مسلم دنیا کے بارے میں مورخ لکھے گا کہ 2020ء میں مسلم ممالک کے حکمرانوں اور ارباب اختیار کو سب سے بڑا خوف اپنے عوام کے باشعور ہونے سے لاحق تھا، اس استثنیٰ کہ ساتھ کہ بس اتنا ہی عوامی شعور برقرار رہے کہ انکے اقتدار اور مفادات کو تحفظ ملتا رہے اور ان کو اقتدار میں لانے والی قوتیں ان کی کارکردگی پر دادِ غلامی دیتی رہیں_ عوام کے بارے میں لکھا جائے گا کہ مسلمان اپنی روش اور طورطریقوں کو ذرّہ برابر بھی تبدیل کیئے بغیر ہی قومی مفادات اور خودمختاری کے کمزور پڑ جانے یا چھن جانے کے کرب مبتلا رہتے تھے_ علماء کے بارے میں لکھے گا کہ ان میں سے اکثر، لوگوں کو خدا سے اس حد ڈراتے تھے کہ بس انکا اپنا دائرہ اثر اور حلقہ احباب یکجا رہے، اس ضمن میں انھیں سب سے بڑا خطرہ یہ لاحق رہتا تھا کہ انکے پیروکار صدیوں پرانی انسانی سوچ پر مبنی روایات کو نہ توڑدیں؛ ہاں قرآن و سنت سے منہ موڑیں تو بس لگی لپٹی مصلحت کے ساتھ پرتکلف نصیحت کرنے کو ہی اپنا فرض پورا کردینے پر قیاس کرتے رہے_
شاہ ولی ﷲ، اقبال، سرسید، ابوالکلام آزاد سے لیکر سید سلیمان ندوی، الطاف حسین حالی، مولانا مودودی اور ڈاکٹر اسرار سمیت کبَّار علماء و مصلحین ہمارے حال اور مستقبل کے مخدوش حالات کے بارے میں ہمیں آگاہ کرتے رہے، مجال ہے جو ہم نے ان شخصیات کی تعریفوں کی تسبیح پڑھنے کے سواہ اپنے اور اپنے ذاتی اور گروہی خول سے نکلنے کی فکر کی ہو_ وہی لسانیت، وہی فرقہ پرستی اور وہی قوم پرستی آج بھی ہمیں اسی آکاس بیل کی مانند گھیرے ہوئے ہے، جسکا سامنا ہمیں کم و بیش چار صدیوں سے ہے_
ملکی اور ملی موضوع پر طویل تبصروں اور خود نمائ کے قصوں والی محافل میں مسائل کے حل اور حقیقی رکاوٹوں کو دور کرنے کی گفت و شنید شجرہ ممنوعہ بن چکی_ دیکھتے ہی دیکھتے استعمار اور طاغوتی طاقتیں کتنی ہی مسلم اقوام کو تہس نہس کرگئیں لیکن ہمارا جذبہ ایمانی اپنے نفوس کو نظر انداز کرکے دوسروں کی عیب خوئ اور اصلاح__ جس کو اصلاح برائے فساد کہا جائے تو زیادہ بہتر ہے__ سے آگے نہیں بڑھا_ ہمارا جذبہ ایمانی خیرات تقسیم کرنے سے آگے ملک و ملت کیلئے زمانہ امن میں معاشرتی نوک پلک کی خاطر قربانی کے وجود اور افادیت کو سمجھ ہی نہیں پایا، کیونکہ جب علم و دانش کا منبع یعنی علمائے ملت ہی اندازِ جہانبانی، نظامِ تعلیم و تربیت کے بارے میں الجھن کا شکار ہو گئے تو باقی معاشرے کی شکست و ریخت کوئ اچھنبے کی بات نہیں رہی_
ہمارے ہاں بڑے دھڑلے یا منہ بسوری سے یہ بات کہنے کی روایت عام ہے "بھئ! جیسے عوام ہوں گے، ویسے ہی حکمران ہوں گے_" یہ روایت ارباب اختیار و اقتدار اور انکے گماشتوں کو بڑی جلدی سمجھ آتی ہے کیونکہ اس سے عوام کو دوشی ٹھہرا کر وقتی طور پر تو جان چھوٹی ہی رہتی ہے_ جبکہ حدیثِ نبوی محمد(ص) ہے کہ پہلے کسی قوم کے علماء میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے پھر عوام میں_ تو معاشرتی بگاڑ کا معاملہ ایسے پورا ہوتا ہے کہ علماء کا بگاڑ عوام اور عوام کا بگاڑ حکام اور حکومت پر اثرانداز ہوتا ہے_ اس معاملے میں بنیادی حیثیت علماء کو حاصل ہے_ اس میں محض مدارس ِ دینیہ سے فارغ التحصیل علماء کی طرف اشارہ ہی نہیں بلکہ فی زمانہ اساتذہ، دانشور، صحافی، اینکرز اور تجزیہ نگار سب اس کا حصہ ہیں_ ان بیچاروں کی اخلاقی حالت ہمارے اخبارات، و رسائل، میڈیا چینلز، فلم انڈسٹری، یونیورسٹیز اور ان سے استفادہ کرنے والے صارفین کی سوشل میڈیا پر جاری کلاکاریوں سے صاف عیاں ہے_ آپ کا کیا خیال ہے، آپکے دشمن نے اس پر نظر نہیں رکھی ہوگی ورنہ یہ ہتھیار آپ کو بلا سبب ہی سونپ دیئے گئے؟
آخر ہم سے خطا یا غفلت کہاں ہوئ ہوگی؟ دیگر کے علاوہ، ایک اہم ترین وجہ تو ہمارے معاشرے میں فرد کی غیر متوازن شخصیت کا مسئلہ ہے جسکا احاطہ اقبال کے مجموعہ تقاریر The Reconstruction of Religious Thought in Islam اور نومسلم مفکِّر مارماڈیوک پکھتال کی تصنیف The cultural side of Islam میں بڑے جامع انداز سے کیا گیا ہے_ شخصیت کا عدم توازن مسلم دنیا میں دین اور دنیا کے درمیان تفریق جیسے مغربی افکار کے مسلم معاشروں میں penetration کا مرہونِ منت ہے_ جبکہ مسلم تہزیب میں خیالات کی یہ دوئ سمِ قاتل ہے_ Colonialism کے دور میں اس نظریے کے پاداش ایسے تعلیمی ادارے قائم ہوئے جن میں دین اور دنیا یعنی روحانیت اور مادیت کی جدائ کا تصور گہرا کیا گیا_ اسکے بعد مسٹر اور ملا جیسی تفریق کو formality بخشی گئ_ اس نظریے نے تمام مسلم معاشروں میں نظریاتی، عملی، سیاسی اور معاشرتی سطح پر نام نہاد battle of ideas کا آغاز کردیا، جسکی ہمارے ہاں قطعاً کنجائش ہی نہیں تھی،؛ البتہ اسکا فائدہ مغرب کو یہ ضرور ہوا کہ انھوں نے اپنے کج فہم گماشتوں کے ذریعے نوآزاد مسلم ریاستوں کے مابعد آزادی کے دور کو neo-Colonialism میں بدل دیا، جسکی فصل ہم آج تک کاٹ رہے ہیں اور اصلاح احوال پر غور نہ کیا تو کاٹتے رہیں گے_
اسکا سیدھا سا حل، ایک متوازن نظامِ تعلیم ہے_ جس میں دین اور دنیا میں تفریق کی بجائے یہ نظریہ کارفرماں ہو کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے؛ دین انسان کو دنیا میں جینے کا طریقہ سکھاتا ہے؛ زندگی سے دین کو نکال دیں تو بحیثیت مسلم ہماری دنیا اور آخرت دونوں خسارے میں رہیں گے_ ہاں! دنیا کی زندگی میں توازن کیلئے technical/scientific education بھی لازم ہے_ مسلمانوں کی دنیا اپنے دین، کائنات اور تکنیکی علوم کو integrate کیئے بغیر پوری ہی نہیں ہوتی_ اسکے لیئے ہمیں ایک نئے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جسے hybrid education system کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا_ اس کے ذریعے ہم نہ صرف یہ کہ متوازن ارباب حل و عقد، علماء اور زعماء کی تربیت کے قابل ہو جائیں گے بلکہ اس سے نوجوانوں کو لاحق اخلاقی بے راہ روی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا_ اسی سے والدین اور خاندان مطمئن ہونگے اور ہمارا معاشرہ کما حقہ متوازن تصویر پیش کریگا_
No comments:
Post a Comment