"کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایران اور اسرائیل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ نیچے کمنٹ میں کریں_ شکریہ" یہ سوال یو ٹیوب پر Haqeeqat Ki Dunya نامی چینل کی جانب سے پوچھا گیا جسکا میزبان اپنا نام ڈاکٹر علی بتاتا ہے_ درج ذیل تحریر بحیثیت مسلم میری طرف سے اہلِ تشیع اور اہل السنۃ کے نام ایک جواب اور ایک اپیل ہے_
ایک تو ایران جتنا زیادہ اسرائیل اور امریکہ کو دھمکیاں دیتا ہے ان دونوں ملکوں کا عربوں کے گرد گھیرا اتنا ہی تنگ ہو جاتا ہے اور وہ عربوں کو بلیک میل کرکے مزید وسائل لوٹنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں_ عربوں کی اسرائیل سے لڑائ فلسطین کی بنیاد پر تھی اور مشرقِ وسطیٰ میں لڑائیوں کی جڑ بھی یہی مسئلہ بنا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ فلسطینی رل گئے اور انکی سرزمین کے نشانات مٹتے جارہے ہیں، عرب ممالک ایک ایک کرکے تباہ کیئے جارہے ہیں جبکہ اسرائیل پھیل رہا ہے اور ساتھ ہی دن رات امریکہ اور اسرائیل کو دھمکیاں اور گالیاں دینے والے ایران کے مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی کریسنٹ قائم کرنے کے منصوبے سامنے آرہے ہیں جسکا تذکرہ امریکی اور اسرائیلی تھنک ٹینک بڑے ٹیکنیکل انداز سے کرتے رہتے ہیں_ سوچنے کی بات ہے مسئلہ فلسطین اور اسرائیل دشمنی، ایران کیلئے snow-ball-effect کیسے پیدا کرنے کا موجب بن رہی ہے؟ ان مظاہر سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی دشمنی کے نام پر ایران کو مسلم دنیا کا ہیرو اور ولن بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں تاکہ ان دونوں ممالک کے حقیقی اور فطری مخالف سنّی عرب کمزور ہوتے چلے جائیں_ علاقے میں اہل تشیع کا علبہ ہوجائے اور شیعہ سنّی قتل و غارت چلتی رہے_
اسکے علاوہ آج سے کوئ چھبیس سال قبل امریکی کی Yale University سے ایک مشہور کتاب شائع ہوئ جسکا نام The Treacherous Alliance - Israel, America and Iran ہے؛ اس کتاب میں ایرانی ملاؤں کے اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی گئ ہے اور آج تک ایران کی طرف سے یا ایرانی حکومت کی جانب سے اس پر کبھی بھی کوئ قدغن لگائ گئ اور نہ ہی تردید کی گئ_ اسکے علاوہ افغانستان میں ایران نے متعدد مرتبہ امریکہ کی نازک مواقع پر منصوبہ بندی میں مدد کی_ کشمیر کے معاملے پر ایران عرصہ دراز تک بھارت کے ساتھ کھڑا رہا اور بھارتی شیعہ مسلم ہمیشہ میڈیا میں آکر بھارت کا ساتھ دیتے رہے_ ایران، پاکستان،عربوں اور ترکوں کو سمجھنا چاہیئے کہ مغرب کو مسلمانوں کے درمیان فلسفیانہ مباحث، نظریاتی جنگ اور شیعہ سنِّی قتل و غارت سے کوئ دلچسپی نہیں؛ وہ صرف اور صرف ان سب کو divide and rule کے تحت لڑوا کر مسلمانوں کی تہزیب اور دین اسلام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلم دنیا اپنے انسانی اور قدرتی ذرائع کو موثر اور بروقت طریقے سے بروئے کار نہ لاسکیں، مغربی تہزیب کا غلبہ نظر آتا رہے اور وہ یہاں کے وسائل نت نئے طریقوں سے لوٹتے رہیں_ ایرانی انقلابی ملّا صرف اتنا سوچ لیں کہ کیا مسلمانوں اور عربوں کے قبرستان پر تعمیر کا انکا ایرانی سلطنت کے قیام کا خواب مغرب کو مسلمانوں کے حق میں رام کرنے کے قابل کردے گا؟ بالکل نہیں_ اس وقت سنِّی نوجوانوں کو ایرانی شیعہ سلطنت کے خلاف بالکل اسی طرح تیار کیا جائے گا جیسے آج شیعہ نوجوانوں کو مشنری جذبے کے ساتھ zealots کے روپ میں تیار کیا جا رہا ہے_
ضرورت اس امر کی ہے کہ انقلابی ایران اس معاملے کو آج تعصب سے بالا ہوکر آج ہی سوچ لے_ علامہ اقبال نے جس تہران کو مشرق کا جنیوا قرار دیا تھا میرا خیال ہے وہ ایران 1979ء کے انقلاب کے بعد کسی عمیق گہرائ میں ڈوب گیا_ کیا ایرانیوں کو مغرب کی وہ خودغرضی بھول گئ کہ جب مغرب نے ڈاکٹر مصدق اور اپنے دوست رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹ دیا تھا؟ کیا ایرانی اس کتاب کو بھول سکتے ہیں "ایرانی اسلامی انقلاب میں مغربی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ"_ یاد رکھئے! وہ آپ کے رازوں کو راز صرف اس وقت تک رکھیں گے جب تک یہ انکے مفاد میں ہے_ تو یہ بہتر نہیں کہ شیعہ ایران اور اور سِّنی عرب، اسرائیل، مغرب اور امریکہ کے آگے جھکنے کی بجائے ﷲ کے حضور سربسجود ہو کر ایک نبی کے امتی ہونے کا ثبوت دیں؟
(تحریر: عبدالرحمٰن)
No comments:
Post a Comment