Sunday, July 5, 2020

مسلم دنیا پر یلغار: زہر و تریاق کا فہم ضروری ہے

آپ ذرا اس بات پر غور کیجئے کہ کم و بیش تمام ہندو بت پرستی، تمام عیسائ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ابن ﷲ یعنی ﷲ کا بیٹا ہونے اور تمام یہودی نسل پرستی apartheid کے علاوہ انسانیت کو Jews اور Gentiles میں تقسیم کرنے پر کلِّی طور پر متفق ہیں_ یعنی کہ تینوں ادیان اپبے اپنے دائرے میں ایک ایسے عقیدہ بد کا شکار ہیں جس کا حکم ﷲتعالٰی نے انھیں قطعاً نہیں دیا_ دوسری طرف آپ سن کر حیران ہوں گے کہ اپنی تمام تر کمزوریوں، کوتاہیوں اور بداعمالیوں کے باوجود مسلمان گزشتہ چودہ صدیوں میں کسی ایک عقیدہ بد یا معاشرتی برائ پر آج تک اکٹھے نہیں ہوئے_ کیونکہ، خاتم الانبیاء محمد (ص) نے فرما دیا تھا "میری امت برائ پر اکٹھی نہیں ہوسکتی" _

اس تمہید کو بیان کرنے کا میرا مقصد، قوموں کے اجتماعی فلسفہ فکر و عمل میں ایسی آمیزش کی نشاندہی ہے کہ جس کے باوصف جب ان کے فلسفہ زندگی کے بارے تنقیدی جائزہ، استفسار یا اسکے اثراتِ بد پر بات کی جائے تو انھیں اپنے گھڑے ہوئے دلائل کی دیوار ایک ایک کرکے گرتی دیکھ کر معذرت خواہانہ رویّہ apology اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے_ یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ اپنی روش کو برقرار رکھنے کیلئے انھیں نت نئی فلسفیانہ بحثوں کا سہارہ لینا پڑتا ہے، جسکا نام انھوں نے فکری تحرک رکھا ہوا ہے_ بھلا جس چیز میں وہ اجتماعی طور اپنی بقاء کی بنیاد مطلقاً سمجھ بیٹھے ہوں اسے انکا ہی گھڑا ہوا کوئ فلسفہ بدل سکتا ہے؟ بالکل نہیں_ یہی وجہ ہے کہ تاریخی طور پر ان تینوں ادیان کے پیروکاروں میں سے اعلٰی اذہان کی حامل شخصیات نے یا تو دہریت atheism اختیار کرلی یا پھر اسلام قبول کرلیا_ اسلام کی اسی خوبی کے باعث آج تک کوئ بھی مسلم مفکر نہ تو کبھی عیسائ بنا، نہ یہودی اور نہ ہی ہندو یا دہریہ_ 

یہ ﷲتعالٰی کا مسلمانوں پر خاص کرم ہے، ورنہ انسانی نفسیات کے زیر اثر مسلمانوں کا بس چلتا تو وہ بھی من و عن انہی ادیان کے پیروکاروں سے پیچھے نہیں رہتے_ ایسی ہی کاوشوں کے رجحان کے مدِنظر اقبال نے کہا "خود نہیں بدلتے، قرآں کو بدل دیتے ہیں" _ اس ساری بحث سے ﷲ رب العزت کی اس حکمت پر ایمان اور زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ اس ذات نے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے_ اسی وجہ سے قرآن ازل سے اب تک تغیر اور انسانی مداخلت سے پاک ہے_ اسی ضمن میں یہ بات غور طلب ہے کہ تمام غیرمسلم آج تک اپنے اس تصور کی پختگی میں اپنے تمام تر عقلی، منطقی اور نقلی دلائل کے باوجود یہ بات ثابت کرنے میں کامیاب کیوں نہیں ہوسکے کہ قرآن کی تصنیف خاتم الانبیاء محمد (ص) نے کی تھی؟ یہ بات کسی معجزہ سے کم نہیں کہ اپنی تمام تر علمی مرتبت کے باوجود ناقدین اسلام کھل کر کبھی اس بات پر بحث نہیں کرتے کہ قرآن آخر کس کی تصنیف ہے؟ 

قرون اولٰی کے مسلمانوں میں فکری سادگی اور علمی بے تکلفی ہی تو تھی جسکی وجہ سے انکی توجہ تشکک، فلسفیانہ الجھنوں اور لاحاصل مباحٹ کی بجائے فنون حرب، تجارت، سیاست، معاشرت اور انداز جہانبانی کی طرف مرکوز تھی_  گزشتہ دو تین دہائیوں سے مسلم دنیا میں مغربی فکر سے متاثرہ ایسا طبقہ پیدا ہو چکا ہے جو قرآن کے بارے تشکک کا اظہار کرتا ہے لیکن یقین مانیئے لنڈے کے کپڑوں کی طرح انکے خیالات بھی مغربی اترن سے کم نہیں_ مغرب کو انکی فکری خام خیالی اور کج فکری سے کوئ سروکار نہیں، کیونکہ ان کا تو ٹارگٹ محض مسلم دنیا میں پیادے اور بچولے middle-men ہی اپنی گرفت میں رکھنا ہے، تاکہ فکری آزادی کے نام پر نوجوان اور فکری طبقات کو ابہام کا شکار کرنے کی فکر کو دوام حاصل رہے_ افسوس بعض مسلم حلقے اس راز کو محسوس نہیں کرسکے جو عیسائ مشنری طبقے نے بڑی محنت سے حاصل کیا ہے_ ایک امریکی عیسائ مشنری نے لکھا "مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کے ذریعے تبدیل کرنا بہت مشکل ہے، اسکے لیئے ضروری ہے کہ انکے سامنے کچھ ایسی تعلیمات رکھی جائیں جسے یہ اسلام سمجھیں" _

آپ سن کر حیران ہونگے کہ مغربی ممالک کے زیرِ اثر مشنریاں کچھ عرصے بعض سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں قرآنی تعلیمات کے بارے میں نہ صرف یہ کہ Quantative Survey کرواتے رہتے ہیں بلکہ حکومت کے زیرِ اہتمام ٹیچرز ٹریننگ کے تمام اداروں میں مستقبل کے مسلم اساتذہ کے تربیتی اور تعلیمی نصاب کی تدوین اور تعلیم کی نگرانی مغربی حکومتوں کے متعین کردہ متعلقہ علاقوں کے عیسائ مذہبی رہنما یعنی عیسائ پادری کرتے ہیں_ ایسے ہی ایک ادارے میں زیر تربیت ایک طالب علم نے مجھے بتایا کہ تدریس قرآن اور اسلامیات کو انکے نصاب سے میں شامل نہ کیئے جانے پر انکے اساتذہ بڑے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں_ پاکستان میں اسکی سیدھی سی وجہ مغربی ممالک سے مالی امداد کے حصول کیلئے اس قسم کی غیر اعلانیہ شرائط پر بلا تردُّد آمادگی ہے_

اہلِ مغرب نے اس بات کا بخوبی اندازہ لگا لیا ہے کہ خالص اسلام دراصل فکری سادگی، تکلفات اور رسومات سے پاک راستہ ہے جس کو سمجھنے سے باقی تو پھر قرآن، سنت اور سیرت سے محبت ہی پیچھے رہ جاتی ہے_ اسی چیز کے احیاء کو وہ اپنی تہزیب کی بقاء کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں_ وہ جانتے ہیں کہ مسلم تہزیب بانجھ نہیں ہے، جیسے ہی انھیں موقع ملا یہ انکے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہو جائیں گے_ اسی سلسلے میں مسلم دنیا کو صوفیت اور ایک عالمگیر مذہب One-World Religion کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں_ ایک مسلمان ہیں کہ انھیں بات سمجھ ہی نہیں آرہی کہ خالص اسلام ہی تو وہ راستہ ہے جسے اختیار کرکے وہ اپنی فکر، عمل اور وسائل پر مغربی یلغار کے سامنے رکاوٹ کھڑی کر سکتے ہیں؛ اسی رکاوٹ یا مزاحمت کو بھانپ کر خالص اسلام کو شدت پسندی اور دہشتگردی سے جوڑا جاتا ہے کہ انکی جڑ ہی کاٹے رکھو؛ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی_

مسلم دنیا، امام مالک (رح) کے اس قول پر ضرور غور کرے "جس چیز (قرآن و سنت) سے اوَّل زمانے کے لوگوں کی اصلاح ہوئ، اسی چیز سے آخری زمانے کے لوگوں کی اصلاح ہوگی" _ اس مقصد کے پیش نظر موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے قرآن، سنت اور سیرت کے مطالعہ؛ ور فہم کا ایسا اہتمام کریں جس پر فرقہ وارانہ اور مدارسِ دینیہ کے روائیتی معمولات اور احساس کمتری کی چھاپ نہ ہو_ اسکا سب سے پہلا تقاضہ عربی لغت و گرائمر کی درس و تدریس کی طرف توجہ مبذول کرنا ہے_ موجودہ عالمی نظام کے تحت مسلم دنیا کی حکومتیں اپنے تفویض شدہ فرائض سے نکلیں گی تو کچھ اپنے بارے میں سوچیں گی، لیکن انٹرنیٹ، میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور نے سیکھنے، سکھانے اور ابلاغ کے عمل کو انتہائ efficient اور effective بنا دیا ہے کہ عوامی سطح ہر تمام طبقات کیلئے ایسا مربوط نظام بنایا جاسکتا ہے جس سے مسلم معاشروں کی چار صدیوں سے غالب علمی تشنگی بجھانے کے عمل کی شروعات کی بنیاد رکھی جا سکے_

اس تمام بحث میں مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ انسانیت کی خدمت، انسان کی فکری کج پن اور خام فکر و پختگی دینے کیلئے اہل مغرب حقائق، سچائ، منطقی اور سائنسی طریقہ کار، عقلیت پسندی اور عمیق گہرائ سے تحقیق، تحقیقی ذرائع، تحقیقی اداروں اور تحقیق کرنے والی شخصیات کو اپنے تہزیبی خد و خال کے طرہ امتیاز کے طور پر پیش کرتی ہیں، لیکن جب بات مسلم دنیا کے اپنے خالص دین کی طرف رجحان اور میلان کی آئے تو مغربی فرستادوں اور انکے گماشتوں کو مسلم دنیا قنوطی اور دقیانوسی نظر آنے لگتی ہے_ اپنے مقاصد کیلئے سچائ کی تلاش میں، یہودی اور اہل مغرب پورے مشرقِ وسطیٰ کو کھودنے کے متمنی رہتے ہیں اور Dead-Sea Scrolls کی دریافت پر پھولے نہیں سماتے، لیکن مسلم دنیا کے وہ آئیڈیلز جو اپنے آغاز سے ہی کبھی مسلمان کیا حتیٰ کہ غیر مسلموں کی نظروں سے بھی کبھی اوجھل نہیں ہوئے، مغرب انھیں بجھانے کیلئے پھونکیں مارنے میں لگا رہتا ہے_ اس سے صاف ظاہر ہے وہ صرف ایسے فکری فلسفوں کی آبیاری اور تسلسل کے قائل ہیں جس سے انکی تہزیب اور مخصوص نسل کے مفادات کا غلبہ مستحکم رہے اور باقی دنیا بس نظریاتی کشمکش اور اپنے تہزیبی ارتقاء کی آس میں pessimistically مگن رہے_
(تحریر: عبدالرحمٰن)

No comments:

Post a Comment