Thursday, July 23, 2020

بھارتی مقبوضہ کشمیر؛ پاکستان کی سفارتکاری آکسیجن ٹینٹ میں کیوں ہے؟

مغربی استعمار کی سیاسی نفسیات ہے کہ جب بھی کسی معاملے پر بادل ناخواستہ سمجھوتہ کرتے ہیں تو اس معاملے میں کوئ نہ کوئ سقم یا زخم ضرور چھوڑ جاتے ہیں کہ وہ رستا ہی رہے_ ان سے آزادی حاصل کرنے والی ریاستوں کے سرحدی، زمینی اور علاقائ تنازعات کی فصل کی کٹائ تاحال جاری ہے_ ان سلگتے مسائل میں سے کشمیر اور فلسطین دو منفرد مثالیں ہیں کہ جن میں دونوں اطراف کے فریقوں کا حق خود ارادیت اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے تسلیم کیئے جانے کے باوجود دانستہ وقت گزار کر ان مسائل کی ہیئت ہی تبدیل کر دی گئ ہے اور تاحال جاری ہے_ پاکستان کے عظیم رہنماء محمد علی جناح نے کشمیر کے بارے میں برطانوی بدنیتی کو بھانپتے ہوئے بھارت کو لوہے کے چنے چبواتے ہوئے بھارتی فوج کو سری نگر تک دھکیل دیا تو بھارت اقوام متحدہ کی طرف جنگ بندی کیلئے بھاگ کھڑا ہوا_ قائداعظم کشمیر کو محض زمین کے ایک ٹکڑے کے طور پر نہیں بلکہ اسکی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر اسے پاکستان کی شہہ رگ قرار دے گئے تھے_ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کی رائے شماری کے حق کو تسلیم کیا اور اس طرح سے جنگ بندی پر عمل درآمد ہوا_ اسکے بعد سے کشمیر کے معاملے پر پاک-بھارت جنگوں، جھڑپوں اور اپنے آپ کو مسلح کرنے کی نفسیات اتنی غالب آئ کہ دونوں ممالک بھاری بھرکم افواج اور روائیتی ہتھیاروں سمیت خطرناک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہوگئے

پاکستان اور کشمیری تقریباً تینتالیس سال عالمی اداروں اور طاقتوں کا منہ تکتے رہے کہ کب کشمیر کے معاملے کو حل کروانے پر عملدرآمد شروع ہوگا لیکن کسی عالمی داستان میں بھارتی فوج کے ہاتھوں سلگتے کشمیر پر پاکستان کے موقف کی کوئ داستان نہ تھی_ اس دوران بھارت نے اپنے زیر تسلط کشمیر پر جعلی سیاسی کشمیری قیادت کو کشمیریوں پر مسلط کیئے رکھا اسکا نتیجہ تنگ آمد بجنگ آمد ہی تو نکلنا تھا_ آئے دن کی عصمت داریوں، اغوا، قتل و غارتگری، املاک اور مساجد کی تباہی اور قید و بند کی صعوبتوں نے مقبوضہ وادی کو انگار وادی میں بدل دیا_ امریکہ بہادر کی تسلیاں اور پاکستان کی اخلاقی اور سیاسی حمایت زمینی حقائق کو بدلنے سے قاصر ہو چکی تھیں_ اسی دوران جب افغانستان میں افغانوں نے اپنے سے کئ گنا بڑی طاقت کو چاہے جس کی مدد سے بھی شکست دی تو مسلم دنیا کے نوجوان، خصوصاً کشمیری، فتح کا منہ دیکھ چکے تھے؛ چنانچہ بھارتی ظلم و استبداد کے تلے دبے کشمیری نوجوانوں کے سینوں میں دبی انتقام کی آگ بھڑک اٹھی_ افغانی، پاکستانی، کشمیری اور دنیا بھر کے مجاہدین نے بھارت کو مزہ چکھانے کا فیصلہ کیا، لیکن، کیونکہ بات پھر پاکستان پر ہی آنی تھی تو پاکستان نے اپنی عالمی ذمہ داری، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور علاقائ امن کی خاطر اسے بہت ہی مشکل سے منظم کیا اور اسے صرف کشمیریوں کے غم وغصہ تک ہی محدود رکھا_ باالفاظ دیگر پاکستان نے بھارتی استبداد کے خلاف مشتعل مسلم نوجوانوں کو کنٹرول کرکے بھارت کو صلح صفائ سے مسائل حل کرنے کا نادر موقع فراہم کیا_

کشمیر کے مسلح جہادی گروہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیئے تھے_ جہاں جہاں بھارتی سورما چھاتیاں پھیلا کر کشمیریوں پر ہر طرح کے ظلم کی آزمائش کرتے تھے وہاں وہاں کشمیریوں کی تحریک مزاحمت نے ان کا اس طرح سے پیچھا کیا کہ بھارتی فوجی گیڈروں کی طرح بیرکوں میں ہی چھپے رہنے کو اپنی عافیت سمجھنے پر مجبور ہوگئے_ اس دوران بھارت نے اپنے میڈیا اور اپنے سے میل کھاتے شاطر عالمی میڈیا پر پاکستان کو بدنام کرنے میں کوئ کسر اٹھا نہ رکھی_ کشمیری حریت پسندوں کو دہشتگرد اور پاکستان کو انکی دہشت گردی کے مددگار کے طور پر پیش کرنے کا بھارتی کھیل اپنی جڑیں مضبوط کرنے پر تیزی سے گامزن رہا؛ لیکن، اقوام متحدہ کی قراردادوں، امریکہ اور مغربی ممالک کے ذہنوں میں مسئلہ کشمیر کے بارے کشمیریوں کے حق آزادی کی نزاکت اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے زمینی حقائق نے بھارت کو کسی بھی فورم پر کامیاب نہیں ہونے دیا اور یہی پاکستان کی اخلاقی اور سیاسی کامیابی کی علامت تھی_ بھارت تلملا بھی رہا تھا اور ادلے کے بدلے کے طور پر کشمیری حریت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں کے بارے نوحہ گری پر بھی مجبور تھا_ اس تحریک کے منطقی نتیجہ میں بھارت کو لازمی طور پر اقوام متحدہ کے زیر اثر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا تھا یا پھر بھارت کو خدشہ تھا کہ یہ بڑھتی تحریک پورے بھارت میں جاری علیحدگی کی دیگر تحریکوں کو جلا نہ بخش دے_

امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ کیا رونما ہوا، تحاریک آزادی اور علیحدگی پسندوں کے پریشر ککر میں ابلتے بھارت اور اسرائیل کو اپنے اپنے ملک میں جاری آزادی کی تحریکوں کو دہشتگردی، حریت پسندوں اور ان کی سیاسی و اخلاقی حمایت کرنے والے ممالک اور حلقوں کو دہشتگرد قرار دینے کا مستقل کھیل شروع کرنے کا موقع  گیا؛ جسکا سلسلہ تاحال جاری ہے_ اس  ضمن میں فلسطین اور کشمیر کے لیڈرز اور تنظیموں کو اقوام متحدہ کے ذریعے دہشتگردی کے کھاتے میں ڈال دیا اور ان کے بینک اکاؤنٹس اور سفر وغیرہ پر پابندی لگوانے سمیت انکے قتل عام کے سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرلیئے_ اسکے ساتھ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں فلسطینی اور کشمیریوں کی سیاسی اور اخلاقی مدد کرنے والے ممالک کو دہشتگردوں کے مددگار قرار دیکر انھیں عالمی مالیاتی اداروں کے قوانین کے تحت کبھی گرے لسٹ میں گھسیٹنے اور کبھی نکالنے کی بھیانک چالیں شروع کردیں_ جہاں مغربی ممالک فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر اسرائیل اور بھارت کے جرائم پر پردہ پوشی کے جرم کے مرتکب چلے آرہے تھے اور اب یہ پوچھنے سے قاصر ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر کشمیری، فلسطینی اور انکے حمائتی حلقے دہشتگرد کس جواز کے تحت قرار پاتے ہیں؟ وہاں پاکستان سمیت کئ مسلم ممالک عالمی بساط پر بالکل ایسے غلاموں کی طرح ادھر سے ادھر گھسیٹے جا رہے ہیں جیسے جانوروں کو گلے میں زنجیر ڈال کر  تابع رکھا جاتا ہے_ وار آن ٹیرر کی آڑ میں بھارت اور اسرائیل نے سمگلرز کی طرح موقع ملنے پر نشے میں مگن مسلم قیادتوں اور حکومتوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر گویا اپنے کالے دھن کو سفید دھن  میں تبدیل کرنے کی بدرجہ اتم کوشش کی_

گزشتہ دو دہائیوں سے یہی کھیل چل رہا تھا اور اس مشق میں کامیابی کے نتیجے میں جب بھارت نے محسوس کیا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر جکڑا جا چکا ہے اور پاکستان کے کرتا دھرتا اپنے اعصاب مغربی، بھارتی اور اسرائیلی ریشہ دوانیو‌ں کے ہاتھوں مفلوج و بے حس کروا چکے ہیں اور مستقبل میں انکے چوں تک کرنے کی امیدیں دم چھوڑ چکی ہیں اور انکے منہ میں ہمارے ہی الفاظ و فکر کی بازگشت سنائ دیتی ہے تو بھارت نے خاموشی سے شق 370 کا خاتمہ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بھی درگور کردیا_ یہ ایک ایسا استبدادی اقدام تھا کہ حریت پسند اور علیحدگی پسند کشمیری رہنماء تو کیا خود غیرجانبدار بھارت نواز کشمیری سیاستدان بھی اس بھارتی فیصلے کے خلاف میدان میں نکل کھڑے ہوئے_ یہی اس معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کیلئے کافی تھا، لیکن پاکستان کے سر پر تو جوں بھی نہیں رینگی_ پاکستان سفارتی سطح پر کیوں خاموش رہا؟ کیا پاکستان کو علم نہیں تھا؟ کیا پاکستان بھارتی طاقت کے آگے سرنڈر کر چکا ہے؟ کیا پاکستان کے پاس اس بھارتی اقدام سے بڑھ کر بھی کوئ اقدام ہے؟ آخر پاکستان اتنا بے حس اور بے بس کیسے ہوگیا؟ اسکے ساتھ ہی کشمیریوں کو گھروں میں مقید کرکے اور انکے کاروباری مستقبل کو داؤ پر لگانے کا بھارتی سلسلہ آگے بڑھا تو بھی پاکستان کی رگوں میں خون کماحقہ دوڑتا نظر نہیں آیا_ پاکستان کی اسی بے بسی کے مدنظر اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر محترم حسین ہارون نے اپنے ایک خصوصی یوٹیوب بیان میں پاکستان کے کرتا دھرتا حلقوں سے بڑی دردمندانہ اپیل کی کہ کشمیر کو بچاؤ، آخر کیوں پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر پستی کی آخری حدوں کو چھو لیا؟ لیکن نقار خانے میں طوطی کی کون سنے والے معاملے کا تسلسل ہنوز جاری ہے_ 

ایک زمانہ تھا لداخ میں بھارتی حکومت ہندو پنڈتوں کو بھارت سے لا کر بسانے کی کوشش کرتی رہی_ لیکن تحریک حریت کشمیر سے یہ سلسلہ رک گیا تھا_ دراصل یہ بھارت کی اس تمنا کا شاخسانہ ہے کہ اقوام متحدہ اگر کبھی اپنی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کی استصواب رائے  پر تیار ہو بھی جائے تو وہ کشمیر میں آبادی کے تناسب  کو مطلوبہ حد تک تبدیل کرنے کے قابل ہو چکا ہو_ اسکے پیش نظر اس نے کشمیریوں کی نسل کشی، گھروں اور علاقوں سے بے دخلی، پہلے ہندو پنڈتوں کو اور اب بھارتی ہندوؤں اور انتہاپسندوں کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لابسانے کا حالیہ سلسلہ شروع کیا ہوا ہے_ حتیٰ کہ پاکستانی وزیراعظم نے عالمی قوتوں کو کشمیریوں کے بھارتی فوج کے ہاتھوں نسل کشی کے بارے متنبہ کیا ہے؛ لیکن، جس طرح سے بھارت کے عملی اقدامات بتدریج رو بہ عمل ہیں، پاکستان کی جانب سے اکَّا دُّکا آوازیں پاکستان کی بےبسی کی آخری سسکیوں کی علامت سے زیادہ محسوس نہیں ہو رہیں_

بھارت کی کشمیر کے بارے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے روگردانی اور کشمیریوں پر روا ہر طرح کے مظالم کے خلاف پاکستان مقبوضہ کشمیر پر چڑھائ کرے تو عالمی امن کو تیسری جنگ عظیم سے خطرہ اور غیر ریاستی عناصر کی حمایت کرے تو عالمی سیاسی اور مالیتی اداروں کی جانب سے دہشتگرد ریاست کا الزام؛ اگر کشمیری حریت پسند بھارتی ظالم فوج سے ٹکرائیں تو دہشتگردی؛ اس صورتحال میں بھارت مقبوضہ کشمیر میں من مانے فیصلے آخر کس کی آشیرباد پر کر رہا ہے؟ پاکستان کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی ناپاک بھارتی جسارت کو عالمی سفارتکاری کے ذریعے سے کیوں اجاگر نہیں کر رہا؟ کیا پاکستان عالمی کارسازوں کے کشمیر کے بارے میں کسی خفیہ منصوبہ پر سمجھوتہ کر چکا ہے؟ آخر ایٹمی اور اعلیٰ میزائل ٹیکنالوجی کی حامل ریاست کی سافٹ پاور کہاں ہے؟ کیا پاکستان کو سن انیس سو اڑتالیس سے اب تک کی فلسطینی سرزمین کی سکڑتی صورتحال بھول چکی ہے؟ اگر آج بھارت پر سفارتی قدغن نہیں لگائ جاتی تو دو چار سالوں میں کشمیر میں آبادی کا تناسب کہاں کھڑا ہوگا؟ کیا پاکستان کے پالیسی ساز ایسی خطرناک صورتحال کیلئے بھارت کو وقت دے رہے ہیں؟ کیا اہل پاکستان اپنی شہہ رگ کو اسی خاموشی سے کٹتا دیکھتے رہیں گے؟

پاکستان کے ارباب اختیار یاد رکھیں پاکستانی عوام ابھی تک سقوط ڈھاکہ کو نہیں بھول سکے_ اگر پاکستان عالمی اور بھارتی دباؤ پر خاموشی سے یہ سب کچھ برداشت کرتا رہا اور موثر سفارتی اقدامات نہیں اٹھاتا تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی اور اسکے منفی اثرات آسیب کی طرح پیچھے لگے رہیں گے_ اگر پاکستان یہ سب کچھ کرنے کے قابل نہیں تو کشمیر پالیسی پر اپنی بےبسی کا باقاعدہ اعلان کردے اور غیر جانبدار ہوجائے؛ پوری مسلم دنیا کے نوجوان خود ہی بھارت کو چاروں جانب سے، جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے کہا تھا، ہزاروں زخم لگانے کیلئے نشانے پر رکھ لیں گے_ عالمی قوتیں جس طریقے سے بھارت کی غیر منصفانہ سرپرستی کرکے پاکستان اور کشمیریوں کو دیوار سے لگا رہی ہیں، یاد رکھیں کہ بھارت اس آگ سے کبھی نہیں نکل پائے گا_ لیکن بات پھر وہی آتی ہے، پاکستان کی کشمیر ڈپلومیسی آخر ستر سال بعد بھی آکسیجن ٹینٹ میں کیوں ہے؟
(تحریر: عبدالرحمٰن)

No comments:

Post a Comment