Tuesday, July 21, 2020

حکمران طبقات کی غلامانہ ذہنیت اور قومی مسائل

ایک مرتبہ میں یاہو کے اسلام چیٹ روم میں داخل ہو تو گویا  انتظار میں بیٹھی ایک شناسا امریکی لڑکی نے مجھے مخاطب کرکے دفعتاً ایک نپی تلی جفت لگائ "آپ کو معلوم ہے کل نیویارک کی ایک مشہور شاہراہ پر میں نے کیا دیکھا؟" پھر کہنے لگی کہ کچھ پاکستانیوں نے مغربی سیاحوں کو پاکستان میں سیاحت کی طرف مائل کرنے کیلئے پاکستانی سیاحتی مقامات کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں کی ہوئ تھیں_" یہ سنۃ 2006ء کی بات ہے جب پاکستان میں امریکی وار آن ٹیرر جاری تھی اور پاکستان کے کسی بھی کونے میں بم دھماکے اور خودکش حملے آئے روز کا معمول تھا_ مغرب نے مسلم حکام کے ساتھ use and abuse کا جو کھیل کھیلا ہوا ہے، ایک طرف تو ہمارے حکمران اور مقتدر حلقے اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے یا اسے قدغن لگانے سے خوف کھاتے ہیں؛ شائد ان کو مغرب کی تفویض کردہ ذمہ داریوں میں اس معاملے میں خاموشی بھی انکے فرائض منصبی کا حصہ ہے؛ دوسری طرف اسرائیل اور بھارت کے زیر اثر مغربی میڈیا، مسلم اور پاکستان مخالف واقعات اور selected معاملات کو بڑی شدومد سے پیش کرنے کو اپنا فرض عین سمجھ کر پیش کرتے  ہیں_ ان دنوں ہنود، یہود، نصاریٰ اور دہریوں کے ساتھ ساتھ ہمہ قسم مغربی باشندوں کے ساتھ پاکستان اور عالم اسلام کو لیکر بحث و مباحثہ، پاکستانیوں کا چوبیس گھنٹے کا معمول تھا_ وہ پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ ٹھہراتے تھے اور ہم اپنے دلائل سے انکا رد کرتے تھے_ اسی تناظر میں بیلے میری رائے جاننا چاہتی تھی کہ پاکستان میں تو اتنی دہشت گردی تھی اور پاکستان ان کے تئیں اتنا backward تھا تو کچھ پاکستانی سیاحت کے فروغ کیلئے ایسی نمائشیں مغربی ممالک میں کیوں کر رہے تھے؟ اسکا تاثر تھا کہ گویا پاکستانی اپنا ملک کا بہتر image پیش کرکے غیرملکیوں کو "دھوکہ" دے رہے تھے یا پاکستان کا سیاحت سے کیا تعلق؟ 

میرے دل میں بڑی چبھن تھی کہ ان لوگوں نے وطن عزیز پاکستان کو تختہ مشق بھی بنا رکھا تھا اور بدنام بھی کرتے رہتے تھے اور ہماری سیاحتی promotion کی تضحیک بھی کر رہے تھے_ خیر اس دن میں نے اپنے معمول کے مطابق کوئ بحث چھیڑنے کی بجائے اس سوال کو موقع جان کر گفتگو کا رخ موڑتے ہوئے انھیں بتایا "PTDC بیرون ملک ایسی نمائشوں کا انعقاد کرتی رہتی ہے اور پاکستان سیاحت کے شعبے میں اس لحاظ سے پرکشش ہے کہ دنیا میں جو نو اقسام کی آب و ہوا یا climates ہیں ان میں سے سات، ﷲ تعالیٰ نے پاکستان کے مقدور کی ہیں اور ارضِ پاکستان کے بعض شمالی سیاحتی مقامات یقیناً سوئیٹرلینڈ سے بھی کسی لحاظ سے کم نہیں؛ بات تو اپنے اثاثوں کی positioning اور marketing کی ہے_ 

بدقسمتی سے پاکستان کے حکام نے اسکی طرف توجہ ہی نہیں دی؛ اسکی کئ وجوہات ہیں_ ایک تو پاکستان میں سرعام چوما چاٹی اور شراب نوشی کو عیب سمجھا جاتا ہے جبکہ اہل مغرب اسے اپنی آزادی کی اہم ترین علامات میں شمار کرتے ہیں_ اس لیئے انھیں پاکستان سمیت اکثر مسلم مملک کے سیاحتی مقامات تمام تر توصیفات کے باوجود دلکش نہیں لگتے_ ان مقامات پر اکثر مغربی سیاح وہ آتے ہیں جو اپنے کسی اور کام یا جاسوسی کے سلسلے میں یہاں گھومتے پھرتے ہیں_ اسکے علاوہ چند کوہ پیمائ کے شوقین بھی ان سیاحتی مقامات پر آتے رہتے ہیں_ بحرحال جب یورپ اور امریکہ آپ کی سیاحت کی ہسٹری میں پاکستان کا نام دیکھ کر آپکی تفتیش کا دائرہ اور بڑھا دیں تو آپ خاک دوبارہ ادھر کا رخ کریں گے اور دوسرے کو اسکا مشورہ دینے یعنی publicity کی بجائے منع ہی کریں گے_ 

ایک سیاحت کے شعبے پر ہی موقوف نہیں، بلکہ ہر وہ معاملہ جس سے مسلم ممالک کو فائدہ اور تقویت ملنے کا اندیشہ ہو، مغرب اور اسکے گماشتوں کا یہی وطیرہ رہا ہے اور رہے گا، تاوقت یہ کہ مسلم ممالک اپنی نظریاتی اساس سے بالکل دستبردار ہوجائیں یا بطور دین، اسلام کے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کریں جیسا کہ وہ اپنے اپنے ادیان سے کرتے ہیں_ یہاں rational مغرب اپنی سرزد کردہ fallacy of generalization کو بھی بالائے طاق رکھ دیتا ہے؛ انھیں یہ باور کرانا ہی جوئے شیر لانے کے مترادف بن جاتا ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو کسی طبقے کو بھی دین کے ساتھ اور دین کے نام پر کھلواڑ سے عبارت نہیں ہے_ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اسی عطار کے لونڈے یعنی مغرب سے دوا لینے میں اپنی کامیابی سمجھتے ہیں؛ جبکہ مغرب ہمیں use and abuse کے ذریعے ایسی جگہ لیکر جانا چاہتا ہے جہاں پانی بھی نہ ملے_ 

دوسروں کی تو بات ہی کیا کریں ہمارے اپنے حکمران طبقوں اور ارباب اختیار نے اپنے مفادات، تشکیک اور حب المغرب کی آڑ میں خود اپنی قوم کو ہی ہر میدان میں آئے روز کی الپ پلٹ سے عجوبہ بنا کر رکھ دیا_ اگر ہم دہشتگرد ملک ہیں تو ہماری قوم کو ہر اسرائیلی کی طرح معیاری ملٹری تربیت کیوں نہیں دی جاتی؟ اگر یہاں حکومت دہشتگردی کی سرپرست ہے تو ہر امریکی کی طرح ہر فرد کا یہاں اسلحہ رکھنے کی اجازت کیوں نہیں؟ اگر یہاں دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے تو بھارتی انتہاپسند R.S.S کی طرح یہاں پر مسلح گروہ باقاعدہ تیاری کرتے کیوں نظر نہیں آتے؟ یہاں تو ہم امن کے ایسے پیامبر بنے کہ اپنے معمولی دفاع کی تربیت N.C.C کو بھی متروک کردیا؛ اس سے بھی کام نہ چلا تو معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان جیسے کلیدی علوم کو بھی گوشہ نسیان میں ڈال دیا_ حالات اتنے دگرگوں ہیں کہ مایوسی کے عالم میں مشہور ناول نگار طارق اسمٰعیل ساگر کا کہنا ہے کہ جنگ کے اقدامات کے پیش نظر عوام ابتدائ طبی امداد کی تربیت اپنے طور پر خود حاصل کریں اور ان حکمرانوں سے یہ توقع نہ کریں کہ یہ اسکا بندوبست کریں گے_

سچی بات ہے کہ پاکستان پر ایٹمی جنگ کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں اور مجال ہے جو سرکاری اور پرائیویٹ میڈیا چینلز پر عوامی سطح پر اسکے اثرات سے بچاؤ کی تربیت کی کوئ معلومات فراہم کی گئ ہو_ پاکستان اٹامک انرجی انسٹی ٹیوٹ یا آئ-ایس-پی-آر کیلئے یہ ایک پمپفلٹ، web-contant یا چھوٹی موٹی ڈاکومنٹری بنا کر عوام تک پہنچانا کیا بہت بڑا مسئلہ ہے یا اسکی ضرورت ہی نہیں ہے؟ ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ نے ایک سال کی پلاننگ کرنی ہے تو چاول کاشت کریں، اگر دس سال کی پلاننگ کرنی ہے تو درخت لگائیں اور اگر آپ نے اپنے مستقبل کی پلاننگ کرنی ہے تو اپنے عوام کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں_ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ایک آزاد قوم کو فکر و عمل کی آزادی کیلئے جس mind-set کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے حکمران طبقات سے ابھی اسکا تعین نہیں ہو سکا ہے_ ایسا تب تک نہیں ہو پائے گا جب تک ہمیں اپنے وجود، معمولات اور مستقبل پر یقین نہیں ہوگا_

No comments:

Post a Comment