Thursday, July 30, 2020

زمانے کی کروٹ لیکن مسلم دنیا کے خرَّاٹے؟

مبشر لقمان صاحب! آپ نے افریقی مسلم ملک جبوتی کی جغرافیائ Strategic-importance  کی وجہ سے بڑی طاقتوں کی اس ملک میں ڈویلپمنٹ کے بارے میں عوامی رائے پوچھی ہے_ عرض یہ ہے کہ جب بھی عالمی سیاست میں مفادات کے کھیل میں کوئ موقع آتا ہے تو مسلم دنیا اس سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہتی ہے_ یا تو اس موقع پر انکے پاس مطلوبہ معلومات، تربیت اور صلاحیت ہی نہیں ہوتی یا قوت ارادی نہیں ہوتی یا امریکہ اور مغرب ان کو دھونس، دھاندلی، جھوٹے وعدوں، بلیک میلنگ یا آپس میں الجھا کر یا چکمہ دیکر یا انتشار پیدا کرکے قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں_ اسکی ایک بڑی وجہ کم و بیش پورے عالم اسلام میں اندرونی قوت کے مراکز کا اہم قومی امور پر فیصلہ سازی کے بارے میں معاشرے کے اہم طبقات کی ملکی مفادات کے بارے موثر تربیت اور ہم آہنگی کی اہمیت پر غور نہ کرنا؛ حکام اور عوام میں فاصلہ بھی اسی کا دوسرا رخ ہے_ آج سے بیس سال قبل جب مسلم دنیا کو احساس ہو چکا تھا کہ اس دنیا میں کیا ہو رہا تھا اور ہم کہاں کھڑے تھے اور ہمیں کیا کرنا چاہئے اور ہمارے حکمران کیا کررہے تھے تو امریکہ بہادر اور اسکے ہمنواؤں کے پیٹ میں درد شروع ہوگیا اور مسلمانوں کو وار آن ٹیرر کے نام پر engage کردیا گیا اور دنیا کو یہ باور کروایا گیا کہ مسلم دنیا مغربی colonialism, post-colonialism اور neo-colonialism کا victim نہیں بلکہ دہشتگردوں کی جائے پیدائش، تہزیب، گہوارہ اور متمنی ہے_ آپ ہی پوچھ رہے ہیں ناں کہ آج دہشتگردی کے وہ سب مغربی الزامات کہاں گئے؟ مسلم حکمران، مقتدر حلقے، میڈیا اور نام نہاد دانشور بھی انکے ان الزامات کے پیچھے چل پڑے_ اس صورتحال میں ہم ایسی developments سے کیا ہی استفادہ کریں گے سوائے اسکے کہ "وہ آیا، اس نے دیکھا اور وہ چلا گیا"_ جب تک مسلم دنیا gross-root سے اجتماعی معاشرتی مسائل پر غورِ فکر و عمل شروع نہیں کرتی اور مقامی اور ملکی وسائل، ریاستی اداروں کے بارے معلومات اور حکمرانوں سے کام لینے کے فن کو نہیں سیکھتے ہمیں احساس زیاں کبھی بھی نہیں ہو پائے گا_ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کوئ بھی موقع آنے پر اور زمانے کی کسی بھی کروٹ پر ہم اپنے آپ کو تیار کیوں نہیں پاتے؟ یا ہم اپنے آپ کو من حیث القوم pre-emptively تیار کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے خود ہی تو کہا ہے کہ دنیا معاشی مفادات کی جنگ لڑ رہی ہے اور مسلم ممالک اندرونی جنگوں میں مصروف ہیں_ سوال یہ ہے کہ یہ ہوم ورک مسلم حکمرانوں کو کس نے دیا ہوا ہے یا کون دیتا ہے؟ اسکا کھوج لگائیں گے تو اسکے پیچھے اسی امریکہ اینڈ سسٹرز اور اسکے گماشتوں کا ہاتھ  ہی نظر آئے گا؛ اسکا سب سے بہترین پیمانہ انکی اسلحہ انڈسٹری کے گزشتہ بیس سال کے شرح منافع سے واضح ہے_ حتیٰ کہ ان کا چیلہ نما گرو اسرائیل تک سالانہ اربوں ڈالرز کا اسلحہ بیچ رہا ہے_ بہرحال مجھے معلوم نہیں آپ کیسے سوچتے ہیں لیکن میرے نزدیک مسلم دنیا OIC کو تحرک دیں یا پھر فوری طور پر اقبال کے ویژن کے مطابق مسلم دنیا کوئ اور موثر ادارہ یعنی Muslim Common-Wealth تشکیل دیں_ ہم اپنے حکمرانوں اور حکام کا گریبان پکڑیں گے تو وہ کہیں سر پکڑ کر بیٹھیں گے_ جناب! اس قوم کو یہ ضرور سکھائیے کہ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمتی، قومیں مخلص رہنماؤں کی نشونما، تربیت اور قربانی سے بنتی ہیں_ لیکن ہمارے میڈیا اور فلم انڈسٹری کو کس کام پر لگایا گیا ہے؟ غلط تربیت پر؛ جسکا عکس سوشل میڈیا پر واضح ہے_ جس قوم کی تربیت کے سوتے خشک کردیئے جائیں اس قوم کا خون خشک کئے جانے کا کھیل کبھی ختم نہیں ہوتا! 

No comments:

Post a Comment