Sunday, August 2, 2020

میں نے ترک ڈرامہ سیریز "پایہ تحت - سلطان عبدالحمید" سے کیا سیکھا؟

عمومی طور پر میں دو تین گھنٹے کی فلم اور ڈرامہ پر توجہ مرکوز نہیں رکھ پاتا، لیکن، بول ٹی وی پر ترک ڈرامہ سیریز "پایہ تحت - سلطان عبدالحمید" کی کچھ اقساط اردو ڈبنگ میں دیکھ کر مجھے اشتیاق پیدا ہوا کہ اس سیریز کو غور اور تواتر کے ساتھ دیکھوں_ میرے سیکھنے کا عمل پہلے ہی دن سے شروع ہوگیا جب میں نے یوٹیوب پر اس ڈرامہ کو سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ اسکی پہلی دو قسطوں سمیت دیگر کئ اردو اور انگلش ڈبنگ والی اقساط کو یوٹیوب پر upload کرنے کی اجازت ہی نہیں ہے_ بہت ہی مشکل سے میں نے اسکی پہلی دو اقساط تلاش کیں_ پھر مجھے اندازہ ہوا کہ اس ڈرامہ کی اہمیت کا اندازہ کرنے والوں اور مغربی استعمار کے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرنے والے حلقوں نے بڑی محنت سے مختلف ویب سائٹس daily-motion, Facebook, blogs اور یوٹیوب وغیرہ پر اسکی مختلف اقساط اپلوڈ کی ہوئ ہیں؛ سچ پوچھئے شروع کی ساٹھ اقساط میں سے کوئ اردو میں ملی اور کوئ انگلش میں؛ کوئ کہیں سے ملی اور کہیں سے؛ کیا بتاؤں مجھے کہاں کہاں تلاش نہیں کرنا پڑا_ آخرکار ایک ویب سائٹ ملی جس پر اسکی اردو ڈبنگ میں اقساط اپلوڈ کرنے کا سلسلہ جاری ہے_ دو ویب سائٹس ایسی بھی ملیں جہاں انگلش ڈبنگ کے ساتھ اسکی مکمل اقساط موجود ہیں_ میں نے اسے دیکھنے کا شوق رکھنے والوں کیلئے انکو اس بلاگ پر لنک کر دیا ہے؛ (https://socialpoint121.blogspot.com/p/drama_48.html)_ جہاں اسکے دیکھنے والوں کو سہولت ہوگئ_ ان ویب سائٹس کے آپریٹرز مشکل سے اسے مینیج کرنے کا سلسلہ چلائے ہوئے ہیں_ آخر کب تک وہ اسکا بوجھ اٹھائیں گے؟ صاحب ثروت اور مسلم دنیا میں معاشرتی طور پر کچھ کرنے کی تمنا کرنے والوں کیلئے یہ ایک اچھی سرگرمی ہے کہ اس ڈرامے کے ساتھ ساتھ "ارتغرل غازی" کی تمام اردو اور انگلش اقساط کو محفوظ کرکے گلی اور محلے کی سطح پر اسے پھیلانے اور دکھانے کا اہتمام کریں_ ویسے میرا مشورہ ہے اس ڈرامے کو پاکستان یا بھارت میں کوئ صاحب ثروت اسکا اردو ترجمہ پروفیشنل طور پر ایمانداری کے ساتھ کروائے تاکہ حقائق اور معلومات سے عوام من و عن مستفید ہوں_ ہر مسلم مکاتب فکر کے بڑے علماء نے اسے دکھائے جانے کے فتوے بھی دیئے ہوئے ہیں_ اگر کوئ اس معاملہ میں عزم اور تنظیمی صلاحیت رکھتا ہے لیکن وسائل نہیں رکھتا تو وہ اس بارے میں ایک سوسائٹی بنا کر اسے محفوظ کر لے اور پھر لوگ مقامی سطح پر چھوٹی چھوٹی سوسائٹز بنا کر معاشرے کے ہر طبقے تک اسے پہنچائیں_ ان ڈراموں میں کچھ رومانوی مناظر بھی ہیں جو کہ ایک فیملی اکھٹی نہیں دیکھ سکتی اسے ایڈٹ کر لیا جائے تو بہتر ہے_ آخر مخالفین اور انکے گماشتے ان ڈراموں کے بارے میں کیوں چاہتے ہیں کہ ترکی سے باہر کی مسلم اقوام اسکو نہ دیکھیں؟ میرے لیئے یہ بات کافی حد تک باعث حیرت تھی کہ جدت اور نئ سوچ کے نام پر دن رات اپنی تہزیب و ثقافت مسلم دنیا پر مسلط کرنے والا مغرب، بھارت اور اسرائیل کس طرح سے ثقافتی اعتبار سے مسلمانوں کو پستی میں رکھنا چاہتے ہیں کہ ایک ڈرامہ کی مکمل اقساط تک یوٹیوب پر انھیں قبول نہیں_ یہی انکے دھرے میعار کا کھلا ثبوت ہونے کے علاوہ ان لوگوں کے لیئے بھی سامان عبرت ہے جو دن رات مسلم دنیا کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا پر مغرب کی freedom, liberty, equality اور pluralism کے فلسفوں پر ایمان لانے کی دعوت دیتے نہیں تھکتے_ سوال یہ ہے کہ اس ڈرامے میں ایسی کیا بات ہے جو یوٹیوب انتظامیہ اس کی بعض اردو اور انگلش اقساط پر پابندی لگائے رکھتی ہے؟ ایک بات آپ لوگ بھی یاد رکھیں بطور پاکستانی میں کبھی عربوں، ترکوں اور ایرانیوں کی قیمت پر کسی ایک کی حمایت نہیں کرتا؛ دنیا پاکستانیوں پر خواہ کوئ باتیں بھی بنائے پاکستان نے کبھی ان اقوام کی مخاصمت کو اپنے مفاد کی نظر سے نہیں دیکھا؛ پاکستان ہمیشہ گفت و شنید کے ذریعے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی بات کرتا آیا ہے، خواہ کسی کو اچھی لگے خواہ بری_ ہمیں کسی قوم کو up-play اور down-play نہیں کرنا؛ اعتدال کے ساتھ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہتے رہیں گے_ عربوں کی مسلم دنیا اور انسانیت کیلئے خدمات ڈھکی چھپی نہیں ہیں_ ان میں کمزوریاں بھی آئیں_ لیکن عربوں کی قیمت پر ترکوں یا ایرانیوں کو برتر سمجھنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے_ اقبال اور جناح نے ہمیں مسلم دنیا کو جوڑنے کا ویژن دیا تھا_ خیر میں ترکوں کی بات کر رہا ہوں کہ مغرب میں صنعتی انقلاب کے بعد سے جس مسلم قوم کی بحیثیت ایک مسلم ریاست مغربی قوتوں سے جو رقابت رہی ہے وہ ترک ہیں_ دور قوموں کو سکھاتا بھی ہے تربیت بھی کرتا ہے، لیکن، جو قومیں مزاحمت کے میدان میں ڈٹ جانے کا عزم کر لیں_ ترکوں کو مغربی طاقتوں کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور سماجی معاملات کا gross-root لیول تک علم ہے؛ انھیں عیسائ اور یہودی مذہبی اور سیاسی حلقوں کی نفسیات اور  ہمہ قسم ہتھکنڈوں کے عملی پہلوؤں کا انتہائ گہرائ سے ادراک ہے_ اسی طرح یہ قوتیں ترکوں کی عزیمیت اور سمجھداری کو اچھی طرح سمجھتی ہیں_ اس لیئے یہ قوتیں چاہتی ہیں کہ چلو ترکوں کے سامنے تو انکا کٹَّا چھٹَّا کھلا ہوا ہے باقی مسلم اقوام کو ترکوں کے خواص اور صلاحیت کے علاوہ ان قوتوں کی سلطنت عثمانیہ کے خلاف ریشہ دوانیوں، مسلم اقوام کو آپس میں لڑوانے اور عثمانی خلیفہ عبدالحمید ثانی جو کہ کم و بیش اکتیس سال تک ان قوتوں سے الجھتے رہے کے بارے، تفریحی انداز میں، معلومات نہ پھیل جائیں، کیونکہ، ایک تو اس سے مسلم دنیا کو موجودہ Western Economical-Political World Order اور International Liberal Order کے وجود میں آنے کی تاریخ کا علم ہو جائے گا، دوسرا انھوں نے جس طرح سے سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کیلئے اکٹھے ہو کر جو کچھ. بھی کیا اسکی قلعی بھی کھل جائے گی_ اسکا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ مسلم دنیا کے عام عوام کو مغربی عالمی اداروں، سفارتخانوں، سفیروں، سماجی اداروں، مذہبی مشنریوں اور نام نہاد فلسفیوں کے بارے میں ایک ڈرامے سے اتنی معلومات مل جانے کا اندیشہ ہے جنھیں کہ عام طور پر سالہا سال کے مطالعے کے بعد ماہرین اخذ کرتے ہیں_ وہ جانتے ہیں کہ جب مسلم دنیا کے عوام کو عالمی اور ریاستی نظام اور اداروں کے کام کرنے کا علم ہوگیا تو وہ اپنی حکومتوں سے کام لینے کے فن کو سمجھنے لگیں گے، ان سے سوالات کریں گے اور انکی ایک ایک حرکت پر نظر رکھیں گے جس سے انکے اندر انداز جہانبانی کو سیکھنے کا جذبہ بیدار ہو سکتا ہے_ مغربی اور دیگر مسلم مخالف نسل پرست قوتوں نے تیسری دنیا کے ممالک کے انسانی اور قدرتی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کیلئے جو آرڈر تشکیل دیا ہوا ہے یہ ڈرامہ انکے ہتھیار استعمال کرکے انکے لیئے Disorder کا ایک سستا، تیز اور موثر سبب بن سکتا ہے_ دراصل مغرب اور اسکی بہنیں، مسلمانوں میں تدریجی اور indigenous تبدیلی کو برداشت نہیں کر سکتیں کیونکہ وہ یہاں کے ارباب اختیار، مقتدر اور حکمران طبقوں کو بلیک میل کرکے اور الجھا کر قابو میں رکھتے ہیں اور پھر حسب ضرورت انکی غلطیوں کو اکٹھا کرکے عوام کے جذباتی اور ابن الوقت طبقوں کے سامنے رکھ کر جعلی انقلابات کے نام پر انارکی پھیلا کر اپنے مفاد کے مطابق فضا ترتیب دینے کی تیاری بھی کیئے رکھتے ہیں_ ان قوتوں کو احیائے خلافت نہیں انکے اس سارے طریقہ واردات کے آشکار ہو جانے کا خطرہ ہے جس کو چھپانے کیلئے وہ مسلم دنیا میں "شعور" کے نام پر کھربوں روپے سالانہ خرچ کرتے ہیں_ یہ ڈرامہ انکے لیئے یوں ایک بھونچال کی سی حیثیت رکھتا ہے کہ انھوں نے اپنے گماشتوں کے ساتھ ملکر جہالت کی جو دبیز چادر دو صدیوں سے مسلمانوں کے گرد پھیلائ ہوئ ہے اس میں جگہ جگہ سے چھید ہونا شروع نہ ہو جائیں_ اس ڈرامے کو احیائے خلافت سے نتھی کرکے یا تو عرب خود بے چینی محسوس کر رہے ہیں یا پھر انکے سامنے اسے انکے مستقبل کے خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے_ اس سے ان قوتوں کا مقصد مسلمانوں کو ترکوں اور عربوں کی حمایت کے نام پر تقسیم کرنا خود عربوں اور ترکوں کو کمزور کرکے مجموعی طور پر مسلم دنیا کو قابو میں رکھنے کا ہے_ اس ڈرامے نے صدیوں کی تاریخ، حال اور مستقبل کے منظر نامے اور لاکھوں کتابوں اور تحریروں کو ایک کوزے میں سمیٹ کر پیش کر دیا ہے_ میری رائے میں یہ دونوں ترک ڈرامے کسی بھی سطح سے شامل نصاب کئے جائیں تاکہ طالب علم انکے اپنے قومی رموز، بین الاقوامی چالوں اور انکے زیر اثر معاشرتی تعامل اور سماجی باریکیوں کو تفریحی طور پر سمجھ سکیں_ باقی رہ گیا خلافت بطور نظام حکومت اور سلطنت عثمانیہ کے بارے میں تجزیہ تو اس تحریر میں اسکی ضرورت میرے مطابق اس لیئے نہیں ہے کیونکہ مسلمان احیائے خلافت یا طرز حکومت پر یقین ترکوں یا عربوں کی وجہ سے نہیں بلکہ قرآن، حدیث، سیرت اور اپنے طویل شاندار تاریخی تسلسل کی وجہ سے رکھتے ہیں؛ باقی ترک بھی انسان ہیں غلطیاں بھی کی ہونگی؛ مسلم دنیا کی سیاسی معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین اور طالبعلوں کو یہ بات بخوبی سمجھ لینی چاہیئے کہ عثمانیوں سمیت مسلمانوں کے کسی دور خلافت کی خامیاں خود خلافت کی خامیاں قرار نہیں دی جا سکتیں اور The Caliphate form of government کی تمام خوبیوں کو کسی دور خلافت کی، تصوراتی طور پر، کسی مسلم دور خلافت کی خوبیاں گرداننا جذباتیت کے ساتھ ساتھ غیر منطقی بھی ہے_ خلافت بطور طرز حکومت کی خوبیاں ہی ایسی ہیں کہ اسکے خلاف جتنے بھی سیاسی فلسفے اور تنقید کے پل قائم کردیئے جائیں اسکی خامیاں نکالی ہی نہیں جا سکتیں کیونکہ، آج تک کسی مسلم محقق اور تاریخ دان نے، نعوذ باﷲ! کبھی خاتم الانبیاء محمد (ص) سمیت چاروں خلفاء راشدین کے ادوار کی خامیوں کی کبھی نشاندہی کی ہے؟ کبھی نہیں_ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ وہ انسانی سیاسی تاریخ کے چنیدہ ادوار تھے_ اس لیئے نظام خلافت کے بارے میں تو کسی کو تعامل ہو ہی نہیں سکتا_ مسلم ارباب اختیار اور مغرب سے مرعوب طبقات اس کو مغربی سکھائے میں غضب کی آنکھ سے نہ دیکھیں اسے سمجھنے کی کوشش کریں؛ اسی طرح اسکے احیاء کے متمنی transition کے عمل کو سیکھیں؛ اگر وہ بلا وجہ کی جذباتیت دکھائیں گے خود اپنے ملک و عوام میں انتشار پیدا ہوگا اور استعمار سے آزادی کے بعد اب تک کی ترقی اور وسائل کے ضیاع کا اندیشہ ہے اور یہی دشمنانِ انسانیت کی چاہت ہے_

No comments:

Post a Comment