اگر سعودی عرب کی دوستی اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کرے اور ایران کی دشمنی اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کرے تو بحیثیت ایک پاکستانی مجھے نہ تو ایسی دوستی قبول اور نہ ایسی دشمنی قبول_ پاکستان اور سعودی عرب کے فہمِ حالات کے اختلاف کو ہوا دینا اور اسے شیعہ-سنی لڑائ میں بدلنا کون سے اسلام اور پاکستان کی خدمت ہے؟ ہم اہل السنۃ تو سعودی عرب اور پاکستان کی حالیہ اونچ نیچ سے پریشان ہیں اور نہ تو ہم پاکستان کی برائ سن سکتے اور نہ ہی سعودی عرب کی تو پھر یہ سوشل میڈیا پر اس آگ کو کون بھڑکا رہا ہے؟ اس وقت تو پاکستانیوں کا خون جل رہا ہے کہ ہمارے دو بھائیوں میں اختلافات سر اٹھا رہے ہیں_ ہم پاکستانیوں نے ہر محاذ پر عالم اسلام کیلئے خون دیا ہے_ جبکہ ہمارے بعض برادر مسلم ممالک نے بھارت کا ساتھ دیکر اور بھارتی جاسوسوں کو پناہ دیکر ہماری ہی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے_ اس موقع پر بھی بھارتی سورما اور انکے گماشتے پاکستان میں اختلاف پیدا کرکے پاکستان کے پوٹینشل کو کمزور کرنے کی پوری کوشش کرنے میں مصروف ہیں_ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان سعودی عرب سے دور ہو کر سپر پاور بن جائے گا؟ کیا سعودی عرب پاکستان سے کٹ کر سپر پاور بن جائے گا؟ نہیں بھائیو! اگر سعودی عرب پاکستان سے بگاڑ کر اسرائیل اور امریکہ کے پاس جائے گا تو اسکی وہ عزت نہیں ہوگی اور اگر پاکستان سعودی عرب سے کٹ کر چین اور امریکہ سے معاملات کرے گا تو ہماری وہ عزت نہیں ہوگی جو ایک عالم اسلام کے نمائندہ کے طور پر پاکستان، سعودی عرب ایران اور ترکی کی ہو سکتی ہے_ان حالات میں کون بدبخت سعودی عرب اور پاکستان یا ترکی اور عربوں کے اختلاف کو بڑھاوا دے گا اور کون بدخواہ اس لڑائ پر خوش ہوگا؟ میں برملا کہتا ہوں کہ مسلمانوں کے دشمنوں کو سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی اور تعلقات برے لگتے تھے؛ اب خوشی کی لہر بھی تو انہی کے اندر پھیلی ہے_ وہی اپنے بغض کا اظہار دونوں اطراف کو اکسا کر کر رہے ہیں_ بحیثیت مسلم میں سمجھتا ہوں کہ دشمن ہمارے ہاتھ اور بازو ایک ایک کرکے کاٹنا چاہتا ہے_ ہم پاکستانی، پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکی چاروں کیلئے پریشان ہیں اور ہمارے اندر سے ہی کچھ پیدا گیروں کی لاٹری کھل گئ ہے_ سوشل میڈیا پر تو ہر قسم کے تجزیہ نگار موجود ہیں؛ کچھ مخلص اور کچھ بھڑکانے والے؛ عوام کو چاہئے انکی رائے پر غور کریں نہ کہ پاکستان اور سعودی عرب اختلاف کے نام پر اپنے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں_ پاکستانی حکام، حکمران، سیاستدان اور مذہبی رہنماء کسی کو ایک ہی بات سے ہیرو اور کسی کو زیرو کر دینے کے رویے سے گریز کریں کیونکہ یہ وطن عزیز پاکستان اور امت مسلمہ کی بقاء کا مسئلہ ہے؛ اس سے کھلواڑ ہی اصل غداری اور کفر ہے_ میں بحیثیت ایک پاکستانی شہری، حکومت پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ وطن عزیز پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی سلامتی اور استحکام کی خاطر سوشل میڈیا پر کی جانے والی تخریبی وڈیوز کا نوٹس لے یا پھر ان موضوعات پر پابندی لگا دے اور یہ بھی سمجھ لے کہ دکھ کس کو کس بات کا ہے اور خوشی کس کو کس بات کی ہے اور کون پاکستان کی قوت کو کمزوری میں بدلنے کی تمنا لیئے بیٹھا ہے_
No comments:
Post a Comment