مغربی دنیا پہلے ون ورلڈ کا خواب دیکھا؛ پھر Western Political-Economical Order کا علم بلند کیا؛ پھر نیو ورلڈ آرڈر کا نام لیا لیکن دنیا میں ارتعاش پیدا ہوا تو گلوبلائزیشن میں "انسانیت" کی ترقی اور نشونما کا نعرہ لگا دیا_ اسکے ساتھ ساتھ جیسے ہی سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ سے فارغ ہوا تو مسلم دنیا کو ترقی کا دشمن قرار دے کر بہانے تراش کر انکی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کہا کہ مسلم دنیا گلوبلائزیشن کے عمل کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے تذبذب میں تھی نیز مسلم دنیا پتھر کے زمانے کے باسی ہیں_ مغرب نے اپنے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کو بھی مجبور اور مائل کیا کہ روحانیت کی بجائے مادیت کو اپنا امام بنا لے_ مسلم دنیا تو انکی تقریباً ستر سال سے غلام بنی ہوئ ہے اور انکے بٹھائے ہوئے مینیجرز__جو یہاں ہر میدان میں وائسرائے بنے بیٹھے ہیں__نے خود مسلمانوں کو ہی مجرم قرار دیکر مارنا، دھمکانا، بدنام کرنا اور گمراہ کرنا شروع کردیا_ اپنے مفاد کیلئے اب مغربی فرستادے پھر سے مسلم دنیا کو "جہادی مسلمان" بنانے کے اقدامات شروع کروا رہے ہیں_ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے ذریعے پھر سے "احیائے اسلام" کی تحریکوں کی بنیادیں رکھی جا رہی ہیں_ میں تو اسے the strategization of Islam, Jihad and Muslims کا نام ہی دوں گا_ قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں_ اب جب خدا کی منکر اور روحانیت سے عاری، ہمہ قسم جدید ٹیکنالوجی سے لیس، آئ-ٹی کی ماہر اور مغرب سے ملتی جلتی ننگ دھڑنگ چینی قوم عالمی سطح پر چھاتی نظر آئ تو اب امریکہ اور مغرب کو خدا بھی یاد آگیا اور آئیڈیالوجی کی اہمیت بھی_ اب امریکہ اور مغرب کو مروڑ کیوں اٹھے؟ بلی تھیلے سے باہر آ ہی گئ_ مغرب کا اصل مسئلہ مختلف طرح کا روپ دھار کر بس مغربی تہزیب و نسل کا تحفظ ہی ہے_ گلوبلائزیشن کے نعرے کے بعد چین کی مخالفت نے میرے اس گمان کو یقین میں بدل دیا ہے کہ مغربی تہزیب دراصل محض ایک نسل پرست تہزیب ہے_ مغربی دنیا کو مذہب، انسانیت اور انسانی حقوق کی کوئ پرواہ نہیں سوائے مغربی اقوام کے نسلی مفادات کے تحفظ کے؛ اسکے ساتھ ساتھ وہ اپنے خوشنما نعروں کو اپنی سابقہ کالونیوں کے چنیدہ طبقات کے ہمراہ پھیلانے کی کوشش میں بھی مصروف رہا ہے_ نسل پرست مغرب کبھی نہیں چاہے گا کہ اسکے ہمہ قسم فلسفے، نظام تعلیم اور اسکے زیر اثر تعلیمی ادارے مسلم دنیا میں کبھی بھی قحط الرجالی کو دور کرنے کے قابل ہوں جو اپنے قدرتی اور انسانی وسائل اور تہزیبی بقاء کا کوئ حل تلاش کر سکنے کا سوچ بھی سکیں_ یعنی مغربی کیمیاء گر اور ان سے متاثر طبقات، تریاق کے نام پر ہمیشہ زہر ہی دیتے رہیں گے_ چین کا شکریہ جس نے مغرب کی نقاب کشائی کردی_ بہرحال، کسی کی فتح ہو کسی کی شکست، مسلم دنیا کو اسکے اردگرد منڈلاتے تمام خطرات کے وجود اپنی تہزیبی بقاء کی صف بندی اور مورچہ زنی خود ہی کرنا ہوگی_
No comments:
Post a Comment