مغربی دنیا پہلے ون ورلڈ کا خواب دیکھا؛ پھر Western Political-Economical Order کا علم بلند کیا؛ پھر نیو ورلڈ آرڈر کا نام لیا لیکن دنیا میں ارتعاش پیدا ہوا تو گلوبلائزیشن میں "انسانیت" کی ترقی اور نشونما کا نعرہ لگا دیا_ اسکے ساتھ ساتھ جیسے ہی سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ سے فارغ ہوا تو مسلم دنیا کو ترقی کا دشمن قرار دے کر بہانے تراش کر انکی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کہا کہ مسلم دنیا گلوبلائزیشن کے عمل کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے تذبذب میں تھی نیز مسلم دنیا پتھر کے زمانے کے باسی ہیں_ مغرب نے اپنے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کو بھی مجبور اور مائل کیا کہ روحانیت کی بجائے مادیت کو اپنا امام بنا لے_ مسلم دنیا تو انکی تقریباً ستر سال سے غلام بنی ہوئ ہے اور انکے بٹھائے ہوئے مینیجرز__جو یہاں ہر میدان میں وائسرائے بنے بیٹھے ہیں__نے خود مسلمانوں کو ہی مجرم قرار دیکر مارنا، دھمکانا، بدنام کرنا اور گمراہ کرنا شروع کردیا_ اپنے مفاد کیلئے اب مغربی فرستادے پھر سے مسلم دنیا کو "جہادی مسلمان" بنانے کے اقدامات شروع کروا رہے ہیں_ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے ذریعے پھر سے "احیائے اسلام" کی تحریکوں کی بنیادیں رکھی جا رہی ہیں_ میں تو اسے the strategization of Islam, Jihad and Muslims کا نام ہی دوں گا_ قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں_ اب جب خدا کی منکر اور روحانیت سے عاری، ہمہ قسم جدید ٹیکنالوجی سے لیس، آئ-ٹی کی ماہر اور مغرب سے ملتی جلتی ننگ دھڑنگ چینی قوم عالمی سطح پر چھاتی نظر آئ تو اب امریکہ اور مغرب کو خدا بھی یاد آگیا اور آئیڈیالوجی کی اہمیت بھی_ اب امریکہ اور مغرب کو مروڑ کیوں اٹھے؟ بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئ_ مغرب کا اصل مسئلہ مختلف طرح کا روپ دھار کر بس مغربی تہزیب و نسل کا تحفظ ہی ہے_ گلوبلائزیشن کے نعرے کے بعد چین کی مخالفت نے میرے اس گمان کو یقین میں بدل دیا ہے کہ مغربی تہزیب دراصل محض ایک نسل پرست تہزیب ہے_ مغربی دنیا کو مذہب، انسانیت اور انسانی حقوق کی کوئ پرواہ نہیں سوائے مغربی اقوام کے نسلی مفادات کے تحفظ کے؛ اسکے ساتھ ساتھ وہ اپنے خوشنما نعروں کو اپنی سابقہ کالونیوں کے چنیدہ طبقات کے ہمراہ پھیلانے کی کوشش میں بھی مصروف رہا ہے_ نسل پرست مغرب کبھی نہیں چاہے گا کہ اسکے ہمہ قسم فلسفے، نظام تعلیم اور اسکے زیر اثر تعلیمی ادارے مسلم دنیا میں کبھی بھی قحط الرجالی کو دور کرنے کے قابل ہوں جو اپنے قدرتی اور انسانی وسائل اور تہزیبی بقاء کا کوئ حل تلاش کر سکنے کا سوچ بھی سکیں_ یعنی مغربی کیمیاء گر اور ان سے متاثر طبقات، تریاق کے نام پر ہمیشہ زہر ہی دیتے رہیں گے_ چین کا شکریہ جس نے مغرب کی نقاب کشائی کردی_ بہرحال، کسی کی فتح ہو کسی کی شکست، مسلم دنیا کو اسکے اردگرد منڈلاتے تمام خطرات کے وجود اپنی تہزیبی بقاء کی صف بندی اور مورچہ زنی خود ہی کرنا ہوگی_
Thursday, July 30, 2020
کیا ترکی اکیلا مسلم دنیا کے جذبات اور مفادات کو متوازن رکھ سکتا ہے؟
انسان زندگی کی کسی بھی آزمائش سے گزر رہا ہو اور دور دور تک کوئ حل بھی سجھائ نہ دے تو اسکی حالت اس فاقہ کش کی طرح ہوتی ہے جس سے پوچھا جائے کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو وہ جواب میں کہے چار روٹیاں_ ایسے ہی تپتے صحرا میں تشنہ لب مسافر سراب کو بھی امید کی کرن سمجھ لیتا ہے_ شومئ قسمت کہ کچھ ایسا ہی حال مسلم دنیا کا بھی ہے_ بلاشبہ ہم ایک ایسی تہزیب کے وارث اور علمبردار ہیں جو ماضی میں پوری بنی نوع انسان سے اپنے جوہر منوا چکی ہے اور یہ انسانی تاریخ میں یہ واحد تہزیب ہے جسکا بالکل اپنی اصل حالت میں احیاء کا پورا امکان بھی ہے_ مشہور امریکی مورخ برنارڈ لیوس نے آج کی مغربی ترقی کی بنیاد میں اسلامی تہزیب کے اثرات کو کھلے دل سے تسلیم کیا ہے_ اگرچہ بعض مغربی مفکر روائتی مغربی نسل پرستی کی وجہ سے مسلم تہزیب کے احیاء کو مغربی تہزیب کیلئے خطرہ بنا کر پیش کرنے کا بیت عنکبوت بھی بُنتے نہیں تھکتے_ گزشتہ دو تین صدیوں سے مسلم دنیا کچھ اپنوں کی ناعاقبت اندیشی، کوتاہ نظری، طالع آزمائ اور کچھ دشمنان اسلام کی سازشوں کی وجہ سے زندگی کے ہر میدان علم و عمل سے نابلد ہو کر بیٹھ گئ اور مغرب نے اسکے قدرتی اور انسانی وسائل کی پلاننگ بالواسطہ اور بلاواسطہ اپنے ہاتھ میں لیکر انڈونیشیا سے مراکش تک کی مسلم اقوام کو محض صارفین کی ایک منڈی تک محدود کردیا_ دوسری طرف مسلم دنیا نے کسی حال میں بھی اپنی تہزیب و تمدن کو جو کہ انسانی ذہن نہیں بلکہ الہام کی بنیاد پر قائم ہوئ تھی اسکے احیاء کی امید کا دامن ہاتھ سے کسی حال میں بھی نہیں چھوڑا_ یہی وجہ ہے کہ خوشی کی ادنٰی سی خبر کسی بھی طرح کی پلاننگ، ایگلنگ اور بغض باطن کے ساتھ مسلمانوں کے سامنے رکھ دی جائے یہ اسکے معروضات اور عواقب کو مدنظر رکھے بغیر ہی جشن منانا شروع کردیتے ہیں اور گھات میں بیٹھے شکاری انکے جوش ولولے کی وڈیوز، فوٹو اور فلمز پھیلا.کر اپنے منصوبوں کو پورا کرنے میں جُت جاتے ہیں_ ایسا کچھ ہی نائن الیون کے موقع پر ہوا کہ امریکی عمارات پر طیارے کیا ٹکرائے مسلم دنیا میں کئ پرامید لوگ خوشی سے جھوم اٹھے؛ جبکہ انکو، انکے رہنماؤں، دانشوروں اور علماء کو کانوں کان بھی خبر نہ تھی کہ یہ تو محض tip of the iceberg تھی؛ اسکے بعد آج تک کی کہانی سب کے سامنے ہے_ مغرب اور اسکے اتحادیوں نے اسلام سے اپنے تئیں گزشتہ چودہ سو سالوں کا بدلہ چکانے کی کوشش کی_ ابھی حال میں طالبان کے بارے غزوہ ہند کا اعلان سامنے کیا آیا، صحیح یا غلط ایک الگ معاملہ، جنوبی ایشیاء کے مسلمان جوش سے لہرا اٹھے جبکہ بھارت، اسرائیل اور انکے زیر اثر مغربی میڈیا نے طالبان-امریکہ امن معاہدہ کے خلاف خبریں، کالمز اور پروگرامز کرکے طوفان برپا کردیا_ کہاں گیا وہ غزوہ ہند؟ اصل میں اسکا پروپیگنڈہ بھارت اور اسرائیل کی ضرورت تھی، کیونکہ وہ افغانستان میں امریکی فوج کو اپنے مفاد میں پھنسا کر، وہاں امن نہ ہونے دینے اور امریکہ-مسلم دنیا مخاصمت کی آڑ میں دنیا بھر میں مفاد اٹھا رہے ہیں_ ایسی ہی صورتحال اب طیب اردگان کے آیا صوفیہ کے فیصلے پر سامنے آئ ہے_ ایک میوزیم کے مسجد میں تبدیل کیئے جانے پر مجھے بھی بحیثیت ایک مسلم خوشی ہوئ لیکن اب یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ بھارتی انتہاپسند مودی سرکار نے پانچ اگست کو بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی سنگ بنیاد رکھنے کا جو اعلان کیا ہے اسکے بارے مسلم دنیا اپنا پریشر کیسے بلڈ کر پائے گی؟ اسکے بعد اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کا مسئلہ بھی کھڑا کرنا ہے اس موقع پر مسلم دنیا کیا موقف اختیار کرے گی؟ اس معاملے میں ترکی مسلم دنیا کے جذبات کو کیسے Manage کریگا؟ ترکی کے اس فیصلے نے عیسائ دنیا میں بھی اضطراب کھڑا کر دیا؛ ویسے ہی وہ مسلمانوں پر اعتراض کرنے میں اپنی کامیابی کا راز سجھتے ہیں_ اس واقعے نے وقتی طور پر عربوں کو مسلم د.نیا میں تھوڑا de-market اور degrade تو کیا ہے، لیکن، مجھے خدشہ ہے کہ ترکی کہیں کاغذی شیر ثابت نہ ہو_ کیونکہ حال ہی میں یونان کے شور مچانے پر ترکی نے متنازع علاقے میں ڈرلنگ روک دی؛ کہاں گئ ہمارے ترک بھائیوں اور مسلم دنیا میں انکی silent-majority کی دھاڑ اور نعرے؟ میں خود سعودی عرب کے ترکی کے اس فیصلے پر اعتراض کو انکی کمزوری پر دلالت کر رہا تھا، لیکن، میرا دل کہہ رہا تھا کہ کیا ترکی فی الحال اس معاملے پر status-quo برداشت نہیں کر سکتا تھا؟ دیکھنا پڑے گا ترکی اپنی اس solo-flight یا معاون مسلم ریاستوں کے ساتھ مسلم دنیا کے مذکورہ مفادات کا تحفظ کیسے کریگا؟ کیا ترکی مسلم دنیا کا بار اٹھانے کیلئے تیار ہے؟ اس موقع پر مسلم دنیا کیلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم اور فورم کے متحرک و فعال نہ ہونے کی تکلیف محسوس ہو رہی ہے کہ مسلم دنیا pan-Islamism اور nation-states کے پینڈولم میں جھولتے رہنے کے علاوہ کب تک حالات کے دھارے پر تنکوں کی مانند بہتے چلیے جائیں گے؟ مسلمان فوری طور پر تمام تر مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر OIC کا وقار بحال کرنے کے پیچھے پڑیں یا علامہ اقبال کی تجویز کردہ ایک Muslim Common-Wealth قائم کریں تاکہ مسلمانوں کے بعض مقتدر حلقے اور غیرمسلم قوتیں انکے ملکی، ملِّی اور بطور امت معاملات کو الگ الگ طور پر حل کرنے کی کوششوں میں مصلحتوں اور کمزوریوں کے زیر اثر فیصلوں کو اپنا وطیرہ نہ بنائیں_ اسکے بعد ہی مسلم اقوام اپنے حکمرانوں کو مجبور کر سکتی ہیں کہ وہ سرجوڑ کر بیٹھیں اور امت مسلمہ کے دیرینہ مسائل اور ان کے ساتھ بار بار ہونے والے کھلواڑ کا علاج ڈھونڈیں_
زمانے کی کروٹ لیکن مسلم دنیا کے خرَّاٹے؟
مبشر لقمان صاحب! آپ نے افریقی مسلم ملک جبوتی کی جغرافیائ Strategic-importance کی وجہ سے بڑی طاقتوں کی اس ملک میں ڈویلپمنٹ کے بارے میں عوامی رائے پوچھی ہے_ عرض یہ ہے کہ جب بھی عالمی سیاست میں مفادات کے کھیل میں کوئ موقع آتا ہے تو مسلم دنیا اس سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہتی ہے_ یا تو اس موقع پر انکے پاس مطلوبہ معلومات، تربیت اور صلاحیت ہی نہیں ہوتی یا قوت ارادی نہیں ہوتی یا امریکہ اور مغرب ان کو دھونس، دھاندلی، جھوٹے وعدوں، بلیک میلنگ یا آپس میں الجھا کر یا چکمہ دیکر یا انتشار پیدا کرکے قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں_ اسکی ایک بڑی وجہ کم و بیش پورے عالم اسلام میں اندرونی قوت کے مراکز کا اہم قومی امور پر فیصلہ سازی کے بارے میں معاشرے کے اہم طبقات کی ملکی مفادات کے بارے موثر تربیت اور ہم آہنگی کی اہمیت پر غور نہ کرنا؛ حکام اور عوام میں فاصلہ بھی اسی کا دوسرا رخ ہے_ آج سے بیس سال قبل جب مسلم دنیا کو احساس ہو چکا تھا کہ اس دنیا میں کیا ہو رہا تھا اور ہم کہاں کھڑے تھے اور ہمیں کیا کرنا چاہئے اور ہمارے حکمران کیا کررہے تھے تو امریکہ بہادر اور اسکے ہمنواؤں کے پیٹ میں درد شروع ہوگیا اور مسلمانوں کو وار آن ٹیرر کے نام پر engage کردیا گیا اور دنیا کو یہ باور کروایا گیا کہ مسلم دنیا مغربی colonialism, post-colonialism اور neo-colonialism کا victim نہیں بلکہ دہشتگردوں کی جائے پیدائش، تہزیب، گہوارہ اور متمنی ہے_ آپ ہی پوچھ رہے ہیں ناں کہ آج دہشتگردی کے وہ سب مغربی الزامات کہاں گئے؟ مسلم حکمران، مقتدر حلقے، میڈیا اور نام نہاد دانشور بھی انکے ان الزامات کے پیچھے چل پڑے_ اس صورتحال میں ہم ایسی developments سے کیا ہی استفادہ کریں گے سوائے اسکے کہ "وہ آیا، اس نے دیکھا اور وہ چلا گیا"_ جب تک مسلم دنیا gross-root سے اجتماعی معاشرتی مسائل پر غورِ فکر و عمل شروع نہیں کرتی اور مقامی اور ملکی وسائل، ریاستی اداروں کے بارے معلومات اور حکمرانوں سے کام لینے کے فن کو نہیں سیکھتے ہمیں احساس زیاں کبھی بھی نہیں ہو پائے گا_ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کوئ بھی موقع آنے پر اور زمانے کی کسی بھی کروٹ پر ہم اپنے آپ کو تیار کیوں نہیں پاتے؟ یا ہم اپنے آپ کو من حیث القوم pre-emptively تیار کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے خود ہی تو کہا ہے کہ دنیا معاشی مفادات کی جنگ لڑ رہی ہے اور مسلم ممالک اندرونی جنگوں میں مصروف ہیں_ سوال یہ ہے کہ یہ ہوم ورک مسلم حکمرانوں کو کس نے دیا ہوا ہے یا کون دیتا ہے؟ اسکا کھوج لگائیں گے تو اسکے پیچھے اسی امریکہ اینڈ سسٹرز اور اسکے گماشتوں کا ہاتھ ہی نظر آئے گا؛ اسکا سب سے بہترین پیمانہ انکی اسلحہ انڈسٹری کے گزشتہ بیس سال کے شرح منافع سے واضح ہے_ حتیٰ کہ ان کا چیلہ نما گرو اسرائیل تک سالانہ اربوں ڈالرز کا اسلحہ بیچ رہا ہے_ بہرحال مجھے معلوم نہیں آپ کیسے سوچتے ہیں لیکن میرے نزدیک مسلم دنیا OIC کو تحرک دیں یا پھر فوری طور پر اقبال کے ویژن کے مطابق مسلم دنیا کوئ اور موثر ادارہ یعنی Muslim Common-Wealth تشکیل دیں_ ہم اپنے حکمرانوں اور حکام کا گریبان پکڑیں گے تو وہ کہیں سر پکڑ کر بیٹھیں گے_ جناب! اس قوم کو یہ ضرور سکھائیے کہ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمتی، قومیں مخلص رہنماؤں کی نشونما، تربیت اور قربانی سے بنتی ہیں_ لیکن ہمارے میڈیا اور فلم انڈسٹری کو کس کام پر لگایا گیا ہے؟ غلط تربیت پر؛ جسکا عکس سوشل میڈیا پر واضح ہے_ جس قوم کی تربیت کے سوتے خشک کردیئے جائیں اس قوم کا خون خشک کئے جانے کا کھیل کبھی ختم نہیں ہوتا!
ٹوک مارنا ایک ضرورت بھی ہے؛ لیکن......
پاکستان کی تمام اقوام خود آپس میں اور ایک دوسرے پر طنز اور مذاق کی عادی ہیں سب کو اس برائ کا خاتمہ کرنا چاہیئے_ میں نے ایک علاقے کے پٹھان بھائیوں کو دوسرے علاقوں کے پٹھانوں کا مذاق اڑاتے بھی دیکھا ہے_ پنجابی پنجابیوں کا مذاق اڑاتے ہیں؛ حتیٰ کہ عزتیں بھی اچھالتے ہیں_ ابرار الحق کا "نچ پنجابن نچ" یاد ہے؟ سب کو اپنی اصلاح کی ضرورت ہے_ قرآن کی سورۃ الحجرات میں کسی کے الٹے نام رکھنے، مذاق اڑانے اور طنز کرنے سے واضح طور پر منع کیا گیا ہے_ ہم نہیں جانتے کہ کسی شخص یا قوم کے بارے میں کہے گئے ایک غلط لفظ سے کتنی نفرت جنم لے لیتی ہے_ خاندان اور رشتہ داریاں بکھر جاتی ہیں ایسی چھوٹی چھوٹی زبان ماری سے_ ہمارے ہاں اداکاروں، سیاستدانوں، علماء، دانشوروں اور صحافیوں نے قوم کا یہی مزاج بنایا ہے_ ویسے "بلبلے" والوں نے معذرت بھی کی ہے کہ جان بوجھ کر ایسا نہیں ہوا_ انکا بڑا پن ہے_ پختون بھائیو! میں پنجاب کا رہائشی اردو سپیکنگ ہوں اور کسی قوم کی بھی ہتک آمیزی کے چٹکلوں اور لطیفوں کی فوراً مذمت کرتا ہوں_ بعض قوموں اور لوگوں کی کچھ مخصوص باتیں ہوتی ہیں جنھیں وہ خود بھی ہنسی مذاق میں چھیڑتے رہتے ہیں؛ ایسی باتوں کو لطیف پیرائے میں سمجھنے سمجھانے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن پوری قوم یا خاندان کا تمسخر اڑانے کیلئے نہیں_ ہمارے جنوبی پنجاب کے سرائیکی علاقوں میں سرائیکی ارائیوں کی ایک ٹوک بڑی مشہور ہے اسکے پیچھے کہانی یہ ہے کہ ایک گھر سے ملحق جانوروں کے بھانے میں ایک سانپ بیٹھا تھا_ اس گھر میں سات بھائ رہتے تھے_ اتفاق سے ایک بھائ بھانے میں گیا اور پھر سب کے ساتھ اپنے گھر میں آکر بیٹھا اور کچھ ہی دیر میں فوت ہوگیا؛ دوسرے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا؛ پھر تیسرے کے ساتھ_ غرض ساتوں بھائ اسی طرح باری باری ایک ہی سانپ سے ڈسے گئے اور سب فوت ہوگئے_ اس پر کہاوت بنی "ستے ڈسہے گئے ہن ڈہسیا ہک نہ" یعنی ساتوں کو سانپ نے ڈسا لیکن کسی نے بھی زبان نہیں کھولی__یہ ایسے ہی ہے ہمارے تمام حکمران امریکہ اور برطانیہ سمیت مغربی طاقتوں کے ہاتھوں نقصان اٹھاتے ہیں، خود بھی مرتے ہیں، ملک و قوم کو بھی تباہ کروائے رکھتے ہیں اور نہیں بتاتے کہ حقیقت کیا ہے؛ صرف یہ کہہ کر چپ ہوجاتے ہیں کہ وقت آنے پر پتہ چل جائے گا__ ہم بھی سرائیکی آرائیوں کو یہ ٹوک کبھی کسی معاملے پر مار دیتے ہیں لیکن وہ برا نہیں بناتے؛ اپنے لوگوں کو بھی بعض دفعہ سمجھانے کیلئے سناتے ہیں لیکن سرائیکی ارائیوں کا مذاق اڑانے کیلئے نہیں_ وہ ہم پر بھی ٹوکیں لگاتے ہیں، ہم بھی ہنس پڑتے ہیں_ ٹوک اگر صاف دلی اور اصلاح کیلئے ہو تو سمجھانے کا ایک آسان اور سادہ ذریعہ بھی ہے، لیکن قرآن کے مطابق ایک قوم کو دوسری قوم کا مذاق اڑانے سے بچنا چاہئے_ پختونوں آپ اور ہم سب صرف پاکستانی ہیں، دل بڑا رکھنا چاہئے سب کو_
Monday, July 27, 2020
بھارتی میجر گوراو آریا کو ایک پاکستانی کا جواب
میجر گوراو! میں بطور ایک عام پاکستانی اپنی بساط کے مطابق، بلاتفریق، پاکستان کے ہر ادارے اور شخصیت کا خود بھی کڑا ناقد ہوں اور ان کے بارے تعمیری تنقید کو بھی سن لیتا ہوں_ آپ کی ایک یوٹیوب وڈیو Major Gaurav Arya speaks to people of Pakistan میں آپ کے بحیثیت ایک بھارتی آرمی آفیسر کے یوں پاکستانی عوام سے بلاواسطہ تخاطب پر نامعلوم میرا یقین پاک آرمی پر اور کیوں بڑھ گیا؟ ہاں! سرِ راہ ایک بات اور یاد آئ کہ میری نانی جان دوران گفتگو ایک محاورہ کبھی کبھی بول جاتی تھیں "بغل میں چھری، منہ میں رام رام"_ یقین کیجئے! مجھے زندگی میں اسکے معنی اس طرح سے سمجھ نہیں آئے، جیسا کہ آپ کے پاکستانی عوام کیلئے اس گہرے "درد" اور "محبت" بھرے لیکچر کی سماعت کے بعد آئے_ خیر چھوڑیئے! مجھے تو آپ کے gestures سے یہ بھی لگا جیسے آپ میدان جنگ کی کھلی اور خفیہ سرگرمیوں میں اپنے دانت کھٹے کروانے کے بعد پاکستانی عوام کو بےوقوف سمجھ کر اپنی چانکیہ اسٹرٹیجیز کو ادھر آزمانے آدھمکے؟ میجر صاحب! پاکستانی لکھنا پڑھنا ضرور بھولے بیٹھے ہیں، یہ ایک الگ داستان ہے، لیکن، یاد رکھئے! سب پاکستانی سوچنا نہیں بھولے؛ جناح نے کیا کہا تھا؟ "ہمارا دشمن ہمیں اٹھا کر بحیرہ عرب میں بھی پھینک دے تو ہم ہار نہیں مانیں گے"_
آپ کا یہ تلخ سواگت دراصل آپ کو یہ احساس دلوانے کیلئے ہے کہ آپ کو تو پاکستان کا احسان مند ہونا چاہئے کہ پاکستان عالمی امن کا ٹھیکہ دار بن کر بھارت کے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں پر مظالم کے زخم برداشت کر رہا ہے، اس سے بہتر ہے کہ پاکستان غیرجانبدار ہو کر بیٹھ جائے اور پھر دیکھیں بھارت کیسے ظلم کی داستانیں رقم کر پاتا ہے؟ پھر کیسے پوری دنیا کے مسلمان چاروں طرف سے بھارت کی ریڑھ لگاتے ہیں_ یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آپ مغربی ممالک کے بنائے گئے جنگل کے قانون سے فائدہ اٹھا رہے ہیں کہ کوئ آپ سے انصاف کا تقاضہ ہی نہیں کرتا ورنہ آپ کو اپنے "اخلاقی" بھاشنوں اور انسان "دوستی" کی حقیقت معلوم ہو جاتی_ بھارت، پاکستان کی اعتدال پسندی اور عالمی امن کی خاطر قربانیوں کو ہوا میں اڑا کر اور کمزوری سمجھ کر مسلسل غلطی کر رہا ہے_ آپ کو یاد دلواؤں کہ 48-1947ء میں کسطرح سے پاکستانی قبائلیوں نے بھارتی فوج کو سری نگر تک دھکیل دیا تھا_ اگر آپ کہتے ہیں کہ اس وقت پاک فوج ان مجاہدین کے ساتھ تھی تو آج پھر ایک acid-test کر لیتے ہیں، جیسا میں نے پہلے کہا کہ پاکستان نیوٹرل ہو جائے تو بھارت کو پتہ چل جائے گا، پہلے صرف قبائلی تھے اب تو پورے عالم اسلام کے نوجوان انکی مدد کو پہنچ جائیں گے_ اس لیئے پاک آرمی کے وجود کو نعمت سمجھئے اور خود اپنے لیئے ہی گڑھا نہ کھودیں_ ورنہ ابھی تو آپ ghost-jihadists, Daesh اور false-flag attacks کے ڈرامے کرتے ہیں، پھر آپ کو اصل میں اسکا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے_ پاک آرمی کے بارے اس طرح سے پراپیگنڈہ نہ کریں کہ کل کو وہ سارے "گھس بیٹھیئے" پاکستان کی بھی سننے سے مطلقاً انکار کردیں اور آپ بےبسی سے ہاتھ ملتے رہیں_ اس صورت میں آپ کے دوست اور انکے زیر اثر عالمی ادارے بھی آپکے بھاشن نہیں سمجھ پائیں گے_
جہاں میں آپ کی پاکستان کی بھارت دشمنی، ہندو دشمنی کی تسبیح سن کر آپ کے پراپیگنڈے کی صلاحیت کا انتہائ معترف ہو گیا ہوں وہاں مجھے مکتی باہنی بھی یاد آگئ، ایم-کیو-ایم، بلوچ قوم پرستوں اور بعض پختونوں پر آپکے یدِ شفقت کی بازگشت بھی میرے کانوں میں گونج اٹھی_ ویسے تو مجھے آپکے کلبھوشن سنگھ کے کراچی سے پشاور تک بم دھماکوں اور دہشتگرد حملوں کی آوازیں بھی نہیں بھولیں جسے آپ نے تو پہچاننے سے ہی انکار کر دیا تھا_ وہی کلبھوشن! اپنا وہ نیول آفیسر، وہ جو ایران میں چھوڑا ہوا تھا آپ نے! وہ جسے آپ کے پاکستانی elected وزیراعظم نے عالمی عدالت سے چھوٹنے تک کا موقع بھی فراہم کر دیا تھا_ اچھا اسے بھی چھوڑیئے، ہم پاکستانی ایک تو بے گناہ بھارت پر سو گنا الزامات لگانے سے باز ہی نہیں آتے_ چلیں اندرا جی کے اس بیان کی بات کرتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کے خلاف ثقافتی جنگ جیت لی ہے جبکہ آپ کی اسی فتح کا اعادہ سونیا جی کچھ اس طرح سے کرتی ہیں ’’ پاکستان کا بچہ بچہ ہندوستانی تہذیب کا دلدادہ ہے ، پاکستانی ٹی وی بھی ہمارے رقص بڑے فخر سے دیکھاتا ہے “_ میجر صاحب! یہ ہیں آپ کے ہتھیار کہ آپ اپنی خواتین کے تھرکتے جسموں کے ذریعے تک سے پاکستانی عوام کو نشے کے انجکشن لگانے کو بھی اپنی کامیابی سمجھتے ہیں اور پھر بھارت دشمنی اور ہندو دشمنی کے شکوے کا راگ بھی الاپتے ہیں؟ کیا بھگوان نے عورت کو نچوا نچوا کر غیر ہندو اقوام کے نوجوانوں کو جنسی ہیجان میں مبتلا کرنے کا آرڈر بھی کیا ہے؟ کتنی strategic-depth ہے آپ کی پاکستانی عوام کے ساتھ "ہمدردی" میں!
ابھی تو میں بھارت کے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم، بھارتی مسلم اقلیت کے جلاؤ گھیراؤ، قتل و غارت گری کی ہوشربا داستانوں کا ذکر ہی نہیں کر رہا کیونکہ اس وڈیو میں آپ نے اس پر بات نہیں چھیڑی_ ہاں یہ ضرور بتائیے کہ بھارت نے پاکستان میں سی-پیک پراجیکٹ کو sabotage کرنے کیلئے چار ارب روپے مختص کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی، جبکہ یہ نرم ملائم روڈ تھا ہی قرضے کی مرہون منت؟ پاکستان کے اس "بیکار" پراجیکٹ پر آپ دیوانہ وار کیوں ناچ رہے ہیں؟ میجر صاحب! مان لیں، بات کچھ بنتی نہیں_ چلیں یہ بتائیں کہ جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو پاکستان تو اپنے دفاع کیلئے وہاں لڑا، لیکن امن کی آشا والی بھارتی فوج کے مرد و خواتین وہاں سوویت یونین کی حمایت میں کیوں بھیس بدل کر لڑتے رہے؟ کیا کہا؟ یہ بھی الزام ہے تو بتائیے کہ جب امریکہ بہادر طالبان سے بدلے کے نام پر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا رہا تھا تو ان افغانوں کی لاشوں پر آپ اپنی دکان کھولنے وہاں کیوں گئے اور وہاں آپ نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کی امپورٹ-ایکسپورٹ کیلئے درجن بھر سفارتخانے بھی بنا ڈالے اور پاکستان میں حملہ کرنے والے ہمارے ہی نوجوانوں کو اسی طرح کے لیکچر دیکر ہمارے ہی خلاف استعمال کیا، تو اب آپ کے بھارت دشمنی اور ہندو دشمنی کے طعنے ججتے نہیں ہیں؛ نہ ہی یہ کامیاب ہونگے کیونکہ پاکستان کے عوام کو آپ کے رام رام جپنا، پرایا مال اپنا کا کھیل پوری طرح سمجھ آچکا ہے؛ اس وجہ سے تو آپ بوکھلا کر اب یوٹیوب کے لیول پر مورچہ سنبھال کر بیٹھ گئے ہیں_ لطیفہ تو یہ ہے کہ پھر آپ پوچھتے ہیں بھارت پاکستان کے خلاف کیا کر رہا ہے؟ ہندو مسلمانوں کے خلاف کیا کر رہے ہیں؟ میجر صاحب! ویسے ڈھٹائ کی بھی حد ہے! کیا ہماچل پردیش میں نو آباد یہودیوں کا جھوٹا تو نہیں کھا بیٹھے؟
میجر صاحب! ایک تو پاکستان مخالفت میں آپ لوگوں کو بھٹو صاحب کی پھانسی نہیں بھولتی؛ ذرا پاکستان کے ان پڑھ بھولے عوام کے لیئے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے اس سنہری قول کی تشریح تو کیجئے "بھارت کو ہزار زخم لگائیں گے"! اگر آپ کو وقت ملے تو ذرا پاکستانی عوام کو بھٹو مرحوم کو دی گئ امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر کی اس دھمکی کی تفصیل تو بتائیے "ہم تمھارا نام عبرت بنا دیں گے"! دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے آصف زرداری صاحب selected تھے یا elected؟ جناب آپ کے ریکارڈ کیلئے بتادوں وہ بھی وار آن ٹیرر کے تسلسل کیلئے selected ہی تھے پھر اس وقت آپ جیسے پاکستانی عوام کے "خیرخواہ" زرداری صاحب کو امریکہ کی خوشنودی کیلئے سلیکٹ کرنے والی اسی پاکستانی آرمی کے اقدام کے بارے میں خاموش کیوں بیٹھے رہے؟ پاک آرمی نے قبائلی علاقوں میں عوامی خواہشات کے خلاف آپریشن کیئے تب بھی آپ پاک آرمی کو سپورٹ کرتے رہے، کیوں؟ اس وقت آپ کو کراچی میں اسلحہ سے بھرے گم ہونے والے ہزاروں کنٹینرز کا خیال نہیں آیا کہ کل کو یہ پاکستان کی اسی عوام کیلئے مسئلہ بن جائیں گے؟ میاں نوازشریف صاحب مکمل طور پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سیاست میں آئے تو آپ یعنی بھارت انکی مخالفت کرتا رہا، اب جب پاک آرمی اور میاں صاحب کے درمیان کچھاؤ پیدا ہوا تو آپ کو میاں صاحب elected نظر آنے لگے_ اس سے تو صاف ظاہر ہوا کہ اگر پاکستان بھارت کے دباؤ میں رہے، پاک آرمی عوام کے جذبات کے خلاف کام کرے، پاکستانی سیاستدان اور میڈیا بھارت کی زبان بولیں تو سب کچھ ٹاپ-کلاس، ورنہ سب ہندو دشمنی اور بھارتی دشمنی کے نام پر کھانے میں لگے ہیں؟ آپ خود ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں!
آپ نے بڑی چرب بیانی سے کچھ کشمیر یوں اور کشمیری صحافیوں کو بھارتی میڈیا پر آزادی دینے کی بڑک لگائ ہے، اسکی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئ کسی کی آنکھیں نکال لے اور پھر ساری زندگی اس کی انگلی پکڑ کر رہنمائ کرتا پھرے_ جائیے کسی اور کو یہ کتھا سنائیے! میں آپ کو آپ کے ہندو بھائیوں کی علم دوستی اور برداشت کی بات بتاؤں کہ مجھ جیسے معمولی علم و اختیار والے ایک عام پاکستانی کو یاہو چیٹ رومز میں بالکل برداشت نہیں کرتے تھے، جہاں میں مسلمانوں کے مخالفین کو جواب دیتا، فوراً مجھے boot کرکے بھارتی ہیکرز عین موقع پر روم سے نکال دیتے_ اسی طرح Quora پر بھارتی ماڈریٹرز کو میرے جوابات سے بڑی الرجی تھی اور وہ میری طرف سے پاکستان، اسلام اور عالم اسلام کے بارے کسی بھی vindication کو فوراً collapse کروا دیتے تھے_ ایک مرتبہ میں نے Quora پر ہمارے نبی کے خلاف بھارتی ہندوؤں کے بیہودہ الفاظ پڑھے تو میں نے اس ویب سائٹ انتظامیہ کو شکایت کی، اسکے فوراً بعد الٹا مجھ پر ہی کچھ دن کیلئے پابندی عائد کروا دی_ پھر میں نے ایک اور طریقہ استعمال کرکے ان شدت پسند ہندوؤں کے اسلام مخالف مواد کو وہاں سے ہٹوایا_ اسی طرح میرے Facebook اکاؤنٹ پر میری پوسٹس روکنے کیلئے ایسے ایسے اقدامات کیئے گئے کہ مغربی قارئین تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے_ آپ کا ملک بھارت علم دوستی اور حقیقت پسندی کا کیسا علمبردار ہے؟ آپ کی اپنی یہ حالت ہے اور آپ پاکستانی میڈیا کی آزادی کا واویلا کر رہے ہیں_ ابھی چائینہ کے لداخ پر قبضے کے حوالے سے آپ کے میڈیا کو سانپ نہیں سنگھوایا گیا تھا؟ بولتی کیوں بند کروائ گئ تھی بھارتی میڈیا کی؟ یہ بھارتی فوج کا ہی معاملہ تھا ناں؟ ہر معاشرے کی اپنی ریڈ لائنز ہوتی ہیں_ میجر صاحب! یہ آپ ہیں جنھوں نے بلا وجہ کا پاکستان اور مسلمانوں کا خوف اپنے دل میں پالا ہوا ہوا ہے_ آپ کے خوف کا لیول یہ ہے کہ آپ کو تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے باؤنسرز بھی بھی رات کو سونے نہیں دیتے تھے؛ آپ نے پاکستان میں کھیل کی تباہی کیلئے کیا کچھ نہیں کیا؟ میں تفصیل کیا بتاؤں، آپ خود ہی اپنے کرتوت یاد کرلیں_ پاکستان کے پڑوسی بھارت کی پاکستان دشمنی کا جب یہ لیول ہو تو پاک آرمی کو بھارت دشمنی اور ہندو دشمنی کے جواز گھڑنے کی ضرورت رہ جاتی ہے؟ اپنی تاریخ یاد کریں جس ہندو انتہاپسند نے ہمارے پیغمبر خاتم الانبیاء محمد (ص) کے خلاف کتاب لکھی تھی اسکا محرک پاکستان کی بھارت دشمنی یا ہندو دشمنی یا پاک آرمی بنی تھی؟
پاکستان آپ کے پراپیگنڈے کے لحاظ سے نام نہاد بھارت دشمنی یا ہندو دشمنی نہیں بلکہ اپنے آئیڈئلز سے انحراف کی سزا بھگت رہا ہے جس میں اسکی نظریاتی اساس سے دوری، علامہ اقبال اور محمد علی جناح کے پاکستان کے بارے اسلامی فلاحی مملکت کے ویژن کے بارے مغربی پالیسیوں کے تحت تشکیک اور غفلت کا شکار ہو کر اپنے نشانات راہ کو بھول جانے کا دخل بدرجہ اتم ہے_ پاکستان کسی جرنیل، سیاستدان، مولوی، جاگیردار، سرمایہ دار یا میڈیا گروپ کی ملکیت نہیں بلکہ خدا کی امانت ہے جسکے امین عوام ہیں_ آپ شائد بھول گئے ہم ایک تہزیب کے بیٹے ہیں جس کے احیاء کو روکنے کیلئے انسانیت کی خدمت کی بجائے مسلم دنیا کی brain-washing کیلئے آپ اور آپ کے مغربی دوست اربوں ڈالرز خرچ کرتے ہیں اور شیطانی قوتوں کا یہ اضطراب ہی ہمارے نظریات کی طاقت ہے جنھیں آپ کھوکھلا کہہ رہے ہیں_ آپ کی "امن پسند" ہندو جنتا نے کبھی امریکیوں سے بھی پوچھا کہ انھوں نے کس مقصد کی خاطر کئ ٹریلین ڈالرز مسلم دنیا کے خلاف جھونک دیئے؟ آپ ایسا نہیں کرسکتے تھے کیونکہ آپ کو انسانیت نہیں صرف اپنے منافع سے ہی دلچسپی ہے کہ ہندو بنیے کی یہی نفسیات ہے_ آپ اچھے وقت کا انتظار کریں ہمارے پاس ویژن بھی ہے، اگرچہ وقتی تاریکی بھی ہے؛ قوموں پر ہر طرح کے دن آتے رہتے ہیں_ آپ کو ایک خاص راز بھی بتا دوں ہمیں اپنی فوج سے ہی حالات کی تبدیلی کی سچی امید ہے_ میں کسی جنرل کا دفاع نہیں کر رہا، آپ پاکستانیوں سے مخاطب ہوئے تو میرا فرض ہے کہ ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے اپنی فوج کو exploit کرنے والوں کو جواب دوں کہ حالات کی اس تاریک رات میں بھی ہم سوئے ہوئے نہیں بلکہ اس فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جن کے خون اور پسینے کے قطرے اسی پاک سرزمین کی مٹی میں مل جاتے ہیں؛ جنکے جسم کا گوشت اور ہڈیاں بھی اسی سرزمین کی خاک میں مل جاتی ہیں_ رہ گئے مغرب میں جائدادیں اور نوکریاں ڈھونڈنے والے، انکی نیت کے حساب سے اتنا ہی کہوں گا "پہنچی وہیں پر خاک جہاں کا خمیر تھا" _
میجر صاحب! ہم پاکستانی بھارتی ہندوؤں کی طرح زمین اور قوم پرست نہیں ہیں، یاد ہے جنرل ضیاءلحق مرحوم نے کہا تھا کہ ہندوؤں کا صرف ایک ملک ہے اور مسلم ممالک بہت سارے ہیں، اگر بھارت، خاکم بدہن، اکیلے پاکستان کو مٹا دے بھی دے تو باقی دنیا کے مسلمانوں کا بھارت کیا بگاڑ لے گا؟ جناب من! عربوں کے خلاف ہندو شدت پسندوں کی نفرت بھی کیا پاکستان کی بھارت دشمنی اور ہندو
دشمنی کا شاخسانہ ہے؟ دیکھئے پھر کس طرح پورا عرب ہندو انتہاپسندوں کے خلاف بھڑک اٹھا اور عربوں کو بھی اندازہ ہوگیا کہ بھارت کے سیکولر چہرے والے جسم میں دل و دماغ کس قسم کے خطرناک ہندو انتہا پسند اور شدت پسند جذبات کے اخراج کا منبع ہے_ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی انتہا پسند ہندو پاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام کے ہی دشمن ہیں_ جبکہ میں تو انھیں پوری انسانیت کا دشمن سمجھتا ہوں_ میجر صاحب! مٹی کا یہ جسم مٹی میں ہی مل جائے گا، پاکستان اور بھارت زمین پر ہی رہ جائیں گے لیکن ضمیر اور آتما کا ساتھ ٹوٹنے والا نہیں_ اس ضمیر کو زندگی کا ایک نیا پہلو دکھانے کیلئے آپ خالی الذہن ہو کر دل صاف کرکے صرف ایک مرتبہ قرآن مجید کا ترجمہ خود سے پڑھ کر تو دیکھیں پھر آپ کو ایک مسلم اور غیر مسلم معاشرے کی سوچ کا اندازہ صحیح معنی میں ہو جائے گا کہ پاک آرمی سمیت کوئ پاکستانی ادارہ یا شخصیت محض بھارت دشمنی اور ہندو دشمنی کے سہارے نہیں کھڑے بلکہ انکے مقاصد میں سے اہم ترین اسلام کی تعلیمات کے تحت بقول جناح ایک اسلامی فلاحی مملکت کا قیام عمل میں لانا تھا، جہاں ہم سکون کر بیٹھ کر بھارتی ہندوؤں سمیت دنیا بھر کے غیرمسلموں کو دعوت اسلام دیتے کیونکہ یہ انسانیت کی ضرورت ہے؛ اگر آپ کے دیومالائی فلسفے میں اتنا دم خم ہے تو آپ بھی کرکے دیکھ لیں پتہ لگ جائے گا، لیکن آپ نے تو ویسے ہی اپنے ہی سائے سے ڈر کر سیکولرازم کا ماسک چڑھا لیا تھا کیونکہ آپ کو اپنے نظریات کے تہی دامن ہونے کا بخوبی علم تھا اور ہے؛ سیکولر ماسک کے باوجود مسلم دشمنی آپ کے خون سے نکل کر رنگ بکھیرتی رہتی ہے؛ پتا نہیں یہ کیسا سیکولرازم ہے جس میں Saffron-Terrorists کی جگہ تو ہے لیکن ڈاکٹر ذاکر نائک جیسے بے ضرر کیلئے جگہ نہیں_ شکریہ! (تحریر: عبدالرحمٰن)
Saturday, July 25, 2020
بحیثیت پاکستانی، عربوں اور ترکوں کے بارے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہیئے؟
گزشتہ کچھ ماہ سے بعض نا سمجھ مسلم طبقات، تنقید کی معقول حد سے نکل کر عربوں کے خلاف زہر فشانی پر لگا دیئے گئے ہیں؛ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج اہل مغرب سر پیٹ رہے ہیں کہ سعودی عرب نے مسلم دنیا میں توہمات سے پاک اسلام، توحید خالص اور جہاد کی تعلیم پھیلا دی اور اب وہ خفیہ طور پر ہر طرح سے عربوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر انھیں گھیرنے اور عالم اسلام سے کاٹنے کا کھیل رچا رہے ہیں_ ہمیں آج کی مجبور عرب دنیا کی کچھ غلطیاں نظر آتی ہیں لیکن جب پوری مسلم دنیا ان سے مالی مفادات اٹھاتی ہے تو ان کو انکی خامیاں بالکل بھی نہیں بتاتی_ کبھی ہم اپنی خودغرضی پر بھی غور کریں گے؟ عرب کوئ فرشتے نہیں لیکن ذرا ہم اپنے اور ان کے اعمال کا موازنہ تو کرکے دیکھیں کہ ہم خود کتنے قابل اور متقی مسلمان ہیں؟
بلا شبہ، ﷲ تعالٰی ترک مسلمانوں کو کامیابی دے! اٰمین! یہ کوئ عربوں کی قیمت پر نہیں ہے_ ترک قوم کا اپنا مزاج اور میدان ہے_ لیکن ہمارے کج فہم سمجھ لیں! آج ترکی مسلم دنیا کے جس جذبہ مزاحمت کو سمیٹ رہا ہے اسے گزشتہ چھ دہائیوں سے عربوں نے بھی کافی حد تک نظریاتی اور عملی لحاظ سے سینچا ہے_ حالات حاضرہ میں، تمام مسلمان، کشمیر اور فلسطین کو آزاد کروانے کی فکر کریں؛ مسلمانوں کی پیٹھ میں تاریخی الجھنوں کے خنجر نہ گھونپیں_ ایسی حرکتوں سے پورا عالم اسلام بشمول ترکی کمزور ہوجائے گا_ ترکی کو مسلم دنیا کے اتحاد کی ضرورت ہے نہ کہ آپس میں ہی دست و گریباں ہونے کی_ ترکوں کی حمایت میں مسلم دنیا کو تقسیم کر دینا ایک نئ حماقت ہوگی، جس سے بچاؤ ضروری ہے_
سعودی عرب صرف بنگلہ دیش میں سو مساجد، اسلامک سینٹرز اور کتب خانوں کیلئے ایک ارب ریال خرچ کر رہا ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ اسلامک سینٹرز سعودی عرب ہی چلا رہا ہے_ تحقیق کرکے دیکھیں مسلم-عیسائ مکالمے میں کون سا مسلم ملک سب سے آگے ہے، جس کی وجہ سے بڑے بڑے مغربی دانشور اسلام کی سچائ یا قبول کر لیتے ہیں یا اسلام کے بارے میں معتدل ہو جاتے ہیں؟ یہ سعودی عرب ہی ہے جو مسلمانوں کی نظریاتی ڈھال بنا رہا ہے_ ﷲ جس قوم کی قسمت میں جو صلاحیت اور کامرانی بھی لکھ دے_ اِدھر ہمارے بیوقوف بنائے گئے لوگ ہیں جو آپس میں ہی ایک دوسرے کی شکست کو اپنی فتح سمجھتے ہیں_
پاکستانی ریاست اور ادارے عربوں، ترکوں اور ایرانیوں کو جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں، توڑنے پر نہیں_ پاکستان نے ہمیشہ خود زخم کھا کر مسلم ممالک کو جوڑنے کی بات کی ہے_ جب بھی عرب اور ایرانی خطرے کی حد کو پہنچے پاکستان نے آگے بڑھ کر مصالحانہ کردار ادا کیا_ پاکستان کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر بزور شمشیر قبضے کی حمایت نہیں کرتا_ آج پھر مملکت خداد پاکستان کا امتحان ہے کہ ہمارے ارباب اختیار چین، روس اور امریکہ کی کُشتی میں اپنے آپ کو اور امت مسلمہ کو کیسے سنبھالتے ہیں؟ ترکوں اور عربوں کے درمیان پُل کا کردار کیسے ادا کرتے ہیں؟ آئندہ کی کسی عرب-ایران مخاصمت کو کیسے روکتے ہیں؟
بحیثیت عوام ہمارا یہ فرض ہے کہ ہمیں معلوم ہو ہمارا مقصد کیا ہے؟ ہمارا راستہ کیا ہونا چاہیئے؟ پھر خود ہی ڈنڈے بندوقیں اٹھا کر فیصلے نہ کرتے پھریں بلکہ حکومتوں کو اپنے آئیڈیلز کی ذمہ داریاں سونپ کر ان سے کام لینے اور انھیں سیدھے راستے پر رکھنے کا فن سیکھیں_ جو اقوام اپنے حکام، اداروں اور وسائل کا استعمال نہیں سیکھتیں ان کی تمام صلاحیتیں اور وسائل دشمن کے دسترس میں چلے جاتے ہیں؛ انھیں فکری اور عملی الجھن کا شکار کر دیا جاتا ہے، انکے اندر غدار فیکٹریاں کھل جاتی ہیں اور پھر باہمی الزام تراشیوں کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے_ عوام اپنے حکام سے معاملہ فہمی کی بنیاد پر سوالات کریں اور انھیں انکی ذمہ داری کا احساس دلوائیں _
اس نازک موڑ پر مخلص علماء اور اہل دانش تمام قسم کی مصلحتوں اور مفادات سے بالا ہو کر حکام اور عوام کے درمیان مثبت کردار اور تربیت کا فریضہ ادا کریں_ ہماری کسی سے لڑائ نہیں بلکہ ہمیں پرائ لڑائیوں میں بطور ایندھن استعمال کیا جا رہا ہے، اب ہمیں عقلمندی سے اپنے آپ کو بچا کر چلنا ہوگا، ورنہ آس پاس کی خاردار تاریں ہمارے لباس اور جسم کو مزید تار تار کرکے رکھ دیں گی_ ہم صرف اتنا سوچ لیں دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے ہیں یا اپنے بچی کچھی میراث کو بچانا ہے؟ اسکا طریقہ محض علم، افہام تفہیم، تحمل اور برداشت ہے_ ہزاروں کمزوریوں کے باوجود ہمیں اپنے اداروں، مقتدر حلقوں اور شاہینوں پر فخر ہے؛ ﷲ ان کی کامیابی کیلئے حالات سازگار کردے! آمین!
(تحریر: عبدالرحمن)
Thursday, July 23, 2020
بھارتی مقبوضہ کشمیر؛ پاکستان کی سفارتکاری آکسیجن ٹینٹ میں کیوں ہے؟
مغربی استعمار کی سیاسی نفسیات ہے کہ جب بھی کسی معاملے پر بادل ناخواستہ سمجھوتہ کرتے ہیں تو اس معاملے میں کوئ نہ کوئ سقم یا زخم ضرور چھوڑ جاتے ہیں کہ وہ رستا ہی رہے_ ان سے آزادی حاصل کرنے والی ریاستوں کے سرحدی، زمینی اور علاقائ تنازعات کی فصل کی کٹائ تاحال جاری ہے_ ان سلگتے مسائل میں سے کشمیر اور فلسطین دو منفرد مثالیں ہیں کہ جن میں دونوں اطراف کے فریقوں کا حق خود ارادیت اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے تسلیم کیئے جانے کے باوجود دانستہ وقت گزار کر ان مسائل کی ہیئت ہی تبدیل کر دی گئ ہے اور تاحال جاری ہے_ پاکستان کے عظیم رہنماء محمد علی جناح نے کشمیر کے بارے میں برطانوی بدنیتی کو بھانپتے ہوئے بھارت کو لوہے کے چنے چبواتے ہوئے بھارتی فوج کو سری نگر تک دھکیل دیا تو بھارت اقوام متحدہ کی طرف جنگ بندی کیلئے بھاگ کھڑا ہوا_ قائداعظم کشمیر کو محض زمین کے ایک ٹکڑے کے طور پر نہیں بلکہ اسکی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر اسے پاکستان کی شہہ رگ قرار دے گئے تھے_ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کی رائے شماری کے حق کو تسلیم کیا اور اس طرح سے جنگ بندی پر عمل درآمد ہوا_ اسکے بعد سے کشمیر کے معاملے پر پاک-بھارت جنگوں، جھڑپوں اور اپنے آپ کو مسلح کرنے کی نفسیات اتنی غالب آئ کہ دونوں ممالک بھاری بھرکم افواج اور روائیتی ہتھیاروں سمیت خطرناک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہوگئے_
پاکستان اور کشمیری تقریباً تینتالیس سال عالمی اداروں اور طاقتوں کا منہ تکتے رہے کہ کب کشمیر کے معاملے کو حل کروانے پر عملدرآمد شروع ہوگا لیکن کسی عالمی داستان میں بھارتی فوج کے ہاتھوں سلگتے کشمیر پر پاکستان کے موقف کی کوئ داستان نہ تھی_ اس دوران بھارت نے اپنے زیر تسلط کشمیر پر جعلی سیاسی کشمیری قیادت کو کشمیریوں پر مسلط کیئے رکھا اسکا نتیجہ تنگ آمد بجنگ آمد ہی تو نکلنا تھا_ آئے دن کی عصمت داریوں، اغوا، قتل و غارتگری، املاک اور مساجد کی تباہی اور قید و بند کی صعوبتوں نے مقبوضہ وادی کو انگار وادی میں بدل دیا_ امریکہ بہادر کی تسلیاں اور پاکستان کی اخلاقی اور سیاسی حمایت زمینی حقائق کو بدلنے سے قاصر ہو چکی تھیں_ اسی دوران جب افغانستان میں افغانوں نے اپنے سے کئ گنا بڑی طاقت کو چاہے جس کی مدد سے بھی شکست دی تو مسلم دنیا کے نوجوان، خصوصاً کشمیری، فتح کا منہ دیکھ چکے تھے؛ چنانچہ بھارتی ظلم و استبداد کے تلے دبے کشمیری نوجوانوں کے سینوں میں دبی انتقام کی آگ بھڑک اٹھی_ افغانی، پاکستانی، کشمیری اور دنیا بھر کے مجاہدین نے بھارت کو مزہ چکھانے کا فیصلہ کیا، لیکن، کیونکہ بات پھر پاکستان پر ہی آنی تھی تو پاکستان نے اپنی عالمی ذمہ داری، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور علاقائ امن کی خاطر اسے بہت ہی مشکل سے منظم کیا اور اسے صرف کشمیریوں کے غم وغصہ تک ہی محدود رکھا_ باالفاظ دیگر پاکستان نے بھارتی استبداد کے خلاف مشتعل مسلم نوجوانوں کو کنٹرول کرکے بھارت کو صلح صفائ سے مسائل حل کرنے کا نادر موقع فراہم کیا_
کشمیر کے مسلح جہادی گروہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیئے تھے_ جہاں جہاں بھارتی سورما چھاتیاں پھیلا کر کشمیریوں پر ہر طرح کے ظلم کی آزمائش کرتے تھے وہاں وہاں کشمیریوں کی تحریک مزاحمت نے ان کا اس طرح سے پیچھا کیا کہ بھارتی فوجی گیڈروں کی طرح بیرکوں میں ہی چھپے رہنے کو اپنی عافیت سمجھنے پر مجبور ہوگئے_ اس دوران بھارت نے اپنے میڈیا اور اپنے سے میل کھاتے شاطر عالمی میڈیا پر پاکستان کو بدنام کرنے میں کوئ کسر اٹھا نہ رکھی_ کشمیری حریت پسندوں کو دہشتگرد اور پاکستان کو انکی دہشت گردی کے مددگار کے طور پر پیش کرنے کا بھارتی کھیل اپنی جڑیں مضبوط کرنے پر تیزی سے گامزن رہا؛ لیکن، اقوام متحدہ کی قراردادوں، امریکہ اور مغربی ممالک کے ذہنوں میں مسئلہ کشمیر کے بارے کشمیریوں کے حق آزادی کی نزاکت اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے زمینی حقائق نے بھارت کو کسی بھی فورم پر کامیاب نہیں ہونے دیا اور یہی پاکستان کی اخلاقی اور سیاسی کامیابی کی علامت تھی_ بھارت تلملا بھی رہا تھا اور ادلے کے بدلے کے طور پر کشمیری حریت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں کے بارے نوحہ گری پر بھی مجبور تھا_ اس تحریک کے منطقی نتیجہ میں بھارت کو لازمی طور پر اقوام متحدہ کے زیر اثر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا تھا یا پھر بھارت کو خدشہ تھا کہ یہ بڑھتی تحریک پورے بھارت میں جاری علیحدگی کی دیگر تحریکوں کو جلا نہ بخش دے_
امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ کیا رونما ہوا، تحاریک آزادی اور علیحدگی پسندوں کے پریشر ککر میں ابلتے بھارت اور اسرائیل کو اپنے اپنے ملک میں جاری آزادی کی تحریکوں کو دہشتگردی، حریت پسندوں اور ان کی سیاسی و اخلاقی حمایت کرنے والے ممالک اور حلقوں کو دہشتگرد قرار دینے کا مستقل کھیل شروع کرنے کا موقع گیا؛ جسکا سلسلہ تاحال جاری ہے_ اس ضمن میں فلسطین اور کشمیر کے لیڈرز اور تنظیموں کو اقوام متحدہ کے ذریعے دہشتگردی کے کھاتے میں ڈال دیا اور ان کے بینک اکاؤنٹس اور سفر وغیرہ پر پابندی لگوانے سمیت انکے قتل عام کے سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرلیئے_ اسکے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں فلسطینی اور کشمیریوں کی سیاسی اور اخلاقی مدد کرنے والے ممالک کو دہشتگردوں کے مددگار قرار دیکر انھیں عالمی مالیاتی اداروں کے قوانین کے تحت کبھی گرے لسٹ میں گھسیٹنے اور کبھی نکالنے کی بھیانک چالیں شروع کردیں_ جہاں مغربی ممالک فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر اسرائیل اور بھارت کے جرائم پر پردہ پوشی کے جرم کے مرتکب چلے آرہے تھے اور اب یہ پوچھنے سے قاصر ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر کشمیری، فلسطینی اور انکے حمائتی حلقے دہشتگرد کس جواز کے تحت قرار پاتے ہیں؟ وہاں پاکستان سمیت کئ مسلم ممالک عالمی بساط پر بالکل ایسے غلاموں کی طرح ادھر سے ادھر گھسیٹے جا رہے ہیں جیسے جانوروں کو گلے میں زنجیر ڈال کر تابع رکھا جاتا ہے_ وار آن ٹیرر کی آڑ میں بھارت اور اسرائیل نے سمگلرز کی طرح موقع ملنے پر نشے میں مگن مسلم قیادتوں اور حکومتوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر گویا اپنے کالے دھن کو سفید دھن میں تبدیل کرنے کی بدرجہ اتم کوشش کی_
گزشتہ دو دہائیوں سے یہی کھیل چل رہا تھا اور اس مشق میں کامیابی کے نتیجے میں جب بھارت نے محسوس کیا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر جکڑا جا چکا ہے اور پاکستان کے کرتا دھرتا اپنے اعصاب مغربی، بھارتی اور اسرائیلی ریشہ دوانیوں کے ہاتھوں مفلوج و بے حس کروا چکے ہیں اور مستقبل میں انکے چوں تک کرنے کی امیدیں دم چھوڑ چکی ہیں اور انکے منہ میں ہمارے ہی الفاظ و فکر کی بازگشت سنائ دیتی ہے تو بھارت نے خاموشی سے شق 370 کا خاتمہ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بھی درگور کردیا_ یہ ایک ایسا استبدادی اقدام تھا کہ حریت پسند اور علیحدگی پسند کشمیری رہنماء تو کیا خود غیرجانبدار بھارت نواز کشمیری سیاستدان بھی اس بھارتی فیصلے کے خلاف میدان میں نکل کھڑے ہوئے_ یہی اس معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کیلئے کافی تھا، لیکن پاکستان کے سر پر تو جوں بھی نہیں رینگی_ پاکستان سفارتی سطح پر کیوں خاموش رہا؟ کیا پاکستان کو علم نہیں تھا؟ کیا پاکستان بھارتی طاقت کے آگے سرنڈر کر چکا ہے؟ کیا پاکستان کے پاس اس بھارتی اقدام سے بڑھ کر بھی کوئ اقدام ہے؟ آخر پاکستان اتنا بے حس اور بے بس کیسے ہوگیا؟ اسکے ساتھ ہی کشمیریوں کو گھروں میں مقید کرکے اور انکے کاروباری مستقبل کو داؤ پر لگانے کا بھارتی سلسلہ آگے بڑھا تو بھی پاکستان کی رگوں میں خون کماحقہ دوڑتا نظر نہیں آیا_ پاکستان کی اسی بے بسی کے مدنظر اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر محترم حسین ہارون نے اپنے ایک خصوصی یوٹیوب بیان میں پاکستان کے کرتا دھرتا حلقوں سے بڑی دردمندانہ اپیل کی کہ کشمیر کو بچاؤ، آخر کیوں پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر پستی کی آخری حدوں کو چھو لیا؟ لیکن نقار خانے میں طوطی کی کون سنے والے معاملے کا تسلسل ہنوز جاری ہے_
ایک زمانہ تھا لداخ میں بھارتی حکومت ہندو پنڈتوں کو بھارت سے لا کر بسانے کی کوشش کرتی رہی_ لیکن تحریک حریت کشمیر سے یہ سلسلہ رک گیا تھا_ دراصل یہ بھارت کی اس تمنا کا شاخسانہ ہے کہ اقوام متحدہ اگر کبھی اپنی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کی استصواب رائے پر تیار ہو بھی جائے تو وہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو مطلوبہ حد تک تبدیل کرنے کے قابل ہو چکا ہو_ اسکے پیش نظر اس نے کشمیریوں کی نسل کشی، گھروں اور علاقوں سے بے دخلی، پہلے ہندو پنڈتوں کو اور اب بھارتی ہندوؤں اور انتہاپسندوں کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لابسانے کا حالیہ سلسلہ شروع کیا ہوا ہے_ حتیٰ کہ پاکستانی وزیراعظم نے عالمی قوتوں کو کشمیریوں کے بھارتی فوج کے ہاتھوں نسل کشی کے بارے متنبہ کیا ہے؛ لیکن، جس طرح سے بھارت کے عملی اقدامات بتدریج رو بہ عمل ہیں، پاکستان کی جانب سے اکَّا دُّکا آوازیں پاکستان کی بےبسی کی آخری سسکیوں کی علامت سے زیادہ محسوس نہیں ہو رہیں_
بھارت کی کشمیر کے بارے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے روگردانی اور کشمیریوں پر روا ہر طرح کے مظالم کے خلاف پاکستان مقبوضہ کشمیر پر چڑھائ کرے تو عالمی امن کو تیسری جنگ عظیم سے خطرہ اور غیر ریاستی عناصر کی حمایت کرے تو عالمی سیاسی اور مالیتی اداروں کی جانب سے دہشتگرد ریاست کا الزام؛ اگر کشمیری حریت پسند بھارتی ظالم فوج سے ٹکرائیں تو دہشتگردی؛ اس صورتحال میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں من مانے فیصلے آخر کس کی آشیرباد پر کر رہا ہے؟ پاکستان کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی ناپاک بھارتی جسارت کو عالمی سفارتکاری کے ذریعے سے کیوں اجاگر نہیں کر رہا؟ کیا پاکستان عالمی کارسازوں کے کشمیر کے بارے میں کسی خفیہ منصوبہ پر سمجھوتہ کر چکا ہے؟ آخر ایٹمی اور اعلیٰ میزائل ٹیکنالوجی کی حامل ریاست کی سافٹ پاور کہاں ہے؟ کیا پاکستان کو سن انیس سو اڑتالیس سے اب تک کی فلسطینی سرزمین کی سکڑتی صورتحال بھول چکی ہے؟ اگر آج بھارت پر سفارتی قدغن نہیں لگائ جاتی تو دو چار سالوں میں کشمیر میں آبادی کا تناسب کہاں کھڑا ہوگا؟ کیا پاکستان کے پالیسی ساز ایسی خطرناک صورتحال کیلئے بھارت کو وقت دے رہے ہیں؟ کیا اہل پاکستان اپنی شہہ رگ کو اسی خاموشی سے کٹتا دیکھتے رہیں گے؟
پاکستان کے ارباب اختیار یاد رکھیں پاکستانی عوام ابھی تک سقوط ڈھاکہ کو نہیں بھول سکے_ اگر پاکستان عالمی اور بھارتی دباؤ پر خاموشی سے یہ سب کچھ برداشت کرتا رہا اور موثر سفارتی اقدامات نہیں اٹھاتا تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی اور اسکے منفی اثرات آسیب کی طرح پیچھے لگے رہیں گے_ اگر پاکستان یہ سب کچھ کرنے کے قابل نہیں تو کشمیر پالیسی پر اپنی بےبسی کا باقاعدہ اعلان کردے اور غیر جانبدار ہوجائے؛ پوری مسلم دنیا کے نوجوان خود ہی بھارت کو چاروں جانب سے، جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے کہا تھا، ہزاروں زخم لگانے کیلئے نشانے پر رکھ لیں گے_ عالمی قوتیں جس طریقے سے بھارت کی غیر منصفانہ سرپرستی کرکے پاکستان اور کشمیریوں کو دیوار سے لگا رہی ہیں، یاد رکھیں کہ بھارت اس آگ سے کبھی نہیں نکل پائے گا_ لیکن بات پھر وہی آتی ہے، پاکستان کی کشمیر ڈپلومیسی آخر ستر سال بعد بھی آکسیجن ٹینٹ میں کیوں ہے؟
(تحریر: عبدالرحمٰن)
Tuesday, July 21, 2020
حکمران طبقات کی غلامانہ ذہنیت اور قومی مسائل
ایک مرتبہ میں یاہو کے اسلام چیٹ روم میں داخل ہو تو گویا انتظار میں بیٹھی ایک شناسا امریکی لڑکی نے مجھے مخاطب کرکے دفعتاً ایک نپی تلی جفت لگائ "آپ کو معلوم ہے کل نیویارک کی ایک مشہور شاہراہ پر میں نے کیا دیکھا؟" پھر کہنے لگی کہ کچھ پاکستانیوں نے مغربی سیاحوں کو پاکستان میں سیاحت کی طرف مائل کرنے کیلئے پاکستانی سیاحتی مقامات کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں کی ہوئ تھیں_" یہ سنۃ 2006ء کی بات ہے جب پاکستان میں امریکی وار آن ٹیرر جاری تھی اور پاکستان کے کسی بھی کونے میں بم دھماکے اور خودکش حملے آئے روز کا معمول تھا_ مغرب نے مسلم حکام کے ساتھ use and abuse کا جو کھیل کھیلا ہوا ہے، ایک طرف تو ہمارے حکمران اور مقتدر حلقے اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے یا اسے قدغن لگانے سے خوف کھاتے ہیں؛ شائد ان کو مغرب کی تفویض کردہ ذمہ داریوں میں اس معاملے میں خاموشی بھی انکے فرائض منصبی کا حصہ ہے؛ دوسری طرف اسرائیل اور بھارت کے زیر اثر مغربی میڈیا، مسلم اور پاکستان مخالف واقعات اور selected معاملات کو بڑی شدومد سے پیش کرنے کو اپنا فرض عین سمجھ کر پیش کرتے ہیں_ ان دنوں ہنود، یہود، نصاریٰ اور دہریوں کے ساتھ ساتھ ہمہ قسم مغربی باشندوں کے ساتھ پاکستان اور عالم اسلام کو لیکر بحث و مباحثہ، پاکستانیوں کا چوبیس گھنٹے کا معمول تھا_ وہ پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ ٹھہراتے تھے اور ہم اپنے دلائل سے انکا رد کرتے تھے_ اسی تناظر میں بیلے میری رائے جاننا چاہتی تھی کہ پاکستان میں تو اتنی دہشت گردی تھی اور پاکستان ان کے تئیں اتنا backward تھا تو کچھ پاکستانی سیاحت کے فروغ کیلئے ایسی نمائشیں مغربی ممالک میں کیوں کر رہے تھے؟ اسکا تاثر تھا کہ گویا پاکستانی اپنا ملک کا بہتر image پیش کرکے غیرملکیوں کو "دھوکہ" دے رہے تھے یا پاکستان کا سیاحت سے کیا تعلق؟
میرے دل میں بڑی چبھن تھی کہ ان لوگوں نے وطن عزیز پاکستان کو تختہ مشق بھی بنا رکھا تھا اور بدنام بھی کرتے رہتے تھے اور ہماری سیاحتی promotion کی تضحیک بھی کر رہے تھے_ خیر اس دن میں نے اپنے معمول کے مطابق کوئ بحث چھیڑنے کی بجائے اس سوال کو موقع جان کر گفتگو کا رخ موڑتے ہوئے انھیں بتایا "PTDC بیرون ملک ایسی نمائشوں کا انعقاد کرتی رہتی ہے اور پاکستان سیاحت کے شعبے میں اس لحاظ سے پرکشش ہے کہ دنیا میں جو نو اقسام کی آب و ہوا یا climates ہیں ان میں سے سات، ﷲ تعالیٰ نے پاکستان کے مقدور کی ہیں اور ارضِ پاکستان کے بعض شمالی سیاحتی مقامات یقیناً سوئیٹرلینڈ سے بھی کسی لحاظ سے کم نہیں؛ بات تو اپنے اثاثوں کی positioning اور marketing کی ہے_
بدقسمتی سے پاکستان کے حکام نے اسکی طرف توجہ ہی نہیں دی؛ اسکی کئ وجوہات ہیں_ ایک تو پاکستان میں سرعام چوما چاٹی اور شراب نوشی کو عیب سمجھا جاتا ہے جبکہ اہل مغرب اسے اپنی آزادی کی اہم ترین علامات میں شمار کرتے ہیں_ اس لیئے انھیں پاکستان سمیت اکثر مسلم مملک کے سیاحتی مقامات تمام تر توصیفات کے باوجود دلکش نہیں لگتے_ ان مقامات پر اکثر مغربی سیاح وہ آتے ہیں جو اپنے کسی اور کام یا جاسوسی کے سلسلے میں یہاں گھومتے پھرتے ہیں_ اسکے علاوہ چند کوہ پیمائ کے شوقین بھی ان سیاحتی مقامات پر آتے رہتے ہیں_ بحرحال جب یورپ اور امریکہ آپ کی سیاحت کی ہسٹری میں پاکستان کا نام دیکھ کر آپکی تفتیش کا دائرہ اور بڑھا دیں تو آپ خاک دوبارہ ادھر کا رخ کریں گے اور دوسرے کو اسکا مشورہ دینے یعنی publicity کی بجائے منع ہی کریں گے_
ایک سیاحت کے شعبے پر ہی موقوف نہیں، بلکہ ہر وہ معاملہ جس سے مسلم ممالک کو فائدہ اور تقویت ملنے کا اندیشہ ہو، مغرب اور اسکے گماشتوں کا یہی وطیرہ رہا ہے اور رہے گا، تاوقت یہ کہ مسلم ممالک اپنی نظریاتی اساس سے بالکل دستبردار ہوجائیں یا بطور دین، اسلام کے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کریں جیسا کہ وہ اپنے اپنے ادیان سے کرتے ہیں_ یہاں rational مغرب اپنی سرزد کردہ fallacy of generalization کو بھی بالائے طاق رکھ دیتا ہے؛ انھیں یہ باور کرانا ہی جوئے شیر لانے کے مترادف بن جاتا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو کسی طبقے کو بھی دین کے ساتھ اور دین کے نام پر کھلواڑ سے عبارت نہیں ہے_ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اسی عطار کے لونڈے یعنی مغرب سے دوا لینے میں اپنی کامیابی سمجھتے ہیں؛ جبکہ مغرب ہمیں use and abuse کے ذریعے ایسی جگہ لیکر جانا چاہتا ہے جہاں پانی بھی نہ ملے_
دوسروں کی تو بات ہی کیا کریں ہمارے اپنے حکمران طبقوں اور ارباب اختیار نے اپنے مفادات، تشکیک اور حب المغرب کی آڑ میں خود اپنی قوم کو ہی ہر میدان میں آئے روز کی الپ پلٹ سے عجوبہ بنا کر رکھ دیا_ اگر ہم دہشتگرد ملک ہیں تو ہماری قوم کو ہر اسرائیلی کی طرح معیاری ملٹری تربیت کیوں نہیں دی جاتی؟ اگر یہاں حکومت دہشتگردی کی سرپرست ہے تو ہر امریکی کی طرح ہر فرد کا یہاں اسلحہ رکھنے کی اجازت کیوں نہیں؟ اگر یہاں دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے تو بھارتی انتہاپسند R.S.S کی طرح یہاں پر مسلح گروہ باقاعدہ تیاری کرتے کیوں نظر نہیں آتے؟ یہاں تو ہم امن کے ایسے پیامبر بنے کہ اپنے معمولی دفاع کی تربیت N.C.C کو بھی متروک کردیا؛ اس سے بھی کام نہ چلا تو معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان جیسے کلیدی علوم کو بھی گوشہ نسیان میں ڈال دیا_ حالات اتنے دگرگوں ہیں کہ مایوسی کے عالم میں مشہور ناول نگار طارق اسمٰعیل ساگر کا کہنا ہے کہ جنگ کے اقدامات کے پیش نظر عوام ابتدائ طبی امداد کی تربیت اپنے طور پر خود حاصل کریں اور ان حکمرانوں سے یہ توقع نہ کریں کہ یہ اسکا بندوبست کریں گے_
سچی بات ہے کہ پاکستان پر ایٹمی جنگ کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں اور مجال ہے جو سرکاری اور پرائیویٹ میڈیا چینلز پر عوامی سطح پر اسکے اثرات سے بچاؤ کی تربیت کی کوئ معلومات فراہم کی گئ ہو_ پاکستان اٹامک انرجی انسٹی ٹیوٹ یا آئ-ایس-پی-آر کیلئے یہ ایک پمپفلٹ، web-contant یا چھوٹی موٹی ڈاکومنٹری بنا کر عوام تک پہنچانا کیا بہت بڑا مسئلہ ہے یا اسکی ضرورت ہی نہیں ہے؟ ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ نے ایک سال کی پلاننگ کرنی ہے تو چاول کاشت کریں، اگر دس سال کی پلاننگ کرنی ہے تو درخت لگائیں اور اگر آپ نے اپنے مستقبل کی پلاننگ کرنی ہے تو اپنے عوام کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں_ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ایک آزاد قوم کو فکر و عمل کی آزادی کیلئے جس mind-set کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے حکمران طبقات سے ابھی اسکا تعین نہیں ہو سکا ہے_ ایسا تب تک نہیں ہو پائے گا جب تک ہمیں اپنے وجود، معمولات اور مستقبل پر یقین نہیں ہوگا_
Sunday, July 12, 2020
ڈاکٹر مہاتیر محمد کے اسرائیل کے بارے میں تازہ ترین بیان پر ایک تبصرہ
یہودیوں نے نسل پرستی کی وجہ سے انبیاء کو قتل کیا اور ﷲ کی نافرمانی کی_ اسی نسل پرستی کی وجہ سے انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو رد کیا اور آخری نبی محمد (ص) پر اس لیئے ایمان نہ لائے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہ تھے_ جو قوم اپنے خالق اور اسکے پیغمبروں کی نہ ہوئ وہ عام انسانوں کی کیا ہوسکتی ہے؟ یہودیوں کی چاہت ہے کہ وہ دنیا میں ایک نظام قائم کرکے عالمی امن قائم کرکے دکھانا چاہتے ہیں_ انکی یہ خواہش کچھ بری نہیں لیکن انسانیت کو نسل کی بنیاد پر تقسیم کرنا یہودیوں کا بنیادی خاصہ ہے، جسے یہ Jews and Gentiles سے موسوم کرتے ہیں_ اگر یہودی فی الوقت اپنے منصوبے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو انکی نسل پرستی کی خو ضرور رنگ دکھائے گی چاہے دنیا میں نو یہودی اور ایک غیر یہودی بھی باقی رہ جائے_ اسکے نتیجے میں انکا نظام خودبخود تباہ ہوجائے گا_
اگر یہ کہتے ہیں کہ یہ نسل پرستی سے توبہ کرلیں گے یا کرچکے، تو پھر یہ ﷲ کے آخری دو پیغمبروں یعنی عیسیٰ (ع) اور محمد (ص) پر ایمان کیوں نہیں لے آتے؟ جبکہ عیسائ اور مسلمان دونوں یہودیوں کی طرف ﷲ کے بھیجے ہوئے تمام تر انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں_ بنیادی طور پر یہودی ایک الجھی ہوئ قوم ہے؛ جس میں بے شمار رہنما اور تحریکیں سر اٹھاتی رہتی ہیں اور یہ فکری تبدیلی کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں_ لیکن، ہر حالت میں یہ یہودی قوم کی دیگر انسانوں پر بالادستی کے تصور کو مقدم رکھتے ہیں_ سود کا نظام بھی اسی کا حصہ ہے کہ غیر یہودی انسان کہلانے کے قابل نہیں ہیں، یہ کمائیں گے اور ہم سود کی شکل میں انکی کمائ دولت سے حصہ لے لیں گے_
ابھی بھی وقت ہے، مسلم دنیا ہوش کے ناخن لے اور ملیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کا مشورہ مان لیں کہ مسلمانوں کی توجہ کا تمام تر مرکز اسرائیل ہونا چاہیئے_ اپنے ایک تازہ ترین انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ مسلمان مغرب کی بجائے آپس میں مل کر اسرائیل پر حملہ کرنے کی حکمت عملی بنائیں کیونکہ انکے نزدیک یہی مسلم ممالک کے بڑے مسائل کی جڑ ہے_ مسلم دنیا کو اس بات پر ضرور غور کرنا چاہیئے کہ پورا مشرق وسطیٰ تباہ ہوگیا لیکن اسرائیل نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اپنے جغرافیہ کو بھرپور طریقے سے پھیلانے کی کوشش بھی کر رہا ہے_ اس کے علاوہ روزانہ مسلمانوں کی کوئ نہ کوئ نام نہاد جہادی تنظیم سامنے آجاتی ہے، لیکن اسرائیل پر کوئ بھی حملہ نہیں ہوتا_ مسلمانوں کو ڈاکٹر مہاتیر کے مشورے پر ضرور عمل کرنا چاہیئے_
Thursday, July 9, 2020
حقیقی قیادت اور مسلم ممالک کے حالات کا دھارا
نائن الیون کے بعد مسلم دنیا پر مسلط کردہ نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر لاکھوں مسلمانوں کے قتل اور مسلم ممالک کو تخت و تاراج کرکے بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنا اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف نت نئے قوانین کے اطلاق کے نام پر استحصال؛ اسرائیل کا شام کی گولان کی پہاڑیوں اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کا باقاعدہ اعلان اور جس مرضی مسلم ملک پر اسرائیلی دہشتگردی؛ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے پاکستان کے خلاف ناپاک منصوبے ظاہر کرتے ہیں کہ وار آن ٹیرر کے پہلے مرحلے میں مسلم حکومتوں کو بلیک میل کرکے مجاہدین کو دہشتگرد اور اسلام کو دہشتگردی سے جوڑا گیا، مسلم ممالک اور عوام کو تقسیم کرکے انھیں نت نئے انداز سے آپس میں ہی لڑوایا گیا اسکے ساتھ ساتھ متعدد مسلم ممالک پر دھاوا بولا گیا، عرب ممالک میں بہار کے نام پر انارکی پیدا کی گئ_ یہ سب کچھ کرکے اور مسلم دنیا کو دیوار سے لگا کر اب تیسری جنگِ عظیم کے نام پر بقیہ مسلم ممالک کو میدان جنگ بنانے کی مکمل تیاری ہے_ کیا ایسا سب کچھ ایک منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوا؟
مغرب اور اسکے چہیتے اسرائیل اور بھارت کی حکمت عملی یہ ہے کہ مسلم حکومتوں کو عالمی معاہدات میں جکڑے رکھو اور اگر مسلم ممالک میں عوامی سطح پر اپنے ملکی مفادات کے تحفظ اور بقاء کی بازگشت سنائ دے تو شدت پسندی اور انتہا پسندی سے تعبیر کرنے کا پراپیگنڈہ شروع کردو اور اگر عوام اپنے طور پر ہتھیار بند ہوکر ظلم کے خلاف سربکف ہونے ہر مجبور ہوں تو انھیں دہشتگرد قرار دیکر مسلم ممالک کو دہشتگردی کے مراکز قرار دیکر میڈیا کے ذریعے واویلا کرکے عالمی اداروں اور قوانین کو بروئے کار لا کر ان ممالک کے خلاف طرح طرح کی پابندیاں لگا دو_ گزشتہ دو دہائیوں سے مسلم دنیا کے عوام اور حکومتوں کو دہشتگردی کے طعنوں کے جس حصار میں گھیرا ہوا ہے، اسے فکری اور علمی سطح پر توڑنے کا وقت ہو چکا ہے_ عوام نظم و ضبط کے دائرے میں اپنے حکام کے قریب ہوں اور مسلم حکام اور حکومتیں اپنے ملک کے بنیادی مفادات کے تحفظ کے عوامی مطالبات کیلئے غیرملکی طاقتوں سے گھبرانا اور ڈرنا چھوڑ کر اپنے قومی مفادات کی بقاء کے طریقہ کار کیلئے منصوبے وضع کرکے اقدامات اٹھانے میں بالکل بھی دیر نہ کریں_
سرہ راہ یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد اقوام متحدہ کے کاغذات میں موجود مسئلہ کشمیر و فلسطین کی خاطر لڑنے والے حریت پسند دہشتگرد کس بنا پر قرار پائے؟ مغرب کی ایماء پر شروع کی گئ جنگ میں اسرائیل اور بھارت کو یہ جرات آخر کیونکر ہوئ کہ آج کشمیریوں اور فلسطینیوں کی اخلاقی اور سیاسی امداد کرنے والے پاکستان اور عربوں کو ایف-اے- ٹی-ایف کی تلوار سے ڈرایا جاتا ہے؛ ایسا کیوں ہے؟ یہ حوثی باغی، یہ القائدہ کا بھوت اور داعش جیسی تنظیمیں آخر اسرائیل، بھارت اور مغربی مفادات پر حملہ آور کیوں نہیں ہوتے؛ ہاں جب کبھی کسی مسلم ملک کو بلیک میل کرنا مقصود ہو تو کوئ false-flag attack کروا کر عالمی رائے عامہ کو مسلمانوں کے حق میں گمراہ کرنا یا پھر رائے عامہ کو اپنے حق میں موڑنے کا وطیرہ اختیار کیا جاتا ہے_ پاکستان میں فوج اور مذہبی طبقات کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرائ کا کھیل جتنا چل سکتا تھا چلا لیا، جب دیکھا کہ سب کو سب کچھ سمجھ آگیا ہے تو لسانی اور قوم پرست گروہوں کی ہلا شیری کا کھیل شروع کردیا؛ کوئ پوچھے کہ وار آن ٹیرر میں یہ اپنوں ہی کے خون سے ہولی کا کھیل آخر پاک فوج کے خلاف ہی جڑ کیوں پکڑے ہوئے ہے؟ دہشتگردی کے خلاف جنگ کا یہ بڑا مضٰحکہ خیز پہلو ہے_ لیکن مسلم دنیا کے حکمران طبقات اور طبقہ اشرافیہ کولہو کے بیل کی طرح انکے دیئے گئے ایجنڈے کے گرد ہی گھوم رہے ہیں_
کچھ اپنوں کی غفلت اور کچھ اغیار کے ہتھکنڈوں نے پہلے ہمیں مسٹر اور ملَّا میں تقسیم کرکے معاشرتی بگاڑ کو اخلاق باختگی کی انتہاء پر پہنچا دیا_ بعض مسلم ممالک جیسے ترکی، پاکستان اور کئ افریقی ممالک وغیرہ سے ان کی قومی زبان پہلے ہی چھین لی گئ تھی_ اسکا منطقی نتیجہ عوام اور خواص میں اپنی ہی تہزیب و ثقافت اور معاشرتی مسائل سے اجنبیت اور انکے حل سے لاغرضی کی شکل میں برآمد ہوا_ اسکا مظہر موثر تعلیمی اور تربیتی نظام کے فقدان کی شکل میں برآمد ہوا اور معاشرتی ناہمواری نے لوٹ کھسوٹ کی نفسیات کو جنم دیکر مسائل کا کوہ ہمالیہ کھڑا کردیا_ اسکے بعد ہم نے خود اپنے اردگرد طبقاتی، لسانی، فرقہ پرستی اور قومی تعصب کے بلند و بالا قلعے اور دیواریں قائم کرلیں_ اسی سے عوام میں اس مہلک مرض نے جنم لیا جسے سیاسی زبان میں عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے سے تعبیر کیا جاتا ہے_ اسکے بعد مخلص، ابن الوقت اور طالع آزماء ہر قسم کی قیادت سامنے آئ، لیکن، استعمار نے اپنے بوئے ہوئے بیجوں اور گماشتوں کی مدد سے ایسا ماحول پیدا کیئے رکھا کہ اول تو مخلص قیادت ابھر ہی نہ سکے اور ابھرے بھی تو اسے ہی تختہ مشق بنوا جاتا رہے یا انکی مساعی کے آگے اتنی رکاوٹیں کھڑی کروائ جاتی رہیں؛ اس سے حب الوطن طبقات میں نہ صرف یہ کہ مایوسی نے جنم لیا بلکہ انکی انداز جہانبانی کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جانا بھی ایسے ہی منصوبوں کے شاخسانے کے طور پر سامنے آیا_
مسلم ممالک کو آزادی کوئ طشتری میں رکھ کر نہیں دی گئ تھی بلکہ اس میں لاکھوں کروڑوں نفوس کی جان، مال اور عزت کا خون شامل تھا_ اپنے اپنے ممالک میں کئ دہائیوں کی ناہمواری اور بدانتظامی کے نہ رکنے والے سلسلے کے پاداش عوام میں بےچینی کا پیدا ہونا کوئ انہونا امر نہیں تھا_ عوام ملکی مسائل کے بڑھتے چلے جانے اور وسائل کے ضیاع کو آخر کب تک برداشت کر پاتے؟ ان حالات میں مغربی استعمار اور اسکے ناپاک اتحادیوں نے حالات کو ایک نئ کروٹ دینے کیلئے کبھی تو اسلام کو دوشی ٹھہرا کر اسلام کے نت نئے version متعارف کروا کر مسلم طبقات کو تقسیم کیا؛ کبھی انکو شدت پسند، ماڈریٹ اور ماڈرن مسلمانوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کے دست و گریباں کروانے کی تگ و دو کی اور اس سے بھی کام نہ چلا تو مسلم معاشروں کو سٹیٹ اور نان-سٹیٹ میں منقسم کرکے ایک دوسرے کے مدِمقابل لاکھڑا کیا_ انھیں معلوم ہے کہ ریاست کی مجبوریوں میں سے ایک حکمران طبقے کی عادات اور خواہشات بھی ہوتی ہیں اور ان دونوں کو ایک خاص سمت میں مرتکز کرکے قابو کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن اصل معاملہ تو غیرحکومتی عناصر کی طلاطم خیزی ہے جس میں بہتری اور تبدیلی کی چنگاری کو بجھانا کوئ آسان کام نہیں تو اسکا حل تشدد کے دوام میں تلاش کر لیا گیا جسے عرف عام میں وار آن ٹیرر عرف دل، دماغ اور روح کو جیتنے کی جنگ کا نام دیا گیا_
مسلم دنیا کے ارباب اختیار اور حکام کو یکم جولائ کے روز اسرائیل کی فلسطینی علاقوں پر اپنے قبضے کے اعلان نے عالمی رائے عامہ پر ہونے والے اعتراض اور احتجاج نے کس طرح باز رکھا، اس میں مسلمانوں کیلئے حوصلہ اور راہ عمل کی ایک موثر نشاندہی ہے_ دنیا میں بقاء اور ترقی کیلئے خوف، سستی inactiveness اور مایوسی یعنی pessimism کو چھوڑنا ہوگا اور مخالف قوتوں کو ازل سے یہی خطرہ ہے کہ کہیں مسلم دنیا جاگ نہ جائے_ ان حالات میں مسلم دنیا کی ذمہ داری ہے کہ ففتھ جنریشن وار فیئر اور آئندہ کی ممکنہ جنگوں کے خدوخال Features ، عامل actors ، عوامل factors اور انفرادی، گروہی (پروفیشنل/ٹیکنیکل گروپس) اور قومی سطح پر اپنی قوت، کمزوریوں، مواقع اور خطرات کے بارے بھرپور آگاہی حاصل کرکے اپنے ہمہ قسم دفاع کیلئے اجتماعی عملی لائحہ عمل ترتیب دے_
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح جابجا اپنی تقاریر میں اتحاد، یقین اور ضبط کا اعادہ کیوں کرتے رہے؟ آج اس ہی یقین کے فقدان نے ہم سے اتحاد اور ضبط جیسے خواص کو چھین لیا ہے_ ریاست اور اتحاد امت کی اہمیت کا یقین ہی وہ سیڑھی ہے جس پر چڑھنے سے ہمیں نابلد رکھا جاتا ہے، ڈرایا جاتا ہے اور تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے_ کیا استعمار مسلم دنیا کا اتحاد صرف اپنے مفاد کیلئے ہی ہضم کرسکتا ہے؟ قائدِ اعظم، اتحاد امتِ مسلمہ کی اہمیت پر اتنے منہمک تھے کہ انھوں نے امریکہ اور سوویت یونین کی سرد جنگ کو مسلم دنیا کے اتحاد اور قوت کیلئے ایک موقع میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا_ اس سلسلہ میں آزادی کے بعد کے ابتدائ ایام میں ہی وہ بمبئ میں قائم امریکی قونصلیٹ کے دفتر گئے اور ان سے کہا کہ کمیون ازم کے خطرے سے نمٹنے کے ضمن میں اسلامی ممالک کا ایک بلاک بنانے کے سلسلے میں انھیں امریکی مدد کی ضرورت تھی_ یہ ہوتا ہے لیڈرشپ کا ویژن کہ حالات کے دھارے کو اپنے مطابق موڑنا نہ کہ ملک و قوم کو خس و خاشاک کی مانند حالات کے دھارے کی بھینٹ چڑھا دینا_
Sunday, July 5, 2020
سُنِّی-شیعہ معاملات، ایک جواب ایک اپیل
"کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایران اور اسرائیل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ نیچے کمنٹ میں کریں_ شکریہ" یہ سوال یو ٹیوب پر Haqeeqat Ki Dunya نامی چینل کی جانب سے پوچھا گیا جسکا میزبان اپنا نام ڈاکٹر علی بتاتا ہے_ درج ذیل تحریر بحیثیت مسلم میری طرف سے اہلِ تشیع اور اہل السنۃ کے نام ایک جواب اور ایک اپیل ہے_
ایک تو ایران جتنا زیادہ اسرائیل اور امریکہ کو دھمکیاں دیتا ہے ان دونوں ملکوں کا عربوں کے گرد گھیرا اتنا ہی تنگ ہو جاتا ہے اور وہ عربوں کو بلیک میل کرکے مزید وسائل لوٹنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں_ عربوں کی اسرائیل سے لڑائ فلسطین کی بنیاد پر تھی اور مشرقِ وسطیٰ میں لڑائیوں کی جڑ بھی یہی مسئلہ بنا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ فلسطینی رل گئے اور انکی سرزمین کے نشانات مٹتے جارہے ہیں، عرب ممالک ایک ایک کرکے تباہ کیئے جارہے ہیں جبکہ اسرائیل پھیل رہا ہے اور ساتھ ہی دن رات امریکہ اور اسرائیل کو دھمکیاں اور گالیاں دینے والے ایران کے مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی کریسنٹ قائم کرنے کے منصوبے سامنے آرہے ہیں جسکا تذکرہ امریکی اور اسرائیلی تھنک ٹینک بڑے ٹیکنیکل انداز سے کرتے رہتے ہیں_ سوچنے کی بات ہے مسئلہ فلسطین اور اسرائیل دشمنی، ایران کیلئے snow-ball-effect کیسے پیدا کرنے کا موجب بن رہی ہے؟ ان مظاہر سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی دشمنی کے نام پر ایران کو مسلم دنیا کا ہیرو اور ولن بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں تاکہ ان دونوں ممالک کے حقیقی اور فطری مخالف سنّی عرب کمزور ہوتے چلے جائیں_ علاقے میں اہل تشیع کا علبہ ہوجائے اور شیعہ سنّی قتل و غارت چلتی رہے_
اسکے علاوہ آج سے کوئ چھبیس سال قبل امریکی کی Yale University سے ایک مشہور کتاب شائع ہوئ جسکا نام The Treacherous Alliance - Israel, America and Iran ہے؛ اس کتاب میں ایرانی ملاؤں کے اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی گئ ہے اور آج تک ایران کی طرف سے یا ایرانی حکومت کی جانب سے اس پر کبھی بھی کوئ قدغن لگائ گئ اور نہ ہی تردید کی گئ_ اسکے علاوہ افغانستان میں ایران نے متعدد مرتبہ امریکہ کی نازک مواقع پر منصوبہ بندی میں مدد کی_ کشمیر کے معاملے پر ایران عرصہ دراز تک بھارت کے ساتھ کھڑا رہا اور بھارتی شیعہ مسلم ہمیشہ میڈیا میں آکر بھارت کا ساتھ دیتے رہے_ ایران، پاکستان،عربوں اور ترکوں کو سمجھنا چاہیئے کہ مغرب کو مسلمانوں کے درمیان فلسفیانہ مباحث، نظریاتی جنگ اور شیعہ سنِّی قتل و غارت سے کوئ دلچسپی نہیں؛ وہ صرف اور صرف ان سب کو divide and rule کے تحت لڑوا کر مسلمانوں کی تہزیب اور دین اسلام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلم دنیا اپنے انسانی اور قدرتی ذرائع کو موثر اور بروقت طریقے سے بروئے کار نہ لاسکیں، مغربی تہزیب کا غلبہ نظر آتا رہے اور وہ یہاں کے وسائل نت نئے طریقوں سے لوٹتے رہیں_ ایرانی انقلابی ملّا صرف اتنا سوچ لیں کہ کیا مسلمانوں اور عربوں کے قبرستان پر تعمیر کا انکا ایرانی سلطنت کے قیام کا خواب مغرب کو مسلمانوں کے حق میں رام کرنے کے قابل کردے گا؟ بالکل نہیں_ اس وقت سنِّی نوجوانوں کو ایرانی شیعہ سلطنت کے خلاف بالکل اسی طرح تیار کیا جائے گا جیسے آج شیعہ نوجوانوں کو مشنری جذبے کے ساتھ zealots کے روپ میں تیار کیا جا رہا ہے_
ضرورت اس امر کی ہے کہ انقلابی ایران اس معاملے کو آج تعصب سے بالا ہوکر آج ہی سوچ لے_ علامہ اقبال نے جس تہران کو مشرق کا جنیوا قرار دیا تھا میرا خیال ہے وہ ایران 1979ء کے انقلاب کے بعد کسی عمیق گہرائ میں ڈوب گیا_ کیا ایرانیوں کو مغرب کی وہ خودغرضی بھول گئ کہ جب مغرب نے ڈاکٹر مصدق اور اپنے دوست رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹ دیا تھا؟ کیا ایرانی اس کتاب کو بھول سکتے ہیں "ایرانی اسلامی انقلاب میں مغربی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ"_ یاد رکھئے! وہ آپ کے رازوں کو راز صرف اس وقت تک رکھیں گے جب تک یہ انکے مفاد میں ہے_ تو یہ بہتر نہیں کہ شیعہ ایران اور اور سِّنی عرب، اسرائیل، مغرب اور امریکہ کے آگے جھکنے کی بجائے ﷲ کے حضور سربسجود ہو کر ایک نبی کے امتی ہونے کا ثبوت دیں؟
(تحریر: عبدالرحمٰن)
مسلم دنیا پر یلغار: زہر و تریاق کا فہم ضروری ہے
آپ ذرا اس بات پر غور کیجئے کہ کم و بیش تمام ہندو بت پرستی، تمام عیسائ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ابن ﷲ یعنی ﷲ کا بیٹا ہونے اور تمام یہودی نسل پرستی apartheid کے علاوہ انسانیت کو Jews اور Gentiles میں تقسیم کرنے پر کلِّی طور پر متفق ہیں_ یعنی کہ تینوں ادیان اپبے اپنے دائرے میں ایک ایسے عقیدہ بد کا شکار ہیں جس کا حکم ﷲتعالٰی نے انھیں قطعاً نہیں دیا_ دوسری طرف آپ سن کر حیران ہوں گے کہ اپنی تمام تر کمزوریوں، کوتاہیوں اور بداعمالیوں کے باوجود مسلمان گزشتہ چودہ صدیوں میں کسی ایک عقیدہ بد یا معاشرتی برائ پر آج تک اکٹھے نہیں ہوئے_ کیونکہ، خاتم الانبیاء محمد (ص) نے فرما دیا تھا "میری امت برائ پر اکٹھی نہیں ہوسکتی" _
اس تمہید کو بیان کرنے کا میرا مقصد، قوموں کے اجتماعی فلسفہ فکر و عمل میں ایسی آمیزش کی نشاندہی ہے کہ جس کے باوصف جب ان کے فلسفہ زندگی کے بارے تنقیدی جائزہ، استفسار یا اسکے اثراتِ بد پر بات کی جائے تو انھیں اپنے گھڑے ہوئے دلائل کی دیوار ایک ایک کرکے گرتی دیکھ کر معذرت خواہانہ رویّہ apology اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے_ یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ اپنی روش کو برقرار رکھنے کیلئے انھیں نت نئی فلسفیانہ بحثوں کا سہارہ لینا پڑتا ہے، جسکا نام انھوں نے فکری تحرک رکھا ہوا ہے_ بھلا جس چیز میں وہ اجتماعی طور اپنی بقاء کی بنیاد مطلقاً سمجھ بیٹھے ہوں اسے انکا ہی گھڑا ہوا کوئ فلسفہ بدل سکتا ہے؟ بالکل نہیں_ یہی وجہ ہے کہ تاریخی طور پر ان تینوں ادیان کے پیروکاروں میں سے اعلٰی اذہان کی حامل شخصیات نے یا تو دہریت atheism اختیار کرلی یا پھر اسلام قبول کرلیا_ اسلام کی اسی خوبی کے باعث آج تک کوئ بھی مسلم مفکر نہ تو کبھی عیسائ بنا، نہ یہودی اور نہ ہی ہندو یا دہریہ_
یہ ﷲتعالٰی کا مسلمانوں پر خاص کرم ہے، ورنہ انسانی نفسیات کے زیر اثر مسلمانوں کا بس چلتا تو وہ بھی من و عن انہی ادیان کے پیروکاروں سے پیچھے نہیں رہتے_ ایسی ہی کاوشوں کے رجحان کے مدِنظر اقبال نے کہا "خود نہیں بدلتے، قرآں کو بدل دیتے ہیں" _ اس ساری بحث سے ﷲ رب العزت کی اس حکمت پر ایمان اور زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ اس ذات نے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے_ اسی وجہ سے قرآن ازل سے اب تک تغیر اور انسانی مداخلت سے پاک ہے_ اسی ضمن میں یہ بات غور طلب ہے کہ تمام غیرمسلم آج تک اپنے اس تصور کی پختگی میں اپنے تمام تر عقلی، منطقی اور نقلی دلائل کے باوجود یہ بات ثابت کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہوسکے کہ قرآن کی تصنیف خاتم الانبیاء محمد (ص) نے کی تھی؟ یہ بات کسی معجزہ سے کم نہیں کہ اپنی تمام تر علمی مرتبت کے باوجود ناقدین اسلام کھل کر کبھی اس بات پر بحث نہیں کرتے کہ قرآن آخر کس کی تصنیف ہے؟
قرون اولٰی کے مسلمانوں میں فکری سادگی اور علمی بے تکلفی ہی تو تھی جسکی وجہ سے انکی توجہ تشکک، فلسفیانہ الجھنوں اور لاحاصل مباحٹ کی بجائے فنون حرب، تجارت، سیاست، معاشرت اور انداز جہانبانی کی طرف مرکوز تھی_ گزشتہ دو تین دہائیوں سے مسلم دنیا میں مغربی فکر سے متاثرہ ایسا طبقہ پیدا ہو چکا ہے جو قرآن کے بارے تشکک کا اظہار کرتا ہے لیکن یقین مانیئے لنڈے کے کپڑوں کی طرح انکے خیالات بھی مغربی اترن سے کم نہیں_ مغرب کو انکی فکری خام خیالی اور کج فکری سے کوئ سروکار نہیں، کیونکہ ان کا تو ٹارگٹ محض مسلم دنیا میں پیادے اور بچولے middle-men ہی اپنی گرفت میں رکھنا ہے، تاکہ فکری آزادی کے نام پر نوجوان اور فکری طبقات کو ابہام کا شکار کرنے کی فکر کو دوام حاصل رہے_ افسوس بعض مسلم حلقے اس راز کو محسوس نہیں کرسکے جو عیسائ مشنری طبقے نے بڑی محنت سے حاصل کیا ہے_ ایک امریکی عیسائ مشنری نے لکھا "مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کے ذریعے تبدیل کرنا بہت مشکل ہے، اسکے لیئے ضروری ہے کہ انکے سامنے کچھ ایسی تعلیمات رکھی جائیں جسے یہ اسلام سمجھیں" _
آپ سن کر حیران ہونگے کہ مغربی ممالک کے زیرِ اثر مشنریاں کچھ عرصے بعض سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں قرآنی تعلیمات کے بارے میں نہ صرف یہ کہ Quantative Survey کرواتے رہتے ہیں بلکہ حکومت کے زیرِ اہتمام ٹیچرز ٹریننگ کے تمام اداروں میں مستقبل کے مسلم اساتذہ کے تربیتی اور تعلیمی نصاب کی تدوین اور تعلیم کی نگرانی مغربی حکومتوں کے متعین کردہ متعلقہ علاقوں کے عیسائ مذہبی رہنما یعنی عیسائ پادری کرتے ہیں_ ایسے ہی ایک ادارے میں زیر تربیت ایک طالب علم نے مجھے بتایا کہ تدریس قرآن اور اسلامیات کو انکے نصاب سے میں شامل نہ کیئے جانے پر انکے اساتذہ بڑے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں_ پاکستان میں اسکی سیدھی سی وجہ مغربی ممالک سے مالی امداد کے حصول کیلئے اس قسم کی غیر اعلانیہ شرائط پر بلا تردُّد آمادگی ہے_
اہلِ مغرب نے اس بات کا بخوبی اندازہ لگا لیا ہے کہ خالص اسلام دراصل فکری سادگی، تکلفات اور رسومات سے پاک راستہ ہے جس کو سمجھنے سے باقی تو پھر قرآن، سنت اور سیرت سے محبت ہی پیچھے رہ جاتی ہے_ اسی چیز کے احیاء کو وہ اپنی تہزیب کی بقاء کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں_ وہ جانتے ہیں کہ مسلم تہزیب بانجھ نہیں ہے، جیسے ہی انھیں موقع ملا یہ انکے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہو جائیں گے_ اسی سلسلے میں مسلم دنیا کو صوفیت اور ایک عالمگیر مذہب One-World Religion کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں_ ایک مسلمان ہیں کہ انھیں بات سمجھ ہی نہیں آرہی کہ خالص اسلام ہی تو وہ راستہ ہے جسے اختیار کرکے وہ اپنی فکر، عمل اور وسائل پر مغربی یلغار کے سامنے رکاوٹ کھڑی کر سکتے ہیں؛ اسی رکاوٹ یا مزاحمت کو بھانپ کر خالص اسلام کو شدت پسندی اور دہشتگردی سے جوڑا جاتا ہے کہ انکی جڑ ہی کاٹے رکھو؛ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی_
مسلم دنیا، امام مالک (رح) کے اس قول پر ضرور غور کرے "جس چیز (قرآن و سنت) سے اوَّل زمانے کے لوگوں کی اصلاح ہوئ، اسی چیز سے آخری زمانے کے لوگوں کی اصلاح ہوگی" _ اس مقصد کے پیش نظر موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے قرآن، سنت اور سیرت کے مطالعہ؛ ور فہم کا ایسا اہتمام کریں جس پر فرقہ وارانہ اور مدارسِ دینیہ کے روائیتی معمولات اور احساس کمتری کی چھاپ نہ ہو_ اسکا سب سے پہلا تقاضہ عربی لغت و گرائمر کی درس و تدریس کی طرف توجہ مبذول کرنا ہے_ موجودہ عالمی نظام کے تحت مسلم دنیا کی حکومتیں اپنے تفویض شدہ فرائض سے نکلیں گی تو کچھ اپنے بارے میں سوچیں گی، لیکن انٹرنیٹ، میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور نے سیکھنے، سکھانے اور ابلاغ کے عمل کو انتہائ efficient اور effective بنا دیا ہے کہ عوامی سطح ہر تمام طبقات کیلئے ایسا مربوط نظام بنایا جاسکتا ہے جس سے مسلم معاشروں کی چار صدیوں سے غالب علمی تشنگی بجھانے کے عمل کی شروعات کی بنیاد رکھی جا سکے_
اس تمام بحث میں مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ انسانیت کی خدمت، انسان کی فکری کج پن اور خام فکر و پختگی دینے کیلئے اہل مغرب حقائق، سچائ، منطقی اور سائنسی طریقہ کار، عقلیت پسندی اور عمیق گہرائ سے تحقیق، تحقیقی ذرائع، تحقیقی اداروں اور تحقیق کرنے والی شخصیات کو اپنے تہزیبی خد و خال کے طرہ امتیاز کے طور پر پیش کرتی ہیں، لیکن جب بات مسلم دنیا کے اپنے خالص دین کی طرف رجحان اور میلان کی آئے تو مغربی فرستادوں اور انکے گماشتوں کو مسلم دنیا قنوطی اور دقیانوسی نظر آنے لگتی ہے_ اپنے مقاصد کیلئے سچائ کی تلاش میں، یہودی اور اہل مغرب پورے مشرقِ وسطیٰ کو کھودنے کے متمنی رہتے ہیں اور Dead-Sea Scrolls کی دریافت پر پھولے نہیں سماتے، لیکن مسلم دنیا کے وہ آئیڈیلز جو اپنے آغاز سے ہی کبھی مسلمان کیا حتیٰ کہ غیر مسلموں کی نظروں سے بھی کبھی اوجھل نہیں ہوئے، مغرب انھیں بجھانے کیلئے پھونکیں مارنے میں لگا رہتا ہے_ اس سے صاف ظاہر ہے وہ صرف ایسے فکری فلسفوں کی آبیاری اور تسلسل کے قائل ہیں جس سے انکی تہزیب اور مخصوص نسل کے مفادات کا غلبہ مستحکم رہے اور باقی دنیا بس نظریاتی کشمکش اور اپنے تہزیبی ارتقاء کی آس میں pessimistically مگن رہے_
(تحریر: عبدالرحمٰن)
Thursday, July 2, 2020
تبدیلی کے گَلے میں اب مندر کی گھنٹی کس نے باندھی؟
اس مندر سے اقوامِ عالم میں پاکستان کا وقار "بلند" ہوگا_ ویسے یہ کشمیر کا جواب مندر سے یعنی اینٹ کا جواب پتھر سے بھی بنتا ہے_ بالی وڈ اور مودی نے "پیار" ہی اتنا دیا ہے_ ویسے اسلام آباد میں مندر کی گھنٹیاں بھی مسرور کن لگیں گی اور گائے ذبح کرنے پر پابندی لگ جائے تو کیا کہنے! مذہبی ہم آہنگی کے_ ویسے حکومتی ارکان مہینہ میں کم از کم ایک دفعہ زعفرانی لباس میں نظر آیا کریں تو شائد آر-ایس-ایس کے دل میں ﷲ تعالٰی رحم پیدا کردے_
ایسے میں افتتاح کے روز مندر میں بندر بھی مدعو کیئے جائیں تو یہ اپنی طرز کی ریکارڈ توڑ رواداری ہوگی جس سے پورا بھارت "جل" اٹھے گا_ مندر کی طرف جانے والی شاہراہ کا نام "گاؤ ماتا روڈ" رکھ دیا جائے تو بابائے قوم کی روح کو کچھ تو سکون ملے گا_ ویسے آس پاس مندر نہ ہونے سے بھارتی کلبھوشن پورے ملک میں دھماکے کرتے پھرتے ہیں چلو اسلام آباد میں ایک مندر ہوگا تو ایک جگہ ٹک کر بیٹھے رہیں گے اور یہ سوچ ستر سال میں پہلی دفعہ سامنے آئ ہے_
اور مندر کا نام؟ میرے خیال میں "غزنوی مندر" کی بڑی سٹریٹجک اہمیت ہو سکتی ہے_ ایک تو پڑوسی بھارت کو ہمارے غزنوی میزائیل سے خطرہ محسوس نہیں ہوگا اور وہ عالمی سطح پر ہمیں بدنام کرتے ہوئے کچھ تو شرم کرنے لگیں گے، دوسرا کچھ محمود غزنوی کی "غلطیوں" کا ازالہ بھی ہوجائے گا، تیسرا یہ بھارت-افغانستان-پاکستان کی دوستی کی علامت بھی قرار پائے گا_ بھائ میں تو اس مندر سے تہزیب و ثقافت کا ایک وسیع سمندر پھوٹتے دیکھ رہا ہوں_
ہاں، ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ آخر اس مندر کو بنانے کے نمبر کون دیگا؛ بھارت، امریکہ یا اسرائیل یا تینوں؟ یہی بات تو "جاہل" پاکستانیوں کو سمجھ نہیں آتی_ ان سے بہتر تو ہمارے ہندو بھائ ہیں جو بیچارے یہودیوں کو اس مندر میں "عبادت" کی کھلے دل سے "اجازت" دینگے_ لیکن ہم بھگوان کے نام پر اجیت دوال کو اس مندر میں سیاست نہیں کرنے دیں گے_ تالیاں!
Wednesday, July 1, 2020
پاکستان اور ہائبرڈ وار فیئر کے چند پہلو
بھارت، چین ہو اسرائیل، چین ہو یا بھارت، چین اور اسرائیلی مفادات، سب کچھ آپس میں اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ بعض لوگ چین، بھارت معاملات کو چوہے بلی کا کھیل بھی قرار دیتے ہیں_ اس معاملے میں امریکہ بہادر کا کود آنا بھی کچھ حقائق کی بنیاد پر تو ہے لیکن اسکے انتہائ اہم مفادات چین کے ساتھ اس طرح سے وابسطہ ہیں کہ جن کو چھیڑنے سے پورا کا پورا مغرب کا پولیٹیکل-اکانومیکل ورلڈ آرڈر تباہ ہوسکتا ہے_ دیکھیں اسکا نتیجہ کیا نکلتا ہے_
میں نے اسی معاملے میں کسی کی یوٹیوب وڈیو پر یہ کمنٹ کیا "میں چین، بھارت کی مخاصمت کے بعد سے کہہ رہا ہوں کہ اس تمام کھیل کا نشانہ پاکستان ہے_ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ چین اس کھیل کا ماسٹر مائنڈ ہے، لیکن اسرائیل، بھارت اور امریکہ کے پیچھے ہے_ اصل میں پاکستانیوں کی مائنڈ انجینئرنگ کی جا رہی ہے تاکہ بھارت، چین یا بھارت، امریکہ اور چین کی جنگ میں پاکستان کو درمیان لپیٹ لیا جائے، درمیان میں اسرائیل کا نام نہ آئے اور پاکستان کی سوچ اسرائیل پر جوابی حملے کے بارے میں پیدا ہونے کا تصور ہی نہ ہو_ اس لیئے پاکستان اعلان کرے کہ بھارت کی جو ملک بھی خفیہ اور کھلی مدد کرے گا اسے بھی بھارت کے ساتھ نشانہ بنائیں گا_"
میں یہ بات اس بنیاد پر کہتا ہوں کہ دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کے مباحث کا بنیادی ارتکاز مغربی ممالک، امریک اور جاپان کی طرف نظر آتا ہے لیکن نتائج میں ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ اور اسرائیل کے قیام کا مسئلہ ثانوی حیثیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے_ اس وقت سے آج تک کے حالات میں ہمارا دردِ سر تو قیامِ اسرائیل ہی رہا ہے_ پھر سنہ انیس سو بیاسی سے شروع ہونے والی ایران-عراق جنگ سے لیکر عراق کے خلاف پہلی اور دوسری گلف وار کے بعد نام نہاد عرب سپرنگ کے نتائج میں اس وقت دنیا بھر کی چہار سمت میں کون چہک چہک کر اپنی عالمی بادشاہت کے ڈنکے بجا رہا ہے؟ اسرائیل_ سب "خیر خواہوں" کی آنیاں جانایاں بالآخر شام کی تباہی کا باعث بنیں اور آخر میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کس کا ہوا؟ اسرائیل کا_ اب جب چاہے اسرائیل اپنی مرضی کے مقام پر اپنے پڑوسی عرب ممالک کو مہلک حملوں کا نشانہ بنا ڈالتا ہے_ کیا وجہ ہے چھپتا بھی نہیں، سامنے آتا بھی نہیں اور چھایا بھی رہتا ہے_ یہی معاملہ اس وقت میرے نذدیک جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء کے تناؤ کا ہے_ اسرائیل اور بھارت نے پاکستان کو کمزور ترین حالت میں لے جانے کیلئے یہ پوری بساط جمائ ہوئ ہے_
سیدھی بات ہے بحیثیت ایک عام پاکستانی ہم اپنے ارباب اقتدار و سیاست پر یقین رکھیں یا نہ رکھیں لیکن ریاست، ریاستی دفاعی اداروں اور اربابِ اختیار سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے_ میری محبِ وطن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے درخواست ہے کہ ضیالحق شہید کی اس ڈاکٹرائن کو کبھی نہ بھولیں جو انھوں نے بھارت کی مدد کرنے پر اسرائیل کے گوش گزار کی تھی_ اسرائیل اسے بھولنے والا نہیں، اس نے اپنی طرف سے پاکستان کی پہلی اور دوسری ایٹمی اسٹرائیک کی صلاحیت کے معاملے کے علاوہ اپنی طرف توجہ نہ کیئے جانے کا بندوبست ضرور کیا ہوگا؛ آپ لوگ اپنی حکمت عملی سے انکے ان منصوبوں میں اسطرح سے دراڑ ڈالیں کہ بھارت اور اسرائیل ہمارے ارادوں یعنی سافٹ-پاور کی وجہ سے اپنے ناپاک عزائم سے بعض رہیں_
ایک صارف نے مجھے کمنٹ کیا "پاکستانی ادارے یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں_ بلوچستان میں ایسے امریکی پکڑے گئے جو اصل میں اسرائیلی تھے..... یہ بات کل ہی ضرار کھوڑو صاحب نے اپنے پروگرام میں بتائ"
میرا جواب: مسئلہ محض پاکستان کے اداروں کی سمجھ تک کا نہیں_ اصل معاملہ تو اداروں اور قوم کا اپنی سمجھ اور طاقت میں توازن کے ذریعے اسے ہارذ یا سافٹ پاور میں ڈھالنے کا ہوتا ہے_ میں کہتا ہوں ہم سمیت ہر مسلم ملک اپنے آپ کو کمزور سمجھ کر اپنے اپنے پریشر ککر میں سلگنے کی بجائے مسلم ممالک کے اتحاد کو مستحکم کرنے کی کماحقہ کاوش کرنے سے کیوں قاصر ہے_ اسکی سب سے بڑی مثال عالمِ اسلام کی مسئلہ کشمیر و فلسطین سے اجتماعی لاعلمی ہے_ پڑھے لکھے پاکستانی ببانگِ دہل کہتے سنائ دیتے ہیں کہ انکا فلسطین سے کیا تعلق اور یہ تو عربوں کا مسئلہ ہے_ اسی طرح عربوں، ترکوں اور افریقی مسلمانوں کو پتہ ہی نہیں کہ مسئلہ کشمیر کیا ہے_ بھارتی، اسرائیل اور مغرب کے زیر تسلط میڈیا سے انھیں بس یہی علم ہوتا ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کا سرپرست ہے؛ آج پاکستان میں فلاں جگہ دھماکہ ہوگیا اور فلاں جگہ فائرنگ؛ فلاں بین الاقوامی ادارے نے پاکستان کو فلاں لسٹ میں ڈال دیا اور فلاں دھمکی دے دی_ اسی طرح ایک سوچنے کی بات ہے کہ تیسری عالمی جنگ میں ہر مسلم ملک کا نام آنے کے باوجود مسلم ممالک کے کسی بلاک کی شکل میں اکٹھے ہونے کا تذکرہ نہیں ملتا_ صاف ظاہر ہے کہ مسلم ممالک پرائ جنگوں میں محض بطور ایندھن ہی استعمال ہوں گے_
پہلے بات اور تھی، یہ ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے_ اب تو لاگت اور ابلاغ کے لحاظ سے کام بہت آسان ہو گیا ہے_ آپ اپنے آئیڈیلز، حکمت عملی اور حالات کے مطابق اپنا دائرہ کار کا تعین کرکے مواد تیار کریں اور پھر اس مواد کو عوام کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلائیں_ آخر ایسا کیوں ہے کہ ظلم بھی ہمارے ساتھ، چوری بھی ہمارے وسائل اور مفادات کی چلتی رہے اور ہر سطح پر ظالم اور چور بھی ہمیں ہی بنا کر پیش کیا جاتا رہے_ ہمارے ادارے حالات کی اس نئ جہد، کروٹ اور تدارک کو سمجھیں اور اپنا لائحہ عمل بنائیں_ طارق اسمٰعیل ساگر صاحب کہتے ہیں کہ ستر فیصد جنگ روائیتی میدان جنگ سے باہر لڑی جارہی ہے_
میں ذاتی طور پر اسکی افادیت سے واقف ہوں کہ گزشتہ چودہ سال سے میں نے ہنود، یہود اور اہلِ مغرب سے ہمارے اجتماعی مسائل کے بارے میں تھوڑی سی بنیادی معلومات کے ساتھ اور ہمہ قسم خوف کے سائے تلے، شازشوں اور دھمکیوں کے باوجود بحث و تکرار جاری جاری رکھی_ ایک مجھ پر ہی موقوف نہیں بلکہ مجھ سے کہیں بہتر لاکھوں مسلم نوجوانوں نے اپنے اپنے طور پر سوشل میڈیا پر مسلم دنیا کے موقف کا موثر دفاع کیا اور پھر دنیا نے یہ بات بھی سنی کہ اسرائیل سوشل میڈیا کی جنگ ہار رہا ہے_ یقین کیجئے بھارت کو اس بات سے بہت خوف آتا ہے کہ کوئ بھی پاکستانی یا دیگر مسلم اقوام عالم خصوصاً اہل مغرب اور چینیوں کے سامنے حقائق کا انکشاف کریں_ اس میں رکاوٹ کیلئے بھارت اور اسرائیل نے سوشل میڈیا کے اہم مقامات مثلاً قورا، ڈسکس، فیس بک اور ٹوئیٹر وغیرہ پر مورچے بنا کر ہر طرح کے مہروں کو متحرک کیا ہوا ہے_ ان فورمز پر مجھے کئ مرتبہ انتہائ تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہے_ بڑے سے بڑے مسلم رائٹر، محقق اور سوشل رائٹس ایکٹیوسٹس پر مستقبل پابندی لگانا ایک معمول بنا ہوا ہے_ انکی محض ایک چاہت رہتی ہے کہ مسلم کاز کے بارے تفاصیل اور وضاحت سمیت اسرائیل اور بھارت کے کالے کرتوت دنیا کے سامنے نہ لائے جائیں_ انکے وہاں مسلم دنیا کے موقف کی کوئ جگہ نہیں_ چنانچہ حالات کا تقاضہ ہے کہ اس میدان کیلئے زیادہ سے زیادہ موثر تربیت یافتہ نوجوان سامنے آئیں تاکہ ہر جگہ اور تسلسل کے ساتھ اپنا فکری دفاع مضبوط کیا جاسکے_ بحیثیت اس جنگ کے ایک عام سپاہی، میں نے اس میدان میں فتح کا منہ دیکھا ہے، اس لیئے اپنے ارباب اختیار اور مقتدر اداروں سے اپیل ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کے بارے میں موثر اور مربوط معلومات نوجوانوں تک پہنچانے کا فوری بندوبست کریں کہ اسی میں ہماری اور انسانیت کی فتح ہے_
بچوں کی تعلیم کیلئے والدین کی تربیت ضروری کیوں؟
لاہور گرائمر سکول سے منسوب ایک واقعہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تعلیم، نظام تعلیم سے لیکر محکمہ تعلیم، اساتذہ کا کردار، نصاب اور بیچارے والدین کی پریشانیاں سب کچھ ہی زیرِبحٹ ہے_ ہر کوئ اپنے اپنے کچے پکے تجربات بیان کرتا ہی رہتا ہے لیکن ایک عامی کی حیثیت سے کسی بھی موضوع کی حمایت یا مخالفت میں ایک اٹل، قطعی رائے اور مشورہ دینا غیر ذمہ داری کے ضمن میں آتا ہے_
مسئلہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ پیدا ہوئ ہے_ اس سلسلے میں فاصلاتی نظام تعلیم اور ہوم سکولنگ وغیرہ جیسے تجربات کو بروئے کار لانے کی کوشش کی گئ ہے_ استاد اور شاگرد کا آمنے سامنے تدریسی تعامل تو آییڈیل معاملہ ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی بھی حوالے سے کوئ رکاوٹ پیدا ہو جائے_ جیسے آجکل کرونا وائرس کے پھیلنے کا خطرہ_ اس صورتحال میں آن لائن ذریعہ تعلیم ایک بہترین ذریعہ ہے_ لیکن اسکے لیئے پرسکون ماحول، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیب یا بڑی سکرین والے موبائل کے علاوہ، بچوں، والدین یا سرپرستوں کو انکا استعمال بخوبی آنا ضروری ہے_ سب سے اہم چیز انٹرنیٹ کنکشن یا پیکج ہے_ اس سلسلے میں ہر کوئ اپنی صورتحال کو بہتر سمجھتا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ پاکستان کی کٹیر آبادی کیلئے اس سب کے اخراجات برداشت کرنا کوئ مشکل نہیں ہے_ مسئلہ صرف اسے ترجیحات میں شامل کرنے اور اسے مینیج کرنے کی تگ و دو کا ہے_ پراییویٹ سکولوں نے اپنے طالبعلموں کیلئے آن لائن تعلیم کا بندوبست کیا ہوا ہے_ ان مخدوش حالات میں خواہ انکا مقصد فیس کی وصولی کا ہی کیوں نہ ہو، آخر کوئ استاد تو رہنمائ کیلئے مہیاء کریں گے_ اب یہ تو آپ پر ہے کہ آپ کا نیٹ ورک کیسا ہے، لوڈشیڈنگ یا آپ استاد کی صلاحیت اور اس سے استفادہ کرنا جانتے ہیں یا نہیں اور اس سے ملتے جلتے دیگر مسائل_ کچھ اساتذہ کو بھی لچک دکھانی چاہیئے کہ کوئ سبق رہ جائے تو طالبعلم کی رہنمائ کردیں_ سیکھنے سکھانے کا شوق اور عزم ہو تو کم سے کم وسائل میں بھی علم حاصل کیا جا سکتا ہے_ لیکن یار لوگوں نے اسے بھی تنقید کا نشانہ بنا کر بیچارے گھبرائے ہوئے والدین کو اپنے "فلسفوں اور تجاویز" سے پریشان کیا ہوا ہے_
ایک خاتون نے لکھا "اسکے دو بچے ہیں اور سکول والے اس پر آن لائن پڑھائ کا بوجھ ڈال رہے ہیں_" اب یہ سوچنے والی بات ہے کہ موصوفہ موبائل، انٹرنیٹ اور یو ٹیوب استعمال کرنے کے علاوہ رومن اردو میں کمنٹس تک کر لکھ پڑھ لیتی ہیں، لیکن انکے لیئے بچوں کی آن لائن تعلیم کو مینیج کرنا پہاڑ سے کم نہیں_ اس خاتون کا ہی کیا شکوہ ہمارے ہاں والدین کی تربیت پر بھی حکومت کو توجہ دینی چاہیئے، اس پر ایک مرتبہ اخراجات آئیں گے لیکن اس سے تعلیمی اخراجات کے ضمن میں آئندہ خاطر خواہ بچت بھی ہوگی اور وہ سکول انتظامیہ، اساتذہ اور بچوں کو بہتر انداز میں ڈیل کر سکیں گے_
والدین کو بتانا ضروری ہے کہ ہر سکول، ہر ٹیچر، ہر آئیڈیا اور ہر تعلیمی ٹرینڈ غلط نہیں ہوتا_ پہلے تو سکول مینجمنٹ اور ٹیچر کو مخلص ہونا چاہیئے_ دوسرا، حکومت اور محکمہ تعلیم کو اس پر مخلصانہ چیک رکھنا چاہیئے_ تیسرا، والدین یا سرپرستوں کو علم کے ساتھ ساتھ توجہ اور دلچسپی بھی ہونی چاہیئے کہ انکے زیرِ سائہ بچوں کو کون، کب، کس ماحول میں کیا پڑھا رہا ہے_ جب تک ان باتوں کا علم نہ ہو کسی کے اچھے برے مشورے پر عمل قسمت کا فیصلہ ہی قرار دیئے جاسکتے ہیں، لیکن اسے بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے میں والدین کے شعور کی تربیت کا قطعی مظہر نہیں کہا جاسکتا_ چاہے والدین تعلیم پر جتنا مرضی خرچہ کردیں_ اسی کمی کی وجہ سے اتنا خرچہ کرکے بھی اکٹر والدین مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر مایوسی محسوس کرتے ہیں_ اس سلسلے میں والدین کا تعلیم یافتہ یا مالی خوشحال ہونا ہی کافی نہیں بلکہ بچوں کی تعلیم و تربیت کی کم از کم بنیادی معلومات اور فنون کا علم ضروری ہے_ مثال کے طور پر کس عمر میں بچے کو کون سی کتاب پڑھنی آجانی چاہیئے_ بچے کو کس کلاس تک لکھنا آجانا چاہیئے_ بچوں کو سوچ کر خود سے لکھنے کے عمل کا موقع مل رہا ہے یا نہیں_ بچہ پر گھر میں ریڈنگ پر توجہ دی جا رہی ہے یا نہیں_ سکول میں بچے کی ریڈنگ اور تخلیقی سوچ اور تحریر کو مناسب طور پر چیک کرنے کا نظام ہے یا نہیں_ اگرچہ ہماری قوم کا اجتماعی تعلیم اور تربیت کے بارے میں شعور، باہمی مفاد کیلئے، ابھی خود ہی طفلی دور سے گزر رہا ہے، تاہم وزارتِ تعلیم والدین کی رہنمائ کیلئے بھی کچھ بندو بست ضرور کرے_
Subscribe to:
Posts (Atom)