پاکستان کے مشہور صحافی اور ناول نگار طارق اسمٰعیل ساگر کسی تعرف اور تعریف کے محتاج نہیں_ میری ان سے غائبانہ عقیدت اس وقت سے ہے جب مجھے کوئ دس یا بارہ سال کی عمر میں اپنے گھر میں رسائل اور ناول پڑھنے کا موقع ملا_ وطن عزیز اور اسکے دفاعی اداروں کی اہمیت اور محبت ان جیسے رائٹرز کی کاوشوں سے ہی دلپذیر ہوئ_ طارق بھائ سے باقاعدہ گفتگو انکے یوٹیوب چینل کے موضوعات پر رائے زنی اور پھر خیالات کے تبادلے سے ہوا_ دفاعی اداروں میں آپریشنل لیول، میگزین صحافت اور ناول نگاری کے بخوبی تجربات اور انکی حب الوطنی کے باوصف انکے پاس سکھانے کیلئے بہت کچھ ہے_ اسی لیئے حالاتِ حاضرہ کے بارے میں ان سے استفادہ کرتا رہتا ہوں_ اس دوران مجھے بھی اپنے خیالات، تجربات اور معاشرتی تبدیلی کے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کا موقع مل جاتا ہے_ انکا ظرف ہے کہ مجھ ایسے کوتاہ نظر کی بات سننے کا موقع دے دیتے ہیں_
بین الاقوامی سیاست کے ایک موضوع پر بات چیت کے دوران انھوں نے میرے بارے میں ایک رائے دی کہ مذہبی ذہن کے لوگوں کو انگلش پڑھنے کا موقع کیا مل جائے، ہر معاملے میں مذہب کو لے آتے ہیں_ میں چونکا اور پوچھا " کیا مطلب؟" انھوں نے جواباً کہا "کہتے ہیں کہ اگر کوئ شیعہ، سِکھ بھی بن جائے تو محرم کے ایّام والی اپنی رسومات نہیں چھوڑ پاتا؛ آپ کا حال بھی وہی ہے_" میں نے انکی بات کا کیا ہی برا منانا تھا، لیکن، مجھے یاہو چیٹ رومز میں مغربی لوگوں کے وہی الفاظ یاد آگئے جو وہ مجھے اور دیگر مسلمانوں کو کہتے رہتے تھے "تم ہر معاملے میں اسلام کو کیوں لے آتے ہو؛ سیاست میں مذہب کا کیا کام؟" وغیرہ وغیرہ_ پھر ہر کوئ اپنے اپنے انداز میں انھیں انکے ان سوالوں کے جوابات دیتا تھا_ میں نے سوچا طارق بھائ کو سنانے کے بہانے کچھ گزارشات سب کے گوش گزار کردوں کہ، میرے تجربات میں، ایسا کیوں ہے؟ چنانچہ میں اس خط کی شکل میں ان سے مخاطب ہوا_
السلامُ علیکم! طارق بھائ، آپکی شیعہ اور سکھ والی تمثیل مجھ پر قطعی طور پر صادر نہیں آتی_ کیونکہ بچپن سے ہی میرا الٹراماڈرن مکمل انگلش میڈیم اور سولہ سال تک مخلوط تعلیمی اداروں میں پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے_ میں نے بڑی تفصیل اور باریکی سے اس ماحول کو اپنی آنکھوں سے دیکھا_ اسکی معمولی سی معروضات بھی بتاؤں تو شائد آپ تو اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جائیں_ ساتویں کلاس کا ایک بالغ لڑکا اپنی کلاس کی بالغ لڑکی کے بریزئیر سے سرِعام کلاس روم میں کھلواڑا کرے اور وہ بھی مسکرا کر خاموش کھڑی رہے اور کلاس قہقہہ لگا کر ہنس دے؛ نوجوان لڑکے اپنی خاتون کلاس ٹیچرز..........؛ کیا بتاؤں آپ کو اور کیا نہ بتاؤں؟ کیا ایسا کلچر ہمارے لیئے قابل قبول ہو سکتا ہے؟ یہ ایک الگ بات ہے کہ اب تو بات موبائل، انٹرنیٹ اور dating سے hook-culture تک جا پہنچی ہے_ ہمارا دور ہو یا موجودہ، کیا ہم ان پہلوؤں کو, بحیثیت مسلم، قابل ستائش یا ناقابل اصلاح گردان کر اسے نظرانداز کرکے اسکے تسلسل کو عقلمندی کہہ سکتے ہیں؟ سچی بات ہے مجھے تو عجیب لگا وہ سب کچھ_
اسلام کے بارے میں تو مجھے کوئ بیس سال کی عمر میں پڑھنے کا موقع ملا_ اسکا بیک گراؤنڈ بھی کوئ مولوی یا دینی جماعت نہیں بلکہ آپکا تاریخی ناول "داستان سر فروشوں کی" پڑھ کر بنا_ مسجد کے قریب ہوا تو فرقہ وارانہ مباحث کا غلبہ دیکھا اور فرقوں کا قول و کردار بھی_ میرا تو دماغ ہی چکرا گیا تھا_ چنانچہ میں دینی جماعتوں کی فرقہ وارانہ خو سے شروع ہی سے بدک گیا اور پھر خود ہی قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا اور وہ ترجمہ بھی میرے متعلقہ مکتبہ فکر کے مترجِم کا نہیں تھا_ خیر قرآن فہمی سے اندازہ ہوا کہ اسلام کیا ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں_ اسکے ساتھ ہی معاصر اسلامی تحاریک کو بھی قریب سے دیکھا تو ان میں قول و فعل کی تکرار اور احتساب کے غیر منصفانہ مظاہر مجھے پسند نہیں آئے اور میں سب سے ہی کنارہ کش ہوتا چلا گیا_
پھر مجھے برطانوی مفکِّر برٹرینڈ رسل، مورخ جے-روزینتھل، جرمن یہودی ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ اور یہودی سکالر برنارڈ لیوس کو پڑھنے کے علاوہ امریکی معاشرے میں معاشرتی تنطیم کا کردار پڑھنے کا موقع ملا_ اسکے بعد انٹرنیٹ پر ہنود، یہود، نصاریٰ اور مغربی دہریوں سے بات چیت ہوئ تو میں نے منطق، تقابل ادیان، مغربی فلسفے اور سیاسی نظریات کو بطور ایک ادنیٰ درجہ کے طالب علم پڑھا اور سمجھا_ آپ یقین کیجئے میں نے کبھی کسی ہندو اور یہودی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ اسلام کے بارے میں فلاں معاملہ انکے علم میں نہیں تھا یا انھیں غلط فہمی تھی یا وہ کسی بات پر تحقیق کریں گے_ بس مخالفت برائے مخالفت اور توڑمروڑ کے ذریعے غالب رہنا ہی انکا وطیرہ تھا_ شدت پسند عیسائیوں سے ہٹ کر میں ایسے مغربی عیسائ مرد و خواتین سے بھی ملا جنھوں نے صرف کلمہ شھادت ہی نہیں پڑھ رکھا تھا، ورنہ وہ اپنے قول و فعل میں اسلام کے پیروکار لگتے تھے_
مغربی دہریوں سے بعض اوقات بات ہوتی اور میں ان سے مغربی فلسفیوں اور مفکرین کے حوالے دیکر بات کرتا تو وہ حیران ہو کر کہتے تھے کہ جن لوگوں کو پڑھ کر وہ لوگ خدا اور دین کے منکر ہوئے انہی لوگوں کو پڑھ کر میرا ایمان اسلامی تعلیمات پر کیسے پختہ ہوتا چلا گیا_ میں پوچھتا تھا کہ بتاؤ فلاں نے یہ بات نہیں لکھی؟ مثلاً برٹرینڈ رسل اپنے ایک مضمون On-Rationality میں لکھتا ہے کہ عقلیت پسندی کی بھی ایک حد ہوتی ہے_ سوال یہ ہے کہ یہ حد کون مقرر کرے گا؟ نسل پرست ہنود و یہود؟ ابہام کا شکار اور توہم پرست عیسائ؟ قوم پرست مغرب؟ جبکہ ان سب کے سکالرز کی تحاریر سے ہی صاف عیاں ہوتا ہے کہ یہ اپنی اپنی Civilization پر انتہا درجے کے متفخر اور اس کے استحکام کے داعی اور متمنی ہیں_ تو پھر بحیثیت مسلم ہم کیا احمق ہیں کہ ہم انکی نظریاتی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی غلامی کا طوق، اپنے آئیڈیلز کو قربان کرکے،خود اپنے گلے میں ڈالے رکھیں؟ میں ایسے ایسے شدت پسند مغربی باشندوں سے بھی ملا جنکا رویہ اسلام کے بارے میں ایسا خونخوار ہوتا تھا جیسا جنگلے میں سے بھوکا شیر نکل کر شکار پر جھپٹتا ہے_ لیکن آفرین ہے انکی سوچ پر کہ مجھے کہتے"ہم تو مذہب کو بالکل اہمیت ہی نہیں دیتے، آپ کیوں دیتے ہیں؟" تو میرا ایک ہی جواب ہوتا تھا "مغرب اور اسلام کے تصورِ دین اور دینی لحاظ سے ہمارے آپ کے تجربات میں فرق ہے؛ دوسرا ہم ملائیت اور theocracy پر یقین نہیں رکھتے" عیسائیت کے حوالے سے وہ اسکی تفصیل خود بھی جانتے تھے_ ان میں سے کچھ کو میں نے معتدل بھی ہوتے دیکھا، کم از کم میرے سامنے_ بعض مجھ سے کہتے "ہم اسکے بارے تحقیق ضرور کریں گے_"
میں نے دعوتِ اسلام کے بارے میں غیر مسلموں کے ساتھ ہمیشہ قرآنی اسلوب کو مدِنظر رکھا_ کئ معاملات پر میری توجہ مغربی باشندوں کی مسلم دنیا پر تنقید سے بھی ہوئ؛ مثلاً جب وہ کہتے تھے "تم لوگ آپس میں متفق نہ ہونے پر متفق ہو؛ تم لوگ اپنے آپ پر غور نہیں کرتے اور دوسروں کو ہی اپنے مسائل کا دوشی ٹھہراتے رہتے ہو؛ اپنے مقامی مسائل کو سمجھو؛ اپنی اتھارٹیز سے اجتماعی بہتری اور معاشرتی ترقی کے کام لیا کرو اور تمھارے حکمران کہاں ہیں؟ "
طارق بھائ، یقین کیجئے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے اسی طرح کے مباحث، جھگڑوں اور طعنوں سے مجھے مسلم معاشروں اور نوجوانوں کی علمی، فکری اور عملی زبوں حالی کا درد بدرجہ اتم ستاتا رہتا تھا_ آخر میں نے سوچا کہ ہمارا مسئلہ کیا تھا؟ ہم اکٹھے کیوں نہیں ہوتے؟ ہمارے مسائل حل کیوں نہیں ہوتے، ہمارے مسائل کا ذمہ دار کون ہے اور انھیں کون کیسے حل کرے گا، وغیرہ وغیرہ_ ابن خلدون اور جدید عمرانیات کے شوقِ مطالعے نے مجھے Social problems اور solutions کے قریب کردیا اور وہاں سے مجھے social-change کی ضمن میں انقلاب، تدریجی تبدیلی اور soft-revolution جیسے تصورات سمجھ آئے_ عزم کی پختگی میں نے صیہونی تحریک Zionism کی ارتقائ تاریخ اور شخصیات کے مطالعے اور کسی مقصد کی خاطر محنت مجھے کمیون ازم کے کامریڈز کو پڑھ اور دیکھ کر سمجھ آئ؛ اگرچہ میں انھیں elites کے پیادوں سے زیادہ درجے کا نہیں سمجھتا_
اہل مغرب ببانگ دہل لکھیں کہ ان کے لیئے اس وقت تک مسلم ممالک میں، جنھیں وہ تیسری دنیا کے ممالک سمجھتے ہیں، مواقع ہیں جب تک کہ ان ممالک کے عوام کو اپنے حکمرانوں سے کام لینے کا طریقہ نہیں آجاتا_ اس مقصد کی خاطر وہ مسلمانوں حتیٰ کہ اسلام کو بھی تبدیل کرنے کی کاوش کرتے رہتے ہیں تاکہ ہم نظریاتی لحاظ سے الجھ کر اپنے دیگر معاشی، معاشرتی، سیاسی اور دفاعی معاملات کو سمجھنے اور حل کرنے کے قابل ہی نہ رہیں_
بھائ صاحب! اہل مغرب واضح طور پر رقمطراز ہوں کہ مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا بلکہ انھیں تبدیل کرنے کیلئے ان کے سامنے ایسا مواد رکھا جائے جسے یہ اسلام سمجھیں تو تب جا کر ہمیں مسلمانوں پر کامیابی مل سکتی ہے_ جبکہ یہود و نصاریٰ کا ماضی اور حال واضح ہے کہ الہام سے منہ موڑ کر انکا انجام کیا ہوا اور انکی اخلاقی حالتِ زار کیا ہے_ یہ سب کچھ پڑھ، سمجھ اور مشاہدے کے بعد بھی ہم اسلام کو بالائے طاق کیسے رکھ دیں؟ جبکہ اسلام بحیثیت الہام ہمارے کل معاشرتی مسائل کے حل کی بنیاد فراہم کرتا چلا آیا ہے_ اگر لوگ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کریں تو قوانین کبھی بھی نہیں بدلے جاتے لوگوں کو ہی تعلیم و شعور دیا جاتا ہے یا انھیں جاہل سمجھا جاتا ہے_ جو لوگ اسلام کو بدلنا، متروک کرنا یا بدلنا چاہتے ہیں ان کیلئے یہ مثال ہی کافی ہے_
اگرچہ عیسائ مشنریاں مسلم ممالک کو عیسائ ممالک میں تبدیل کرنے اور یہودی الحاد کے ذریعے مسلمانوں کو دین اسلام سے بیزار کرکے خود مسلم دنیا کے خلاف استعمال کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، لیکن، عمومی طور پر مغرب کو اسلام سے مسئلہ نہیں بلکہ وہ مسلم دنیا کو غیر ترقی یافتہ رکھنا چاہتے ہیں جس کا ثبوت بڑی مشہور کتاب How West Underdeveloped Africa ہے_ نام نہاد فکری آزادی اور فلسفیانہ مباحث کے ذریعے انھوں نے ہمارے نوجوانوں میں جو نظریاتی کشمکش چھیڑی ہوئ ہے دراصل یہ battle of ideas مسلم معاشروں میں ہم آہنگی کے خاتمے، عوام اور حکومتوں میں فاصلے خطرناک حد تک بڑھا کر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کرنے کا گھناؤنا کھیل ہے_ جب انکا مفاد ہوتا انتشار اور خدشات برپا کروا کر حکومتوں کے ذریعے کنٹرول کے نام پر تشدد اور قتل و غارت شروع کروا دیتے ہیں اور جب حکومتیں ان کے مقاصد کے آگے کوئ رکاوٹ پیدا کریں یا اپنے ملکی اور قومی مفاد کیلئے کوئ منصوبہ شروع کرنے لگیں تو non-state actors کی تیار فصل کو غداروں کے روپ میں اپنی ہی قوم اور اداروں کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں_ نہ جانے کب ہم اس گرداب کو سمجھیں گے اور کب اس سے چھٹکارا ہوگا؟
ان حالات میں، میرا ضمیر، مطالعہ اور وجدان مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں مسلم تہزیب کیلئے بحیثیت ایک مسلم، ایک ریاستی شہری اور بطور ایک پاکستانی اپنا تعمیری کردار ادا نہ کروں_ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ مجھے روائیتی استاد، صحافی، لکھاری، دانشور، کسی این-جی-او یا کسی جماعت کا کرتادھرتا اور اپنے آپ کو مصلحین کی فہرست میں شامل کیئے جانے کا کوئ خبط اور چاہت نہیں ہے_ جیسا کہ شورش کاشمیری کے کہے کا مفہوم ہے کہ ہمیں چمن میں برگ و بار کی طرح چکمتے نفوس کی نہیں بلکہ انکی ضرورت ہے جو پودے اور درختوں کی جڑوں کی آبیاری اور مضبوطی کیلئے مٹی میں ملکر یہ کارنامہ سر انجام دیں_
الحمدﷲ! کم ازکم میں ذہنی طور پر مطمئن ہوں کہ کوئ مغربی باشندہ اور یہودی مجھے یہ طعنہ نہیں دے سکتا کہ مسلمان کیا جانے تاریخ، فلسفہ اور معاشرتی سائنس، اتحاد اور سماجی بھلائ کے اجتماعی کام_ فکر کے لحاظ سے دلی اطمینان ہے کہ ہمیں عملی طور پر کوئ لائحہ عمل طے کرنا ہے_ اگرچہ اسکے دائرہ کار اور اثرات ایک اہم اور الگ موضوع ہے لیکن کچھ بنیادی کام ہمیں ضرور کرنے چاہئیں اور میری تمام تر توجہ اسی پر ہے_ میں افراد اور معاشرے کی Integration کیلئے capacity-building، facilitation, generation اور leadership development کو ضروری خیال کرتا ہوں اور ایسی activities شروع کرنے کا متمنی ہوں جس سے یہ معاشرتی عمل ایک تعامل کی ضرورت اور پہچان بن جائے_ اقبال نے کہا "میں بلبلِ ہند ہوں میری نواء عربی رہی" _
قرآن میں ہے "اے ایمان والو! ﷲسے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا_ ایک اور جگہ فرمان الٰہی ہے" بے شک ﷲ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے"_ ایک اور جگہ فرمایا" یہود و نصاریٰ تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ تم انکی پیروی نہ کر. ے لگو"_ ایک اور فرمان ہے" اے ایمان والو! کسی قوم کی دشمنی تمہیں راہ اعتدال سے نہ ہٹادے" ایک اور آیت کا مفہوم ہے کہ ان کفار کی بڑی بڑی عمارتوں، روشنیوں اور کشادہ شاہراہیں تمہیں صراط المستقیم یعنی اسلام سے دور نہ کردیں_ ان وجوہات کی بنیاد پر دینِ وسطیٰ اور معتدل دین ہمارے رگ و پے اور فکر و عمل میں پیوستہ رہے گا، انشاءﷲ! اور ﷲ ہمیں اسی کی ہمت، توفیق، صلاحیت اور عزیمیت عطا فرمائے اور اسی پر موت دے، اٰمین!
والسلام!
آپکا بھائ
عبدالرحمٰن