گزشتہ کچھ ماہ سے بعض نا سمجھ مسلم طبقات، تنقید کی معقول حد سے نکل کر عربوں کے خلاف زہر فشانی پر لگا دیئے گئے ہیں؛ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج اہل مغرب سر پیٹ رہے ہیں کہ سعودی عرب نے مسلم دنیا میں توہمات سے پاک اسلام، توحید خالص اور جہاد کی تعلیم پھیلا دی اور اب وہ خفیہ طور پر ہر طرح سے عربوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر انھیں گھیرنے اور عالم اسلام سے کاٹنے کا کھیل رچا رہے ہیں_ ہمیں آج کی مجبور عرب دنیا کی کچھ غلطیاں نظر آتی ہیں لیکن جب پوری مسلم دنیا ان سے مالی مفادات اٹھاتی ہے تو ان کو انکی خامیاں بالکل بھی نہیں بتاتی_ کبھی ہم اپنی خودغرضی پر بھی غور کریں گے؟ عرب کوئ فرشتے نہیں لیکن ذرا ہم اپنے اور ان کے اعمال کا موازنہ تو کرکے دیکھیں کہ ہم خود کتنے قابل اور متقی مسلمان ہیں؟
بلا شبہ، ﷲ تعالٰی ترک مسلمانوں کو کامیابی دے! اٰمین! یہ کوئ عربوں کی قیمت پر نہیں ہے_ ترک قوم کا اپنا مزاج اور میدان ہے_ لیکن ہمارے کج فہم سمجھ لیں! آج ترکی مسلم دنیا کے جس جذبہ مزاحمت کو سمیٹ رہا ہے اسے گزشتہ چھ دہائیوں سے عربوں نے بھی کافی حد تک نظریاتی اور عملی لحاظ سے سینچا ہے_ حالات حاضرہ میں، تمام مسلمان، کشمیر اور فلسطین کو آزاد کروانے کی فکر کریں؛ مسلمانوں کی پیٹھ میں تاریخی الجھنوں کے خنجر نہ گھونپیں_ ایسی حرکتوں سے پورا عالم اسلام بشمول ترکی کمزور ہوجائے گا_ ترکی کو مسلم دنیا کے اتحاد کی ضرورت ہے نہ کہ آپس میں ہی دست و گریباں ہونے کی_ ترکوں کی حمایت میں مسلم دنیا کو تقسیم کر دینا ایک نئ حماقت ہوگی، جس سے بچاؤ ضروری ہے_
سعودی عرب صرف بنگلہ دیش میں سو مساجد، اسلامک سینٹرز اور کتب خانوں کیلئے ایک ارب ریال خرچ کر رہا ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ اسلامک سینٹرز سعودی عرب ہی چلا رہا ہے_ تحقیق کرکے دیکھیں مسلم-عیسائ مکالمے میں کون سا مسلم ملک سب سے آگے ہے، جس کی وجہ سے بڑے بڑے مغربی دانشور اسلام کی سچائ یا قبول کر لیتے ہیں یا اسلام کے بارے میں معتدل ہو جاتے ہیں؟ یہ سعودی عرب ہی ہے جو مسلمانوں کی نظریاتی ڈھال بنا رہا ہے_ ﷲ جس قوم کی قسمت میں جو صلاحیت اور کامرانی بھی لکھ دے_ اِدھر ہمارے بیوقوف بنائے گئے لوگ ہیں جو آپس میں ہی ایک دوسرے کی شکست کو اپنی فتح سمجھتے ہیں_
پاکستانی ریاست اور ادارے عربوں، ترکوں اور ایرانیوں کو جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں، توڑنے پر نہیں_ پاکستان نے ہمیشہ خود زخم کھا کر مسلم ممالک کو جوڑنے کی بات کی ہے_ جب بھی عرب اور ایرانی خطرے کی حد کو پہنچے پاکستان نے آگے بڑھ کر مصالحانہ کردار ادا کیا_ پاکستان کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر بزور شمشیر قبضے کی حمایت نہیں کرتا_ آج پھر مملکت خداد پاکستان کا امتحان ہے کہ ہمارے ارباب اختیار چین، روس اور امریکہ کی کُشتی میں اپنے آپ کو اور امت مسلمہ کو کیسے سنبھالتے ہیں؟ ترکوں اور عربوں کے درمیان پُل کا کردار کیسے ادا کرتے ہیں؟ آئندہ کی کسی عرب-ایران مخاصمت کو کیسے روکتے ہیں؟
بحیثیت عوام ہمارا یہ فرض ہے کہ ہمیں معلوم ہو ہمارا مقصد کیا ہے؟ ہمارا راستہ کیا ہونا چاہیئے؟ پھر خود ہی ڈنڈے بندوقیں اٹھا کر فیصلے نہ کرتے پھریں بلکہ حکومتوں کو اپنے آئیڈیلز کی ذمہ داریاں سونپ کر ان سے کام لینے اور انھیں سیدھے راستے پر رکھنے کا فن سیکھیں_ جو اقوام اپنے حکام، اداروں اور وسائل کا استعمال نہیں سیکھتیں ان کی تمام صلاحیتیں اور وسائل دشمن کے دسترس میں چلے جاتے ہیں؛ انھیں فکری اور عملی الجھن کا شکار کر دیا جاتا ہے، انکے اندر غدار فیکٹریاں کھل جاتی ہیں اور پھر باہمی الزام تراشیوں کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے_ عوام اپنے حکام سے معاملہ فہمی کی بنیاد پر سوالات کریں اور انھیں انکی ذمہ داری کا احساس دلوائیں _
اس نازک موڑ پر مخلص علماء اور اہل دانش تمام قسم کی مصلحتوں اور مفادات سے بالا ہو کر حکام اور عوام کے درمیان مثبت کردار اور تربیت کا فریضہ ادا کریں_ ہماری کسی سے لڑائ نہیں بلکہ ہمیں پرائ لڑائیوں میں بطور ایندھن استعمال کیا جا رہا ہے، اب ہمیں عقلمندی سے اپنے آپ کو بچا کر چلنا ہوگا، ورنہ آس پاس کی خاردار تاریں ہمارے لباس اور جسم کو مزید تار تار کرکے رکھ دیں گی_ ہم صرف اتنا سوچ لیں دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے ہیں یا اپنے بچی کچھی میراث کو بچانا ہے؟ اسکا طریقہ محض علم، افہام تفہیم، تحمل اور برداشت ہے_ ہزاروں کمزوریوں کے باوجود ہمیں اپنے اداروں، مقتدر حلقوں اور شاہینوں پر فخر ہے؛ ﷲ ان کی کامیابی کیلئے حالات سازگار کردے! آمین!
(تحریر: عبدالرحمن)
No comments:
Post a Comment