Thursday, July 30, 2020

کیا ترکی اکیلا مسلم دنیا کے جذبات اور مفادات کو متوازن رکھ سکتا ہے؟

انسان زندگی کی کسی بھی آزمائش سے گزر رہا ہو اور دور دور تک کوئ حل بھی سجھائ نہ دے تو اسکی حالت اس فاقہ کش کی طرح ہوتی ہے جس سے پوچھا جائے کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو وہ جواب میں کہے چار روٹیاں_ ایسے ہی تپتے صحرا میں تشنہ لب مسافر سراب کو بھی امید کی کرن سمجھ لیتا ہے_ شومئ قسمت کہ کچھ ایسا ہی حال مسلم دنیا کا بھی ہے_ بلاشبہ ہم ایک ایسی تہزیب کے وارث اور علمبردار ہیں جو ماضی میں پوری بنی نوع انسان سے اپنے جوہر منوا چکی ہے اور یہ انسانی تاریخ میں یہ واحد تہزیب ہے جسکا بالکل اپنی اصل حالت میں احیاء کا پورا امکان بھی ہے_ مشہور امریکی مورخ برنارڈ لیوس نے آج کی مغربی ترقی کی بنیاد میں اسلامی تہزیب کے اثرات کو کھلے دل سے تسلیم کیا ہے_ اگرچہ بعض مغربی مفکر روائتی مغربی نسل پرستی کی وجہ سے مسلم تہزیب کے احیاء کو مغربی تہزیب کیلئے خطرہ بنا کر پیش کرنے کا بیت عنکبوت بھی بُنتے نہیں تھکتے_ گزشتہ دو تین صدیوں سے مسلم دنیا کچھ اپنوں کی ناعاقبت اندیشی، کوتاہ نظری، طالع آزمائ اور کچھ دشمنان اسلام کی سازشوں کی وجہ سے زندگی کے ہر میدان علم و عمل سے نابلد ہو کر بیٹھ گئ اور مغرب نے اسکے قدرتی اور انسانی وسائل کی پلاننگ بالواسطہ اور بلاواسطہ اپنے ہاتھ میں لیکر انڈونیشیا سے مراکش تک کی مسلم اقوام کو محض صارفین کی ایک منڈی تک محدود کردیا_ دوسری طرف مسلم دنیا نے کسی حال میں بھی اپنی تہزیب و تمدن کو جو کہ انسانی ذہن نہیں بلکہ الہام کی بنیاد پر قائم ہوئ تھی اسکے احیاء کی امید کا دامن ہاتھ سے کسی حال میں بھی نہیں چھوڑا_ یہی وجہ ہے کہ خوشی کی ادنٰی سی خبر کسی بھی طرح کی پلاننگ، ایگلنگ اور بغض باطن کے ساتھ مسلمانوں کے سامنے رکھ دی جائے یہ اسکے معروضات اور عواقب کو مدنظر رکھے بغیر ہی جشن منانا شروع کردیتے ہیں اور گھات میں بیٹھے شکاری انکے جوش ولولے کی وڈیوز، فوٹو اور فلمز پھیلا.کر اپنے منصوبوں کو پورا کرنے میں جُت جاتے ہیں_ ایسا کچھ ہی نائن الیون کے موقع پر ہوا کہ امریکی عمارات پر طیارے کیا ٹکرائے مسلم دنیا میں کئ پرامید لوگ خوشی سے جھوم اٹھے؛ جبکہ انکو، انکے رہنماؤں، دانشوروں اور علماء کو کانوں کان بھی خبر نہ تھی کہ یہ تو محض tip of the iceberg تھی؛ اسکے بعد آج تک کی کہانی سب کے سامنے ہے_ مغرب اور اسکے اتحادیوں نے اسلام سے اپنے تئیں گزشتہ چودہ سو سالوں کا بدلہ چکانے کی کوشش کی_ ابھی حال میں طالبان کے بارے غزوہ ہند کا اعلان سامنے کیا آیا، صحیح یا غلط ایک الگ معاملہ، جنوبی ایشیاء کے مسلمان جوش سے لہرا اٹھے جبکہ بھارت، اسرائیل اور انکے زیر اثر مغربی میڈیا نے طالبان-امریکہ امن معاہدہ کے خلاف خبریں، کالمز اور پروگرامز کرکے طوفان برپا کردیا_ کہاں گیا وہ غزوہ ہند؟ اصل میں اسکا پروپیگنڈہ بھارت اور اسرائیل کی ضرورت تھی، کیونکہ وہ افغانستان میں امریکی فوج کو اپنے مفاد میں پھنسا کر، وہاں امن نہ ہونے دینے اور امریکہ-مسلم دنیا مخاصمت کی آڑ میں دنیا بھر میں مفاد اٹھا رہے ہیں_ ایسی ہی صورتحال اب طیب اردگان کے آیا صوفیہ کے فیصلے پر سامنے آئ ہے_ ایک میوزیم کے مسجد میں تبدیل کیئے جانے پر مجھے بھی بحیثیت ایک مسلم خوشی ہوئ لیکن اب یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ بھارتی انتہاپسند مودی سرکار نے پانچ اگست کو بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی سنگ بنیاد رکھنے کا جو اعلان کیا ہے اسکے بارے مسلم دنیا اپنا پریشر کیسے بلڈ کر پائے گی؟ اسکے بعد اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کا مسئلہ بھی کھڑا کرنا ہے اس موقع پر مسلم دنیا کیا موقف اختیار کرے گی؟ اس معاملے میں ترکی مسلم دنیا کے جذبات کو کیسے Manage کریگا؟ ترکی کے اس فیصلے نے عیسائ دنیا میں بھی اضطراب کھڑا کر دیا؛ ویسے ہی وہ  مسلمانوں پر اعتراض کرنے میں اپنی کامیابی کا راز سجھتے ہیں_ اس واقعے نے وقتی طور پر عربوں کو مسلم د.نیا میں تھوڑا de-market اور degrade تو کیا ہے، لیکن، مجھے خدشہ ہے کہ ترکی کہیں کاغذی شیر ثابت نہ ہو_ کیونکہ حال ہی میں یونان کے شور مچانے پر ترکی نے متنازع علاقے میں ڈرلنگ روک دی؛ کہاں گئ ہمارے ترک بھائیوں اور مسلم دنیا میں انکی silent-majority کی دھاڑ اور نعرے؟ میں خود سعودی عرب کے ترکی کے اس فیصلے پر اعتراض کو انکی کمزوری پر دلالت کر رہا تھا، لیکن، میرا دل کہہ رہا تھا کہ کیا ترکی فی الحال اس معاملے پر status-quo برداشت نہیں کر سکتا تھا؟ دیکھنا پڑے گا ترکی اپنی اس solo-flight یا معاون مسلم ریاستوں کے ساتھ مسلم دنیا کے مذکورہ مفادات کا تحفظ کیسے کریگا؟ کیا ترکی مسلم دنیا کا بار اٹھانے کیلئے تیار ہے؟ اس موقع پر مسلم دنیا کیلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم اور فورم کے متحرک و فعال نہ ہونے کی تکلیف محسوس ہو رہی ہے کہ مسلم دنیا pan-Islamism اور nation-states کے پینڈولم میں جھولتے رہنے کے علاوہ کب تک حالات کے دھارے پر تنکوں کی مانند بہتے چلیے جائیں گے؟ مسلمان فوری طور پر تمام تر مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر OIC کا وقار بحال کرنے کے پیچھے پڑیں یا علامہ اقبال کی تجویز کردہ ایک Muslim Common-Wealth قائم کریں تاکہ مسلمانوں کے بعض مقتدر حلقے اور غیرمسلم قوتیں انکے ملکی، ملِّی اور بطور امت معاملات کو الگ الگ طور پر حل کرنے کی کوششوں میں مصلحتوں اور کمزوریوں کے زیر اثر فیصلوں کو اپنا وطیرہ نہ بنائیں_ اسکے بعد ہی مسلم اقوام اپنے حکمرانوں کو مجبور کر سکتی ہیں کہ وہ سرجوڑ کر بیٹھیں اور امت مسلمہ کے دیرینہ مسائل اور ان کے ساتھ بار بار ہونے والے کھلواڑ کا علاج ڈھونڈیں_

No comments:

Post a Comment