اپنے گھر کے قریب ہی میں ایک دکان پر خریداری کر رہا تھا کہ اچانک ایک شناسا وہاں آنکلتا ہے_ہاتھ ملا کر فائل میں سے ایک کاغذ میرے ہاتھ میں تھما کر کہتا ہے کہ اسکا اردو ترجمہ اسکے گوشگزار کردوں_ میں نے اسکی مدد کردی_ اس پر تقریباً سو سال پرانی ریوینیو کی کوئ قانونی شِق لکھی تھی_میرے دل میں اچھا گمان پیدا ہوا کہ وہ کسی حقیقت کا متلاشی تھا_ ایک دن میں اپنے کسی دوست کے ساتھ محوِ گفتگو تھا کہ اسی شخص کا نام آیا_ میں نے سرِراہ اسکی تعریف کی ہی تھی کہ دوست نے قہقہہ لگا کر بتایا وہ تو پرلے درجے کا ٹاؤٹ تھا؛ نیز وہ پرانے بھولے بسرے قوانین تلاش کرکے سرکاری اداروں کے کلرکوں کو بلیک میل کرکے رقم وصول کرتا تھا_ میں اس شخص کی طریقہ واردات پر حیران ہوا_
اسی طرح ایک دن مجھے ایک صحافی دوست کی کال آئ کہ وہ میرے ساتھ ملکر گورنمنٹ کے ساتھ ایک پروجیکٹ میں شامل پرائیویٹ سکول مالکان کی کمزوریوں کا کھوج لگانا چاہتا ہے_ اس نے کہا "آپ ان معاملات کا علم رکھتے ہیں، تو ہم دونوں ملکر اس سے مالی فائدہ اٹھائیں گے_" مجھے معلوم تھا کہ وہ مشّاق تھا اور میں ان دنوں بوجہ فارغ البال تھا؛ لیکن، میں نے دفعتاً جواب دیا "معلومات کا حصول، تحقیق اور لکھنے کو میں عبادت سمجھتا ہوں_ ملک و قوم کے پوٹینشل کو بڑھانے کیلئے ﷲ نے مجھے صلاحیتوں سے نوازا_" اسنے تحمل سے سنا اور جواب دیا کہ دراصل وہ میری اور اس کی مالی مشکل دور کرنا چاہتا تھا_میں نے کہا "زندگی بھر جس چیز کو برا سمجھتا رہا، اب وہی کام خود شروع کردوں؟ رہے وسائل، اسکے اسباب ﷲ کے ذمے_"
انفرادی سطح سے لیکر ادارتی سطح تک ہمارے معاشرے نے ٹاؤٹس، بھتہ مافیہ اور بلیک میلرز کو جنم دیا ہے_ جہاں پاکستانی میڈیا کے گھناؤنے کرتوت زبانِ زدِ عام ہیں وہیں شعور و بیداری کے نام پر ملک، قوم اور سماج دشمن کارنامے این-جی-اوز کے کارفرماؤں نے ہمارے یہاں سر انجام دیئے ہیں_ ہمارا نظام اور سوچ زاویہ ایسا ہے کہ کلرک سے لیکر بیوروکریٹس، سیاستدان، جرنیلز، ججز، پولیس، ڈاکٹرز، ٹیچرز، پروفیسرز اور علماء کوئ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے الا ماشاءﷲ ہی بچ پایا، جس کسی کو بھی قوم کی قیادت اور رہنمائ کیلئے کسی سطح پر بھی اختیارات، وسائل اور معلومات تک رسائ کا موقع ملا_ غرض وہ تمام صلاحیتیں جوریاست کی تعمیر و ترقی میں استعمال ہونےکی قوم توقع کرتی ہے ہر طرح کی قیادت کے مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں_ باالفاظ دیگر ہماری ہمہ قسم قیادت اور رہنما ذہنی طور پر کرپٹ بنائے جانے کے کلچر تلے دبے ہوئے ہیں_ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملکی سلامتی سے لیکر گلی محلےمیں کمیونٹی ورک کرنے کی سطح تک بہترین نتائج کیلئے بہترین قسم کی لیڈرشپ درکار ہوتی ہے_ آج امریکہ جس مقام پر کھڑا ہے، انکا فلسفہ کتنا غلط کتنا صحیح الگ بات، ذرا انکی Leadership-Development کی تاریخ، ذمہ داری، منصوبے؛ اپنی قوم، گروپس اور اداروں کیلئے انکی ہمہ قسم لیڈرشپ کی قربانیوں کی داستان تو پڑھیں، آنکھیں کھل جائیں گی_ اور یہاں؟ میں اپنے ایک دوست سے نوجوانوں کی تربیت کے حوالے سے ایک آئیڈیا شیئر کر رہا تھا کہ اسنے کہا "ہمارے معاشرے کو اتنا بےحس اور جذبات سے عاری کر دیا گیا ہےکہ کوئ بھی تعلیمی یا تربیتی کاوش پڑھے لکھے ٹاؤٹس ہی پیدا کرنے کی موجب بنے گی_" سچی بات ہے، پاکستان سمیت عالمِ اسلام میں عوام کےاذہان میں رہبروں کی رہزنی والی رائےکا راسخ ہونا خطرناک ترین رجہان ہے_ کیونکہ ایسے جذبات ہی ملک و ملت کے تعلیم و تربیت کے سوتّے خشک کرنے کا باعث بنے ہیں_ نامساعد حالات کے باوجود مستقبل کی قیادت کی نمو اور نشونما سے سرفِ نظر، غیر معقول اور غیر منطقی ہے_ لیکن، قیادت کو ہی ہمہ قسم قیادت کی ہمہ پہلو خستہ حالی اور تدارک کے بارے سوچنا ہوتا ہے_ خصوصاً یہ کہ ہم اس دین کے پیروکار ہیں جس نے قدم بہ قدم، انفرادی، اہل وعیال، گھرانے یا خاندان، ٹیمز اور گروپس سے لیکر پوری امت کو علم، اصلاح، تربیت، اجتماعی فلاح اور امدادِباہمی کی اتنی ترغیب دی ہےکہ ہم بحیثیت مسلم تعمیر و تربیت اور موثر لیڈرشپ کی تیاری کےعمل سے ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہ سکتے_ مسلم معاشرے کے علاوہ پوری انسانیت کیلئے ایسا کرنا ہماری ذمہ داری ہے_ ایسا تب ہی ہوگا جب اربابِ اختیار اور اہلِ دانش مخلص ہو کر، جنگ و امن میں، ہر شعبہ ہائے زندگی میں مخلص و موثر قیادت اور رہنماؤں کی ڈویلپمنٹ کے کلچر کی آبیاری کریں گے_
قرآن کا اٹل فیصلہ ہے ﷲ رب العزت اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتے، جب تک کہ کوئ قوم اپنی حالت کو خود نہ بدلنا نہ چاہے_جلد یا بدیر ہمیں اپنے آپ کو بدلنا تو پڑے گا_ اگر نہیں، تو، یہ بھی رَبّ کا فیصلہ ہے کہ وہ ہماری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا جو ہم سے بہتر ہوگی_
No comments:
Post a Comment