Wednesday, July 1, 2020

پاکستان اور ہائبرڈ وار فیئر کے چند پہلو

بھارت، چین ہو اسرائیل، چین ہو یا بھارت، چین اور اسرائیلی مفادات، سب کچھ آپس میں اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ بعض لوگ چین، بھارت معاملات کو چوہے بلی کا کھیل بھی قرار دیتے ہیں_ اس معاملے میں امریکہ بہادر کا کود آنا بھی کچھ حقائق کی بنیاد پر تو ہے لیکن اسکے انتہائ اہم مفادات چین کے ساتھ اس طرح سے وابسطہ ہیں کہ جن کو چھیڑنے سے پورا کا پورا مغرب کا پولیٹیکل-اکانومیکل ورلڈ آرڈر تباہ ہوسکتا ہے_ دیکھیں اسکا نتیجہ کیا نکلتا ہے_ 

میں نے اسی معاملے میں کسی کی یوٹیوب وڈیو پر یہ کمنٹ کیا "میں چین، بھارت کی مخاصمت کے بعد سے کہہ رہا ہوں کہ اس تمام کھیل کا نشانہ پاکستان ہے_ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ چین اس کھیل کا ماسٹر مائنڈ ہے، لیکن اسرائیل، بھارت اور امریکہ کے پیچھے ہے_ اصل میں پاکستانیوں کی مائنڈ انجینئرنگ کی جا رہی ہے تاکہ بھارت، چین یا بھارت، امریکہ اور چین کی جنگ میں پاکستان کو درمیان لپیٹ لیا جائے، درمیان میں اسرائیل کا نام نہ آئے اور پاکستان کی سوچ اسرائیل پر جوابی حملے کے بارے میں پیدا ہونے کا تصور ہی نہ ہو_ اس لیئے پاکستان اعلان کرے کہ بھارت کی جو ملک بھی خفیہ اور کھلی مدد کرے گا اسے بھی بھارت کے ساتھ نشانہ بنائیں گا_" 

میں یہ بات اس بنیاد پر کہتا ہوں کہ دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کے مباحث کا بنیادی ارتکاز مغربی ممالک، امریک اور جاپان کی طرف نظر آتا ہے لیکن نتائج میں ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ اور اسرائیل کے قیام کا مسئلہ ثانوی حیثیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے_ اس وقت سے آج تک کے حالات میں ہمارا دردِ سر تو قیامِ اسرائیل ہی رہا ہے_ پھر سنہ انیس سو بیاسی سے شروع ہونے والی ایران-عراق جنگ سے لیکر عراق کے خلاف پہلی اور دوسری گلف وار کے بعد نام نہاد عرب سپرنگ کے نتائج میں اس وقت دنیا بھر کی چہار سمت میں کون چہک چہک کر اپنی عالمی بادشاہت کے ڈنکے بجا رہا ہے؟ اسرائیل_ سب "خیر خواہوں" کی آنیاں جانایاں بالآخر شام کی تباہی کا باعث بنیں اور آخر میں گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کس کا ہوا؟ اسرائیل کا_ اب جب چاہے اسرائیل اپنی مرضی کے مقام پر اپنے پڑوسی عرب ممالک کو مہلک حملوں کا نشانہ بنا ڈالتا ہے_ کیا وجہ ہے چھپتا بھی نہیں، سامنے آتا بھی نہیں اور چھایا بھی رہتا ہے_ یہی معاملہ اس وقت میرے نذدیک جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء کے تناؤ کا ہے_ اسرائیل اور بھارت نے پاکستان کو کمزور ترین حالت میں لے جانے کیلئے یہ پوری بساط جمائ ہوئ ہے_ 

سیدھی بات ہے بحیثیت ایک عام پاکستانی ہم اپنے ارباب اقتدار و سیاست پر یقین رکھیں یا نہ رکھیں لیکن ریاست، ریاستی دفاعی اداروں اور اربابِ اختیار سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے_ میری محبِ وطن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے درخواست ہے کہ ضیالحق شہید کی اس ڈاکٹرائن کو کبھی نہ بھولیں جو انھوں نے بھارت کی مدد کرنے پر اسرائیل کے گوش گزار کی تھی_ اسرائیل اسے بھولنے والا نہیں، اس نے اپنی طرف سے پاکستان کی پہلی اور دوسری ایٹمی اسٹرائیک کی صلاحیت کے معاملے کے علاوہ اپنی طرف توجہ نہ کیئے جانے کا بندوبست ضرور کیا ہوگا؛ آپ لوگ اپنی حکمت عملی سے انکے ان منصوبوں میں اسطرح سے دراڑ ڈالیں کہ بھارت اور اسرائیل ہمارے ارادوں یعنی سافٹ-پاور کی وجہ سے اپنے ناپاک عزائم سے بعض رہیں_ 

ایک صارف نے مجھے کمنٹ کیا "پاکستانی ادارے یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں_ بلوچستان میں ایسے امریکی پکڑے گئے جو اصل میں اسرائیلی تھے..... یہ بات کل ہی ضرار کھوڑو صاحب نے اپنے پروگرام میں بتائ" 

میرا جواب: مسئلہ محض پاکستان کے اداروں کی سمجھ تک کا نہیں_ اصل معاملہ تو اداروں اور قوم کا اپنی سمجھ اور طاقت میں توازن کے ذریعے اسے ہارذ یا سافٹ پاور میں ڈھالنے کا ہوتا ہے_ میں کہتا ہوں ہم سمیت ہر مسلم ملک اپنے آپ کو کمزور سمجھ کر اپنے اپنے پریشر ککر میں سلگنے کی بجائے مسلم ممالک کے اتحاد کو مستحکم کرنے کی کماحقہ کاوش کرنے سے کیوں قاصر ہے_ اسکی سب سے بڑی مثال عالمِ اسلام کی مسئلہ کشمیر و فلسطین سے اجتماعی لاعلمی ہے_ پڑھے لکھے پاکستانی ببانگِ دہل کہتے سنائ دیتے ہیں کہ انکا فلسطین سے کیا تعلق اور یہ تو عربوں کا مسئلہ ہے_ اسی طرح عربوں، ترکوں اور افریقی مسلمانوں کو پتہ ہی نہیں کہ مسئلہ کشمیر کیا ہے_ بھارتی، اسرائیل اور مغرب کے زیر تسلط میڈیا سے انھیں بس یہی علم ہوتا ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کا سرپرست ہے؛ آج پاکستان میں فلاں جگہ دھماکہ ہوگیا اور فلاں جگہ فائرنگ؛ فلاں بین الاقوامی ادارے نے پاکستان کو فلاں لسٹ میں ڈال دیا اور فلاں دھمکی دے دی_ اسی طرح ایک سوچنے کی بات ہے کہ تیسری عالمی جنگ میں ہر مسلم ملک کا نام آنے کے باوجود مسلم ممالک کے کسی بلاک کی شکل میں اکٹھے ہونے کا تذکرہ نہیں ملتا_ صاف ظاہر ہے کہ مسلم ممالک پرائ جنگوں میں محض بطور ایندھن ہی استعمال ہوں گے_ 

پہلے بات اور تھی، یہ ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے_ اب تو لاگت اور ابلاغ کے لحاظ سے کام بہت آسان ہو گیا ہے_ آپ اپنے آئیڈیلز، حکمت عملی اور حالات کے مطابق اپنا دائرہ کار کا تعین کرکے مواد تیار کریں اور پھر اس مواد کو عوام کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلائیں_ آخر ایسا کیوں ہے کہ ظلم بھی ہمارے ساتھ، چوری بھی ہمارے وسائل اور مفادات کی چلتی رہے اور ہر سطح پر ظالم اور چور بھی ہمیں ہی بنا کر پیش کیا جاتا رہے_ ہمارے ادارے حالات کی اس نئ جہد، کروٹ اور تدارک کو سمجھیں اور اپنا لائحہ عمل بنائیں_ طارق اسمٰعیل ساگر صاحب کہتے ہیں کہ ستر فیصد جنگ روائیتی میدان جنگ سے باہر لڑی جارہی ہے_ 

میں ذاتی طور پر اسکی افادیت سے واقف ہوں کہ گزشتہ چودہ سال سے میں نے ہنود، یہود اور اہلِ مغرب سے ہمارے اجتماعی مسائل کے بارے میں تھوڑی سی بنیادی معلومات کے ساتھ اور ہمہ قسم خوف کے سائے تلے، شازشوں اور دھمکیوں کے باوجود بحث و تکرار جاری جاری رکھی_ ایک مجھ پر ہی موقوف نہیں بلکہ مجھ سے کہیں بہتر لاکھوں مسلم نوجوانوں نے اپنے اپنے طور پر سوشل میڈیا پر مسلم دنیا کے موقف کا موثر دفاع کیا اور پھر دنیا نے یہ بات بھی سنی کہ اسرائیل سوشل میڈیا کی جنگ ہار رہا ہے_ یقین کیجئے بھارت کو اس بات سے بہت خوف آتا ہے کہ کوئ بھی پاکستانی یا دیگر مسلم اقوام عالم خصوصاً اہل مغرب اور چینیوں کے سامنے حقائق کا انکشاف کریں_ اس میں رکاوٹ کیلئے بھارت اور اسرائیل نے سوشل میڈیا کے اہم مقامات مثلاً قورا، ڈسکس، فیس بک اور ٹوئیٹر وغیرہ پر مورچے بنا کر ہر طرح کے مہروں کو متحرک کیا ہوا ہے_ ان فورمز پر مجھے کئ مرتبہ انتہائ تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہے_ بڑے سے بڑے مسلم رائٹر، محقق اور سوشل رائٹس ایکٹیوسٹس پر مستقبل پابندی لگانا ایک معمول بنا ہوا ہے_ انکی محض ایک چاہت رہتی ہے کہ مسلم کاز کے بارے تفاصیل اور وضاحت سمیت اسرائیل اور بھارت کے کالے کرتوت دنیا کے سامنے نہ لائے جائیں_ انکے وہاں مسلم دنیا کے موقف کی کوئ جگہ نہیں_ چنانچہ حالات کا تقاضہ ہے کہ اس میدان کیلئے زیادہ سے زیادہ موثر تربیت یافتہ نوجوان سامنے آئیں تاکہ ہر جگہ اور تسلسل کے ساتھ اپنا فکری دفاع مضبوط کیا جاسکے_ بحیثیت اس جنگ کے ایک عام سپاہی، میں نے اس میدان میں فتح کا منہ دیکھا ہے، اس لیئے اپنے ارباب اختیار اور مقتدر اداروں سے اپیل ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کے بارے میں موثر اور مربوط معلومات نوجوانوں تک پہنچانے کا فوری بندوبست کریں کہ اسی میں ہماری اور انسانیت کی فتح ہے_

No comments:

Post a Comment