پاکستان کے ہمہ قسم دگرگوں اندرونی حالات، بیرونی معاملات اور تعلقات پر اس کے پڑنے والے اثرات؛ عوامی امنگوں اور ملکی خودمختاری کو بڑی طاقتوں کی جانب سے متعدد مواقع پر درخو اعتنا نہ سمجھے جانے اور عالمی سیاست پر چھائ ہماری منفی اور دھندلی تصویر پر مباحث، ہمارے عوام و خواص کی مجالس کا معمول ہے_ گفتگو کا خاتمہ کرپشن، عوام کی خامیوں، حکمران طبقے کی بے حسی، نظام کی خرابی، قومی امنگوں کے مطابق نظام حکومت کے نہ ہونے، سیاسی پارٹیوں اور رہنماؤں کی الزام تراشی blame-game، بیوروکریسی، فوج اور بڑی طاقتوں کی مداخلت کو تمام تر ملکی و قومی خرابیوں اور کمزوریوں کا سبب یا وجہ یعنی cause قرار دیکر، حسرت و یاس کی ظاہری چبھن کے ساتھ کیا جاتا ہے_ اس معاملے میں ایک تو میرا anti-thesis یہ رہتا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں کرپشن، اثرات یعنی effects میں سے ہے_ دراصل ایسے ممکنہ کلیدی اثرات کی وجوہات کا مثبت تنقید کے ذریعے کھوج لگاتے رہنا ملکی اربابِ حل و عقد کا اولین فریضہ ہوتا ہے_ مصلحین اور معالجین بخوبی واقف ہیں کہ علاج سے قبل cause-effect analysis کے بغیر دوا کی تجویز یعنی remedy کو موثر خیال کرنے سے نقصانات کے امکانات کثیر ہوتے ہیں_ دوسرا، میرے نزدیک بھیانک ترین اثرات میں ناانصافی، برین ڈرین، وطن عزیز کے نوجوان طبقے کا غیرملکی حکومتی اور غیرحکومتی اداروں یا این-جی-اوز کا کھلونا بن کر ملک کی نظریاتی، معاشرتی حتیٰ کہ دفاعی معاملات پر قدغن لگانا اور وقت پڑنے پر پوری قوم کا انگشت بدنداں ہوجانا، شامل ہے_ ہمیں سوچنا چاہیئے کہ ہم میدان جنگ میں اپنا خون بہانے کے جذبات کے ساتھ ساتھ ایام امن میں اپنا پسینہ بہانے پر غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟ میرے نزدیک سب سے پہلے تو اس بات پر غور ضروری ہے کہ حمام میں سب کے ننگے ہونے، ہر شاخ پر اُُلّو بیٹھے ہونے اور اندھیر نگری چوپٹ راج کے ماحول میں کوئ مذکورہ بالا خرابیوں کا مرتکب ہونے سے آخر کب تک بچ سکتا ہے؟ اور اگر بچنے کا ارادہ بھی کرے تو کیوں؟
اصلاحِ احوال کیلئے اسی "کیوں" کا جواب جاننا اگرچہ ایک فلسفیانہ بحث تو ہے ہی لیکن عملی طور پر ہر انسان، ہر قوم اور ہر معاشرے کو اسکے بارے سوچنا ہوتا ہے_ بصورت دیگر، بےحسی اور بداعمالیوں کے سائے ایسے معاشروں کا مقدر بن جاتے ہیں اور پھر ہر معاشرتی سطح پر ایسے ایسے مظاہر سامنے آتے ہیں جسکی عکاسی میڈیا اور سوشل میڈیا کے کارپرداژ اپنے اپنے انداز اور مقاصد کیلئے کرتے نہیں تھکتے_ اسی "کیوں" کا جواب ڈھونڈنے کے معاملے میں نہ صرف یہ کہ ہم کتراتے ہیں، بلکہ بحیثیت قوم غفلت اور انفرادی طور پر ہمارے اندر طرح طرح کا خوف بدرجہ اتم ودیعت کیئے ہوئے ہے_ اسکا ایک سبب تو یہ کہ ہم اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے خول اور اس پر آنے والی آنچ سے گھبراتے ہیں_ دوسرا ہمیں اپنی اپنی روایات کے پاش پاش ہونے کا خطرہ رہتا ہے_ تیسرا، ہمارا رویہ دو انتہاؤں کے درمیان رہتا ہے، یا تو ہم مرنے، مارنے پر اتر آتے ہیں یا خاموشی اختیار کیئے رکھتے ہیں جو کہ اجتماعیت کیلئے دراصل مجرمانہ خاموشی کے ضمن میں آتی ہے_ ایسا ہی کچھ خوف ہمارے یہاں عسکری حلقوں اور غیرملکی خفیہ طاقتوں کے ممکنہ ردِعمل کے حوالے سے بھی پایا جاتا ہے_
کسی معاشرے کے افراد، گروہ اور پوری قوم اپنے بنیادی امور کے بارے میں گفتگو اور سوچ بچار سے اندرونی اور بیرونی عوامل کے پاداش خوف میں مبتلا رہیں تو ایسے معاشرے میں تہزیب و اصلاح اور معاملات کی درستگی کی آواز، انتشار کا پیش خیمہ یا تباہی کی بازگشت کے طور پر گردانی جاتی ہے_ ایسا معاشرہ - abstract-conceptualization کا شکار ہو جاتا ہے اور معاشرے میں ہمہ اقسام برائ کے خلاف مزاحمت immunity کمزور ترین سطح پر چلی جاتی ہے_ ایسا معاشرہ چھوٹی چھوٹی مزاحمت کو تو طلسم ہوشربا کی داستان بنا کر پیش کرتا ہے لیکن قومی مفادات کی خاطر مخلصانہ طور پر resistance کی شعوری کوشش کرنے والوں کو مشتبہ یا تجاہلانہ اور تضحیکانہ نظروں سے دیکھنے کا عادی ہوجاتا ہے_ اس صورتحال میں لوگ اجتماعی مسائل کی کلیدی ضرورت prerequisite، اجتماعی دانش سے دامن چھڑاتے ہیں_ اس دوران کوئ نہ کوئ ابن الوقت قیادت quasi-leadership معاشرے کے بیڑے کی ذمہ داری سنبھال کر معاشرے کو حالات کے بھنور میں ہی گھمائے رکھتے ہیں، جسکا نتیجہ مایوسی در مایوسی کے سواہ کچھ نہیں نکلتا_ بقول شاعر "منیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے....سفر تیز تر ہے اور منزل آہستہ آہستہ"_ بحیثیت فرد اور قوم ہمیں جائزہ لینا پڑے گا ہمیں اپنے اور ریاست کے اصلاحِ احوال کی ضرورت" کیوں" ہے؟ اسکے بعد اگلا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے اصل مسائل، خامیوں اور کمزوریوں کے اثرات و اسباب کیا ہیں؟ جب ہمیں کیوں اور کیا کا جواب مل جائے گا تو پھر ہم اسکے ذمہ دار کا تعین کرسکیں گے کہ آخر وہ "کون" ہے؟
میری رائے میں اب تک کی مذکورہ تحریر میں تمام عوامل اثرات ہیں جن میں ناانصافی، کرپشن، قحط الرجال اور فکری دیوالیہ پن جیسے اثرات بنیادی توجہ کے حامل ہیں_ میرے نزدیک اسکا سبب international political-economical system کے نام پر ایک ایسے world-system کا قیام ہے جسکے ذریعے nation-state system کو اس طرح سے تشکیل دیا گیا کہ بڑی طاقتوں نے تیسری دنیا کے ممالک میں اپنی مداخلت کی راہ ہموار کیئے رکھی جسے neo-Colonialism کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے_ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم nation-state کے political phenomenon کو سمجھ ہی نہیں پائے یا ہمیں اندھیرے میں رکھ کر بس وقت گزاری کی جاتی رہی ہے_
خوش قسمتی سے اس سب کیلئے ہمیں لمبی چوڑی فلسفیانہ مباحث کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی ہے، کہ ہم اس ملت کے وارث ہیں جس نے نہ صرف دنیا کے کئ کونوں پر صدیوں تک حکمرانی کی بلکہ ایک تہزیب کے علمبردار بھی ہیں_ جسکی وجہ سے آج بھی ہمارے رقیب ہمارے تہزیبی احیاء کے تصور سے بھی کانپتے ہیں_ اس تہزیب کی آفاقی سچائ مالکِ کائنات کی زندہ جاوید کتاب قرآن مجید اور اسکے محبوب خاتم الانبیاء محمد (ص) کی سنت و حکمت سے عبارت ہے_ جسکی تشریح اقبال جیسے مفکر نے بڑے واضح انداز میں کی، مملکت خداد پاکستان کا خواب دیکھا اور محمد علی جناح جیسے مخلص اور انتھک رہنما نے اسکی تعبیر کو ممکن بنانے میں مسلمانان برصغیر کے قائداعظم ہونے کا کردار ادا کیا_ آج کے پاکستانی مفکروں، دانشوروں اور رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ تحریر ھٰذا میں مذکورہ تمام عاملین کے کردار اور عوامل کے اثرات و اسباب کا معروف اور منصفانہ تعین کرکے اسے اس انداز میں synthesize کریں کہ جس سے گوناگوں مسائل میں بکھری قوم منزل، نشان منزل، معاشرتی عمل اور عملی سیاست کے خدوخال کو احسن طور پر سمجھنے کے قابل ہو سکیں_ کیا ہم اپنی توانائیاں اس مقصد کیلئے وقف کرنے کو تیار ہیں؟ (Social Point)
No comments:
Post a Comment