Tuesday, June 16, 2020

تیسری عالمی جنگ کے مفروضات اور اسرائیلی مفادات

دیگر اقوام اپنے اپنے مفادات کیلئے تباہ کن جنگیں کریں گی لیکن اسرائیل، یہودی اور صیہونی اپنے آپ کو بظاہر دور، محفوظ اور مستحکم رکھتے ہوئے، ان جنگوں کو اپنے مفاد میں ڈھالنے کا کھیل کھیلتے رہیں گے اور اپنی مظلومیت، جمہوریت پسندی، مغرب دوستی اور مغربی مفادات کے ضامن ہونے کا راگ بھی گاتے رہیں گے_ یقیناً اسی خو کی بنا پرانکے لیئے an invisible-elephant in the turmoil of Middle-East جیسے الفاظ استعمال کیئے جاتے ہیں_ دوسری طرف مسلم حکمران، اربابِ اختیار اور طبقہِ اشرافیہ کو اس قدر مست، منقسم اور الجھن کا شکار کر دیا گیا ہے کہ وہ تاریخ، حال اور مستقبل سب کچھ جانتے ہوئے بھی اکٹھے ہو کر کوئ لائحہ عمل سوچنے کی بجائے عالمی صیہونی منصوبہ سازوں کے عالمی اور علاقائ، سیاسی، معاشی، ابلاغی اور دفاعی planning, models اور approaches کے گرد ہی گھومنے کو، اپنی جغرافیائ سرحدوں کی حفاظت کے نام پر، کم وبیش، دراصل اپنی، اپنے اپنے اقتدار اور قومی بقاء کی ضمانت قرار دیتے آرہے ہیں_ لیکن درحقیقت وہ اپنی اقوام، ملک اور ملت کیلئے موثر اور بروقت اقدامات کی حکمت عملی اور اسکے اطلاق سے قاصر اور بے بسی کی تصویر بنے دکھائ دیتے ہیں_

غور طلب معاملہ یہ ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ میں hypothetical future war scenarios کا جو منظرنامہ گزشتہ چند دہائیوں سے پیش کیا جاتا رہا__حالیہ دنوں میں باقاعدہ طور پر اس بارے میں رینڈ کارپوریشن کی تازہ ترین رپورٹ The Future of War 2030 کے عنوان سے بھی شائع کی گئ ہے__اس میں دیگر کے علاوہ مسلمانوں کی سرزمین پر جنگوں کا پہلو نمایاں طور پر پیش کیا جاتا ہے_ جیسے کہ کشمیر سے متعلق پاک-بھارت، خلیج میں اسرائیل-ایران اور امریکہ-ایران، اسی طرح ترکی-امریکہ کے مابین ممکنہ جنگیں_ اگرچہ اسکے علاوہ شمالی کوریا-چین اور امریکہ-چین South-China ocean کے تناظر میں جنگ کا ذکر بھی ہے جو کہ مسلم دنیا کیلئے قریب النظرمیں main-stream wars نہیں ہیں_ اگرچہ حالات کے تحت چند اہم مسلم ممالک کو اس میں بھی شمولیت پر مجبور کر دیا جائے گا_

مذکورہ تناظر میں مسلم دنیا سے متعلق جنگی بساط کے علاقائ پہلو کی بحث اپنی جگہ، لیکن اس کو عالمی میدانِ جنگ میں بدلنا اسرائیلی حربی سائنس و فنون کا اٹوٹ انگ پہلو ہے، جس کے تانےبانے باقاعدہ طور پر انیسویں صدی کے وسط کے بعد سے ہی یہودی اور بعدازاں صیہونی تحریک کے ذریعے بُنے جاتے رہے ہیں_ اس ضمن میں 1871ء میں مشہور فریمیسنری البرٹ پائک کے لکھے گئے ایک خط میں تین world-wars کے منصوبے اور نتائج کا تذکرہ بھی ملتا ہے، جسکے مطابق پہلی جنگِ عظیم کا نتیجہ زارِ روس کا تختہ الٹ کر ایک بےدین کیمونسٹ حکومت کا قیام؛ دوسری جنگ عظیم کا نتیجہ نازیوں یعنی جرمنی کی شکست، صیہونیت کی سیاسی مضبوطی اور اسرائیل کا قیام_ جبکہ تیسری جنگِ عظیم یہودیوں کی صیہونی تحریک اور اسلام کے درمیان لڑی جائے گی، دنیا بھر سے مذہب کا خاتمہ کرکے دہرئیت Atheism اور لادینیت کو دوام بخشا جائے گا_ اگرچہ یہودی اس منصوبے کو بھی conspiracy-theory کا نام دے کر ہوا میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن، کیا حالات اور واقعات اسکی گواہی کیلئے کافی نہیں ہیں؟ ایسے منصوبوں کے منکشف ہونے پر اب تک یہودیوں کا رویہ یہ رہا ہے کہ انہیں سازشی نظریات کےکھاتے میں ڈال کر، مضٰحکہ خیزی پھیلا کر، anti-Semitism کا تسلسل کہہ کر، اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیئے رکھتے ہیں، لیکن جب انکے مطلوبہ نتائج  سامنے آ جاتے ہیں تو شاطرانہ  انداز میں اپنی خفیہ طاقت کا متفخرانہ اظہار کرتے نہیں تھکتے_

عالمِ اسلام پر مذکورہ بالا مسلط کردہ لاحاصل جنگوں کی حکمتِ عملی، یہودیوں کے مبینہ قبیحہ منصوبوں کا ایک ظاہری مظہر ہے_ جبکہ اس کے پسِ پردہ وہ اپنے mile- stones کے حصول کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں_ مثلاً ایران-اسرائیل یا امریکہ-ایران کی ماضی بعید و قریب کی جنگی نوک جھوک اور حالات و قرائن واضح کرتے ہیں کہ خصوصاً ملاؤں کے انقلابی ایران نے اسرائیل اور امریکہ کو جتنی بھی دھمکیاں اور آنکھیں دکھائیں ہیں اس نے اسرائیل اور امریکہ کو عربوں کو بلیک میل کرنے، گھیرنے کے علاوہ مسلم دنیا کو منقسم اور کمزور کرنے کا موقع ہی فراہم کیا ہے_ ستم یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین کا قضیہ عربوں اور اسرائیل کے درمیان ہے اور منصوبے Irani crescent in Middle-East کے سامنے آرہے ہیں جبکہ فلسطینیوں کی حالتِ زار بدترین سطح پر پہنچی ہوئ ہے_ ستم ظریفی یہ ہے کہ عرب مشرقِ وسطیٰ یعنی اپنی سرزمین پر ہی امریکہ، اسرائیل اور ایران سے مخامصت کے باعث کمزوری محسوس کرتے ہیں تو اسکا سبب، انکی بادشاہتوں، عرب شہزادوں کی لڑائیاں، عیاشیاں اور امریکہ، اسرائیل سے کبھی دوستی، کبھی غلامی اور کبھی خوف کو قرار دے کر پراپیگنڈہ کی دبیز چادر میں چھپا دیا جاتا ہے_

تیسری عالمی جنگ کا ایک اور فلیش پوائنٹ کشمیر یعنی پاک-بھارت کے نام سے جانا جاتا ہے_ کروڑوں بے گھر اور خطِ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے عوام کے ملک بھارت نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل تو کیا ہی کرنا ہے بلکہ اسرائیل نے اپنی طرز کے بنیادپرست، انتہاپسند اور نسل پرست ہندوؤں کی سرپرستی کرکے پورے جنوبی ایشیاء کو رستے ہوئے زخم میں تبدیل کر دیا ہے_ اسرائیل کا بھارت کو مضبوط کرنا اسکے شعور و لاشعور کا وہ خوف ہے جو کہ پاکستان، بطور ایک مسلم ایٹمی قوت، اسکےدل و دماغ پر چھایا ہوا ہے_اسرائیل اس بارے میں اتنا خوفزدہ رہتا ہےکہ ہر قسم کی سازش پر عمل کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتا ہے_ جیسا کہ کچھ حلقے عمران خان کی برطانوی یہودی کھرب پتی گولڈسمتھ فیملی میں شادی کے معاملے کو پاکستان میں یہودی لابی کی ایک کارستانی کے طور پر 25 سال سے نمایاں کرتے چلے آرہے ہیں_ ان کے بقول 1996ء میں روزنامہ نوائےوقت میں یہ خبر منظرِ عام پر کیسے آگئ تھی کہ عمران خان 2020 میں پاکستان کے وزیرِاعظم ہونگے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ پی-ٹی-آئ حکومت جنگوں کے بارے میں کیا اقدامات کرتی ہے اور اسکا ultimate-beneficiary کون ہوگا اور خاکم بدہن پاک-بھارت ایٹمی جنگ کے بعد پاکستان کہاں کھڑا ہوگا اور اسرائیل کی ممکنہ پوزیشن کیا ہوگی؟ اسکا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اب اسرائیل دور بیٹھ کر، بھارت، چین یا امریکہ، چین جنگی ماحول بنوا کر اس میں پاکستان کو اس طرح سے گھسیٹ لے کہ پاکستان اور عالمِ اسلام اسرائیلی مداخلت اور تناظر کا ادنیٰ سا شائبہ اور گمان بھی نہ کرسکیں، کیونکہ مرحوم جرنل ضیاءالحق نے بھارت کی مدد کرنے پر اسرائیلی سر زمین پر حملے کی دھمکی دی تھی_بعینیہٖ اسرائیل اپنے پٹھو بھارت کو یہ مفاد بھی دینا چاہتا ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ مداخلت کے ذریعے پاکستان پر ایسے حکمران مسلط کروائے رکھے جو بھارتی درندے کے پاکستان پر ایٹمی حملے کے باوجود جواباً امن کے نام پر پاکستان کو انڈیا پر اسٹرائیک ہی نہ کرنے کا پرچم لہرا دیں یا ایسی صورت حال پیدا کروا دی یا کر دی جائے کہ پاکستان سے بھارت پر سیکنڈ اسٹرائیک کا موقع ہی کسی نہ کسی طرح چھین لیا جائے_ قدرتی طور پر ایک چھوٹے ملک کی سلامتی کو لاحق خطرے کی حقیقت کے مدنظر پاکستان کو اعلان کر دینا چاہیئے کہ اسکے خلاف جو بھی اپنے سے کئ گنا بڑے ملک بھارت کی کسی بھی قسم کی مدد یا امداد کرے گا تو پاکستان اس ملک کے مفادات کو بھی تہس نہس کرنےکا حق رکھتا ہے_ بڑا چھبتا ہوا سوال ہے کہ اگر اسرائیل کو، اسکے مطابق، پاکستان سےخطرہ ہے تو پھر وہ ایٹمی پاکستان کے خلاف عسکری میدان میں بھارت کی کھلم کھلا مدد کرنے کی جسارت کیسے کر رہا ہے؟کیا اسرائیل، پاکستان کی طرف سے اسکے خلاف کسی بھی ممکنہ ردِعمل کا سوال یی پیدا نہ ہونے کی یقینی کیفیت میں ہے؟ اسرائیلی دفاعی حصار Iron-dome کی بات چھوڑ دیں، ایٹمی پاکستان کی soft-power کے اثرات کا سوال ہے؟ اسرائیلی کاوش صاف عیاں ہے کہ کھیلوں اور محفوظ بھی رہوں_

تیسری عالمی جنگ کا ایک اور مفروضہ ترکی-امریکہ جنگ کا ہے_ اس ضمن میں ماضی، حال اور مستقبل کا قصہ ایک ہی جملےمیں کافی ہے کہ اسرائیل کا قیام ترک سلطنتِ عثمانیہ کے قبرستان پر وجود میں لایا گیا تھا_ اسی بنا پر انتہائ قریبی تعلقات کے باوجود ترکی پر مسلط کردہ کسی بھی جنگ کی صورت میں اسرائیل، پوشیدہ رہ کر، ترکی سے بھی نمٹنے کا متمنی ہے اور اسرائیلی عہدیدار مغربی دنیامیں طیب اردگان کو خلافتِ عثمانیہ کی بازگشت کےطور پر پیش کر رہے ہیں_ کیونکہ اسرائیل کو 2023ء کے معاہدہ لوزان کے خاتمے سے مسلم دنیا میں احیائے خلافت کےفکری تحرک جیسے خطرات لاحق ہیں_ ساتھ ہی اسرائیل عالمِ اسلام کو مسئلہ خلافت کے بارے میں منقسم رکھنے کیلئے کافی عرصے سے عربوں پر کام کر رہا ہے، تاکہ بڑے طریقے سے سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اختلافات کی بنیادوں کو وقت پڑنے پر exploit کرنے کا ہوم ورک کام میں لایا جا سکے_

No comments:

Post a Comment