Tuesday, June 30, 2020

غداروں کے خلاف پاکستانی قوم تقسیم نہیں ہے

کراچی اسٹاک ایکسچینج میں چار غداروں کی ہلاکت پر طارق اسمٰعیل ساگر صاحب کی اس سلسلے میں ایک یوٹیوب وڈیو پر میں نے اپنے دکھ کا اظہار اس کمنٹ سے کیا "ان غدار دہشت گردوں کا DNA کروا کر انکے پورے خاندان کو اڑایا جائے_" اس پر کچھ لوگوں نے کہا "خاندان کا کیا قصور؟ اگر ایسا کیا تو ان میں اور ہم میں کیا فرق؟" اسی دوران میرا ایک صارف سے یہ مکالمہ ہوا_ 

سید سلمان: "کیوں پورے خاندان کو اڑایا جائے یہ اسلام کا حکم ہے یا انصاف کا تقاضہ ہے_ ایسی باتیں کرنے والے ہی پاکستان کے اصل غدار ہیں اور تم جیسوں نے ہی انصاف کو اپنے ہاتھوں میں لیکر بنگلہ دیش بنایا اور ملک میں ظلم کو پروان چڑھایا_" 

میرا جواب: "سید سلمان، چند کا علاج ہوگا باقی کا مرض خود ٹھیک ہوجائے گا_  بنگلہ دیش میں وجوہات دوسری تھیں اور ریاستی عناصر کی کوتاہی بھی_ یہاں ان ایجنٹ دہشت گردوں کو کس نے تکلیف پہنچائ ہے جو یہ دشمن کی انگلی پر ناچ رہے ہیں_ ان ایجنٹوں کے سوداگر عیاشیاں کرتے پھریں اور یہ بندوقیں اور بم اٹھائے پھر رہے ہیں_ عوام ایک ایک حرکت پر نظر رکھے اور حکام کو آگاہ کرے_ اس موقع پر کسی کو معاف نہ کیا جائے_" 

 سید سلمان کے اعتراضات: "میرے سوال کا جواب نہیں دیا آپ نے؟ یہ اسلام کا حکم ہے یا انصاف کا تقاضہ ہے کہ مجرم کے سارے خاندان کو اڑا دیا جائے؟ اگر دہشت گردی کرنے والے انتہا پسند ہیں تو انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کی بجائے جوابی ظلم اور ناانصافی کرنے والے بھی انتہاپسند ہیں_ ﷲ کے رسول نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ظلم کا خاتمہ انصاف کے ذریعے ہی ممکن جوابی ظلم اور ناانصافی کے ذریعے نہیں_ اگر آپ ﷲ اور رسول سے زیادہ خود کو سمجھدار اور دانا سمجھتے ہیں تو جان لیں کہ آپ شیطان کے دھوکے میں آئے ہوئے ہیں_ سرنڈر مودی اندیا کے مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی کررہا ہے_ پھر ہم میں اور اس میں کیا فرق ہے؟ "

میرا جواب: "سید سلمان  پہلی بات یہ کہ مودی والی تمثیل غیر منطقی ہے_ اس نے بھارتی مسلمانوں کو خود تنگ کیا ہے_ پہلے گجرات میں قصائ بنا اور اب شہریت بل کے نام پر_ آپ اسکا ارادہ تو دیکھیں_ دوسری بات یہ کہ پاکستان میں ان غدار قومیت/لسانیت/صوبائیت پرستوں کے خلاف پاکستانی حکام نے عام حالات میں ایسا کیا کیا کہ یہ کفار کی گود میں بیٹھ کر عیاشیاں کرتے ہیں اور یہاں اپنے پیادوں کو ہتھیار دیکر دہشتگردی کرتے پھرتے ہیں_ کیا پاکستانی حکام میڈیا اور سوشل میڈیا پر تیاری کرکے کاروائیاں کرتے ہیں جیسا کہ مودی سرکار، بھارتی میڈیا اور را ملکر کرتے ہیں؟ کیا آپ کو ان غداروں کا کفار کے ساتھ گٹھ جوڑ پر شبہ ہے؟ بھارت، لندن، ایران اور افغانستان میں انکی میٹنگز اور تربیت کوئ راز رہ گیا ہے؟ وار آن ٹیرر میں تو حملہ آوروں کے باس جواز تھا کہ پاکستان نے امریکہ کو اڈے کیوں دیئے، پاکستان امریکہ کا اتحادی کیوں بنا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن وغیرہ؛ اس سب کے بارے قوم تقسیم تھی_ حالانکہ دونوں اطراف سے تشدد کا جواز نہیں بنتا تھا، لیکن غیر ملکی قوتیں دونوں اطراف میں سرگرم تھیں اور ہم اپنی غفلت اور جہالت کی قیمت ادا کرتے رہے_ پاکستان کے خلاف ان حملہ آوروں کے بارے میں ابہام تھا اس لیئے انکے خلاف مقدمات، ضمانتیں اور سزائے موت ٹھوس شواہد کے باوجود قوم کو الجھائے رکھتے تھے_ وہاں تو اسلام اور انصاف کی بات سمجھ بھی آتی تھی_ اب یہ غدار جو کسی قانون، کلیہ اور اسلام پر یقین ہی نہیں رکھتے اور غیرملکی انجنٹ بنے ہوئے ہیں، انکے بارے میں قوم تقسیم نہیں ہے؛ یہ اسلام اور انسانیت کے نام پر نرمی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جو کہ انھیں ٹریننگ کے دوران ہی سکھایا جاتا ہے کہ تمھارے خاندان کو کچھ نہیں ہوگا_ اب جب دو چار خاندانوں کو علاج ہوا تو یہ اپنے خاندان کو منتقل کرنے کی شرط بھی اپنے غیرملکی آقاؤں کے سامنے رکھیں گے اور پھر دونوں کو ایک دوسرے کے خلوص کا علم ہوجائے گا_ آپ دیکھیں پورا امریکہ جل کر راکھ ہوگیا، کیا کسی کالے امریکی نے الطاف حسین، منظور پشتین فلاں شاہ، فلاں خان اور فلاں بلوچ کی طرح آپ سے رابطہ کیا؟ ہمارے غدار ایسی دلیری کیوں دکھاتے ہیں؟ مقصد یا جہالت، غفلت، پیسہ اور عیاشی؟ عوام بچاروں کو کیا علم کہ ابن الوقت اور غدار قیادت کیا ہوتی ہے_ آپ نے بنگلہ دیش کی بات کی تھی، میں نے پہلے ہی کہا کہ ہمارے حکام کی بھی اس میں کوتاہیاں تھیں_ آج ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں کیا اسوقت کی پاکستان اور پاک فوج کی بھارت کے خلاف ناکامی بنگلہ دیشی مسلمانوں کیلئے باعث افتخار ہے؟ اگر ہے تو یہ بات یاد رکھئے بھارت کسی وقت بنگلہ دیش پر قبضہ کرلے گا_ آخر کیا وجہ ہے کہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کا تو بھارت دوست ہوا اور پاکستانی مسلمانوں کا دشمن؟ ایسا کیوں ہے اور اپنے بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں کے خون کا پیاسا کیوں ہے؟ یہ سب دشمن کی چالیں ہیں اور مسلم حکمرانوں کی جہالت اور غفلت کے باعث ہمارے عوام کو دشمن کے ان عزائم کا علم ہی نہیں ہوتا؛ پھر وقت پڑنے پر سب ایک دوسرے کو مارنے کو دوڑتے ہیں_"

No comments:

Post a Comment