Tuesday, June 30, 2020

غداروں کے خلاف پاکستانی قوم تقسیم نہیں ہے

کراچی اسٹاک ایکسچینج میں چار غداروں کی ہلاکت پر طارق اسمٰعیل ساگر صاحب کی اس سلسلے میں ایک یوٹیوب وڈیو پر میں نے اپنے دکھ کا اظہار اس کمنٹ سے کیا "ان غدار دہشت گردوں کا DNA کروا کر انکے پورے خاندان کو اڑایا جائے_" اس پر کچھ لوگوں نے کہا "خاندان کا کیا قصور؟ اگر ایسا کیا تو ان میں اور ہم میں کیا فرق؟" اسی دوران میرا ایک صارف سے یہ مکالمہ ہوا_ 

سید سلمان: "کیوں پورے خاندان کو اڑایا جائے یہ اسلام کا حکم ہے یا انصاف کا تقاضہ ہے_ ایسی باتیں کرنے والے ہی پاکستان کے اصل غدار ہیں اور تم جیسوں نے ہی انصاف کو اپنے ہاتھوں میں لیکر بنگلہ دیش بنایا اور ملک میں ظلم کو پروان چڑھایا_" 

میرا جواب: "سید سلمان، چند کا علاج ہوگا باقی کا مرض خود ٹھیک ہوجائے گا_  بنگلہ دیش میں وجوہات دوسری تھیں اور ریاستی عناصر کی کوتاہی بھی_ یہاں ان ایجنٹ دہشت گردوں کو کس نے تکلیف پہنچائ ہے جو یہ دشمن کی انگلی پر ناچ رہے ہیں_ ان ایجنٹوں کے سوداگر عیاشیاں کرتے پھریں اور یہ بندوقیں اور بم اٹھائے پھر رہے ہیں_ عوام ایک ایک حرکت پر نظر رکھے اور حکام کو آگاہ کرے_ اس موقع پر کسی کو معاف نہ کیا جائے_" 

 سید سلمان کے اعتراضات: "میرے سوال کا جواب نہیں دیا آپ نے؟ یہ اسلام کا حکم ہے یا انصاف کا تقاضہ ہے کہ مجرم کے سارے خاندان کو اڑا دیا جائے؟ اگر دہشت گردی کرنے والے انتہا پسند ہیں تو انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی بجائے جوابی ظلم اور ناانصافی کرنے والے بھی انتہاپسند ہیں_ ﷲ کے رسول نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ظلم کا خاتمہ انصاف کے ذریعے ہی ممکن جوابی ظلم اور ناانصافی کے ذریعے نہیں_ اگر آپ ﷲ اور رسول سے زیادہ خود کو سمجھدار اور دانا سمجھتے ہیں تو جان لیں کہ آپ شیطان کے دھوکے میں آئے ہوئے ہیں_ سرنڈر مودی اندیا کے مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی کررہا ہے_ پھر ہم میں اور اس میں کیا فرق ہے؟ "

میرا جواب: "سید سلمان  پہلی بات یہ کہ مودی والی تمثیل غیر منطقی ہے_ اس نے بھارتی مسلمانوں کو خود تنگ کیا ہے_ پہلے گجرات میں قصائ بنا اور اب شہریت بل کے نام پر_ آپ اسکا ارادہ تو دیکھیں_ دوسری بات یہ کہ پاکستان میں ان غدار قومیت/لسانیت/صوبائیت پرستوں کے خلاف پاکستانی حکام نے عام حالات میں ایسا کیا کیا کہ یہ کفار کی گود میں بیٹھ کر عیاشیاں کرتے ہیں اور یہاں اپنے پیادوں کو ہتھیار دیکر دہشتگردی کرتے پھرتے ہیں_ کیا پاکستانی حکام میڈیا اور سوشل میڈیا پر تیاری کرکے کاروائیاں کرتے ہیں جیسا کہ مودی سرکار، بھارتی میڈیا اور را ملکر کرتے ہیں؟ کیا آپ کو ان غداروں کا کفار کے ساتھ گٹھ جوڑ پر شبہ ہے؟ بھارت، لندن، ایران اور افغانستان میں انکی میٹنگز اور تربیت کوئ راز رہ گیا ہے؟ وار آن ٹیرر میں تو حملہ آوروں کے باس جواز تھا کہ پاکستان نے امریکہ کو اڈے کیوں دیئے، پاکستان امریکہ کا اتحادی کیوں بنا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن وغیرہ؛ اس سب کے بارے قوم تقسیم تھی_ حالانکہ دونوں اطراف سے تشدد کا جواز نہیں بنتا تھا، لیکن غیر ملکی قوتیں دونوں اطراف میں سرگرم تھیں اور ہم اپنی غفلت اور جہالت کی قیمت ادا کرتے رہے_ پاکستان کے خلاف ان حملہ آوروں کے بارے میں ابہام تھا اس لیئے انکے خلاف مقدمات، ضمانتیں اور سزائے موت ٹھوس شواہد کے باوجود قوم کو الجھائے رکھتے تھے_ وہاں تو اسلام اور انصاف کی بات سمجھ بھی آتی تھی_ اب یہ غدار جو کسی قانون، کلیہ اور اسلام پر یقین ہی نہیں رکھتے اور غیرملکی انجنٹ بنے ہوئے ہیں، انکے بارے میں قوم تقسیم نہیں ہے؛ یہ اسلام اور انسانیت کے نام پر نرمی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جو کہ انھیں ٹریننگ کے دوران ہی سکھایا جاتا ہے کہ تمھارے خاندان کو کچھ نہیں ہوگا_ اب جب دو چار خاندانوں کو علاج ہوا تو یہ اپنے خاندان کو منتقل کرنے کی شرط بھی اپنے غیرملکی آقاؤں کے سامنے رکھیں گے اور پھر دونوں کو ایک دوسرے کے خلوص کا علم ہوجائے گا_ آپ دیکھیں پورا امریکہ جل کر راکھ ہوگیا، کیا کسی کالے امریکی نے الطاف حسین، منظور پشتین فلاں شاہ، فلاں خان اور فلاں بلوچ کی طرح آپ سے رابطہ کیا؟ ہمارے غدار ایسی دلیری کیوں دکھاتے ہیں؟ مقصد یا جہالت، غفلت، پیسہ اور عیاشی؟ عوام بچاروں کو کیا علم کہ ابن الوقت اور غدار قیادت کیا ہوتی ہے_ آپ نے بنگلہ دیش کی بات کی تھی، میں نے پہلے ہی کہا کہ ہمارے حکام کی بھی اس میں کوتاہیاں تھیں_ آج ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں کیا اسوقت کی پاکستان اور پاک فوج کی بھارت کے خلاف ناکامی بنگلہ دیشی مسلمانوں کیلئے باعث افتخار ہے؟ اگر ہے تو یہ بات یاد رکھئے بھارت کسی وقت بنگلہ دیش پر قبضہ کرلے گا_ آخر کیا وجہ ہے کہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کا تو بھارت دوست ہوا اور پاکستانی مسلمانوں کا دشمن؟ ایسا کیوں ہے اور اپنے بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں کے خون کا پیاسا کیوں ہے؟ یہ سب دشمن کی چالیں ہیں اور مسلم حکمرانوں کی جہالت اور غفلت کے باعث ہمارے عوام کو دشمن کے ان عزائم کا علم ہی نہیں ہوتا؛ پھر وقت پڑنے پر سب ایک دوسرے کو مارنے کو دوڑتے ہیں_"

Saturday, June 27, 2020

ہر معاملے میں اسلام کیوں؟

پاکستان کے مشہور صحافی اور ناول نگار طارق اسمٰعیل ساگر کسی تعرف اور تعریف کے محتاج نہیں_ میری ان سے غائبانہ عقیدت اس وقت سے ہے جب مجھے کوئ دس یا بارہ سال کی عمر میں اپنے گھر میں رسائل اور ناول پڑھنے کا موقع ملا_ وطن عزیز اور اسکے دفاعی اداروں کی اہمیت اور محبت ان جیسے رائٹرز کی کاوشوں سے ہی دلپذیر ہوئ_ طارق بھائ سے باقاعدہ گفتگو انکے یوٹیوب چینل کے موضوعات پر رائے زنی اور پھر خیالات کے تبادلے سے ہوا_ دفاعی اداروں میں آپریشنل لیول، میگزین صحافت اور ناول نگاری کے بخوبی تجربات اور انکی حب الوطنی کے باوصف انکے پاس سکھانے کیلئے بہت کچھ ہے_ اسی لیئے حالاتِ حاضرہ کے بارے میں ان سے استفادہ کرتا رہتا ہوں_ اس دوران مجھے بھی اپنے خیالات، تجربات اور معاشرتی تبدیلی کے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے کا موقع مل جاتا ہے_ انکا ظرف ہے کہ مجھ ایسے کوتاہ نظر کی بات سننے کا موقع دے دیتے ہیں_
 
بین الاقوامی سیاست کے ایک موضوع پر بات چیت کے دوران انھوں نے میرے بارے میں ایک رائے دی کہ مذہبی ذہن کے لوگوں کو انگلش پڑھنے کا موقع کیا مل جائے، ہر معاملے میں مذہب کو لے آتے ہیں_ میں چونکا اور پوچھا " کیا مطلب؟" انھوں نے جواباً کہا "کہتے ہیں کہ اگر کوئ شیعہ، سِکھ بھی بن جائے تو محرم کے ایّام والی اپنی رسومات نہیں چھوڑ پاتا؛ آپ کا حال بھی وہی ہے_" میں نے انکی بات کا کیا ہی برا منانا تھا، لیکن، مجھے یاہو چیٹ رومز میں مغربی لوگوں کے وہی الفاظ یاد آگئے جو وہ مجھے اور دیگر مسلمانوں کو کہتے رہتے تھے "تم ہر معاملے میں اسلام کو کیوں لے آتے ہو؛ سیاست میں مذہب کا کیا کام؟" وغیرہ وغیرہ_ پھر ہر کوئ اپنے اپنے انداز میں انھیں انکے ان سوالوں کے جوابات دیتا تھا_ میں نے سوچا طارق بھائ کو سنانے کے بہانے کچھ گزارشات سب کے گوش گزار کردوں کہ، میرے تجربات میں، ایسا کیوں ہے؟ چنانچہ میں اس خط کی شکل میں ان سے مخاطب ہوا_

السلامُ علیکم! طارق بھائ، آپکی شیعہ اور سکھ والی تمثیل مجھ پر قطعی طور پر صادر نہیں آتی_ کیونکہ بچپن سے ہی میرا الٹراماڈرن مکمل انگلش میڈیم اور سولہ سال تک مخلوط تعلیمی اداروں میں پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے_ میں نے بڑی تفصیل اور باریکی سے اس ماحول کو اپنی آنکھوں سے دیکھا_ اسکی معمولی سی معروضات بھی  بتاؤں تو شائد آپ تو اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جائیں_ ساتویں کلاس کا ایک بالغ لڑکا اپنی کلاس کی بالغ لڑکی کے بریزئیر سے سرِعام کلاس روم میں کھلواڑا کرے اور وہ بھی مسکرا کر خاموش کھڑی رہے اور کلاس قہقہہ لگا کر ہنس دے؛ نوجوان لڑکے اپنی خاتون کلاس ٹیچرز..........؛ کیا بتاؤں آپ کو اور کیا نہ بتاؤں؟ کیا ایسا کلچر ہمارے لیئے قابل قبول ہو سکتا ہے؟ یہ ایک الگ بات ہے کہ اب تو بات موبائل، انٹرنیٹ اور dating سے hook-culture تک جا پہنچی ہے_ ہمارا دور ہو یا موجودہ، کیا ہم ان پہلوؤں کو, بحیثیت مسلم، قابل ستائش یا ناقابل اصلاح گردان کر اسے نظرانداز کرکے اسکے تسلسل کو عقلمندی کہہ سکتے ہیں؟ سچی بات ہے مجھے تو عجیب لگا وہ سب کچھ_

اسلام کے بارے میں تو مجھے کوئ بیس سال کی عمر میں پڑھنے کا موقع ملا_ اسکا بیک گراؤنڈ بھی کوئ مولوی یا دینی جماعت نہیں بلکہ آپکا تاریخی ناول "داستان سر فروشوں کی" پڑھ کر بنا_ مسجد کے قریب ہوا تو فرقہ وارانہ مباحث کا غلبہ دیکھا اور فرقوں کا قول و کردار بھی_ میرا تو دماغ ہی چکرا گیا تھا_ چنانچہ میں دینی جماعتوں کی فرقہ وارانہ خو سے شروع ہی سے بدک گیا اور پھر خود ہی قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا اور وہ ترجمہ بھی میرے متعلقہ مکتبہ فکر کے مترجِم کا نہیں تھا_ خیر قرآن فہمی سے اندازہ ہوا کہ اسلام کیا ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں_ اسکے ساتھ ہی معاصر اسلامی تحاریک کو بھی قریب سے دیکھا تو ان میں قول و فعل کی تکرار اور احتساب کے غیر منصفانہ مظاہر مجھے پسند نہیں آئے اور میں سب سے  ہی کنارہ کش ہوتا چلا گیا_

پھر مجھے برطانوی مفکِّر برٹرینڈ رسل، مورخ جے-روزینتھل، جرمن یہودی ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ اور یہودی سکالر برنارڈ لیوس کو پڑھنے کے علاوہ امریکی معاشرے میں معاشرتی تنطیم  کا کردار پڑھنے کا موقع ملا_ اسکے بعد انٹرنیٹ پر ہنود، یہود، نصاریٰ اور مغربی دہریوں سے بات چیت ہوئ تو میں نے منطق، تقابل ادیان، مغربی فلسفے اور سیاسی نظریات کو بطور ایک ادنیٰ درجہ کے طالب علم پڑھا اور سمجھا_ آپ یقین کیجئے میں نے کبھی کسی ہندو اور یہودی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ اسلام کے بارے میں فلاں معاملہ انکے علم میں نہیں تھا یا انھیں غلط فہمی تھی یا وہ کسی بات پر تحقیق کریں گے_ بس مخالفت برائے مخالفت اور توڑمروڑ کے ذریعے غالب رہنا ہی انکا وطیرہ تھا_ شدت پسند عیسائیوں سے ہٹ کر میں ایسے مغربی عیسائ مرد و خواتین سے بھی ملا جنھوں نے صرف کلمہ شھادت ہی نہیں پڑھ رکھا تھا، ورنہ وہ اپنے قول و فعل میں اسلام کے پیروکار لگتے تھے_ 

مغربی دہریوں سے بعض اوقات بات ہوتی اور میں ان سے مغربی فلسفیوں اور مفکرین کے حوالے دیکر بات کرتا تو وہ حیران ہو کر کہتے تھے کہ جن لوگوں کو پڑھ کر وہ لوگ خدا اور دین کے منکر ہوئے انہی لوگوں کو پڑھ کر میرا ایمان اسلامی تعلیمات پر کیسے پختہ ہوتا چلا گیا_ میں پوچھتا تھا کہ بتاؤ فلاں نے یہ بات نہیں لکھی؟ مثلاً برٹرینڈ رسل اپنے ایک مضمون On-Rationality میں لکھتا ہے کہ عقلیت پسندی کی بھی ایک حد ہوتی ہے_ سوال یہ ہے کہ یہ حد کون مقرر کرے گا؟ نسل پرست ہنود و یہود؟ ابہام کا شکار اور توہم پرست عیسائ؟ قوم پرست مغرب؟ جبکہ ان سب کے سکالرز کی تحاریر سے ہی صاف عیاں ہوتا ہے کہ یہ اپنی اپنی Civilization پر انتہا درجے کے متفخر اور اس کے استحکام کے داعی اور متمنی ہیں_ تو پھر بحیثیت مسلم ہم کیا احمق ہیں کہ ہم انکی نظریاتی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی غلامی کا طوق، اپنے آئیڈیلز کو قربان کرکے،خود اپنے گلے میں ڈالے رکھیں؟ میں ایسے ایسے شدت پسند مغربی باشندوں سے بھی ملا جنکا رویہ اسلام کے بارے میں ایسا خونخوار ہوتا تھا جیسا جنگلے میں سے بھوکا شیر نکل کر شکار پر جھپٹتا ہے_ لیکن آفرین ہے انکی سوچ پر کہ مجھے کہتے"ہم تو مذہب کو بالکل اہمیت ہی نہیں دیتے، آپ کیوں دیتے ہیں؟" تو میرا ایک ہی جواب ہوتا تھا "مغرب اور اسلام کے تصورِ دین اور  دینی لحاظ سے ہمارے آپ کے تجربات میں فرق ہے؛ دوسرا ہم ملائیت اور theocracy پر یقین نہیں رکھتے" عیسائیت کے حوالے سے وہ اسکی تفصیل خود بھی جانتے تھے_ ان میں سے کچھ کو میں نے معتدل بھی ہوتے دیکھا، کم از کم میرے سامنے_ بعض مجھ سے کہتے "ہم اسکے بارے تحقیق ضرور کریں گے_"

 میں نے دعوتِ اسلام کے بارے میں غیر مسلموں کے ساتھ ہمیشہ قرآنی اسلوب کو مدِنظر رکھا_  کئ معاملات پر میری توجہ مغربی باشندوں کی مسلم دنیا پر تنقید سے بھی ہوئ؛ مثلاً جب وہ کہتے تھے "تم لوگ آپس میں متفق نہ ہونے پر متفق ہو؛ تم لوگ اپنے آپ پر غور نہیں کرتے اور دوسروں کو ہی اپنے مسائل کا دوشی ٹھہراتے رہتے ہو؛ اپنے مقامی مسائل کو سمجھو؛ اپنی اتھارٹیز سے اجتماعی بہتری اور معاشرتی ترقی کے کام لیا کرو اور تمھارے حکمران کہاں ہیں؟ " 

طارق بھائ، یقین کیجئے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے اسی طرح کے مباحث، جھگڑوں اور طعنوں سے مجھے مسلم معاشروں اور نوجوانوں کی علمی،  فکری اور عملی زبوں حالی کا درد بدرجہ اتم ستاتا رہتا تھا_ آخر میں نے سوچا کہ ہمارا مسئلہ کیا تھا؟ ہم اکٹھے کیوں نہیں ہوتے؟ ہمارے مسائل حل کیوں نہیں ہوتے،  ہمارے مسائل کا ذمہ دار کون ہے اور انھیں کون کیسے حل کرے گا، وغیرہ وغیرہ_ ابن خلدون اور جدید عمرانیات کے شوقِ مطالعے نے مجھے Social problems اور solutions کے قریب کردیا اور وہاں سے مجھے social-change کی ضمن میں انقلاب، تدریجی تبدیلی اور soft-revolution جیسے تصورات سمجھ آئے_ عزم کی پختگی میں نے صیہونی تحریک Zionism کی ارتقائ تاریخ اور شخصیات کے مطالعے اور کسی مقصد کی خاطر محنت مجھے کمیون ازم کے کامریڈز کو پڑھ اور دیکھ کر سمجھ آئ؛ اگرچہ میں انھیں elites کے پیادوں سے زیادہ درجے کا نہیں سمجھتا_

اہل مغرب ببانگ دہل لکھیں کہ ان کے لیئے اس وقت تک مسلم ممالک میں، جنھیں وہ تیسری دنیا کے ممالک سمجھتے ہیں،  مواقع ہیں جب تک کہ ان ممالک کے عوام کو اپنے حکمرانوں سے کام لینے کا طریقہ نہیں آجاتا_ اس مقصد کی خاطر وہ مسلمانوں حتیٰ کہ اسلام کو بھی تبدیل کرنے کی کاوش کرتے رہتے ہیں تاکہ ہم نظریاتی لحاظ سے الجھ کر اپنے دیگر معاشی، معاشرتی، سیاسی اور دفاعی معاملات کو سمجھنے اور حل کرنے کے قابل ہی نہ رہیں_

بھائ صاحب! اہل مغرب واضح طور پر رقمطراز ہوں کہ مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا بلکہ انھیں تبدیل کرنے کیلئے ان کے سامنے ایسا مواد رکھا جائے جسے یہ اسلام سمجھیں تو تب جا کر ہمیں مسلمانوں پر کامیابی مل سکتی ہے_ جبکہ یہود و نصاریٰ کا ماضی اور حال واضح ہے کہ الہام سے منہ موڑ کر انکا انجام کیا ہوا اور انکی اخلاقی حالتِ زار کیا ہے_ یہ سب کچھ پڑھ، سمجھ اور مشاہدے کے بعد بھی ہم اسلام کو بالائے طاق کیسے رکھ دیں؟ جبکہ اسلام بحیثیت الہام ہمارے کل معاشرتی مسائل کے حل کی بنیاد فراہم کرتا چلا آیا ہے_ اگر لوگ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کریں تو قوانین کبھی بھی نہیں بدلے جاتے لوگوں کو ہی تعلیم و شعور دیا جاتا ہے یا انھیں جاہل سمجھا جاتا ہے_ جو لوگ اسلام کو بدلنا، متروک کرنا یا بدلنا چاہتے ہیں ان کیلئے یہ مثال ہی کافی ہے_

اگرچہ عیسائ مشنریاں مسلم ممالک کو عیسائ ممالک میں تبدیل کرنے اور یہودی الحاد کے ذریعے مسلمانوں کو دین اسلام سے بیزار کرکے خود مسلم دنیا کے خلاف استعمال کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں، لیکن، عمومی طور پر مغرب کو اسلام سے مسئلہ نہیں بلکہ وہ مسلم دنیا کو غیر ترقی یافتہ رکھنا چاہتے ہیں جس کا ثبوت بڑی مشہور کتاب How West Underdeveloped Africa ہے_ نام نہاد فکری آزادی اور فلسفیانہ مباحث کے ذریعے انھوں نے ہمارے نوجوانوں میں جو نظریاتی کشمکش چھیڑی ہوئ ہے دراصل یہ battle of ideas مسلم معاشروں میں ہم آہنگی کے خاتمے، عوام اور حکومتوں میں فاصلے خطرناک حد تک بڑھا کر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کرنے کا گھناؤنا کھیل ہے_ جب انکا مفاد ہوتا  انتشار اور خدشات برپا کروا کر حکومتوں کے ذریعے کنٹرول کے نام پر تشدد اور قتل و غارت شروع کروا دیتے ہیں اور جب حکومتیں ان کے مقاصد کے آگے کوئ رکاوٹ پیدا کریں یا اپنے ملکی اور قومی مفاد کیلئے کوئ منصوبہ شروع کرنے لگیں تو non-state actors کی تیار فصل کو غداروں کے روپ میں اپنی ہی قوم اور اداروں کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں_ نہ جانے کب ہم اس گرداب کو سمجھیں گے اور کب اس سے چھٹکارا ہوگا؟ 

ان حالات میں، میرا ضمیر، مطالعہ اور وجدان مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں مسلم تہزیب کیلئے بحیثیت ایک مسلم، ایک ریاستی شہری اور بطور ایک پاکستانی اپنا تعمیری کردار ادا نہ کروں_ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ مجھے روائیتی استاد، صحافی، لکھاری، دانشور، کسی این-جی-او یا کسی جماعت کا کرتادھرتا اور اپنے آپ کو مصلحین کی فہرست میں شامل کیئے جانے کا کوئ خبط اور چاہت نہیں ہے_ جیسا کہ شورش کاشمیری کے کہے کا مفہوم ہے کہ ہمیں چمن میں برگ و بار کی طرح چکمتے نفوس کی نہیں بلکہ انکی ضرورت ہے جو پودے اور درختوں کی جڑوں کی آبیاری اور مضبوطی کیلئے مٹی میں ملکر یہ کارنامہ سر انجام دیں_

الحمدﷲ! کم ازکم میں ذہنی طور پر مطمئن ہوں کہ کوئ مغربی باشندہ اور یہودی مجھے یہ طعنہ نہیں دے سکتا کہ مسلمان کیا جانے تاریخ، فلسفہ اور معاشرتی سائنس، اتحاد اور سماجی بھلائ کے اجتماعی کام_ فکر کے لحاظ سے دلی اطمینان ہے کہ ہمیں عملی طور پر کوئ لائحہ عمل طے کرنا ہے_ اگرچہ اسکے دائرہ کار اور اثرات ایک اہم اور الگ موضوع ہے لیکن کچھ بنیادی کام ہمیں ضرور کرنے چاہئیں اور میری تمام تر توجہ اسی پر ہے_ میں افراد اور معاشرے کی Integration کیلئے capacity-building، facilitation, generation اور leadership development کو ضروری خیال کرتا ہوں اور ایسی activities شروع کرنے کا متمنی ہوں جس سے یہ معاشرتی عمل ایک تعامل کی ضرورت اور پہچان بن جائے_ اقبال نے کہا "میں بلبلِ ہند ہوں میری نواء عربی رہی" _

قرآن میں ہے "اے ایمان والو! ﷲسے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا_ ایک اور جگہ فرمان الٰہی ہے" بے شک ﷲ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے"_ ایک اور جگہ فرمایا" یہود و نصاریٰ تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک  کہ تم انکی پیروی نہ کر. ے لگو"_ ایک اور فرمان ہے" اے ایمان والو! کسی قوم کی دشمنی تمہیں راہ اعتدال سے نہ ہٹادے" ایک اور آیت کا مفہوم ہے کہ ان کفار کی بڑی بڑی عمارتوں، روشنیوں اور کشادہ شاہراہیں تمہیں صراط المستقیم یعنی اسلام سے دور نہ کردیں_ ان وجوہات کی بنیاد پر دینِ وسطیٰ اور معتدل دین ہمارے رگ و پے اور فکر و عمل میں پیوستہ رہے گا، انشاءﷲ! اور ﷲ ہمیں اسی کی ہمت، توفیق، صلاحیت اور عزیمیت عطا فرمائے اور اسی پر موت دے، اٰمین!

والسلام!  
آپکا بھائ 
عبدالرحمٰن

Friday, June 26, 2020

ان کی انگریزی زبان اور ہم

برطانوی استعمار سے آزادی کے کوئ بیس سال بعد بھارت میں ایک استاد کو اس کے سکول میں برطانوی ماہرینِ تعلیم کے ایک وفد کے دورے کی اطلاع ملی_ وہ استاد دل میں ٹھان لیتا ہے کہ وہ چھہ ماہ کے عرصے میں وفد کے آنے تک اپنی کلاس کے بچوں کو پوری لگن کے ساتھ انگلش زبان سکھائے گا تاکہ بچے وفد کو انگلش میں جواب دیں اور استاد کی واہ واہ ہوجائے_ جونہی مدت گزری، وفد آیا اور اس استاد کی کلاس کا دورہ بھی کیا_ کلاس کے بچوں نے وفد کے سوالات کا انگلش میں فرفر جواب دیا_ اب استاد اپنی تعریف کیئے جانے کی توقع کرتا ہے، لیکن وفد خاموشی سے کلاس سے باہر چلا جاتا ہے_ استاد کچھ دلبرداشتہ سا ہو کر لپک کر اس وفد کے پیچھے چل پڑتا ہے اور موقع ملتے ہی وفد کے سربراہ سے بچوں کی انگلش بول چال کے متعلق سوال کرتا ہے_ وہ برطانوی ماہر تعریف کرکے دفعتاً پوچھتا ہے کہ ایک غیر ملکی زبان ان بچوں کو سکھانے کیلئے اتنی محنت کس نے کروائ؟ ٹیچر نے فخر سے جواب دیا "میں نے"_ ابھی استاد اپنی تعریف کا تصور کر ہی رہا ہوتا ہے کہ وہ انگریز افسر اس کے کان میں کہتا ہے "اگر وہ برطانیہ میں اپنے کسی سکول کے بچوں کو کوئ غیرملکی زبان سکھانے کی کوشش کرتا تو اسکی قوم اسے پاگل قرار دیکر پاگل خانے میں داخل کرا دیتی"_ یہ بات سن کر استاد کچا سا ہوکر ہکّابکّا رہ گیا_

بھارتی ریاست بنگال کے اربابِ اختیار نے اپنے وہاں انگلش زبان کی تدریس کے معیار کو جانچنے کے سلسلے میں ایک برطانوی ماہر کو اپنی ریاست کے مختلف سکولوں کے دورے کی ذمہ داری دی_ موصوف کسی سکول کے پرنسپل کی اجازت سے انکے سکول کی مختلف کلاسز کا دورہ کرتے ہوئے ایک کلاس روم میں مصروفِ تدریس ٹیچر کے قریب خاموشی سے جا کھڑے ہوئے_ ٹیچر کو انکی آمد کے مقصد کا علم تھا، اس لیئے انھوں نے تدریس معمول کے مطابق جاری رکھی_ انگریز ماہرِ تعلیم کو اس کلاس میں، جاری انگلش کی تدریس کے باوجود، دس منٹ کے بعد علم ہو پایا کہ وہاں تو انگلش کا پیریڈ چل رہا ہے_ اسکی وجہ بیچارے بنگالی ٹیچر کا Pronunciation یعنی الفاظ کی ادائیگی یا لہجہ تھا_ 

اسی طرح انڈو-پاک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انگلش میں ایک ناول لکھا_ اس نے ایک انگریز دانشور کو وہ ناول پیش کیا تو انگریز نے کہا "اپنے ملک کے باشندوں سے کہو کہ وہ اپنی زبان میں ادب تخلیق کیا کریں، کیونکہ ان کی لکھی ہوئ انگلش کوئ نہیں پڑھتا"

پاکستانیوں کو ایک واقعہ امریکہ کی جانب سے کیری-لوگر بل اور اسکی عجیب و غریب مندرجات کے حوالے سے یاد رہے گا_ ان میں سے یہ بات بھی تھی کہ پاکستان میں امریکی سرکاری مشینری سے تعلق رکھنے والی کوئ بھی گاڑی ملک کے کس کونے میں بھی پارکنگ فیس ادا نہیں کرے گی_ اس طرح کی اور امریکی دھونس پر پاکستانی مضطرب ہوئے تو جان کیری نے کہا پاکستانی عوام میں انگلش زبان کا شعور نہیں ہے، اس لیئے انھیں اس بِل کی سمجھ نہیں آئ_

اسی طرح ایک مرتبہ سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ امریکہ میں ایک پریس کانفرنس کی تو صدر بش، ان کی انگلش میں گفتگو پر، پریس کانفرنس کے دوران ہی امریکی صحافیوں کو تمسخرانہ انداز میں آنکھیں مارتے رہے_ حالانکہ یہ چیز سفارتی اقدار کے بالکل برعکس تھی_ لیکن کوَّا ہنس کی چال چلے تو ایسا ہی ہوتا ہے_

برصغیر پاکستان کے عوام کا فطری میلان مغربی زبانوں سے تقریباً دیڑھ سو سالہ تعالم اور تعامل کے باوجود میل نہیں کھاتا_ نہ تو انگریز ہماری انگریزی سن اور پڑھ کر خوش ہوتے نہ ہی ہمارے حکام کو انگلش زبان سکھانے کی خاطر قوم کے خرچ کیئے گئے وسائل، وقت، صلاحیت کے ضیاع، مسائل کے حل کے موثر اور بروقت تدارک کے نہ ہونے اور نہ ہی قوم کے احساس کمتری میں مبتلا رہنے کا احساس ہوتا_ فطری طور پر کسی قوم کی قومی زبان اسکے ہاتھ میں چابک کی مانند ہوتی ہے_ اگر کوئ قوم کسی غیر قوم کی زبان کو غیر معقول حد تک اپنے اوپر مسلط کرلے تو پھر غیر زبان اس قوم کیلئے گلے کی ایسی رسی بن جاتی ہے جیسے کہ کسی جانور کو قابو میں رکھا جاتا ہے_

سب کی طاقت، ملکی شان
قومی دفتر، قومی زبان
سب کی قوت، ملکی مان
قومی عدالت، قومی زبان

مسلم معاشرہ میں عدم توازن کا یقینی حل

مسلم دنیا کے بارے میں مورخ لکھے گا کہ 2020ء میں مسلم ممالک کے حکمرانوں اور ارباب اختیار کو سب سے بڑا خوف اپنے عوام کے باشعور ہونے سے لاحق تھا، اس استثنیٰ کہ ساتھ کہ بس اتنا ہی عوامی شعور برقرار رہے کہ انکے اقتدار اور مفادات کو تحفظ ملتا رہے اور ان کو اقتدار میں لانے والی قوتیں ان کی کارکردگی پر دادِ غلامی دیتی رہیں_ عوام کے بارے میں لکھا جائے گا کہ مسلمان اپنی روش اور طورطریقوں کو ذرّہ برابر بھی تبدیل کیئے بغیر ہی قومی مفادات اور خودمختاری کے کمزور پڑ جانے یا چھن جانے کے کرب مبتلا رہتے تھے_ علماء کے بارے میں لکھے گا کہ ان میں سے اکثر، لوگوں کو خدا سے اس حد ڈراتے تھے کہ بس انکا اپنا دائرہ اثر اور حلقہ احباب یکجا رہے، اس ضمن میں انھیں سب سے بڑا خطرہ یہ لاحق رہتا تھا کہ انکے پیروکار صدیوں پرانی انسانی سوچ پر مبنی روایات کو نہ توڑدیں؛ ہاں قرآن و سنت سے منہ موڑیں تو بس لگی لپٹی مصلحت کے ساتھ پرتکلف نصیحت کرنے کو ہی اپنا فرض پورا کردینے پر قیاس کرتے رہے_ 

شاہ ولی ﷲ، اقبال، سرسید، ابوالکلام آزاد سے لیکر سید سلیمان ندوی، الطاف حسین حالی، مولانا مودودی اور ڈاکٹر اسرار سمیت کبَّار علماء و مصلحین ہمارے حال اور مستقبل کے مخدوش حالات کے بارے میں ہمیں آگاہ کرتے رہے، مجال ہے جو ہم نے ان شخصیات کی تعریفوں کی تسبیح پڑھنے کے سواہ اپنے اور اپنے ذاتی اور گروہی خول سے نکلنے کی فکر کی ہو_ وہی لسانیت، وہی فرقہ پرستی اور وہی قوم پرستی آج بھی ہمیں اسی آکاس بیل کی مانند گھیرے ہوئے ہے، جسکا سامنا ہمیں کم و بیش چار صدیوں سے ہے_

ملکی اور ملی موضوع پر طویل تبصروں اور خود نمائ کے قصوں والی محافل میں مسائل کے حل اور حقیقی رکاوٹوں کو دور کرنے کی گفت و شنید شجرہ ممنوعہ بن چکی_ دیکھتے ہی دیکھتے استعمار اور طاغوتی طاقتیں کتنی ہی مسلم اقوام کو تہس نہس کرگئیں لیکن ہمارا جذبہ ایمانی اپنے نفوس کو نظر انداز کرکے دوسروں کی عیب خوئ اور اصلاح__ جس کو اصلاح برائے فساد کہا جائے تو زیادہ بہتر ہے__ سے آگے نہیں بڑھا_ ہمارا جذبہ ایمانی خیرات تقسیم کرنے سے آگے ملک و ملت کیلئے زمانہ امن میں معاشرتی نوک پلک کی خاطر قربانی کے وجود اور افادیت کو سمجھ ہی نہیں پایا، کیونکہ جب علم و دانش کا منبع یعنی علمائے ملت ہی اندازِ جہانبانی، نظامِ تعلیم و تربیت کے بارے میں الجھن کا شکار ہو گئے تو باقی معاشرے کی شکست و ریخت کوئ اچھنبے کی بات نہیں رہی_

ہمارے ہاں بڑے دھڑلے یا منہ بسوری سے یہ بات کہنے کی روایت عام ہے "بھئ! جیسے عوام ہوں گے، ویسے ہی حکمران ہوں گے_" یہ روایت ارباب اختیار و اقتدار اور انکے گماشتوں کو بڑی جلدی سمجھ آتی ہے کیونکہ اس سے عوام کو دوشی ٹھہرا کر وقتی طور پر تو جان چھوٹی ہی رہتی ہے_ جبکہ حدیثِ نبوی محمد(ص) ہے کہ پہلے کسی قوم کے علماء میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے پھر عوام میں_ تو معاشرتی بگاڑ کا معاملہ ایسے پورا ہوتا ہے کہ علماء کا بگاڑ عوام اور عوام کا بگاڑ حکام اور حکومت پر اثرانداز ہوتا ہے_ اس معاملے میں بنیادی حیثیت علماء کو حاصل ہے_ اس میں محض مدارس ِ دینیہ سے فارغ التحصیل علماء کی طرف اشارہ ہی نہیں بلکہ فی زمانہ اساتذہ، دانشور، صحافی، اینکرز اور تجزیہ نگار سب اس کا حصہ ہیں_ ان بیچاروں کی اخلاقی حالت ہمارے اخبارات، و رسائل، میڈیا چینلز، فلم انڈسٹری، یونیورسٹیز اور ان سے استفادہ کرنے والے صارفین کی سوشل میڈیا پر جاری کلاکاریوں سے صاف عیاں ہے_ آپ کا کیا خیال ہے، آپکے دشمن نے اس پر نظر نہیں رکھی ہوگی ورنہ یہ ہتھیار آپ کو بلا سبب ہی سونپ دیئے گئے؟ 

آخر ہم سے خطا یا غفلت کہاں ہوئ ہوگی؟ دیگر کے علاوہ، ایک اہم ترین وجہ تو ہمارے معاشرے میں فرد کی غیر متوازن شخصیت کا مسئلہ ہے جسکا احاطہ اقبال کے مجموعہ تقاریر The Reconstruction of Religious Thought in Islam اور نومسلم مفکِّر مارماڈیوک پکھتال کی تصنیف The cultural side of Islam میں بڑے جامع انداز سے کیا گیا ہے_ شخصیت کا عدم توازن مسلم دنیا میں دین اور دنیا کے درمیان تفریق جیسے مغربی افکار کے مسلم معاشروں میں penetration کا مرہونِ منت ہے_ جبکہ مسلم تہزیب میں خیالات کی یہ دوئ سمِ قاتل ہے_ Colonialism کے دور میں اس نظریے کے پاداش ایسے تعلیمی ادارے قائم ہوئے جن میں دین اور دنیا یعنی روحانیت اور مادیت کی جدائ کا تصور گہرا کیا گیا_ اسکے بعد مسٹر اور ملا جیسی تفریق کو formality بخشی گئ_ اس نظریے نے تمام مسلم معاشروں میں نظریاتی، عملی، سیاسی اور معاشرتی سطح پر نام نہاد battle of ideas کا آغاز کردیا، جسکی ہمارے ہاں قطعاً کنجائش ہی نہیں تھی،؛ البتہ اسکا فائدہ مغرب کو یہ ضرور ہوا کہ انھوں نے اپنے کج فہم گماشتوں کے ذریعے نوآزاد مسلم ریاستوں کے مابعد آزادی کے دور کو neo-Colonialism میں بدل دیا، جسکی فصل ہم آج تک کاٹ رہے ہیں اور اصلاح احوال پر غور نہ کیا تو کاٹتے رہیں گے_

اسکا سیدھا سا حل، ایک متوازن نظامِ تعلیم ہے_ جس میں دین اور دنیا میں تفریق کی بجائے یہ نظریہ کارفرماں ہو کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے؛ دین انسان کو دنیا میں جینے کا طریقہ سکھاتا ہے؛ زندگی سے دین کو نکال دیں تو بحیثیت مسلم ہماری دنیا اور آخرت دونوں خسارے میں رہیں گے_ ہاں! دنیا کی زندگی میں توازن کیلئے technical/scientific education بھی لازم ہے_ مسلمانوں کی دنیا اپنے دین، کائنات اور تکنیکی علوم کو integrate کیئے بغیر پوری ہی نہیں ہوتی_ اسکے لیئے ہمیں ایک نئے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جسے hybrid education system کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا_ اس کے ذریعے ہم نہ صرف یہ کہ متوازن ارباب حل و عقد، علماء اور زعماء کی تربیت کے قابل ہو جائیں گے بلکہ اس سے نوجوانوں کو لاحق اخلاقی بے راہ روی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا_ اسی سے والدین اور خاندان مطمئن ہونگے اور ہمارا معاشرہ کما حقہ متوازن تصویر پیش کریگا_ 

Thursday, June 25, 2020

عبرت اور توبہ کا وقت ہے؟

فلسطینی سرزمین کے مغربی کنارے اور وادی اردن پر اسرائیل کے قبضے یعنی Annexation کے بارے میں ایک یہودی نے دوسرے یہودی کے سامنے اپنے جذبات اس طریقے سے بیان کیئے "یہ خدائ منصوبہ Divine Plan ہے اور اگر ہم نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو خدا ہمیں یہ موقع پھر کبھی بھی نہی دے گا" ایک ہم مسلمان ہیں کہ ہم نے ہنود، یہود اور مغربی تہزیب و افکارات کی تقلید میں اپنے ربّ کو بھلا دیا، دین کا ٹھیکہ مولوی صاحب کو دیکر مساجد کو ویران کر دیا_ جبکہ قرآن کی ایک واضح نصیحت کا مفہوم ہے کہ اے ایمان والو! کفار کی بلند و بالا عمارتیں، روشنیاں، شاہراہیں اور ترقی تمہیں ﷲتعالیٰ کی یاد سے غافل نہ کردیں_

ایک مصری عالم کے بارے میں روایت ہے کہ ان سے جب بھی کوئ مشرقِ وسطیٰ، فلسطین اور مسلم دنیا کی زبوں حالی کے بارے دردمندانہ استفسار کرتا تو جواب دینے سے قبل انکا ایک سوال ضرور ہوتا تھا "کیا آپ نے آج فجر کی نماز باجماعت ادا کی تھی؟" چند ہفتو‍ں قبل نوجوان ترکوں نے صدر طیب اردگان سے مطالبہ کیا کہ ترکی میں حاجیہ صوفیا نامی گرجے کو مسجد میں تبدیل کردیں_ طیب اردگان نے جواب دیا "تم نیلی مسجد، جو کہ ترکی کی ایک مشہور مسجد ہے، کو نمازیوں سے بھر دو، حاجیہ صوفیہ کو مسجد میں بدلنے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں_"

یہودی کہتے ہیں جس دن مسلمانوں کی مساجد میں فجر کی نماز میں اتنا رش ہونے لگے گا جتنا کہ جمعہ کی نماز میں ہوتا ہے، اس دن ہمارے لیئے زمین تنگ ہونا شروع ہو جائے گی_ مسلم نوجوان اپنے رقیبوں کا یقین بھی دیکھیں اور اپنے روزمرہ پر بھی نظر دوڑائیں_ مسلم دنیا اپنی غفلت میں ہے اور ﷲ نے انکی مغفرت کے دروازے کھول رکھے ہیں، جسے غیر سمجھتے ہیں، ہم نہیں_ بقول اقبال: 
کس قدر تم پر گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کہاں پیار ہاں نیند تمہیں پیاری ہے

Saturday, June 20, 2020

پاکستان میں سافٹ ریولیوشن کے نشان راہ

پاکستان کے ہمہ قسم دگرگوں اندرونی حالات، بیرونی معاملات اور تعلقات پر اس کے پڑنے والے اثرات؛ عوامی امنگوں اور ملکی خودمختاری کو بڑی طاقتوں کی جانب سے متعدد مواقع پر درخو اعتنا نہ سمجھے جانے اور عالمی سیاست پر چھائ ہماری منفی اور دھندلی تصویر پر مباحث، ہمارے عوام و خواص کی مجالس کا معمول ہے_ گفتگو کا خاتمہ کرپشن، عوام کی خامیوں، حکمران طبقے کی بے حسی، نظام کی خرابی، قومی امنگوں کے مطابق نظام حکومت کے نہ ہونے، سیاسی پارٹیوں اور رہنماؤں کی الزام تراشی blame-game، بیوروکریسی، فوج اور بڑی طاقتوں کی مداخلت کو تمام تر ملکی و قومی خرابیوں اور کمزوریوں کا سبب یا وجہ یعنی cause قرار دیکر، حسرت و یاس کی ظاہری چبھن کے ساتھ کیا جاتا ہے_ اس معاملے میں ایک تو میرا anti-thesis یہ رہتا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں کرپشن، اثرات یعنی effects میں سے ہے_ دراصل ایسے ممکنہ کلیدی اثرات کی وجوہات کا مثبت تنقید کے ذریعے کھوج لگاتے رہنا ملکی اربابِ حل و عقد کا اولین فریضہ ہوتا ہے_ مصلحین اور معالجین بخوبی واقف ہیں کہ علاج سے قبل cause-effect analysis کے بغیر دوا کی تجویز یعنی remedy کو موثر خیال کرنے سے نقصانات کے امکانات کثیر ہوتے ہیں_ دوسرا، میرے نزدیک بھیانک ترین اثرات میں ناانصافی، برین ڈرین، وطن عزیز کے نوجوان طبقے کا غیرملکی حکومتی اور غیرحکومتی اداروں یا این-جی-اوز کا کھلونا بن کر ملک کی نظریاتی، معاشرتی حتیٰ کہ دفاعی معاملات پر قدغن لگانا اور وقت پڑنے پر پوری قوم کا انگشت بدنداں ہوجانا، شامل ہے_ ہمیں سوچنا چاہیئے کہ ہم میدان جنگ میں اپنا خون بہانے کے جذبات کے ساتھ ساتھ ایام امن میں اپنا پسینہ بہانے پر غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟ میرے نزدیک سب سے پہلے تو اس بات پر غور ضروری ہے کہ حمام میں سب کے ننگے ہونے، ہر شاخ پر اُُلّو بیٹھے ہونے اور اندھیر نگری چوپٹ راج کے ماحول میں کوئ مذکورہ بالا خرابیوں کا مرتکب ہونے سے آخر کب تک بچ سکتا ہے؟ اور اگر بچنے کا ارادہ بھی کرے تو کیوں؟ 

اصلاحِ احوال کیلئے اسی "کیوں" کا جواب جاننا اگرچہ ایک فلسفیانہ بحث تو ہے ہی لیکن عملی طور پر ہر انسان، ہر قوم اور ہر معاشرے کو اسکے بارے سوچنا ہوتا ہے_ بصورت دیگر، بےحسی اور بداعمالیوں کے سائے ایسے معاشروں کا مقدر بن جاتے ہیں اور پھر ہر معاشرتی سطح پر ایسے ایسے مظاہر سامنے آتے ہیں جسکی عکاسی میڈیا اور سوشل میڈیا کے کارپرداژ اپنے اپنے انداز اور مقاصد کیلئے کرتے نہیں تھکتے_ اسی "کیوں" کا جواب ڈھونڈنے کے معاملے میں نہ صرف یہ کہ ہم کتراتے ہیں، بلکہ بحیثیت قوم غفلت اور انفرادی طور پر ہمارے اندر طرح طرح کا خوف بدرجہ اتم ودیعت کیئے ہوئے ہے_ اسکا ایک سبب تو یہ کہ ہم اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے خول اور اس پر آنے والی آنچ سے گھبراتے ہیں_ دوسرا ہمیں اپنی اپنی روایات کے پاش پاش ہونے کا خطرہ رہتا ہے_ تیسرا، ہمارا رویہ دو انتہاؤں کے درمیان رہتا ہے، یا تو ہم مرنے، مارنے پر اتر آتے ہیں یا خاموشی اختیار کیئے رکھتے ہیں جو کہ اجتماعیت کیلئے دراصل مجرمانہ خاموشی کے ضمن میں آتی ہے_ ایسا ہی کچھ خوف ہمارے یہاں عسکری حلقوں اور غیرملکی خفیہ طاقتوں کے ممکنہ ردِعمل کے حوالے سے بھی پایا جاتا ہے_

کسی معاشرے کے افراد، گروہ اور پوری قوم اپنے بنیادی امور کے بارے میں گفتگو اور سوچ بچار سے اندرونی اور بیرونی عوامل کے پاداش خوف میں مبتلا رہیں تو ایسے معاشرے میں تہزیب و اصلاح اور معاملات کی درستگی کی آواز، انتشار کا پیش خیمہ یا تباہی کی بازگشت کے طور پر گردانی جاتی ہے_ ایسا معاشرہ - abstract-conceptualization کا شکار ہو جاتا ہے اور معاشرے میں ہمہ اقسام برائ کے خلاف مزاحمت immunity کمزور ترین سطح پر چلی جاتی ہے_ ایسا معاشرہ چھوٹی چھوٹی مزاحمت کو تو طلسم ہوشربا کی داستان بنا کر پیش کرتا ہے لیکن قومی مفادات کی خاطر مخلصانہ طور پر resistance کی شعوری کوشش کرنے والوں کو مشتبہ یا تجاہلانہ اور تضحیکانہ نظروں سے دیکھنے کا عادی ہوجاتا ہے_ اس صورتحال میں لوگ اجتماعی مسائل کی کلیدی ضرورت prerequisite، اجتماعی دانش سے دامن چھڑاتے ہیں_ اس دوران کوئ نہ کوئ ابن الوقت قیادت quasi-leadership معاشرے کے بیڑے کی ذمہ داری سنبھال کر معاشرے کو حالات کے بھنور میں ہی گھمائے رکھتے ہیں، جسکا نتیجہ مایوسی در مایوسی کے سواہ کچھ نہی‍ں نکلتا_ بقول شاعر "منیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے....سفر تیز تر ہے اور منزل آہستہ آہستہ"_ بحیثیت فرد اور قوم ہمیں جائزہ لینا پڑے گا ہمیں اپنے اور ریاست کے اصلاحِ احوال کی ضرورت" کیوں" ہے؟ اسکے بعد اگلا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے اصل مسائل، خامیوں اور کمزوریوں کے اثرات و اسباب کیا ہیں؟ جب ہمیں کیوں اور کیا کا جواب مل جائے گا تو پھر ہم اسکے ذمہ دار کا تعین کرسکیں گے کہ آخر وہ "کون" ہے؟ 

میری رائے میں اب تک کی مذکورہ تحریر میں تمام عوامل اثرات ہیں جن میں ناانصافی، کرپشن، قحط الرجال اور فکری دیوالیہ پن جیسے اثرات بنیادی توجہ کے حامل ہیں_ میرے نزدیک اسکا سبب international political-economical system کے نام پر ایک ایسے world-system کا قیام ہے جسکے ذریعے nation-state system کو اس طرح سے تشکیل دیا گیا کہ بڑی طاقتوں نے تیسری دنیا کے ممالک میں اپنی مداخلت کی راہ ہموار کیئے رکھی جسے neo-Colonialism کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے_ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم nation-state کے political phenomenon کو سمجھ ہی نہیں پائے یا ہمیں اندھیرے میں رکھ کر بس وقت گزاری کی جاتی رہی ہے_

خوش قسمتی سے اس سب کیلئے ہمیں لمبی چوڑی فلسفیانہ مباحث کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی ہے، کہ ہم اس ملت کے وارث ہیں جس نے نہ صرف دنیا کے کئ کونوں پر صدیوں تک حکمرانی کی بلکہ ایک تہزیب کے علمبردار بھی ہیں_ جسکی وجہ سے آج بھی ہمارے رقیب ہمارے تہزیبی احیاء کے تصور سے بھی کانپتے ہیں_ اس تہزیب کی آفاقی سچائ مالکِ کائنات کی زندہ جاوید کتاب قرآن مجید اور اسکے محبوب خاتم الانبیاء محمد (ص) کی سنت و حکمت سے عبارت ہے_ جسکی تشریح اقبال جیسے مفکر نے بڑے واضح انداز میں کی، مملکت خداد پاکستان کا خواب دیکھا اور محمد علی جناح جیسے مخلص اور انتھک رہنما نے اسکی تعبیر کو ممکن بنانے میں مسلمانان برصغیر کے قائداعظم ہونے کا کردار ادا کیا_ آج کے پاکستانی مفکروں، دانشوروں اور رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ تحریر ھٰذا میں مذکورہ تمام عاملین کے کردار اور عوامل کے اثرات و اسباب کا معروف اور منصفانہ تعین کرکے اسے اس انداز میں synthesize کریں کہ جس سے گوناگوں مسائل میں بکھری قوم منزل، نشان منزل، معاشرتی عمل اور عملی سیاست کے خدوخال کو احسن طور پر سمجھنے کے قابل ہو سکیں_ کیا ہم اپنی توانائیاں اس مقصد کیلئے وقف کرنے کو تیار ہیں؟ (Social Point)

Tuesday, June 16, 2020

تیسری عالمی جنگ کے مفروضات اور اسرائیلی مفادات

دیگر اقوام اپنے اپنے مفادات کیلئے تباہ کن جنگیں کریں گی لیکن اسرائیل، یہودی اور صیہونی اپنے آپ کو بظاہر دور، محفوظ اور مستحکم رکھتے ہوئے، ان جنگوں کو اپنے مفاد میں ڈھالنے کا کھیل کھیلتے رہیں گے اور اپنی مظلومیت، جمہوریت پسندی، مغرب دوستی اور مغربی مفادات کے ضامن ہونے کا راگ بھی گاتے رہیں گے_ یقیناً اسی خو کی بنا پرانکے لیئے an invisible-elephant in the turmoil of Middle-East جیسے الفاظ استعمال کیئے جاتے ہیں_ دوسری طرف مسلم حکمران، اربابِ اختیار اور طبقہِ اشرافیہ کو اس قدر مست، منقسم اور الجھن کا شکار کر دیا گیا ہے کہ وہ تاریخ، حال اور مستقبل سب کچھ جانتے ہوئے بھی اکٹھے ہو کر کوئ لائحہ عمل سوچنے کی بجائے عالمی صیہونی منصوبہ سازوں کے عالمی اور علاقائ، سیاسی، معاشی، ابلاغی اور دفاعی planning, models اور approaches کے گرد ہی گھومنے کو، اپنی جغرافیائ سرحدوں کی حفاظت کے نام پر، کم وبیش، دراصل اپنی، اپنے اپنے اقتدار اور قومی بقاء کی ضمانت قرار دیتے آرہے ہیں_ لیکن درحقیقت وہ اپنی اقوام، ملک اور ملت کیلئے موثر اور بروقت اقدامات کی حکمت عملی اور اسکے اطلاق سے قاصر اور بے بسی کی تصویر بنے دکھائ دیتے ہیں_

غور طلب معاملہ یہ ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ میں hypothetical future war scenarios کا جو منظرنامہ گزشتہ چند دہائیوں سے پیش کیا جاتا رہا__حالیہ دنوں میں باقاعدہ طور پر اس بارے میں رینڈ کارپوریشن کی تازہ ترین رپورٹ The Future of War 2030 کے عنوان سے بھی شائع کی گئ ہے__اس میں دیگر کے علاوہ مسلمانوں کی سرزمین پر جنگوں کا پہلو نمایاں طور پر پیش کیا جاتا ہے_ جیسے کہ کشمیر سے متعلق پاک-بھارت، خلیج میں اسرائیل-ایران اور امریکہ-ایران، اسی طرح ترکی-امریکہ کے مابین ممکنہ جنگیں_ اگرچہ اسکے علاوہ شمالی کوریا-چین اور امریکہ-چین South-China ocean کے تناظر میں جنگ کا ذکر بھی ہے جو کہ مسلم دنیا کیلئے قریب النظرمیں main-stream wars نہیں ہیں_ اگرچہ حالات کے تحت چند اہم مسلم ممالک کو اس میں بھی شمولیت پر مجبور کر دیا جائے گا_

مذکورہ تناظر میں مسلم دنیا سے متعلق جنگی بساط کے علاقائ پہلو کی بحث اپنی جگہ، لیکن اس کو عالمی میدانِ جنگ میں بدلنا اسرائیلی حربی سائنس و فنون کا اٹوٹ انگ پہلو ہے، جس کے تانےبانے باقاعدہ طور پر انیسویں صدی کے وسط کے بعد سے ہی یہودی اور بعدازاں صیہونی تحریک کے ذریعے بُنے جاتے رہے ہیں_ اس ضمن میں 1871ء میں مشہور فریمیسنری البرٹ پائک کے لکھے گئے ایک خط میں تین world-wars کے منصوبے اور نتائج کا تذکرہ بھی ملتا ہے، جسکے مطابق پہلی جنگِ عظیم کا نتیجہ زارِ روس کا تختہ الٹ کر ایک بےدین کیمونسٹ حکومت کا قیام؛ دوسری جنگ عظیم کا نتیجہ نازیوں یعنی جرمنی کی شکست، صیہونیت کی سیاسی مضبوطی اور اسرائیل کا قیام_ جبکہ تیسری جنگِ عظیم یہودیوں کی صیہونی تحریک اور اسلام کے درمیان لڑی جائے گی، دنیا بھر سے مذہب کا خاتمہ کرکے دہرئیت Atheism اور لادینیت کو دوام بخشا جائے گا_ اگرچہ یہودی اس منصوبے کو بھی conspiracy-theory کا نام دے کر ہوا میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن، کیا حالات اور واقعات اسکی گواہی کیلئے کافی نہیں ہیں؟ ایسے منصوبوں کے منکشف ہونے پر اب تک یہودیوں کا رویہ یہ رہا ہے کہ انہیں سازشی نظریات کےکھاتے میں ڈال کر، مضٰحکہ خیزی پھیلا کر، anti-Semitism کا تسلسل کہہ کر، اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیئے رکھتے ہیں، لیکن جب انکے مطلوبہ نتائج  سامنے آ جاتے ہیں تو شاطرانہ  انداز میں اپنی خفیہ طاقت کا متفخرانہ اظہار کرتے نہیں تھکتے_

عالمِ اسلام پر مذکورہ بالا مسلط کردہ لاحاصل جنگوں کی حکمتِ عملی، یہودیوں کے مبینہ قبیحہ منصوبوں کا ایک ظاہری مظہر ہے_ جبکہ اس کے پسِ پردہ وہ اپنے mile- stones کے حصول کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں_ مثلاً ایران-اسرائیل یا امریکہ-ایران کی ماضی بعید و قریب کی جنگی نوک جھوک اور حالات و قرائن واضح کرتے ہیں کہ خصوصاً ملاؤں کے انقلابی ایران نے اسرائیل اور امریکہ کو جتنی بھی دھمکیاں اور آنکھیں دکھائیں ہیں اس نے اسرائیل اور امریکہ کو عربوں کو بلیک میل کرنے، گھیرنے کے علاوہ مسلم دنیا کو منقسم اور کمزور کرنے کا موقع ہی فراہم کیا ہے_ ستم یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین کا قضیہ عربوں اور اسرائیل کے درمیان ہے اور منصوبے Irani crescent in Middle-East کے سامنے آرہے ہیں جبکہ فلسطینیوں کی حالتِ زار بدترین سطح پر پہنچی ہوئ ہے_ ستم ظریفی یہ ہے کہ عرب مشرقِ وسطیٰ یعنی اپنی سرزمین پر ہی امریکہ، اسرائیل اور ایران سے مخامصت کے باعث کمزوری محسوس کرتے ہیں تو اسکا سبب، انکی بادشاہتوں، عرب شہزادوں کی لڑائیاں، عیاشیاں اور امریکہ، اسرائیل سے کبھی دوستی، کبھی غلامی اور کبھی خوف کو قرار دے کر پراپیگنڈہ کی دبیز چادر میں چھپا دیا جاتا ہے_

تیسری عالمی جنگ کا ایک اور فلیش پوائنٹ کشمیر یعنی پاک-بھارت کے نام سے جانا جاتا ہے_ کروڑوں بے گھر اور خطِ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے عوام کے ملک بھارت نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل تو کیا ہی کرنا ہے بلکہ اسرائیل نے اپنی طرز کے بنیادپرست، انتہاپسند اور نسل پرست ہندوؤں کی سرپرستی کرکے پورے جنوبی ایشیاء کو رستے ہوئے زخم میں تبدیل کر دیا ہے_ اسرائیل کا بھارت کو مضبوط کرنا اسکے شعور و لاشعور کا وہ خوف ہے جو کہ پاکستان، بطور ایک مسلم ایٹمی قوت، اسکےدل و دماغ پر چھایا ہوا ہے_اسرائیل اس بارے میں اتنا خوفزدہ رہتا ہےکہ ہر قسم کی سازش پر عمل کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے_ جیسا کہ کچھ حلقے عمران خان کی برطانوی یہودی کھرب پتی گولڈسمتھ فیملی میں شادی کے معاملے کو پاکستان میں یہودی لابی کی ایک کارستانی کے طور پر 25 سال سے نمایاں کرتے چلے آرہے ہیں_ ان کے بقول 1996ء میں روزنامہ نوائےوقت میں یہ خبر منظرِ عام پر کیسے آگئ تھی کہ عمران خان 2020 میں پاکستان کے وزیرِاعظم ہونگے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ پی-ٹی-آئ حکومت جنگوں کے بارے میں کیا اقدامات کرتی ہے اور اسکا ultimate-beneficiary کون ہوگا اور خاکم بدہن پاک-بھارت ایٹمی جنگ کے بعد پاکستان کہاں کھڑا ہوگا اور اسرائیل کی ممکنہ پوزیشن کیا ہوگی؟ اسکا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اب اسرائیل دور بیٹھ کر، بھارت، چین یا امریکہ، چین جنگی ماحول بنوا کر اس میں پاکستان کو اس طرح سے گھسیٹ لے کہ پاکستان اور عالمِ اسلام اسرائیلی مداخلت اور تناظر کا ادنیٰ سا شائبہ اور گمان بھی نہ کرسکیں، کیونکہ مرحوم جرنل ضیاءالحق نے بھارت کی مدد کرنے پر اسرائیلی سر زمین پر حملے کی دھمکی دی تھی_بعینیہٖ اسرائیل اپنے پٹھو بھارت کو یہ مفاد بھی دینا چاہتا ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ مداخلت کے ذریعے پاکستان پر ایسے حکمران مسلط کروائے رکھے جو بھارتی درندے کے پاکستان پر ایٹمی حملے کے باوجود جواباً امن کے نام پر پاکستان کو انڈیا پر اسٹرائیک ہی نہ کرنے کا پرچم لہرا دیں یا ایسی صورت حال پیدا کروا دی یا کر دی جائے کہ پاکستان سے بھارت پر سیکنڈ اسٹرائیک کا موقع ہی کسی نہ کسی طرح چھین لیا جائے_ قدرتی طور پر ایک چھوٹے ملک کی سلامتی کو لاحق خطرے کی حقیقت کے مدنظر پاکستان کو اعلان کر دینا چاہیئے کہ اسکے خلاف جو بھی اپنے سے کئ گنا بڑے ملک بھارت کی کسی بھی قسم کی مدد یا امداد کرے گا تو پاکستان اس ملک کے مفادات کو بھی تہس نہس کرنےکا حق رکھتا ہے_ بڑا چھبتا ہوا سوال ہے کہ اگر اسرائیل کو، اسکے مطابق، پاکستان سےخطرہ ہے تو پھر وہ ایٹمی پاکستان کے خلاف عسکری میدان میں بھارت کی کھلم کھلا مدد کرنے کی جسارت کیسے کر رہا ہے؟کیا اسرائیل، پاکستان کی طرف سے اسکے خلاف کسی بھی ممکنہ ردِعمل کا سوال یی پیدا نہ ہونے کی یقینی کیفیت میں ہے؟ اسرائیلی دفاعی حصار Iron-dome کی بات چھوڑ دیں، ایٹمی پاکستان کی soft-power کے اثرات کا سوال ہے؟ اسرائیلی کاوش صاف عیاں ہے کہ کھیلوں اور محفوظ بھی رہوں_

تیسری عالمی جنگ کا ایک اور مفروضہ ترکی-امریکہ جنگ کا ہے_ اس ضمن میں ماضی، حال اور مستقبل کا قصہ ایک ہی جملےمیں کافی ہے کہ اسرائیل کا قیام ترک سلطنتِ عثمانیہ کے قبرستان پر وجود میں لایا گیا تھا_ اسی بنا پر انتہائ قریبی تعلقات کے باوجود ترکی پر مسلط کردہ کسی بھی جنگ کی صورت میں اسرائیل، پوشیدہ رہ کر، ترکی سے بھی نمٹنے کا متمنی ہے اور اسرائیلی عہدیدار مغربی دنیامیں طیب اردگان کو خلافتِ عثمانیہ کی بازگشت کےطور پر پیش کر رہے ہیں_ کیونکہ اسرائیل کو 2023ء کے معاہدہ لوزان کے خاتمے سے مسلم دنیا میں احیائے خلافت کےفکری تحرک جیسے خطرات لاحق ہیں_ ساتھ ہی اسرائیل عالمِ اسلام کو مسئلہ خلافت کے بارے میں منقسم رکھنے کیلئے کافی عرصے سے عربوں پر کام کر رہا ہے، تاکہ بڑے طریقے سے سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اختلافات کی بنیادوں کو وقت پڑنے پر exploit کرنے کا ہوم ورک کام میں لایا جا سکے_

مسلم دنیا میں قیادت کی نمو اور تربیت کا مسئلہ

اپنے گھر کے قریب ہی میں ایک دکان پر خریداری کر رہا تھا کہ اچانک ایک شناسا وہاں آنکلتا ہے_ہاتھ ملا کر فائل میں سے ایک کاغذ میرے ہاتھ میں تھما کر کہتا ہے کہ اسکا اردو ترجمہ اسکے گوشگزار کردوں_ میں نے اسکی مدد کردی_ اس پر تقریباً سو سال پرانی ریوینیو کی کوئ قانونی شِق لکھی تھی_میرے دل میں اچھا گمان پیدا ہوا کہ وہ کسی حقیقت کا متلاشی تھا_ ایک دن میں اپنے کسی دوست کے ساتھ محوِ گفتگو تھا کہ اسی شخص کا نام آیا_ میں نے سرِراہ اسکی تعریف کی ہی تھی کہ دوست نے قہقہہ لگا کر بتایا وہ تو پرلے درجے کا ٹاؤٹ تھا؛ نیز وہ پرانے بھولے بسرے قوانین تلاش کرکے سرکاری اداروں کے کلرکوں کو بلیک میل کرکے رقم وصول کرتا تھا_ میں اس شخص کی طریقہ واردات پر حیران ہوا_

اسی طرح ایک دن مجھے ایک صحافی دوست کی کال آئ کہ وہ میرے ساتھ ملکر گورنمنٹ کے ساتھ ایک پروجیکٹ میں شامل پرائیویٹ سکول مالکان کی کمزوریوں کا کھوج لگانا چاہتا ہے_ اس نے کہا "آپ ان معاملات کا علم رکھتے ہیں، تو ہم دونوں ملکر اس سے مالی فائدہ اٹھائیں گے_" مجھے معلوم تھا کہ وہ مشّاق تھا اور میں ان دنوں بوجہ فارغ البال تھا؛ لیکن، میں نے دفعتاً جواب دیا "معلومات کا حصول، تحقیق اور لکھنے کو میں عبادت سمجھتا ہوں_ ملک و قوم کے پوٹینشل کو بڑھانے کیلئے ﷲ نے مجھے صلاحیتوں سے نوازا_" اسنے تحمل سے سنا اور جواب دیا کہ دراصل وہ میری اور اس کی مالی مشکل دور کرنا چاہتا تھا_میں نے کہا "زندگی بھر جس چیز کو برا سمجھتا رہا، اب وہی کام خود شروع کردوں؟ رہے وسائل، اسکے اسباب ﷲ کے ذمے_"

انفرادی سطح سے لیکر ادارتی سطح تک ہمارے معاشرے نے ٹاؤٹس، بھتہ مافیہ اور بلیک میلرز کو جنم دیا ہے_ جہاں پاکستانی میڈیا کے گھناؤنے کرتوت زبانِ زدِ عام ہیں وہیں شعور و بیداری کے نام پر ملک، قوم اور سماج دشمن کارنامے این-جی-اوز کے کارفرماؤں نے ہمارے یہاں سر انجام دیئے ہیں_ ہمارا نظام اور سوچ زاویہ ایسا ہے کہ کلرک سے لیکر بیوروکریٹس، سیاستدان، جرنیلز، ججز، پولیس، ڈاکٹرز، ٹیچرز، پروفیسرز اور علماء کوئ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے الا ماشاءﷲ ہی بچ پایا، جس کسی کو بھی قوم کی قیادت اور رہنمائ کیلئے کسی سطح پر بھی اختیارات، وسائل اور معلومات تک رسائ کا موقع ملا_ غرض وہ تمام صلاحیتیں جوریاست کی تعمیر و ترقی میں استعمال ہونےکی قوم توقع کرتی ہے ہر طرح کی قیادت کے مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں_ باالفاظ دیگر ہماری ہمہ قسم قیادت اور رہنما ذہنی طور پر کرپٹ بنائے جانے کے کلچر تلے دبے ہوئے ہیں_ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملکی سلامتی سے لیکر گلی محلےمیں کمیونٹی ورک کرنے کی سطح تک بہترین نتائج کیلئے بہترین قسم کی لیڈرشپ درکار ہوتی ہے_ آج امریکہ جس مقام پر کھڑا ہے، انکا فلسفہ کتنا غلط کتنا صحیح الگ بات، ذرا انکی Leadership-Development کی تاریخ، ذمہ داری، منصوبے؛ اپنی قوم، گروپس اور اداروں کیلئے انکی ہمہ قسم لیڈرشپ کی قربانیوں کی داستان تو پڑھیں، آنکھیں کھل جائیں گی_ اور یہاں؟ میں اپنے ایک دوست سے نوجوانوں کی تربیت کے حوالے سے ایک آئیڈیا شیئر کر رہا تھا کہ اسنے کہا "ہمارے معاشرے کو اتنا بےحس اور جذبات سے عاری کر دیا گیا ہےکہ کوئ بھی تعلیمی یا تربیتی کاوش پڑھے لکھے ٹاؤٹس ہی پیدا کرنے کی موجب بنے گی_" سچی بات ہے، پاکستان سمیت عالمِ اسلام میں عوام کےاذہان میں رہبروں کی رہزنی والی رائےکا راسخ ہونا خطرناک ترین رجہان ہے_ کیونکہ ایسے جذبات ہی ملک و ملت کے تعلیم و تربیت کے سوتّے خشک کرنے کا باعث بنے ہیں_ نامساعد حالات کے باوجود مستقبل کی قیادت کی نمو اور نشونما سے سرفِ نظر، غیر معقول اور غیر منطقی ہے_ لیکن، قیادت کو ہی ہمہ قسم قیادت کی ہمہ پہلو خستہ حالی اور تدارک کے بارے سوچنا ہوتا ہے_ خصوصاً یہ کہ ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس نے قدم بہ قدم، انفرادی، اہل وعیال، گھرانے یا خاندان، ٹیمز اور گروپس سے لیکر پوری امت کو علم، اصلاح، تربیت، اجتماعی فلاح اور امدادِباہمی کی اتنی ترغیب دی ہےکہ ہم بحیثیت مسلم تعمیر و تربیت اور موثر لیڈرشپ کی تیاری کےعمل سے ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہ سکتے_ مسلم معاشرے کے علاوہ پوری انسانیت کیلئے ایسا کرنا ہماری ذمہ داری ہے_ ایسا تب ہی ہوگا جب اربابِ اختیار اور اہلِ دانش مخلص ہو کر، جنگ و امن میں، ہر شعبہ ہائے زندگی میں مخلص و موثر قیادت اور رہنماؤں کی ڈویلپمنٹ کے کلچر کی آبیاری کریں گے_ 

قرآن کا اٹل فیصلہ ہے ﷲ رب العزت اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتے، جب تک کہ کوئ قوم اپنی حالت کو خود نہ بدلنا نہ چاہے_جلد یا بدیر ہمیں اپنے آپ کو بدلنا تو پڑے گا_ اگر نہیں، تو، یہ بھی رَبّ کا فیصلہ ہے کہ وہ ہماری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا جو ہم سے بہتر ہوگی_

کرونا وائرس فساد فی الارض ہے، لیکن احتیاط

سائنس، صنعت اور تجارت کے میدان میں مسلم دنیا کی یہودیوں کے ساتھ اس سطح کی مخاصمت نہیں ہوئ جسکا سامنا مغربی دنیا کو کرنا پڑا ہے_ اسکی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں کی یورپ اور امریکہ میں کاروباری سرگرمیاں اور روایات صدیوں پرانی ہیں_ سودی لین دین سے لیکر، لبرل ازم، جمہوریت، مادیت اور سرمایہ دارانہ نظام سب کی بنیاد، نمو اور ترقی میں ان کا بڑا عمل دخل رہا جو کہ تاحال جاری ہے_ چکاچوند روشنیوں، ہنستے بستے یورپی شہروں، بڑی بڑی شاہراؤں، اڑتے جہازوں، سیٹلائٹس، میڈیا، فلم اور سوشل میڈیا کے بارے میں یہودی حلقے اہلِ مغرب کو کھلے عام یہ طعنے دینے میں بالکل بھی نہیں ہچکچاتے کہ زندگی کی یہ آسائش اور زیبائش ان ہی کی مرہونِ منت ہے_ جبک اسرائیلی عہدیدار امریکہ کو واضح طور پر یہ کہنے میں عارمحسوس نہیں کرتے کہ وہ نیویارک اور واشنگٹن کو راکھ  کا ڈھیر بنا دینگے_

اب ایک مغرب تک ہی موقوف نہیں، پوری دنیا اور خصوصاً مسلم دنیا کے بارے میں سوچا گیا اور سوچا جا رہا ہے کہ یہودیوں کے بنائے نظام میں دیگر اقوام اتنی آسانی سے، میڈیا، سوشل میڈیا، ذرائع نقل و حرکت اور ذرائع مواصلات کے ذریعے سے انکے نسل پرستی اور انسان دشمن منصوبوں، ناانصافیوں، کالے کرتوتوں اور استحصال کے بارے معلومات پھیلانے میں مگن رہتی ہیں اور اگر عالمی رائےعامہ کا یہ لاوہ کسی وقت بھی دنیا بھرمیں یہودی مفادات اور انکے مرکز اسرائیل کے خلاف عملاً پھٹ پڑا تو کیا ہوگا؟ چنانچہ اسکو لگام ڈالنےکے منصوبوں پر بڑے عرصے سے کام ہو رہا تھا_ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی، ایک عالمی حکومت کی مغربی خواہش جسے کہ یہودی صیہونی تحریک نےعالمی صیہونی حکومت کےویژن میں ڈھال لیا تھا، صیہونی خبررساں اداروں، میڈیا چینلز اور یہودی ملٹی نیشنلز نے پوری دنیا میں اسطرح سے نفوذ کیا کہ دنیا شعوری اور لاشعوری طور پر اس نظام کو زندگی کا جزلاینفک سمجھ کر مشغول و مبحوس ہوگئ_ یہودی عام طور پر انسانی جبلت، عادات، خواہشات، رجحانات، طاقت اور کمزوریوں کے مدِ نظر ہی منصوبے تشکیل دیکر رکھتے ہیں تاکہ مناسب وقت اور مقام پر مطلوبہ اقوام کے خلاف انکا اطلاق کر سکیں_ اسکے لیئے اقوامِ عالم کے حکومتی اورغیر حکومتی حلقوں سے انکی گٹھ جوڑ کی پریکٹس بہت پرانی ہے_رومن عدالت میں عیسیٰ علیہ السلام پر چلائے جانے والے مقدمے اور جج کے بارے پڑھ کر دیکھ لیجئے_

اسی پسِ منظرکی حامل دنیا میں کروناوائرس کا مسئلہ سامنے آتا ہے_ ایک تو بیماری اچانک سے دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے، اس کے بارے عالمی رائےعامہ تقسیم ہو جاتی ہے کہ یہ دانستہ پھیلائ گئ یا قدرتی طور پر پھیلی_ کوئ ملک لاک ڈاؤن کرتا ہے کوئ نہیں، ایک ہی ملک میں کچھ عوامی مقامات پر لاک ڈاؤن اور طبعی فاصلہ کی احتیاط برتی جاتی ہے اور کہیں نہیں_ مشکوک اور غیر متوازن حکومتی ردعمل اور ہچکچاہٹ کی وجہ سے یہودی اور عالمی منصوبہ سازشوں پر نظر رکھنے والے حلقوں نے اسے سازش قرار دیا تو عوام کو بیماری سے بچنے کی فکر کی بجائے، رائےعامہ کو دبائے جانے اور اپنے اپنے ممالک کی خودمختاری کے خلاف کسی سازش کی فکر پڑگئ_ اموات کے خدشے کے پیشِ نظر حکومتوں نے لاک ڈاؤن کیا تو عوام نے سوچا انھیں بیوقوف بنایا جا رہا ہے_ اس حالت میں عوام حکومتوں سے علاج کی سہولیات اور انفراسٹرکچر کا مطالبہ کیا ہی کرتے! چنانچہ حکام کی جان چھوٹی رہی_ ایسےمیں عالمی طاقتیں اور بڑے ممالک الزام تراشیاں بھی جاری رکھتےہیں اور عوام بیچارے الجھے رہتے ہیں_ اسی دوران وائرس سے متاثرہ اشخاص سے باخبر رہنے کے بارے ٹیکنالوجی کا ذکر شروع ہوتا ہے، اسرائیل، چین، برطانیہ، بھارت اور سعودی عرب جیسے ممالک اپنے وہاں اسے لانچ بھی کردیتے ہیں_ لیکن امریکہ میں عوامی سطح پر اس پر بڑی لے دے کی جاتی ہے، کیونکہ گزشتہ ایک دھائ سے امریکہ میں ایسے منصوبوں پر بحث معمول کا حصہ رہی ہے، جسے کہ سازشی نظریات قرار دیکر درگور کر دیا جاتا رہا ہے_ اب اس بارے احتجاج سامنے آئے تو جارج فلائڈ کی ناگہانی موت پر پورے امریکہ میں "فسادات" پھوٹ پڑتے ہیں اور امریکہ کو "بلوائیوں سے بچانے" کے نام پر ان تمام اقدامات کا اعلان ہوجاتا ہے جنکے خلاف امریکی عوام سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے_ اب وہاں کرونا کی وجہ سے اموات بھی چل رہی ہیں، لھٰذا ویکسین تو ویسے بھی "مار دھاڑ کو قابو" کرنے کیلئے جبکہ انسانی جسم میں مائیکروچپ لگوانا شہری ذمہ داری کی علامت قرار پا چکی ہے_یہ طریقہ واردات تو سپرپاور کے عوام کے ساتھ استعمال ہوا ہے_ 

مسلم دنیا کے عوام کیلئے تحفہ یہ ہے کہ کرونا کنٹرول کرنا ہے تو ویکسین بھی لینی پڑے گی اور مائیکروچپ کا معاملہ شروع ہونے تک خفیہ نگرانی کی جائے گی، جس سے کہ عالمی منصوبہ سازوں کی چاہت پوری ہو جائے گی اور اگر آپ اسے سازش سمجھ کر، من حیث القوم، نہ تو قابو میں آئیں گے اور نہ ہی احتیاط کریں گے تو موت آپ کو اپنی طرف کھینچ لے گی، یہ بھی انکے آبادی کو لگام دینے کے منصوبے کے عین مطابق ہے_ قصہ مختصر اس حیاتیاتی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی حملے کو آفت سمجھئیے یا وبا، اس سے بچنے کیلئے social-distance کی بجائے معقول حد تک physical-distance کے بارے میں احتیاطی تدابیر اختیار کیجئے_ اس دو دھاری تلوار سے بچنا عوام اور بچانا حکومت کا فرض ہے، دیکھیں کب تک موت کا یہ رقص جاری رکھا جاتا ہے؟ ویسے تو یہ خبر یہ بھی ہے کہ کرونا وائرس کے بارے عالمی "خیر خواہوں" اور حکومتوں کے نافذ کردہ "حفاظتی اقدامات" اب مستقل جاری رہیں گے، دیکھیں مشئیتِ الٰہی اس بارے میں کیا اور کب فیصلہ کرتی ہے؟

مسلم اقلیتوں پر ظلم اور مسلم دنیا کے مباحث

بھارتی مسلمانوں کا ایک قدرتی مسئلہ انکا جغرافیائ طور پر بکھرے ہوئے ہوناہے_ اس وجہ سے وہاں ایک اور پاکستان بننے کی حکمت عملی اتنی موثرنہیں ہو سکتی_ البتہ بھارت کے اندر چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں کو سپورٹ سے  اسکے نتائج بہتر نکلیں گے_ جب تک بھارت کے باہر سے بھارت کے اندرونی جبر و استحصال اور نسل پرستی پر طرح طرح کا دباؤ نہیں پڑتا، بھارتی مسلمانوں پر ہندو انتہاپسندوں کےحملے اور دباؤ کم نہیں ہونگے_

ماقبل آزادی قیامِ پاکستان کےتمام مخالفین کو مطلقاً غلط کہنا یا آج کے بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار کا ذمہ دار قرار دینا academically درست نہیں_ کیونکہ آزادی سے قبل کچھ مسلم لیڈرز ایسے بھی تھے جو مغرب کے نافذ کردہ nation-state system کو شبہ کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آج بھی اسکے معترض ہیں، اگرچہ وہ آج کی تمام نوآزاد مسلم ریاستوں کی مضبوطی اور استحکام کےقائل بھی ہیں_ موجودہ مسلم دنیا میں مسلمانوں کی حالتِ زار کیلئے مسلمانوں کے درمیان جغرافیائ تقسیم کی بنیاد پر اتحاد نہ ہونا ایک بڑا سبب سمجھا جاتا ہے، اگر دوسرے طریقے سے سوچا جائے تو کیا یہ جغرافیائ تقسیم اس نااتفاقی کا سب سے بڑا سبب نہیں جس کی جڑیں جدید مغربی قومی نظام سے نکلتی ہیں؟ البتہ جو مسلم طبقہ بھارت کی مضبوطی کو پاکستان پر ترجیح دیتا ہے، ان سے پوچھا جائے کہ پاکستان بنانے کی مخالفت اس ہی لیئے کی تھی کہ بھارتی مسلمان ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں پامال ہوتے رہیں؟ بھارت کے مسلم حلیف بھارت کے انتہاپسندوں کی قتل و غارت پر خاموشی، کونسی تھیوری کے تحت اختیار کرتے ہیں؟ اگر یہ طبقات امتِ مسلمہ کی بات کرتے ہیں تو انھوں نے اب تک مسلم ممالک میں بھارتی مسلمان اقلیت پر ہونے والے مظالم کے خلاف اقدامات کرنے کی کتنی کاوش کی ہے؟ حقیقت یہ کہ پوری مسلم دنیا نے دنیا بھر میں مسلم اقلیتوں پر روا مظالم پر آنکھیں بند کی ہوئ ہیں_

ایک سوال یہ بھی ہے کہ مسلم ممالک نےخود اپنےعوام کو انصاف کی فراہمی کو کتنا یقینی بنایا ہوا ہے؟ جو مسلمان اپنے ملک میں اقتدار اور اختیار کو اپنے ہی مسلمان عوام کےاستحصال کیلئے خدائ تحفہ سمجھتے ہوں، انکے پاس بھارتی، اسرائیلی، امریکی اور برطانوی حکام اور انتہاپسندوں کے مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے جبر و استبداد کو روکنے کا کوئ اخلاقی جواز رہ جاتا ہے؟ اسی لیئے ہر طرف موت کی سی خاموشی چھا جاتی ہے جب کبھی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کی بات ہو_ معلوم نہیں اس خاموشی کو دوام دینے کیلئے کس کس کو کیا کیا مراعات اور مالی فائدے پہنچائے جا رہے ہونگے؟ 

مسلمانوں کےحقوق، مسائل اور ان پر ہونے والے مظالم کی روک تھام کی کاوش کو مربوط اور موثر کرنے کا واحد حل OIC کو تکلفات سے پاک کرکے فعال کرنا ہے_

یہود مخالفت - چند بنیادی حقائق

عیسائیت میں یہودیوں کے بارے تعلیمات کا خلاصہ یہودیوں کو نسل پرستی ترک کرنے، ﷲ کے نازل کردہ احکمات کے مطابق نیک کام کرنے اور برے کاموں سے باز رہنے کی نصیحت ہے_ یہ دعوت دینے والا کون تھا؟ عیسیٰ علیہ السلام_ جنہیں ﷲتعالیٰ نے دین کو نسل پرستی کے سانچے میں ڈھالنے کی یہودی تمنا سے بچانے کیلئے بھیجا_ نتیجہ یہ نکلا کہ یہودی عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے دی گئ دعوت پر توبہ کے برخلاف پہلے ہی دن سے آپکی جان کےدشمن ہوگئے_ آپکی والدہ بی بی مریم کو بدنام کیا خود آپکو ذہنی اور جسمانی اذیت دی_ انکے خلاف سازشیں کیں، رومن عدالت میں مقدمہ درج کروایا، جھوٹےگواہ لائے، صلیب پر چڑھانے کی سزا دلوائ اور اپنی دانست میں انھیں سولی پر چڑھا دیا_حالانکہ یہودی اپنی تعلیمات کی روشنی میں اس وقت ایک نبی کی آمد کے منتظر تھے جس کے آنے کی بشارت ان کو ﷲتعالیٰ نے دی ہوئ تھی_ آپ ساری دنیا کی لائبریریز چھان لیں، ان میں سے کوئ بات عیسائ تاریخ بلکہ کم وبیش یہودی تاریخی ماخذوں سے ہٹ کر نہیں ہے_ سوال یہ ہے کہ کیا عیسیٰ علیہ السلام یہود مخالف یعنی anti-Semitic تھے؟ نہیں، ایسا سوچنا لاعلمی اور کم عقلی کی علامت ہے_ دراصل خود یہودیوں نے انکی مخالفت اس لیئے کی کہ انکی پیدائش معجزانہ طور پر ہوئ جس سے کہ یہودیوں کا نسل پرستی کی بنیاد پر ﷲ کی چنی ہوئ قوم والا مان ٹوٹ گیا تھا_ 

ﷲ پر ایمان رکھنے والی کسی بھی قوم کا ﷲ ہی کے مبعوث شدہ کسی نبی کے خلاف مشرکوں کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنا کسی بھی لحاظ سے معقول ہوسکتا تھا؟ لیکن ستم یہ ہے کہ آج آپ کسی بھی یہودی سے یہ بات کریں وہ آپکو anti-semitic کہہ کر اپنا دشمن قرار دیدے گا_ اسی پر بس نہیں انھوں نے کچھ عیسائ حلقوں کو بھی فلسفیانہ مغالطوں اور منطقی اوٹ پٹانگ میں پھنسا کر اپنا ہمنوا بنایا ہوا ہے_ اسی طرح بائبل کے مطابق یہودیوں نے جن بنی اسرائیلی انبیاء کا قتلِ عام کیا، کیا وہ یہودی نسل کے مخالف تھے؟

دنیا سے عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے کوئ چھ سو سال بعد ﷲتعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمد(ص) کو مبعوث فرمایا_ مدینہ منورہ کے کچھ لوگوں کے قبولِ اسلام کے بعد آپ(ص) نے ان کے بلانے پر وہاں ہجرت فرمائ_ مدینہ منورہ کے اندر اور آس پاس کچھ یہودی قبائل آباد تھے اور اس ایک نبی کی انتظار میں تھے، جسکی بشارت انکی کتاب کے مطابق، ﷲ نے انھیں دی تھی_ جب آپ(ص) نے اہل مدینہ کو دعوت اسلام دی تو کچھ یہودی تو سوال جواب کرکے ایمان لے آئے، لیکن اکثر نے اپنی مورثی یعنی نسلی منافرت کے باوصف آپ(ص) کی نبوت کا یہ کہہ کر انکار کردیا کہ انکا نبی موعود تو بنی اسرائیل میں سے ہونا چاہیئے تھا، کیونکہ محض وہی ﷲ کی چنی ہوئ قوم تھے_ اسکے بعد انھوں نے آپ(ص) کی سچائ کا اندازہ لگانے کیلئے نومسلموں اور غیرمسلموں کےسامنے سوالات اور اعتراضات کا سلسلہ جاری رکھا، موثر جوابات دیئے جانے پر انھیں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی، البتہ انکی ایماء پر مسلمانوں میں ایک طبقہ وجود میں آیا جنھیں کہ منافقین کہا جاتا ہے_ یہ لوگ باطن میں یہودی اور ظاہر میں مسلمان، یا ﷲ کے دین کے بارے میں شبہےکا شکار ہو جانے والے تھے_ قرآن مجید کی سورۃ آل بقرۃ کے شروع اور دیگر سورتوں میں ان کے روئیے، اعمال، ذہنی حالت اور انجام کے بارے روشنی ڈالی گئ ہے_ اسکے علاوہ آپ (ص) نے مدینے کی ریاست کے حکمران ہونے کی حیثیت سے انکے قبائل کے ساتھ معاہدے بھی کیئے، تاکہ بیرونی دشمن خصوصاً قریش مکہ کےحملوں سے بچا جائے_ لیکن اسکے برعکس یہودیوں نے قریش مکہ کو مدینہ کی مسلم ریاست کے خلاف حملوں کیلئے اکسانے کا پسِ پردہ کھیل جاری رکھا بلکہ جب مدینہ کے مسلمانوں کی مشرکینِ مکہ سے کھلم کھلا جنگیں ہوئیں تو یہودیوں نے ایک طرف ہو کر تماشہ دیکھنے پر ہی اکتفا کیا_ قرآنی آیت"اہلِ کتاب میں سے تم یہودیوں کو مشرکوں کا قریبی دوست پاؤ گے" میں اسی حقیقت کا تذکرہ ہے_ ایک معرکہ کے خاتمے کے بعد آپ(ص) نے ان سے جنگی معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا سوال کیا تو معاملہ معاہدہ کے مطابق یہودیوں کےاپنے چنے ہوئے منصف معاذ بن جبل کے پاس لے جایا گیا، انھوں نے یہودیوں کو معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا اور انکو سزا دینے کا فیصلہ سنایا_

قارئینِ کرام! آپ پوری تعلیمِ اسلام اور ابتدائے اسلام کی پوری تاریخ کھنگال لیں، اس میں نہ تو میں نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور نہ ہی کوئ بات گھڑی، لیکن آپ یہودیوں اور انکے ہمنواؤں سے یہی باتیں کرکے دیکھ لیں، الٹا آپ کو یہود anti-semitic کہہ کر مطعون کر ڈالیں گے_ یعنی انکے نزدیک، ﷲ کے احکمات، اسکے مبعوث کیئے ہوئے انبیاء اور رسولوں کی کوئ حیثیت ہی نہیں جب تک کہ اس پر یہودی نسل کی مہرثبت نہ کی گئ ہو_ 

سچی بات تو یہ ہےکہ ان کو حقیقت اور سچائ کی طرف بلانے والی کتاب قرآن مجید بھی، معاذﷲ!، ایک anti-Semitic کتاب ہے کیونکہ وہ یہودیوں کی نسل پرستی، سازشوں، کتمانِ حق، ہڈھرمی اور انبیاء کے قتل جیسے قبیح اعمال کو کھل کر بیان کرتی ہے_ 

میرا آپ سے سوال ہے کہ بتائیے اس میں یہود مخالف کی کونسی ایسی بات ہے جو جھوٹ پر مبنی ہے؟ لیکن آج کل کے بعض عیسائ حتیٰ کہ ہمارے چند لاعلم مسلمان بھائیوں تک کا یہ حال ہے کہ اپنے تئیں بڑی ذہانت سے یہودیوں کی vindication کی خاطر اس انداز میں سوال داغ دیتے ہیں جیسے یہودی بڑی بےبس، لاچار، معصوم اور مجبور قوم ہیں اور لوگ بلا سبب مخالفت کرتے رہتےہیں_ انکی مثال ایسی ہے جیسے کوئ بدخصلت شخص اپنے باپ کو زخمی کردے اور آپ اس شخص کے ساتھ اسکے باپ کی مخالفت میں لال پیلے ہوتے پھریں_آپ ہی بتائیے بیٹے کو سمجھانا یا منصفی کرنا بہتر ہے یا غلط کام پر اسکا ساتھ دینا؟

یہودیوں سے متاثرہ افراد یا اقوام کو ان سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیئے کہ انھوں نے ﷲ کے بھیجے گئے انبیاء کا جان بوجھ کر انکار اور قتل کیوں کیا جیسا کہ بائبل کے عہدنامہ قدیم اور عہدنامہ قدیم سمیت، قرآن مجید سے بھی ثابت ہے؟ اسی طرح ان سے پوچھا جائے کہ تم دوسروں پر یہودی نسل سے دشمنی کا الزام لگاتے ہو لیکن انسانوں کو اپنی مقدس کتاب کے مطابق Jews اور Gentile میں تقسیم کرکے، انھیں نسلی بنیاد پر اپنے سے کمتر کیوں سمجھتے ہو؟ افسوس! یہودیوں کا کوئ دوست ان سے ایسے سوالات کرنے کی جراٌت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ دوستی حقانیت کی تلاش پر مبنی  نہیں ہوتی، سوائے دوسری اقوام کی دشمنی اور استحصال کے_ ویسے بھی ایسی باتیں anti-Semiticism کے زمرے میں آتی ہیں، جنکی اس جدید دنیا میں کوئ جگہ نہیں_ ہاں جگہ ہے تو یہودیوں کے سودی نظام کی، ان کے مسیحا کی اور انکی نسل پرستی کی_

مسلم دنیا اور معاشرتی عمل کے کلیدی راز

مسلم دنیا کے حکمران طبقات، مقتدر حلقوں اور ہمہ قسم قیادت کا اپنے عوام کو خس و خاشاک کی مانند حالات کے بےکرا‍ں سمندر کے حوالے کیئے رکھنے کی روایت صدیوں پرانی ہے_ تجزیاتی لحاظ سےغورکی بجائے ہماراغالب طبقہ ماضی، حال اور مستقل کو رومانوی مائنڈ-سیٹ کے ساتھ دیکھنے کا عادی ہے_ یقینناً کچھ لحاظ سے اسکی افادیت ہے لیکن وقت کے بدلتے تقاضوں کےساتھ ہمارے یہاں اِن قدیم روایات اورنئے تقاضوں میں توازن کو یقینی بنانے کی اہمیت کو بھی سمجھا جانا چاہیئے تھا_ 

حکومتوں، اربابِ حل وعقد، علماء اور زعماء کی طرف سے عوام کی تربیت اس نہج پرکی ہی نہیں گئ کہ انھیں اپنی کُل معاشرتی بہتری کیلئے اجتماعی آواز اٹھانے کا اجتماعی احساس ہو پاتا، جسے عوامی رائےعامہ کی طاقت سے موسوم کیا جاتا ہے_

گزشتہ صدی میں پراپیگنڈہ کے فن اور سائنس کو اسی قوت کی آبیاری یا مزاحمت کیلئے وجود بخشا گیا_ میڈیا اسی رائےعامہ اور پراپیگنڈے کو Manage اور Control کرنے کے سسٹم کا نام ہی تو ہے_ مغربی اقوام نے تواخبارات کے شائع ہونے کے بعد سے ہی رائےعامہ پر ذرائع ابلاغ کے اثرات کے تجربات بہت پہلے ہی کر لیئے تھے_ 

مسلم دنیا نے وقت سے نہیں سیکھا کہ اجتماعی آواز کی بطور رائےعامہ کے ہتھیار، کتنی طاقت ہے؛ حالانکہ کئ دہائیوں سے انھیں اس لیبارٹری میں تجربوں کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا ہے_ اسکےمرتکب، غیر ملکی استعمار کے علاوہ انکے پروردہ حکمران، ذاتی، خاندانی اور گروہی مفادات کے اسیر تمام ہی طبقات ہوؤے ہیں_ قوت اور پیسہ کے استعمال سے جب جب عوام کوسڑکوں پر لانے اور معاشرے میں اضطراب پیدا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئ انھیں نت نئے نعروں اورخوابوں کے ساتھ متحرک کیا گیا اور جب ان قوتوں کا مقصد پورا ہوا تو انہی عوام کو بیوقوف قرار دیا جاتا رہا_ یہی سلسلہ ہنوز جاری ہے_ 

اس صورت حال نے ہی عوام میں انفرادیت، ابن الوقتی اور کوتاہ نظری کوجنم دیا_ سب سے کاری ضرب یہ لگی کہ عوام معاشرتی انصاف، مقامی اداروں پر نظر رکھنے، روزمرہ کے معاشرتی مسائل اور انکا حل تلاش کرنےکی بنیادی اجتماعی صلاحیت سے ہی محروم ہوگئے_ ایسی خطرناک صورتحال میں غیر تربیت یافتہ عوام کو اخبارات، میڈیا، موبائل اور سوشل میڈیا کا "تحفہ" تھما دیا گیا، کیونکہ انھیں معلوم ہے "نہ خنجراٹھے گا نہ تلوار ان سے، یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں"_

ہم ان ذرائع کے پھیلائے گئے کچرے کا ذکر توکرتے ہیں لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ ایسا آخر کیوں ہو رہا ہے؟ جب عوام اپنے چھوٹے چھوٹے مقامی مسائل اور حل کے ادراک سے ہی نابلد کر دئیے جائیں تو وہ عوامی رائےعامہ کی اہمیت اور طاقت کے
علم اور استعمال کے فن کو کیا سمجھ پائیں گے؟ مقامی مسائل کے حل کی عوامی صلاحیت کا رائےعامہ کی قوت، ملکی مسائل کےادراک و حل، ترقی، سلامتی اوربین الاقوامی معاملات میں اپنی آواز کے سننے اور سنائے جانے سے، منطقی تعلق ہے_ 

ہمیں بخوبی سمجھنا چاہیئے کہ بین الاقوامی سطح اور فورمز پرہمیں تنکے سمجھ کرکیوں اڑا دیا جاتا ہے_ انھیں معلوم ہے سوئ ہوئ قیادت کے عوام بے ہوش ہوتےہیں_ اگرمسلم دنیا کے عوام اس راز کو جان کر اپنے معاشرتی مسائل کے حل کیلئے مخصلانہ اجتماعی کوشش کآ آغازکردیں تو رائےعامہ کی قوت کو بھی بھانپ جائیں گے_ آپ یہ  جان کر حیران ہونگے کہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور عسکری قوت، امریکہ، سب سے زیادہ جس طاقت سے ڈرتی ہے وہ public opinion عوامی رائے عامہ ہے_

 اسی طرح ایک امریکی مصنف نے لکھا "انکے پاس تیسری دنیا سے فائدہ اٹھانے کے اسوقت تک مواقع ہیں جب تک کہ وہاں کے عوام کو اپنے حکمرانوں اور قیادت سے کام لینے کا طریقہِ کار نہیں آتا_ 

یادرکھیئے! اپنے لگائے ہوؤے پودے ہی حقیقی خوشبو، پھل اور سائے کی ضمانت ہوتے ہیں، جسکے بغیر ترقی اور تبدیلی کے نعروں کا کھوکلاپن ہمارے سامنے کئی مرتبہ آشکار ہوچکا ہے_ ہم کب تک مخفی اور اعلانیہ مفادپرست قوتوں؛ جعلی مذہبی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کی خواہشات کی قربان گاہ پر لٹکائے جاتے رہیں گے؟