بھارتی مسلمانوں کا ایک قدرتی مسئلہ انکا جغرافیائ طور پر بکھرے ہوئے ہوناہے_ اس وجہ سے وہاں ایک اور پاکستان بننے کی حکمت عملی اتنی موثرنہیں ہو سکتی_ البتہ بھارت کے اندر چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں کو سپورٹ سے اسکے نتائج بہتر نکلیں گے_ جب تک بھارت کے باہر سے بھارت کے اندرونی جبر و استحصال اور نسل پرستی پر طرح طرح کا دباؤ نہیں پڑتا، بھارتی مسلمانوں پر ہندو انتہاپسندوں کےحملے اور دباؤ کم نہیں ہونگے_
ماقبل آزادی قیامِ پاکستان کےتمام مخالفین کو مطلقاً غلط کہنا یا آج کے بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار کا ذمہ دار قرار دینا academically درست نہیں_ کیونکہ آزادی سے قبل کچھ مسلم لیڈرز ایسے بھی تھے جو مغرب کے نافذ کردہ nation-state system کو شبہ کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آج بھی اسکے معترض ہیں، اگرچہ وہ آج کی تمام نوآزاد مسلم ریاستوں کی مضبوطی اور استحکام کےقائل بھی ہیں_ موجودہ مسلم دنیا میں مسلمانوں کی حالتِ زار کیلئے مسلمانوں کے درمیان جغرافیائ تقسیم کی بنیاد پر اتحاد نہ ہونا ایک بڑا سبب سمجھا جاتا ہے، اگر دوسرے طریقے سے سوچا جائے تو کیا یہ جغرافیائ تقسیم اس نااتفاقی کا سب سے بڑا سبب نہیں جس کی جڑیں جدید مغربی قومی نظام سے نکلتی ہیں؟ البتہ جو مسلم طبقہ بھارت کی مضبوطی کو پاکستان پر ترجیح دیتا ہے، ان سے پوچھا جائے کہ پاکستان بنانے کی مخالفت اس ہی لیئے کی تھی کہ بھارتی مسلمان ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں پامال ہوتے رہیں؟ بھارت کے مسلم حلیف بھارت کے انتہاپسندوں کی قتل و غارت پر خاموشی، کونسی تھیوری کے تحت اختیار کرتے ہیں؟ اگر یہ طبقات امتِ مسلمہ کی بات کرتے ہیں تو انھوں نے اب تک مسلم ممالک میں بھارتی مسلمان اقلیت پر ہونے والے مظالم کے خلاف اقدامات کرنے کی کتنی کاوش کی ہے؟ حقیقت یہ کہ پوری مسلم دنیا نے دنیا بھر میں مسلم اقلیتوں پر روا مظالم پر آنکھیں بند کی ہوئ ہیں_
ایک سوال یہ بھی ہے کہ مسلم ممالک نےخود اپنےعوام کو انصاف کی فراہمی کو کتنا یقینی بنایا ہوا ہے؟ جو مسلمان اپنے ملک میں اقتدار اور اختیار کو اپنے ہی مسلمان عوام کےاستحصال کیلئے خدائ تحفہ سمجھتے ہوں، انکے پاس بھارتی، اسرائیلی، امریکی اور برطانوی حکام اور انتہاپسندوں کے مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے جبر و استبداد کو روکنے کا کوئ اخلاقی جواز رہ جاتا ہے؟ اسی لیئے ہر طرف موت کی سی خاموشی چھا جاتی ہے جب کبھی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کی بات ہو_ معلوم نہیں اس خاموشی کو دوام دینے کیلئے کس کس کو کیا کیا مراعات اور مالی فائدے پہنچائے جا رہے ہونگے؟
مسلمانوں کےحقوق، مسائل اور ان پر ہونے والے مظالم کی روک تھام کی کاوش کو مربوط اور موثر کرنے کا واحد حل OIC کو تکلفات سے پاک کرکے فعال کرنا ہے_
No comments:
Post a Comment