Tuesday, June 16, 2020

کرونا وائرس فساد فی الارض ہے، لیکن احتیاط

سائنس، صنعت اور تجارت کے میدان میں مسلم دنیا کی یہودیوں کے ساتھ اس سطح کی مخاصمت نہیں ہوئ جسکا سامنا مغربی دنیا کو کرنا پڑا ہے_ اسکی وجہ یہ ہے کہ یہودیوں کی یورپ اور امریکہ میں کاروباری سرگرمیاں اور روایات صدیوں پرانی ہیں_ سودی لین دین سے لیکر، لبرل ازم، جمہوریت، مادیت اور سرمایہ دارانہ نظام سب کی بنیاد، نمو اور ترقی میں ان کا بڑا عمل دخل رہا جو کہ تاحال جاری ہے_ چکاچوند روشنیوں، ہنستے بستے یورپی شہروں، بڑی بڑی شاہراؤں، اڑتے جہازوں، سیٹلائٹس، میڈیا، فلم اور سوشل میڈیا کے بارے میں یہودی حلقے اہلِ مغرب کو کھلے عام یہ طعنے دینے میں بالکل بھی نہیں ہچکچاتے کہ زندگی کی یہ آسائش اور زیبائش ان ہی کی مرہونِ منت ہے_ جبک اسرائیلی عہدیدار امریکہ کو واضح طور پر یہ کہنے میں عارمحسوس نہیں کرتے کہ وہ نیویارک اور واشنگٹن کو راکھ  کا ڈھیر بنا دینگے_

اب ایک مغرب تک ہی موقوف نہیں، پوری دنیا اور خصوصاً مسلم دنیا کے بارے میں سوچا گیا اور سوچا جا رہا ہے کہ یہودیوں کے بنائے نظام میں دیگر اقوام اتنی آسانی سے، میڈیا، سوشل میڈیا، ذرائع نقل و حرکت اور ذرائع مواصلات کے ذریعے سے انکے نسل پرستی اور انسان دشمن منصوبوں، ناانصافیوں، کالے کرتوتوں اور استحصال کے بارے معلومات پھیلانے میں مگن رہتی ہیں اور اگر عالمی رائےعامہ کا یہ لاوہ کسی وقت بھی دنیا بھرمیں یہودی مفادات اور انکے مرکز اسرائیل کے خلاف عملاً پھٹ پڑا تو کیا ہوگا؟ چنانچہ اسکو لگام ڈالنےکے منصوبوں پر بڑے عرصے سے کام ہو رہا تھا_ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی، ایک عالمی حکومت کی مغربی خواہش جسے کہ یہودی صیہونی تحریک نےعالمی صیہونی حکومت کےویژن میں ڈھال لیا تھا، صیہونی خبررساں اداروں، میڈیا چینلز اور یہودی ملٹی نیشنلز نے پوری دنیا میں اسطرح سے نفوذ کیا کہ دنیا شعوری اور لاشعوری طور پر اس نظام کو زندگی کا جزلاینفک سمجھ کر مشغول و مبحوس ہوگئ_ یہودی عام طور پر انسانی جبلت، عادات، خواہشات، رجحانات، طاقت اور کمزوریوں کے مدِ نظر ہی منصوبے تشکیل دیکر رکھتے ہیں تاکہ مناسب وقت اور مقام پر مطلوبہ اقوام کے خلاف انکا اطلاق کر سکیں_ اسکے لیئے اقوامِ عالم کے حکومتی اورغیر حکومتی حلقوں سے انکی گٹھ جوڑ کی پریکٹس بہت پرانی ہے_رومن عدالت میں عیسیٰ علیہ السلام پر چلائے جانے والے مقدمے اور جج کے بارے پڑھ کر دیکھ لیجئے_

اسی پسِ منظرکی حامل دنیا میں کروناوائرس کا مسئلہ سامنے آتا ہے_ ایک تو بیماری اچانک سے دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے، اس کے بارے عالمی رائےعامہ تقسیم ہو جاتی ہے کہ یہ دانستہ پھیلائ گئ یا قدرتی طور پر پھیلی_ کوئ ملک لاک ڈاؤن کرتا ہے کوئ نہیں، ایک ہی ملک میں کچھ عوامی مقامات پر لاک ڈاؤن اور طبعی فاصلہ کی احتیاط برتی جاتی ہے اور کہیں نہیں_ مشکوک اور غیر متوازن حکومتی ردعمل اور ہچکچاہٹ کی وجہ سے یہودی اور عالمی منصوبہ سازشوں پر نظر رکھنے والے حلقوں نے اسے سازش قرار دیا تو عوام کو بیماری سے بچنے کی فکر کی بجائے، رائےعامہ کو دبائے جانے اور اپنے اپنے ممالک کی خودمختاری کے خلاف کسی سازش کی فکر پڑگئ_ اموات کے خدشے کے پیشِ نظر حکومتوں نے لاک ڈاؤن کیا تو عوام نے سوچا انھیں بیوقوف بنایا جا رہا ہے_ اس حالت میں عوام حکومتوں سے علاج کی سہولیات اور انفراسٹرکچر کا مطالبہ کیا ہی کرتے! چنانچہ حکام کی جان چھوٹی رہی_ ایسےمیں عالمی طاقتیں اور بڑے ممالک الزام تراشیاں بھی جاری رکھتےہیں اور عوام بیچارے الجھے رہتے ہیں_ اسی دوران وائرس سے متاثرہ اشخاص سے باخبر رہنے کے بارے ٹیکنالوجی کا ذکر شروع ہوتا ہے، اسرائیل، چین، برطانیہ، بھارت اور سعودی عرب جیسے ممالک اپنے وہاں اسے لانچ بھی کردیتے ہیں_ لیکن امریکہ میں عوامی سطح پر اس پر بڑی لے دے کی جاتی ہے، کیونکہ گزشتہ ایک دھائ سے امریکہ میں ایسے منصوبوں پر بحث معمول کا حصہ رہی ہے، جسے کہ سازشی نظریات قرار دیکر درگور کر دیا جاتا رہا ہے_ اب اس بارے احتجاج سامنے آئے تو جارج فلائڈ کی ناگہانی موت پر پورے امریکہ میں "فسادات" پھوٹ پڑتے ہیں اور امریکہ کو "بلوائیوں سے بچانے" کے نام پر ان تمام اقدامات کا اعلان ہوجاتا ہے جنکے خلاف امریکی عوام سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے_ اب وہاں کرونا کی وجہ سے اموات بھی چل رہی ہیں، لھٰذا ویکسین تو ویسے بھی "مار دھاڑ کو قابو" کرنے کیلئے جبکہ انسانی جسم میں مائیکروچپ لگوانا شہری ذمہ داری کی علامت قرار پا چکی ہے_یہ طریقہ واردات تو سپرپاور کے عوام کے ساتھ استعمال ہوا ہے_ 

مسلم دنیا کے عوام کیلئے تحفہ یہ ہے کہ کرونا کنٹرول کرنا ہے تو ویکسین بھی لینی پڑے گی اور مائیکروچپ کا معاملہ شروع ہونے تک خفیہ نگرانی کی جائے گی، جس سے کہ عالمی منصوبہ سازوں کی چاہت پوری ہو جائے گی اور اگر آپ اسے سازش سمجھ کر، من حیث القوم، نہ تو قابو میں آئیں گے اور نہ ہی احتیاط کریں گے تو موت آپ کو اپنی طرف کھینچ لے گی، یہ بھی انکے آبادی کو لگام دینے کے منصوبے کے عین مطابق ہے_ قصہ مختصر اس حیاتیاتی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی حملے کو آفت سمجھئیے یا وبا، اس سے بچنے کیلئے social-distance کی بجائے معقول حد تک physical-distance کے بارے میں احتیاطی تدابیر اختیار کیجئے_ اس دو دھاری تلوار سے بچنا عوام اور بچانا حکومت کا فرض ہے، دیکھیں کب تک موت کا یہ رقص جاری رکھا جاتا ہے؟ ویسے تو یہ خبر یہ بھی ہے کہ کرونا وائرس کے بارے عالمی "خیر خواہوں" اور حکومتوں کے نافذ کردہ "حفاظتی اقدامات" اب مستقل جاری رہیں گے، دیکھیں مشئیتِ الٰہی اس بارے میں کیا اور کب فیصلہ کرتی ہے؟

No comments:

Post a Comment