Wednesday, July 1, 2020

بچوں کی تعلیم کیلئے والدین کی تربیت ضروری کیوں؟

لاہور گرائمر سکول سے منسوب ایک واقعہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تعلیم، نظام تعلیم سے لیکر محکمہ تعلیم، اساتذہ کا کردار، نصاب اور بیچارے والدین کی پریشانیاں سب کچھ ہی زیرِبحٹ ہے_ ہر کوئ اپنے اپنے کچے پکے تجربات بیان کرتا ہی رہتا ہے لیکن ایک عامی کی حیثیت سے کسی بھی موضوع کی حمایت یا مخالفت میں ایک اٹل، قطعی رائے اور مشورہ دینا غیر ذمہ داری کے ضمن میں آتا ہے_ 

مسئلہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ پیدا ہوئ ہے_ اس سلسلے میں فاصلاتی نظام تعلیم اور ہوم سکولنگ وغیرہ جیسے تجربات کو بروئے کار لانے کی کوشش کی گئ ہے_ استاد اور شاگرد کا آمنے سامنے تدریسی تعامل تو آییڈیل معاملہ ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی بھی حوالے سے کوئ رکاوٹ پیدا ہو جائے_ جیسے آجکل کرونا وائرس کے پھیلنے کا خطرہ_ اس صورتحال میں آن لائن ذریعہ تعلیم ایک بہترین ذریعہ ہے_ لیکن اسکے لیئے پرسکون ماحول، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیب یا بڑی سکرین والے موبائل کے علاوہ، بچوں، والدین یا سرپرستوں کو انکا استعمال بخوبی آنا ضروری ہے_ سب سے اہم چیز انٹرنیٹ کنکشن یا پیکج ہے_ اس سلسلے میں ہر کوئ اپنی صورتحال کو بہتر سمجھتا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ پاکستان کی کٹیر آبادی کیلئے اس سب کے اخراجات برداشت کرنا کوئ مشکل نہیں ہے_ مسئلہ صرف اسے ترجیحات میں شامل کرنے اور اسے مینیج کرنے کی تگ و دو کا ہے_ پراییویٹ سکولوں نے اپنے طالبعلموں کیلئے آن لائن تعلیم کا بندوبست کیا ہوا ہے_ ان مخدوش حالات میں خواہ انکا مقصد فیس کی وصولی کا ہی کیوں نہ ہو، آخر کوئ استاد تو رہنمائ کیلئے مہیاء کریں گے_ اب یہ تو آپ پر ہے کہ آپ کا نیٹ ورک کیسا ہے، لوڈشیڈنگ یا آپ استاد کی صلاحیت اور اس سے استفادہ کرنا جانتے ہیں یا نہیں اور اس سے ملتے جلتے دیگر مسائل_ کچھ اساتذہ کو بھی لچک دکھانی چاہیئے کہ کوئ سبق رہ جائے تو طالبعلم کی رہنمائ کردیں_ سیکھنے سکھانے کا شوق اور عزم ہو تو کم سے کم وسائل میں بھی علم حاصل کیا جا سکتا ہے_ لیکن یار لوگوں نے اسے بھی تنقید کا نشانہ بنا کر بیچارے گھبرائے ہوئے والدین کو اپنے "فلسفوں اور تجاویز" سے پریشان کیا ہوا ہے_ 

ایک خاتون نے لکھا "اسکے دو بچے ہیں اور سکول والے اس پر آن لائن پڑھائ کا بوجھ ڈال رہے ہیں_" اب یہ سوچنے والی بات ہے کہ موصوفہ موبائل، انٹرنیٹ اور یو ٹیوب استعمال کرنے کے علاوہ رومن اردو میں کمنٹس تک کر لکھ پڑھ لیتی ہیں، لیکن انکے لیئے بچوں کی آن لائن تعلیم کو مینیج کرنا پہاڑ سے کم نہیں_ اس خاتون کا ہی کیا شکوہ ہمارے ہاں والدین کی تربیت پر بھی حکومت کو توجہ دینی چاہیئے، اس پر ایک مرتبہ اخراجات آئیں گے لیکن اس سے تعلیمی اخراجات کے ضمن میں آئندہ خاطر خواہ بچت بھی ہوگی اور وہ سکول انتظامیہ، اساتذہ اور بچوں کو بہتر انداز میں ڈیل کر سکیں گے_ 

والدین کو بتانا ضروری ہے کہ ہر سکول، ہر ٹیچر، ہر آئیڈیا اور ہر تعلیمی ٹرینڈ غلط نہیں ہوتا_ پہلے تو سکول مینجمنٹ اور ٹیچر کو مخلص ہونا چاہیئے_ دوسرا، حکومت اور محکمہ تعلیم کو اس پر مخلصانہ چیک رکھنا چاہیئے_ تیسرا، والدین یا سرپرستوں کو علم کے ساتھ ساتھ توجہ اور دلچسپی بھی ہونی چاہیئے کہ انکے زیرِ سائہ بچوں کو کون، کب، کس ماحول میں کیا پڑھا رہا ہے_ جب تک ان باتوں کا علم نہ ہو کسی کے اچھے برے مشورے پر عمل قسمت کا فیصلہ ہی قرار دیئے جاسکتے ہیں، لیکن اسے بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے میں والدین کے شعور کی تربیت کا قطعی مظہر نہیں کہا جاسکتا_ چاہے والدین تعلیم پر جتنا مرضی خرچہ کردیں_ اسی کمی کی وجہ سے اتنا خرچہ کرکے بھی اکٹر والدین مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر مایوسی محسوس کرتے ہیں_ اس سلسلے میں والدین کا تعلیم یافتہ یا مالی خوشحال ہونا ہی کافی نہیں بلکہ بچوں کی تعلیم و تربیت کی کم از کم بنیادی معلومات اور فنون کا علم ضروری ہے_ مثال کے طور پر کس عمر میں بچے کو کون سی کتاب پڑھنی آجانی چاہیئے_ بچے کو کس کلاس تک لکھنا آجانا چاہیئے_ بچوں کو سوچ کر خود سے لکھنے کے عمل کا موقع مل رہا ہے یا نہیں_ بچہ پر گھر میں ریڈنگ پر توجہ دی جا رہی ہے یا نہیں_ سکول میں بچے کی ریڈنگ اور تخلیقی سوچ اور تحریر کو مناسب طور پر چیک کرنے کا نظام ہے یا نہیں_ اگرچہ ہماری قوم کا اجتماعی تعلیم اور تربیت کے بارے میں شعور، باہمی مفاد کیلئے، ابھی خود ہی طفلی دور سے گزر رہا ہے، تاہم وزارتِ تعلیم والدین کی رہنمائ کیلئے بھی کچھ بندو بست ضرور کرے_

No comments:

Post a Comment