برطانوی استعمار سے آزادی کے کوئ بیس سال بعد بھارت میں ایک استاد کو اس کے سکول میں برطانوی ماہرینِ تعلیم کے ایک وفد کے دورے کی اطلاع ملی_ وہ استاد دل میں ٹھان لیتا ہے کہ وہ چھہ ماہ کے عرصے میں وفد کے آنے تک اپنی کلاس کے بچوں کو پوری لگن کے ساتھ انگلش زبان سکھائے گا تاکہ بچے وفد کو انگلش میں جواب دیں اور استاد کی واہ واہ ہوجائے_ جونہی مدت گزری، وفد آیا اور اس استاد کی کلاس کا دورہ بھی کیا_ کلاس کے بچوں نے وفد کے سوالات کا انگلش میں فرفر جواب دیا_ اب استاد اپنی تعریف کیئے جانے کی توقع کرتا ہے، لیکن وفد خاموشی سے کلاس سے باہر چلا جاتا ہے_ استاد کچھ دلبرداشتہ سا ہو کر لپک کر اس وفد کے پیچھے چل پڑتا ہے اور موقع ملتے ہی وفد کے سربراہ سے بچوں کی انگلش بول چال کے متعلق سوال کرتا ہے_ وہ برطانوی ماہر تعریف کرکے دفعتاً پوچھتا ہے کہ ایک غیر ملکی زبان ان بچوں کو سکھانے کیلئے اتنی محنت کس نے کروائ؟ ٹیچر نے فخر سے جواب دیا "میں نے"_ ابھی استاد اپنی تعریف کا تصور کر ہی رہا ہوتا ہے کہ وہ انگریز افسر اس کے کان میں کہتا ہے "اگر وہ برطانیہ میں اپنے کسی سکول کے بچوں کو کوئ غیرملکی زبان سکھانے کی کوشش کرتا تو اسکی قوم اسے پاگل قرار دیکر پاگل خانے میں داخل کرا دیتی"_ یہ بات سن کر استاد کچا سا ہوکر ہکّابکّا رہ گیا_
بھارتی ریاست بنگال کے اربابِ اختیار نے اپنے وہاں انگلش زبان کی تدریس کے معیار کو جانچنے کے سلسلے میں ایک برطانوی ماہر کو اپنی ریاست کے مختلف سکولوں کے دورے کی ذمہ داری دی_ موصوف کسی سکول کے پرنسپل کی اجازت سے انکے سکول کی مختلف کلاسز کا دورہ کرتے ہوئے ایک کلاس روم میں مصروفِ تدریس ٹیچر کے قریب خاموشی سے جا کھڑے ہوئے_ ٹیچر کو انکی آمد کے مقصد کا علم تھا، اس لیئے انھوں نے تدریس معمول کے مطابق جاری رکھی_ انگریز ماہرِ تعلیم کو اس کلاس میں، جاری انگلش کی تدریس کے باوجود، دس منٹ کے بعد علم ہو پایا کہ وہاں تو انگلش کا پیریڈ چل رہا ہے_ اسکی وجہ بیچارے بنگالی ٹیچر کا Pronunciation یعنی الفاظ کی ادائیگی یا لہجہ تھا_
اسی طرح انڈو-پاک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انگلش میں ایک ناول لکھا_ اس نے ایک انگریز دانشور کو وہ ناول پیش کیا تو انگریز نے کہا "اپنے ملک کے باشندوں سے کہو کہ وہ اپنی زبان میں ادب تخلیق کیا کریں، کیونکہ ان کی لکھی ہوئ انگلش کوئ نہیں پڑھتا"
پاکستانیوں کو ایک واقعہ امریکہ کی جانب سے کیری-لوگر بل اور اسکی عجیب و غریب مندرجات کے حوالے سے یاد رہے گا_ ان میں سے یہ بات بھی تھی کہ پاکستان میں امریکی سرکاری مشینری سے تعلق رکھنے والی کوئ بھی گاڑی ملک کے کس کونے میں بھی پارکنگ فیس ادا نہیں کرے گی_ اس طرح کی اور امریکی دھونس پر پاکستانی مضطرب ہوئے تو جان کیری نے کہا پاکستانی عوام میں انگلش زبان کا شعور نہیں ہے، اس لیئے انھیں اس بِل کی سمجھ نہیں آئ_
اسی طرح ایک مرتبہ سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ امریکہ میں ایک پریس کانفرنس کی تو صدر بش، ان کی انگلش میں گفتگو پر، پریس کانفرنس کے دوران ہی امریکی صحافیوں کو تمسخرانہ انداز میں آنکھیں مارتے رہے_ حالانکہ یہ چیز سفارتی اقدار کے بالکل برعکس تھی_ لیکن کوَّا ہنس کی چال چلے تو ایسا ہی ہوتا ہے_
برصغیر پاکستان کے عوام کا فطری میلان مغربی زبانوں سے تقریباً دیڑھ سو سالہ تعالم اور تعامل کے باوجود میل نہیں کھاتا_ نہ تو انگریز ہماری انگریزی سن اور پڑھ کر خوش ہوتے نہ ہی ہمارے حکام کو انگلش زبان سکھانے کی خاطر قوم کے خرچ کیئے گئے وسائل، وقت، صلاحیت کے ضیاع، مسائل کے حل کے موثر اور بروقت تدارک کے نہ ہونے اور نہ ہی قوم کے احساس کمتری میں مبتلا رہنے کا احساس ہوتا_ فطری طور پر کسی قوم کی قومی زبان اسکے ہاتھ میں چابک کی مانند ہوتی ہے_ اگر کوئ قوم کسی غیر قوم کی زبان کو غیر معقول حد تک اپنے اوپر مسلط کرلے تو پھر غیر زبان اس قوم کیلئے گلے کی ایسی رسی بن جاتی ہے جیسے کہ کسی جانور کو قابو میں رکھا جاتا ہے_
سب کی طاقت، ملکی شان
قومی دفتر، قومی زبان
سب کی قوت، ملکی مان
قومی عدالت، قومی زبان
No comments:
Post a Comment