مسلم دنیا کے حکمران طبقات، مقتدر حلقوں اور ہمہ قسم قیادت کا اپنے عوام کو خس و خاشاک کی مانند حالات کے بےکراں سمندر کے حوالے کیئے رکھنے کی روایت صدیوں پرانی ہے_ تجزیاتی لحاظ سےغورکی بجائے ہماراغالب طبقہ ماضی، حال اور مستقل کو رومانوی مائنڈ-سیٹ کے ساتھ دیکھنے کا عادی ہے_ یقینناً کچھ لحاظ سے اسکی افادیت ہے لیکن وقت کے بدلتے تقاضوں کےساتھ ہمارے یہاں اِن قدیم روایات اورنئے تقاضوں میں توازن کو یقینی بنانے کی اہمیت کو بھی سمجھا جانا چاہیئے تھا_
حکومتوں، اربابِ حل وعقد، علماء اور زعماء کی طرف سے عوام کی تربیت اس نہج پرکی ہی نہیں گئ کہ انھیں اپنی کُل معاشرتی بہتری کیلئے اجتماعی آواز اٹھانے کا اجتماعی احساس ہو پاتا، جسے عوامی رائےعامہ کی طاقت سے موسوم کیا جاتا ہے_
گزشتہ صدی میں پراپیگنڈہ کے فن اور سائنس کو اسی قوت کی آبیاری یا مزاحمت کیلئے وجود بخشا گیا_ میڈیا اسی رائےعامہ اور پراپیگنڈے کو Manage اور Control کرنے کے سسٹم کا نام ہی تو ہے_ مغربی اقوام نے تواخبارات کے شائع ہونے کے بعد سے ہی رائےعامہ پر ذرائع ابلاغ کے اثرات کے تجربات بہت پہلے ہی کر لیئے تھے_
مسلم دنیا نے وقت سے نہیں سیکھا کہ اجتماعی آواز کی بطور رائےعامہ کے ہتھیار، کتنی طاقت ہے؛ حالانکہ کئ دہائیوں سے انھیں اس لیبارٹری میں تجربوں کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہا ہے_ اسکےمرتکب، غیر ملکی استعمار کے علاوہ انکے پروردہ حکمران، ذاتی، خاندانی اور گروہی مفادات کے اسیر تمام ہی طبقات ہوؤے ہیں_ قوت اور پیسہ کے استعمال سے جب جب عوام کوسڑکوں پر لانے اور معاشرے میں اضطراب پیدا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئ انھیں نت نئے نعروں اورخوابوں کے ساتھ متحرک کیا گیا اور جب ان قوتوں کا مقصد پورا ہوا تو انہی عوام کو بیوقوف قرار دیا جاتا رہا_ یہی سلسلہ ہنوز جاری ہے_
اس صورت حال نے ہی عوام میں انفرادیت، ابن الوقتی اور کوتاہ نظری کوجنم دیا_ سب سے کاری ضرب یہ لگی کہ عوام معاشرتی انصاف، مقامی اداروں پر نظر رکھنے، روزمرہ کے معاشرتی مسائل اور انکا حل تلاش کرنےکی بنیادی اجتماعی صلاحیت سے ہی محروم ہوگئے_ ایسی خطرناک صورتحال میں غیر تربیت یافتہ عوام کو اخبارات، میڈیا، موبائل اور سوشل میڈیا کا "تحفہ" تھما دیا گیا، کیونکہ انھیں معلوم ہے "نہ خنجراٹھے گا نہ تلوار ان سے، یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں"_
ہم ان ذرائع کے پھیلائے گئے کچرے کا ذکر توکرتے ہیں لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ ایسا آخر کیوں ہو رہا ہے؟ جب عوام اپنے چھوٹے چھوٹے مقامی مسائل اور حل کے ادراک سے ہی نابلد کر دئیے جائیں تو وہ عوامی رائےعامہ کی اہمیت اور طاقت کے
علم اور استعمال کے فن کو کیا سمجھ پائیں گے؟ مقامی مسائل کے حل کی عوامی صلاحیت کا رائےعامہ کی قوت، ملکی مسائل کےادراک و حل، ترقی، سلامتی اوربین الاقوامی معاملات میں اپنی آواز کے سننے اور سنائے جانے سے، منطقی تعلق ہے_
ہمیں بخوبی سمجھنا چاہیئے کہ بین الاقوامی سطح اور فورمز پرہمیں تنکے سمجھ کرکیوں اڑا دیا جاتا ہے_ انھیں معلوم ہے سوئ ہوئ قیادت کے عوام بے ہوش ہوتےہیں_ اگرمسلم دنیا کے عوام اس راز کو جان کر اپنے معاشرتی مسائل کے حل کیلئے مخصلانہ اجتماعی کوشش کآ آغازکردیں تو رائےعامہ کی قوت کو بھی بھانپ جائیں گے_ آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور عسکری قوت، امریکہ، سب سے زیادہ جس طاقت سے ڈرتی ہے وہ public opinion عوامی رائے عامہ ہے_
اسی طرح ایک امریکی مصنف نے لکھا "انکے پاس تیسری دنیا سے فائدہ اٹھانے کے اسوقت تک مواقع ہیں جب تک کہ وہاں کے عوام کو اپنے حکمرانوں اور قیادت سے کام لینے کا طریقہِ کار نہیں آتا_
یادرکھیئے! اپنے لگائے ہوؤے پودے ہی حقیقی خوشبو، پھل اور سائے کی ضمانت ہوتے ہیں، جسکے بغیر ترقی اور تبدیلی کے نعروں کا کھوکلاپن ہمارے سامنے کئی مرتبہ آشکار ہوچکا ہے_ ہم کب تک مخفی اور اعلانیہ مفادپرست قوتوں؛ جعلی مذہبی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں کی خواہشات کی قربان گاہ پر لٹکائے جاتے رہیں گے؟
No comments:
Post a Comment