Sunday, July 12, 2020

ڈاکٹر مہاتیر محمد کے اسرائیل کے بارے میں تازہ ترین بیان پر ایک تبصرہ

یہودیوں نے نسل پرستی کی وجہ سے انبیاء کو قتل کیا اور ﷲ کی نافرمانی کی_ اسی نسل پرستی کی وجہ سے انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو رد کیا اور آخری نبی محمد (ص) پر اس لیئے ایمان نہ لائے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہ تھے_ جو قوم اپنے خالق اور اسکے پیغمبروں کی نہ ہوئ وہ عام انسانوں کی کیا ہوسکتی ہے؟ یہودیوں کی چاہت ہے کہ وہ دنیا میں ایک نظام قائم کرکے عالمی امن قائم کرکے دکھانا چاہتے ہیں_ انکی یہ خواہش کچھ بری نہیں لیکن انسانیت کو نسل کی بنیاد پر تقسیم کرنا یہودیوں کا بنیادی خاصہ ہے، جسے یہ Jews and Gentiles سے موسوم کرتے ہیں_ اگر یہودی فی الوقت اپنے منصوبے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو انکی نسل پرستی کی خو ضرور رنگ دکھائے گی چاہے دنیا میں نو یہودی اور ایک غیر یہودی بھی باقی رہ جائے_ اسکے نتیجے میں انکا نظام خودبخود تباہ ہوجائے گا_ 

اگر یہ کہتے ہیں کہ یہ نسل پرستی سے توبہ کرلیں گے یا کرچکے، تو پھر یہ ﷲ کے آخری دو پیغمبروں یعنی عیسیٰ (ع) اور محمد (ص) پر ایمان کیوں نہیں لے آتے؟ جبکہ عیسائ اور مسلمان دونوں یہودیوں کی طرف ﷲ کے بھیجے ہوئے تمام تر انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں_ بنیادی طور پر یہودی ایک الجھی ہوئ قوم ہے؛ جس میں بے شمار رہنما اور تحریکیں سر اٹھاتی رہتی ہیں اور یہ فکری تبدیلی کے عمل سے گزرتے رہتے ہیں_ لیکن، ہر حالت میں یہ یہودی قوم کی دیگر انسانوں پر بالادستی کے تصور کو مقدم رکھتے ہیں_ سود کا نظام بھی اسی کا حصہ ہے کہ غیر یہودی انسان کہلانے کے قابل نہیں ہیں، یہ کمائیں گے اور ہم سود کی شکل میں انکی کمائ دولت سے حصہ لے لیں گے_ 

ابھی بھی وقت ہے، مسلم دنیا ہوش کے ناخن لے اور ملیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کا مشورہ مان لیں کہ مسلمانوں کی توجہ کا تمام تر مرکز اسرائیل ہونا چاہیئے_ اپنے ایک تازہ ترین انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ مسلمان مغرب کی بجائے آپس میں مل کر اسرائیل پر حملہ کرنے کی حکمت عملی بنائیں کیونکہ انکے نزدیک یہی مسلم ممالک کے بڑے مسائل کی جڑ ہے_ مسلم دنیا کو اس بات پر ضرور غور کرنا چاہیئے کہ پورا مشرق وسطیٰ تباہ ہوگیا لیکن اسرائیل نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اپنے جغرافیہ کو بھرپور طریقے سے پھیلانے کی کوشش بھی کر رہا ہے_ اس کے علاوہ روزانہ مسلمانوں کی کوئ نہ کوئ نام نہاد جہادی تنظیم سامنے آجاتی ہے، لیکن اسرائیل پر کوئ بھی حملہ نہیں ہوتا_ مسلمانوں کو ڈاکٹر مہاتیر کے مشورے پر ضرور عمل کرنا چاہیئے_

No comments:

Post a Comment