نائن الیون کے بعد مسلم دنیا پر مسلط کردہ نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر لاکھوں مسلمانوں کے قتل اور مسلم ممالک کو تخت و تاراج کرکے بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنا اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف نت نئے قوانین کے اطلاق کے نام پر استحصال؛ اسرائیل کا شام کی گولان کی پہاڑیوں اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کا باقاعدہ اعلان اور جس مرضی مسلم ملک پر اسرائیلی دہشتگردی؛ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے پاکستان کے خلاف ناپاک منصوبے ظاہر کرتے ہیں کہ وار آن ٹیرر کے پہلے مرحلے میں مسلم حکومتوں کو بلیک میل کرکے مجاہدین کو دہشتگرد اور اسلام کو دہشتگردی سے جوڑا گیا، مسلم ممالک اور عوام کو تقسیم کرکے انھیں نت نئے انداز سے آپس میں ہی لڑوایا گیا اسکے ساتھ ساتھ متعدد مسلم ممالک پر دھاوا بولا گیا، عرب ممالک میں بہار کے نام پر انارکی پیدا کی گئ_ یہ سب کچھ کرکے اور مسلم دنیا کو دیوار سے لگا کر اب تیسری جنگِ عظیم کے نام پر بقیہ مسلم ممالک کو میدان جنگ بنانے کی مکمل تیاری ہے_ کیا ایسا سب کچھ ایک منصوبہ بندی کے تحت نہیں ہوا؟
مغرب اور اسکے چہیتے اسرائیل اور بھارت کی حکمت عملی یہ ہے کہ مسلم حکومتوں کو عالمی معاہدات میں جکڑے رکھو اور اگر مسلم ممالک میں عوامی سطح پر اپنے ملکی مفادات کے تحفظ اور بقاء کی بازگشت سنائ دے تو شدت پسندی اور انتہا پسندی سے تعبیر کرنے کا پراپیگنڈہ شروع کردو اور اگر عوام اپنے طور پر ہتھیار بند ہوکر ظلم کے خلاف سربکف ہونے ہر مجبور ہوں تو انھیں دہشتگرد قرار دیکر مسلم ممالک کو دہشتگردی کے مراکز قرار دیکر میڈیا کے ذریعے واویلا کرکے عالمی اداروں اور قوانین کو بروئے کار لا کر ان ممالک کے خلاف طرح طرح کی پابندیاں لگا دو_ گزشتہ دو دہائیوں سے مسلم دنیا کے عوام اور حکومتوں کو دہشتگردی کے طعنوں کے جس حصار میں گھیرا ہوا ہے، اسے فکری اور علمی سطح پر توڑنے کا وقت ہو چکا ہے_ عوام نظم و ضبط کے دائرے میں اپنے حکام کے قریب ہوں اور مسلم حکام اور حکومتیں اپنے ملک کے بنیادی مفادات کے تحفظ کے عوامی مطالبات کیلئے غیرملکی طاقتوں سے گھبرانا اور ڈرنا چھوڑ کر اپنے قومی مفادات کی بقاء کے طریقہ کار کیلئے منصوبے وضع کرکے اقدامات اٹھانے میں بالکل بھی دیر نہ کریں_
سرہ راہ یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد اقوام متحدہ کے کاغذات میں موجود مسئلہ کشمیر و فلسطین کی خاطر لڑنے والے حریت پسند دہشتگرد کس بنا پر قرار پائے؟ مغرب کی ایماء پر شروع کی گئ جنگ میں اسرائیل اور بھارت کو یہ جرات آخر کیونکر ہوئ کہ آج کشمیریوں اور فلسطینیوں کی اخلاقی اور سیاسی امداد کرنے والے پاکستان اور عربوں کو ایف-اے- ٹی-ایف کی تلوار سے ڈرایا جاتا ہے؛ ایسا کیوں ہے؟ یہ حوثی باغی، یہ القائدہ کا بھوت اور داعش جیسی تنظیمیں آخر اسرائیل، بھارت اور مغربی مفادات پر حملہ آور کیوں نہیں ہوتے؛ ہاں جب کبھی کسی مسلم ملک کو بلیک میل کرنا مقصود ہو تو کوئ false-flag attack کروا کر عالمی رائے عامہ کو مسلمانوں کے حق میں گمراہ کرنا یا پھر رائے عامہ کو اپنے حق میں موڑنے کا وطیرہ اختیار کیا جاتا ہے_ پاکستان میں فوج اور مذہبی طبقات کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرائ کا کھیل جتنا چل سکتا تھا چلا لیا، جب دیکھا کہ سب کو سب کچھ سمجھ آگیا ہے تو لسانی اور قوم پرست گروہوں کی ہلا شیری کا کھیل شروع کردیا؛ کوئ پوچھے کہ وار آن ٹیرر میں یہ اپنوں ہی کے خون سے ہولی کا کھیل آخر پاک فوج کے خلاف ہی جڑ کیوں پکڑے ہوئے ہے؟ دہشتگردی کے خلاف جنگ کا یہ بڑا مضٰحکہ خیز پہلو ہے_ لیکن مسلم دنیا کے حکمران طبقات اور طبقہ اشرافیہ کولہو کے بیل کی طرح انکے دیئے گئے ایجنڈے کے گرد ہی گھوم رہے ہیں_
کچھ اپنوں کی غفلت اور کچھ اغیار کے ہتھکنڈوں نے پہلے ہمیں مسٹر اور ملَّا میں تقسیم کرکے معاشرتی بگاڑ کو اخلاق باختگی کی انتہاء پر پہنچا دیا_ بعض مسلم ممالک جیسے ترکی، پاکستان اور کئ افریقی ممالک وغیرہ سے ان کی قومی زبان پہلے ہی چھین لی گئ تھی_ اسکا منطقی نتیجہ عوام اور خواص میں اپنی ہی تہزیب و ثقافت اور معاشرتی مسائل سے اجنبیت اور انکے حل سے لاغرضی کی شکل میں برآمد ہوا_ اسکا مظہر موثر تعلیمی اور تربیتی نظام کے فقدان کی شکل میں برآمد ہوا اور معاشرتی ناہمواری نے لوٹ کھسوٹ کی نفسیات کو جنم دیکر مسائل کا کوہ ہمالیہ کھڑا کردیا_ اسکے بعد ہم نے خود اپنے اردگرد طبقاتی، لسانی، فرقہ پرستی اور قومی تعصب کے بلند و بالا قلعے اور دیواریں قائم کرلیں_ اسی سے عوام میں اس مہلک مرض نے جنم لیا جسے سیاسی زبان میں عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے سے تعبیر کیا جاتا ہے_ اسکے بعد مخلص، ابن الوقت اور طالع آزماء ہر قسم کی قیادت سامنے آئ، لیکن، استعمار نے اپنے بوئے ہوئے بیجوں اور گماشتوں کی مدد سے ایسا ماحول پیدا کیئے رکھا کہ اول تو مخلص قیادت ابھر ہی نہ سکے اور ابھرے بھی تو اسے ہی تختہ مشق بنوا جاتا رہے یا انکی مساعی کے آگے اتنی رکاوٹیں کھڑی کروائ جاتی رہیں؛ اس سے حب الوطن طبقات میں نہ صرف یہ کہ مایوسی نے جنم لیا بلکہ انکی انداز جہانبانی کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جانا بھی ایسے ہی منصوبوں کے شاخسانے کے طور پر سامنے آیا_
مسلم ممالک کو آزادی کوئ طشتری میں رکھ کر نہیں دی گئ تھی بلکہ اس میں لاکھوں کروڑوں نفوس کی جان، مال اور عزت کا خون شامل تھا_ اپنے اپنے ممالک میں کئ دہائیوں کی ناہمواری اور بدانتظامی کے نہ رکنے والے سلسلے کے پاداش عوام میں بےچینی کا پیدا ہونا کوئ انہونا امر نہیں تھا_ عوام ملکی مسائل کے بڑھتے چلے جانے اور وسائل کے ضیاع کو آخر کب تک برداشت کر پاتے؟ ان حالات میں مغربی استعمار اور اسکے ناپاک اتحادیوں نے حالات کو ایک نئ کروٹ دینے کیلئے کبھی تو اسلام کو دوشی ٹھہرا کر اسلام کے نت نئے version متعارف کروا کر مسلم طبقات کو تقسیم کیا؛ کبھی انکو شدت پسند، ماڈریٹ اور ماڈرن مسلمانوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کے دست و گریباں کروانے کی تگ و دو کی اور اس سے بھی کام نہ چلا تو مسلم معاشروں کو سٹیٹ اور نان-سٹیٹ میں منقسم کرکے ایک دوسرے کے مدِمقابل لاکھڑا کیا_ انھیں معلوم ہے کہ ریاست کی مجبوریوں میں سے ایک حکمران طبقے کی عادات اور خواہشات بھی ہوتی ہیں اور ان دونوں کو ایک خاص سمت میں مرتکز کرکے قابو کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن اصل معاملہ تو غیرحکومتی عناصر کی طلاطم خیزی ہے جس میں بہتری اور تبدیلی کی چنگاری کو بجھانا کوئ آسان کام نہیں تو اسکا حل تشدد کے دوام میں تلاش کر لیا گیا جسے عرف عام میں وار آن ٹیرر عرف دل، دماغ اور روح کو جیتنے کی جنگ کا نام دیا گیا_
مسلم دنیا کے ارباب اختیار اور حکام کو یکم جولائ کے روز اسرائیل کی فلسطینی علاقوں پر اپنے قبضے کے اعلان نے عالمی رائے عامہ پر ہونے والے اعتراض اور احتجاج نے کس طرح باز رکھا، اس میں مسلمانوں کیلئے حوصلہ اور راہ عمل کی ایک موثر نشاندہی ہے_ دنیا میں بقاء اور ترقی کیلئے خوف، سستی inactiveness اور مایوسی یعنی pessimism کو چھوڑنا ہوگا اور مخالف قوتوں کو ازل سے یہی خطرہ ہے کہ کہیں مسلم دنیا جاگ نہ جائے_ ان حالات میں مسلم دنیا کی ذمہ داری ہے کہ ففتھ جنریشن وار فیئر اور آئندہ کی ممکنہ جنگوں کے خدوخال Features ، عامل actors ، عوامل factors اور انفرادی، گروہی (پروفیشنل/ٹیکنیکل گروپس) اور قومی سطح پر اپنی قوت، کمزوریوں، مواقع اور خطرات کے بارے بھرپور آگاہی حاصل کرکے اپنے ہمہ قسم دفاع کیلئے اجتماعی عملی لائحہ عمل ترتیب دے_
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح جابجا اپنی تقاریر میں اتحاد، یقین اور ضبط کا اعادہ کیوں کرتے رہے؟ آج اس ہی یقین کے فقدان نے ہم سے اتحاد اور ضبط جیسے خواص کو چھین لیا ہے_ ریاست اور اتحاد امت کی اہمیت کا یقین ہی وہ سیڑھی ہے جس پر چڑھنے سے ہمیں نابلد رکھا جاتا ہے، ڈرایا جاتا ہے اور تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے_ کیا استعمار مسلم دنیا کا اتحاد صرف اپنے مفاد کیلئے ہی ہضم کرسکتا ہے؟ قائدِ اعظم، اتحاد امتِ مسلمہ کی اہمیت پر اتنے منہمک تھے کہ انھوں نے امریکہ اور سوویت یونین کی سرد جنگ کو مسلم دنیا کے اتحاد اور قوت کیلئے ایک موقع میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا_ اس سلسلہ میں آزادی کے بعد کے ابتدائ ایام میں ہی وہ بمبئ میں قائم امریکی قونصلیٹ کے دفتر گئے اور ان سے کہا کہ کمیون ازم کے خطرے سے نمٹنے کے ضمن میں اسلامی ممالک کا ایک بلاک بنانے کے سلسلے میں انھیں امریکی مدد کی ضرورت تھی_ یہ ہوتا ہے لیڈرشپ کا ویژن کہ حالات کے دھارے کو اپنے مطابق موڑنا نہ کہ ملک و قوم کو خس و خاشاک کی مانند حالات کے دھارے کی بھینٹ چڑھا دینا_
No comments:
Post a Comment