عیسائیت میں یہودیوں کے بارے تعلیمات کا خلاصہ یہودیوں کو نسل پرستی ترک کرنے، ﷲ کے نازل کردہ احکمات کے مطابق نیک کام کرنے اور برے کاموں سے باز رہنے کی نصیحت ہے_ یہ دعوت دینے والا کون تھا؟ عیسیٰ علیہ السلام_ جنہیں ﷲتعالیٰ نے دین کو نسل پرستی کے سانچے میں ڈھالنے کی یہودی تمنا سے بچانے کیلئے بھیجا_ نتیجہ یہ نکلا کہ یہودی عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے دی گئ دعوت پر توبہ کے برخلاف پہلے ہی دن سے آپکی جان کےدشمن ہوگئے_ آپکی والدہ بی بی مریم کو بدنام کیا خود آپکو ذہنی اور جسمانی اذیت دی_ انکے خلاف سازشیں کیں، رومن عدالت میں مقدمہ درج کروایا، جھوٹےگواہ لائے، صلیب پر چڑھانے کی سزا دلوائ اور اپنی دانست میں انھیں سولی پر چڑھا دیا_حالانکہ یہودی اپنی تعلیمات کی روشنی میں اس وقت ایک نبی کی آمد کے منتظر تھے جس کے آنے کی بشارت ان کو ﷲتعالیٰ نے دی ہوئ تھی_ آپ ساری دنیا کی لائبریریز چھان لیں، ان میں سے کوئ بات عیسائ تاریخ بلکہ کم وبیش یہودی تاریخی ماخذوں سے ہٹ کر نہیں ہے_ سوال یہ ہے کہ کیا عیسیٰ علیہ السلام یہود مخالف یعنی anti-Semitic تھے؟ نہیں، ایسا سوچنا لاعلمی اور کم عقلی کی علامت ہے_ دراصل خود یہودیوں نے انکی مخالفت اس لیئے کی کہ انکی پیدائش معجزانہ طور پر ہوئ جس سے کہ یہودیوں کا نسل پرستی کی بنیاد پر ﷲ کی چنی ہوئ قوم والا مان ٹوٹ گیا تھا_
ﷲ پر ایمان رکھنے والی کسی بھی قوم کا ﷲ ہی کے مبعوث شدہ کسی نبی کے خلاف مشرکوں کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنا کسی بھی لحاظ سے معقول ہوسکتا تھا؟ لیکن ستم یہ ہے کہ آج آپ کسی بھی یہودی سے یہ بات کریں وہ آپکو anti-semitic کہہ کر اپنا دشمن قرار دیدے گا_ اسی پر بس نہیں انھوں نے کچھ عیسائ حلقوں کو بھی فلسفیانہ مغالطوں اور منطقی اوٹ پٹانگ میں پھنسا کر اپنا ہمنوا بنایا ہوا ہے_ اسی طرح بائبل کے مطابق یہودیوں نے جن بنی اسرائیلی انبیاء کا قتلِ عام کیا، کیا وہ یہودی نسل کے مخالف تھے؟
دنیا سے عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے کوئ چھ سو سال بعد ﷲتعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمد(ص) کو مبعوث فرمایا_ مدینہ منورہ کے کچھ لوگوں کے قبولِ اسلام کے بعد آپ(ص) نے ان کے بلانے پر وہاں ہجرت فرمائ_ مدینہ منورہ کے اندر اور آس پاس کچھ یہودی قبائل آباد تھے اور اس ایک نبی کی انتظار میں تھے، جسکی بشارت انکی کتاب کے مطابق، ﷲ نے انھیں دی تھی_ جب آپ(ص) نے اہل مدینہ کو دعوت اسلام دی تو کچھ یہودی تو سوال جواب کرکے ایمان لے آئے، لیکن اکثر نے اپنی مورثی یعنی نسلی منافرت کے باوصف آپ(ص) کی نبوت کا یہ کہہ کر انکار کردیا کہ انکا نبی موعود تو بنی اسرائیل میں سے ہونا چاہیئے تھا، کیونکہ محض وہی ﷲ کی چنی ہوئ قوم تھے_ اسکے بعد انھوں نے آپ(ص) کی سچائ کا اندازہ لگانے کیلئے نومسلموں اور غیرمسلموں کےسامنے سوالات اور اعتراضات کا سلسلہ جاری رکھا، موثر جوابات دیئے جانے پر انھیں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی، البتہ انکی ایماء پر مسلمانوں میں ایک طبقہ وجود میں آیا جنھیں کہ منافقین کہا جاتا ہے_ یہ لوگ باطن میں یہودی اور ظاہر میں مسلمان، یا ﷲ کے دین کے بارے میں شبہےکا شکار ہو جانے والے تھے_ قرآن مجید کی سورۃ آل بقرۃ کے شروع اور دیگر سورتوں میں ان کے روئیے، اعمال، ذہنی حالت اور انجام کے بارے روشنی ڈالی گئ ہے_ اسکے علاوہ آپ (ص) نے مدینے کی ریاست کے حکمران ہونے کی حیثیت سے انکے قبائل کے ساتھ معاہدے بھی کیئے، تاکہ بیرونی دشمن خصوصاً قریش مکہ کےحملوں سے بچا جائے_ لیکن اسکے برعکس یہودیوں نے قریش مکہ کو مدینہ کی مسلم ریاست کے خلاف حملوں کیلئے اکسانے کا پسِ پردہ کھیل جاری رکھا بلکہ جب مدینہ کے مسلمانوں کی مشرکینِ مکہ سے کھلم کھلا جنگیں ہوئیں تو یہودیوں نے ایک طرف ہو کر تماشہ دیکھنے پر ہی اکتفا کیا_ قرآنی آیت"اہلِ کتاب میں سے تم یہودیوں کو مشرکوں کا قریبی دوست پاؤ گے" میں اسی حقیقت کا تذکرہ ہے_ ایک معرکہ کے خاتمے کے بعد آپ(ص) نے ان سے جنگی معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا سوال کیا تو معاملہ معاہدہ کے مطابق یہودیوں کےاپنے چنے ہوئے منصف معاذ بن جبل کے پاس لے جایا گیا، انھوں نے یہودیوں کو معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا اور انکو سزا دینے کا فیصلہ سنایا_
قارئینِ کرام! آپ پوری تعلیمِ اسلام اور ابتدائے اسلام کی پوری تاریخ کھنگال لیں، اس میں نہ تو میں نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور نہ ہی کوئ بات گھڑی، لیکن آپ یہودیوں اور انکے ہمنواؤں سے یہی باتیں کرکے دیکھ لیں، الٹا آپ کو یہود anti-semitic کہہ کر مطعون کر ڈالیں گے_ یعنی انکے نزدیک، ﷲ کے احکمات، اسکے مبعوث کیئے ہوئے انبیاء اور رسولوں کی کوئ حیثیت ہی نہیں جب تک کہ اس پر یہودی نسل کی مہرثبت نہ کی گئ ہو_
سچی بات تو یہ ہےکہ ان کو حقیقت اور سچائ کی طرف بلانے والی کتاب قرآن مجید بھی، معاذﷲ!، ایک anti-Semitic کتاب ہے کیونکہ وہ یہودیوں کی نسل پرستی، سازشوں، کتمانِ حق، ہڈھرمی اور انبیاء کے قتل جیسے قبیح اعمال کو کھل کر بیان کرتی ہے_
میرا آپ سے سوال ہے کہ بتائیے اس میں یہود مخالف کی کونسی ایسی بات ہے جو جھوٹ پر مبنی ہے؟ لیکن آج کل کے بعض عیسائ حتیٰ کہ ہمارے چند لاعلم مسلمان بھائیوں تک کا یہ حال ہے کہ اپنے تئیں بڑی ذہانت سے یہودیوں کی vindication کی خاطر اس انداز میں سوال داغ دیتے ہیں جیسے یہودی بڑی بےبس، لاچار، معصوم اور مجبور قوم ہیں اور لوگ بلا سبب مخالفت کرتے رہتےہیں_ انکی مثال ایسی ہے جیسے کوئ بدخصلت شخص اپنے باپ کو زخمی کردے اور آپ اس شخص کے ساتھ اسکے باپ کی مخالفت میں لال پیلے ہوتے پھریں_آپ ہی بتائیے بیٹے کو سمجھانا یا منصفی کرنا بہتر ہے یا غلط کام پر اسکا ساتھ دینا؟
یہودیوں سے متاثرہ افراد یا اقوام کو ان سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیئے کہ انھوں نے ﷲ کے بھیجے گئے انبیاء کا جان بوجھ کر انکار اور قتل کیوں کیا جیسا کہ بائبل کے عہدنامہ قدیم اور عہدنامہ قدیم سمیت، قرآن مجید سے بھی ثابت ہے؟ اسی طرح ان سے پوچھا جائے کہ تم دوسروں پر یہودی نسل سے دشمنی کا الزام لگاتے ہو لیکن انسانوں کو اپنی مقدس کتاب کے مطابق Jews اور Gentile میں تقسیم کرکے، انھیں نسلی بنیاد پر اپنے سے کمتر کیوں سمجھتے ہو؟ افسوس! یہودیوں کا کوئ دوست ان سے ایسے سوالات کرنے کی جراٌت نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ دوستی حقانیت کی تلاش پر مبنی نہیں ہوتی، سوائے دوسری اقوام کی دشمنی اور استحصال کے_ ویسے بھی ایسی باتیں anti-Semiticism کے زمرے میں آتی ہیں، جنکی اس جدید دنیا میں کوئ جگہ نہیں_ ہاں جگہ ہے تو یہودیوں کے سودی نظام کی، ان کے مسیحا کی اور انکی نسل پرستی کی_
No comments:
Post a Comment