اس مندر سے اقوامِ عالم میں پاکستان کا وقار "بلند" ہوگا_ ویسے یہ کشمیر کا جواب مندر سے یعنی اینٹ کا جواب پتھر سے بھی بنتا ہے_ بالی وڈ اور مودی نے "پیار" ہی اتنا دیا ہے_ ویسے اسلام آباد میں مندر کی گھنٹیاں بھی مسرور کن لگیں گی اور گائے ذبح کرنے پر پابندی لگ جائے تو کیا کہنے! مذہبی ہم آہنگی کے_ ویسے حکومتی ارکان مہینہ میں کم از کم ایک دفعہ زعفرانی لباس میں نظر آیا کریں تو شائد آر-ایس-ایس کے دل میں ﷲ تعالٰی رحم پیدا کردے_
ایسے میں افتتاح کے روز مندر میں بندر بھی مدعو کیئے جائیں تو یہ اپنی طرز کی ریکارڈ توڑ رواداری ہوگی جس سے پورا بھارت "جل" اٹھے گا_ مندر کی طرف جانے والی شاہراہ کا نام "گاؤ ماتا روڈ" رکھ دیا جائے تو بابائے قوم کی روح کو کچھ تو سکون ملے گا_ ویسے آس پاس مندر نہ ہونے سے بھارتی کلبھوشن پورے ملک میں دھماکے کرتے پھرتے ہیں چلو اسلام آباد میں ایک مندر ہوگا تو ایک جگہ ٹک کر بیٹھے رہیں گے اور یہ سوچ ستر سال میں پہلی دفعہ سامنے آئ ہے_
اور مندر کا نام؟ میرے خیال میں "غزنوی مندر" کی بڑی سٹریٹجک اہمیت ہو سکتی ہے_ ایک تو پڑوسی بھارت کو ہمارے غزنوی میزائیل سے خطرہ محسوس نہیں ہوگا اور وہ عالمی سطح پر ہمیں بدنام کرتے ہوئے کچھ تو شرم کرنے لگیں گے، دوسرا کچھ محمود غزنوی کی "غلطیوں" کا ازالہ بھی ہوجائے گا، تیسرا یہ بھارت-افغانستان-پاکستان کی دوستی کی علامت بھی قرار پائے گا_ بھائ میں تو اس مندر سے تہزیب و ثقافت کا ایک وسیع سمندر پھوٹتے دیکھ رہا ہوں_
ہاں، ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ آخر اس مندر کو بنانے کے نمبر کون دیگا؛ بھارت، امریکہ یا اسرائیل یا تینوں؟ یہی بات تو "جاہل" پاکستانیوں کو سمجھ نہیں آتی_ ان سے بہتر تو ہمارے ہندو بھائ ہیں جو بیچارے یہودیوں کو اس مندر میں "عبادت" کی کھلے دل سے "اجازت" دینگے_ لیکن ہم بھگوان کے نام پر اجیت دوال کو اس مندر میں سیاست نہیں کرنے دیں گے_ تالیاں!
No comments:
Post a Comment