Thursday, July 30, 2020

ٹوک مارنا ایک ضرورت بھی ہے؛ لیکن......

پاکستان کی تمام اقوام خود آپس میں اور ایک دوسرے پر طنز اور مذاق کی عادی ہیں سب کو اس برائ کا خاتمہ کرنا چاہیئے_ میں نے ایک علاقے کے پٹھان بھائیوں کو دوسرے علاقوں کے پٹھانوں کا مذاق اڑاتے بھی دیکھا ہے_ پنجابی پنجابیوں کا مذاق اڑاتے ہیں؛ حتیٰ کہ عزتیں بھی اچھالتے ہیں_ ابرار الحق کا "نچ پنجابن نچ" یاد ہے؟ سب کو اپنی اصلاح کی ضرورت ہے_ قرآن کی سورۃ الحجرات میں کسی کے الٹے نام رکھنے، مذاق اڑانے اور طنز کرنے سے واضح طور پر منع کیا گیا ہے_ ہم نہیں جانتے کہ کسی شخص یا قوم کے بارے میں کہے گئے ایک غلط لفظ سے کتنی نفرت جنم لے لیتی ہے_ خاندان اور رشتہ داریاں بکھر جاتی ہیں ایسی چھوٹی چھوٹی زبان ماری سے_ ہمارے ہاں اداکاروں، سیاستدانوں، علماء، دانشوروں اور صحافیوں نے قوم کا یہی مزاج بنایا ہے_ ویسے "بلبلے" والوں نے معذرت بھی کی ہے کہ جان بوجھ کر ایسا نہیں ہوا_ انکا بڑا پن ہے_ پختون بھائیو! میں پنجاب کا رہائشی اردو سپیکنگ ہوں اور کسی قوم کی بھی ہتک آمیزی کے چٹکلوں اور لطیفوں کی فوراً مذمت کرتا ہوں_ بعض قوموں اور لوگوں کی کچھ مخصوص باتیں ہوتی ہیں جنھیں وہ خود بھی ہنسی مذاق میں چھیڑتے رہتے ہیں؛ ایسی باتوں کو لطیف پیرائے میں سمجھنے سمجھانے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن پوری قوم یا خاندان کا تمسخر اڑانے کیلئے نہیں_ ہمارے جنوبی پنجاب کے سرائیکی علاقوں میں سرائیکی ارائیوں کی ایک ٹوک بڑی مشہور ہے اسکے پیچھے کہانی یہ ہے کہ ایک گھر سے ملحق جانوروں کے بھانے میں ایک سانپ بیٹھا تھا_ اس گھر میں سات بھائ رہتے تھے_ اتفاق سے ایک بھائ بھانے میں گیا اور پھر سب کے ساتھ اپنے گھر میں آکر بیٹھا اور کچھ ہی دیر میں فوت ہوگیا؛ دوسرے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا؛ پھر تیسرے کے ساتھ_ غرض ساتوں بھائ اسی طرح باری باری ایک ہی سانپ سے ڈسے گئے اور سب فوت ہوگئے_ اس پر کہاوت بنی "ستے ڈسہے گئے ہن ڈہسیا ہک نہ" یعنی ساتوں کو سانپ نے ڈسا لیکن کسی نے بھی زبان نہیں کھولی__یہ ایسے ہی ہے ہمارے تمام حکمران امریکہ اور برطانیہ سمیت مغربی طاقتوں کے ہاتھوں نقصان اٹھاتے ہیں، خود بھی مرتے ہیں، ملک و قوم کو بھی تباہ کروائے رکھتے ہیں اور نہیں بتاتے کہ حقیقت کیا ہے؛ صرف یہ کہہ کر چپ ہوجاتے ہیں کہ وقت آنے پر پتہ چل جائے گا__ ہم بھی سرائیکی آرائیوں کو یہ ٹوک کبھی کسی معاملے پر مار دیتے ہیں لیکن وہ برا نہیں بناتے؛ اپنے لوگوں کو بھی بعض دفعہ سمجھانے کیلئے سناتے ہیں لیکن سرائیکی ارائیوں کا مذاق اڑانے کیلئے نہیں_ وہ ہم پر بھی ٹوکیں لگاتے ہیں، ہم بھی ہنس پڑتے ہیں_ ٹوک اگر صاف دلی اور اصلاح کیلئے ہو تو سمجھانے کا ایک آسان اور سادہ ذریعہ بھی ہے، لیکن قرآن کے مطابق ایک قوم کو دوسری قوم کا مذاق اڑانے سے بچنا چاہئے_ پختونوں آپ اور ہم سب صرف پاکستانی ہیں، دل بڑا رکھنا چاہئے سب کو_

No comments:

Post a Comment