتے ہیں_ ہمارا محکمہ خوراک چند ٹکوں کی رشوت کے عوض ہمارے بچوں کو اور ہمیں زہریلے کیمیکل کھلانے پر بھی گرفت نہیں کرتا_ ہسپتال معدے اور گردوں کے امراض سے بھرتے جا رہے ہیں؛ مجال ہے جو ہم اس معاملے پر بولتے ہوں_ ہم اپنی آواز اس بیوروکریسی کے خلاف کیوں نہیں اٹھاتے؟ ہمارے ڈاکٹرز کس طریقے سے سرکاری وسائل استعمال کرکے پرائیویٹ کمائ پر لگے ہوئے ہیں اور حکومت کو بلیک میل کرکے جب مرضی ہڑتال کر دیتے ہیں؛ کس طرح سے یہ ڈاکٹرز ملکی اور غیر ملکی فارماسیوٹیکل کمپنیز کے ہاتھوں میں کھیل کر ہمیں کروڑوں روپے کے بلا وجہ کی دوائیاں دیکر اپنے کلینکس بنواتے ہیں، بچوں کی فیسیں بھرواتے ہیں اور غیر ملکی سیاحت کرتے ہیں_ ہم ان کے بارے میں چوں بھی نہیں کرتے چاہے ہمارے پیارے انکی اکڑ، ضد، بغض اور غفلت کی وجہ ہماری گود میں ہی دم توڑ توڑتے رہیں_ اسی طرح آج ہمارے اساتذہ تعلیم کے نام پر کم و بیش تمام یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں میں قوم کی بچیوں کی عزتوں سے کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں؛ کہاں گئ ہمارے پٹھانوں کی غیرت، پنجابیوں کی ذہانت، سندھیوں کی وڈیرہ شاہی اور بلوچوں کی سرداریاں؟ ہم اتنے بچے ہیں کہ ہمیں کچھ پتا ہی نہیں چلتا؟ ہمارے یہاں کے میڈیا گروپس اور متعدد صحافتی حلقوں میں شراب و شباب کا کلچر عام ہو چکا ہے، لیکن، ہمارے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی_ ہماری عدلیہ میں جج صاحبان کے ریٹس اب گلی کے بچے بچے کی زبان پر ہیں لیکن ہمارے گلے سے آواز بھی نہیں نکلتی_ ہمارے تھانے، صاحب کی ڈیلی اور منتھلی پوری کرنے کیلئے، کس طرح سے جرم اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتے ہیں؛ کیا ہم نے اس پر بھی غور کیا ہے؟ آپکا دشمن اور انکے ایجنٹ آپکے رہنماء آپ کو اس سب کا شعور دینے کی ادنیٰ سی کوشش بھی کریں گے؟ نہیں_ کیونکہ انکا آپ کی Nation-Building سے کیا فائدہ؟ وہ تو آپ کے ہمہ قسم نقصان میں سے اپنا مفاد تلاش کرتے ہیں_

یاد رکھئے! ایک اصلاح پسند، ایک انقلابی اور ایک غدار ہونے میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے اگر ہم عقل سے کام نہ لیں اور کسی کے پیچھے اندھا دھند ہو کر چل پڑیں یا اپنی خواہشات کے غلام بن جائیں_ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور روس وغیرہ کے عوام اپنی افواج سے اختلاف رائے نہیں رکھتے ہونگے؟ انکی عوام میں سے کوئ آپ سے مدد مانگنے یا کہنے آیا کہ آپ انکی فوج کے خلاف ڈھول اور بانسری بجانے میں انکی مدد کریں؟ آپ کے پڑوسی ملک بھارت میں علیحدگی کی چھوٹی بڑی کوئ دو درجن تحریکیں چل رہی ہیں کسی نے آپ سے رابطہ کیا کہ انکی قیادت یا ارکان کیلئے پاکستان میں پناہ یا تربیت کا بندوبست کریں؟ لیکن انھیں معلوم ہے کہ ایسا کرنا خلاف عقل اور غیر نتیجہ کن عمل ہے جو کہ اصل مقصد سے ہی ہٹا دیتا ہے_ افسوس! ہم مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ وائرس ہمارے اندر ہی کیوں گھسا ہوا ہے؟ یاد رکھئے! وقتی طور پر آپ کی قیادت غیروں کے ساتھ ملکر کتنے ہی مالی مفاد اٹھا لے اور سیر کر لے لیکن آپ اپنے سینوں میں اور ماتھے پر غداری کے داغوں کو مرتے دم تک محسوس کرتے رہیں گے_

اگر واقعی ہی کچھ کرنا ہے تو اپنے علاقے اور ملک میں اجتماعی کاموں کیلئے اکٹھے ہو کر تدریجی بہتری یا soft-revolution کیلئے اپنی اور اپنے عوام کی صلاحیت کو بڑھائیے اور شاہین بن کر جینے کی تمنا پیدا کیجئے_ میں نہیں کہتا کہ ہمارے اداروں میں فرشتے بیٹھے ہیں؛ آخر وہ انسان ہیں، انسان سے بھول بھی ہوتی ہے اور جان بوجھ کر مفاد پرستی بھی_ آپ کو معلوم ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ قوموں پر ﷲ کا عذاب ہوتا ہے جو کہ انکے اپنے گناہوں کی سبب ان پر آتا ہے_ ہمارا، من الحیث القوم گناہ ہماری غفلت اور جہالت ہے_ اسکی وجہ سے ہم دشمن کے پراپیگنڈے اور اپنے ابن الوقت رہنماؤں کے ہاتھوں اپنے حواس کھو کر انکے ہاتھوں کا کھلونا اور انکی خواہشات اور منصوبوں کا ایندھن بن جاتے ہیں_ یاد رکھئے! آپ کی رسی ہلانے والے یہ شاطر آپ کو مردار پر پلنے والے گِدھوں سے اوپر کا درجہ نہیں دیتے اور آپ بھی ایسی صورتحال میں پھنس کر واپسی کا راستہ کھو بیٹھتے ہیں_ دشمن اور انکے گماشتے آپ کو بند گلی میں پہنچا کر آپکی قوم اور اداروں کو آپ کے ہاتھوں سے ایسی ضرب لگاتے ہیں جو در اصل آپکے ملک اور آپ کی تہزیب پر ہی حملہ ہوتا ہے_ اگر آپ کے گھر میں کوئ اختلاف ہوجائے تو آپ گھر، گھرانے اور خاندان کو بچا کر ہی کوئ حل نکالتے ہیں یا سب کچھ آگ میں جھونک کر؟ مجھے امید ہے آپ اپنے logic اور rationality کو متوازن طور پر استعمال کرکے شاہین اور گدھ؛ مصلح، انقلابی اور غدار ہونے کے فرق کو سمجھ کر اپنے معمولات پر ضرور غور کریں گے_