تجزیہ نگار عالمی صورتحال کے حوالے سے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، وہائٹ ہاؤس اور پینٹاگان میں اختلاف رائے کی نشاندہی کرتے ہوئے عالمی معاملات کے الجھن کے واضح نہ ہونے کی ایک اہم وجہ امریکہ میں طاقت کے ان تینوں مراکز کی confusion اور division کو قرار دیا کرتے تھے_ لیکن ہر مرتبہ ایسا ہی ہونا ضروری نہیں کیونکہ موقع کی نزاکت کے مطابق یہ عناصر ایک صفحہ پر بھی اکٹھے ہوتے ہیں_ گزشتہ چند سالوں سے امریکہ کے لیئے سب سے پہلا معاملہ تو چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو لیکر چل ہی رہا تھا_ اس میں امریکہ کیلئے ایک نیا اور حساس پہلو چین-اسرائیل انتہائ حساس معاملہ میں امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی سرزنش کے طور پر سامنے آیا_ اسکے نتیجے میں امریکہ کا دل رکھنے کو اسرائیل چین کے ساتھ تھوڑا سا ہی انیس بیس ہوا ہے اور مجھے تو شبہ پڑتا ہے کہ چین کو ایک حد میں رکھنے کیلئے کہیں خود اسرائیل نے ہی امریکی واعظ و تنقید کو استعمال نہ کیا ہو؟ تاکہ اگر معاہدات میں کوئ سقم رہ گیا ہو تو چین کو اسرائیل کی ریڈ لائنز کا احساس کروایا جا سکےجبکہ زیادہ امکان یہی ہے کہ کھیل ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر امریکہ خود ہی تلملا اٹھا ہے_ اب یہ تو حالات ہی بتائیں گے کہ امریکہ اس میں کتنا کامیاب ہوا اور اسرائیل امریکہ اور دنیا کو بیوقوف بنانے میں کتنا کامیاب ہو رہا ہے؟
اسکے فوراً بعد امریکہ نے یورپ میں چین کے اثر رسوخ پر توجہ دی اور برطانیہ کے 5G منصوبے سے چینی کمپنی Hawaii کو نکلوا دیا_ حال ہی میں مائک پومپیو نے مشرقی یورپ کا دورہ کیا ہے جسکا مقصد وہاں روس اور چین کے اثر کو کم کرنا اور ان مشرقی یورپی ممالک کو امریکہ کی جانب سے 5G ٹیکنالوجی کی بات کی ہے_ اس ضمن میں امریکہ نے پہلے تو بھارت کی پیٹھ پر چین کے مقابلے کیلئے ہاتھ پھیرا لیکن ہمیں معلوم ہے بھارت کوئ لڑنے والا بٹیرہ نہیں ہے؛ چالاک بنیے نے اپنی تھوڑی بہت سُبکی کروائ اور بڑے جھگڑے سے بچ گیا؛ ادھر امریکہ بیٹھا نہیں کیونکہ منصوبہ تو اسی کا ہے تو وہ آسٹریلیا، جاپان اور تائیوان کو بھی بھارت کی سپورٹ کیلئے لے آیا اور خود بھی جنوبی-ایشیاء کے چینی پانیوں میں چھیڑ چھاڑ کرکے اپنے بڑے پن کا مظاہرہ جتانے لگا، لیکن، چین نے امریکی خر مستیوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیکر امریکہ کو پیغام دیا کہ چین بھی سینگ لڑا سکتا ہے_ بھارت تو ویسے ہی چین سے ڈرا ہوا تھا ادھر چین نے آسٹریلیا کو اپنی معاشی اہمیت اور تعلقات کا احساس دلوایا تو وہ بھی کچھ ٹھنڈا ہوگیا_ اب جبکہ امریکہ اور اسکے اداروں کی بھرپور توجہ جنوبی ایشیاء اور اسکے اردگرد ہوئ ہے تو بھارت اندرونی طور پر بھارتی اقلیتوں کو دبا کر اور بیرونی طور پر نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان کے خلاف اپنی پراکسی کو مضبوط اور اب تو باقاعدہ سوشل میڈیا اور سائبر حملوں جیسے محاذ کھول کر بھرپور فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے_
موجودہ عالمی سیاست میں دفاعی اور تجارتی معاملات سے ہٹ کر سب سے اہم اور دور رس لڑائ انٹرنیٹ صارفین کے ڈیٹے کی custody کو لیکر ہے_ ان معاملات سے جڑے تجزیہ نگاروں کے مطابق اس مخاصمت نے Oil-war کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے_ اسی سلسلے میں امریکہ چاہتا ہے کہ اس ڈیٹا پر اسکی گرفت رہے تاکہ اسکی گرفت کسی عالمی معاملات میں مسلَّم رہے؛ اسکے بعد چین کی بھی یہی چاہت ہے اس فرق کے ساتھ کہ وہ قوموں کو آپس میں لڑوانے کی سیاست پر اپنے مفادات کی بنیاد نہیں رکھنا چاہتا اور چین کی یہی منصوبہ بندی امریکہ کو کھائے جا رہی ہے کیونکہ امریکی تو یہ سمجھتے ہیں کہ عالمی امن ان کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے_ انٹرنیٹ صارفین کے ڈیٹے پر ملکیت کی اس جنگ میں اسرائیل سب ہر بازی لے جانا چاہتا ہے_ اسی مقصد کیلئے اس نے مائیکروسافٹ، گوگل، ٹوئیٹر، فیس بک، یوٹیوب اور ایمازون وغیرہ کے ہیڈ-آفس اسرائیل میں منتقل کرنے کی بات کھلم کھلا کی ہے_ جب تک معاملہ اسرائیل کی حد تک تھا تو امریکہ خاموش رہا اور برطانیہ بھی_ جیسے ہی اسرائیل میں چین کی سرمایہ کاری اور متعدد معاملات میں چین-اسرائیل شراکت داری کی بازگشت سامنے آئ تو فوراً امریکہ نے اسرائیلی عوام کو انکے انٹرنیٹ ڈیٹا تک چین کی رسائ جیسے حساس معاملے کا طوفانِ احساس برپا کر دیا_ کوئ امریکہ سے پوچھے کہ کیا اسرائیلی حکام اور عوام بچے ہیں؟ نہیں، بلکہ، امریکی کو معلوم ہے کہ سوشل میڈیا giants کے مراکز کا مطلب پورے امریکہ، مغربی اور دیگر ممالک کے ڈیٹا تک رسائ ہے جس سے حاملیںِ ڈیٹا کو تجارت، جنگ و حرب اور تہزیب غلبے جیسے فوائد حاصل کرنے میں سہولت ہوگی_ چین یا اسکی دوسری مخالف قوتوں کو اسکا فائدہ پہنچے، امریکہ کیسے برداشت کر سکتا ہے؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل چپکے سے امریکہ اور مغرب کو بہلا پھسلا کر چین کی طرف مائل کیوں اور کیسے ہوا؟ ایک سیدھا جواب تو یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کی آڑ میں اسرائیل نے سوشل میڈیا giants پر اپنی گرفت کے مان پر اپنے ہاں منتقل کرنے کا منصوبہ بنا لیا تاکہ مغرب اور امریکہ سمیت پوری دنیا اسکے ماؤس کے ایک کلک کے نیچے ہو، دوسرا اس نے امریکہ اور مغرب سے جو مفاد اٹھانا تھا اٹھا لیا؛ تیسرا اب امریکہ اور مغرب کے عوام کو اسرائیل کے بارے اسی احساس کا آغاز ہو چلا ہے یا اس احساس کے جاگنے کا اسرائیل کو خدشہ ہے جو کہ ہٹلر کے زمانے میں یہود مخالفت کی شکل میں سامنے آیا تھا_ بعض امریکی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں یہودیوں کا مستقبل انکے جرمنی کے ماضی کے انجام سے مختلف نہیں یوگا_ اسکے علاوہ، یہودیوں نے کرسچیئن دنیا کو تو نیوٹرلائز کرکے ایک طرف رکھ دیا لیکن سفیدفام قوم پرستوں کو قابو کرنا یہودیوں اور اسرائیلوں کے بس کی بات نہیں کیونکہ وہ یہودیوں کیلئے ایک الگ وطن کے معاملے پر تو خاموش رہے کہ اچھا ہے انکے معاشرے کی اس قوم سے جان چھوٹے لیکن انھیں اب اپنے ممالک میں اسرائیلی مداخلت، عالمی صیہونی منصوبوں اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی نسل پرستی اور expansionism جیسے خیالات پر اسرائیلی استقلال ان کے عوام کی آنکھیں کھول رہا ہے_ اسرائیل معاملات کو کتنا ہی sugar-coated کرکے پیش کرے آخر ایک دن saturation تو ہونی ہی ہے_ اسرائیل نے امریکہ اور مغرب کو لایعنی جنگوں میں جھونک کر جو مفادات اٹھانے تھے اٹھا لئے جو کہ خود ایک الگ موضوع ہے_ ان حقائق کی روشنی میں اسرائیل نے حفظ ما تقدم کے طور پر اب چین کی بڑھتی ہوئ معاشی، دفاعی قوت اور چینی قوم کے عالمی سطح کی قوت بننے کے خواب کے پیش نظر اپنی پینگیں چین کے ساتھ بڑھانا شروع کر دیں تاکہ عالمی تجارت، عالمی اداروں، عالمی تعاون اور گلوبلائزیشن کی آڑ میں اسرائیل کی مغرب اور امریکہ سے چین کی طرف transition کا احساس ہی نہ ہو اور چین کی نئ دوستی کی شرما شرمی میں خاموشی کی آڑ میں اسرائیل پوری دنیا کے data تک رسائ اور سیکورٹی کے نام پر اس میں دخل اندازی کا اختیار حاصل کرکے دنیا کو اپنے اشاروں پر چلائے اور پس پردہ رہ کر نئ "سپر پاور" چین اور پھنسے ہوئے مغرب اور امریکہ کی مدد سے ایک عالمی حکومت کے قیام کو ممکن بنائے کیونکہ تمام ریاستیں اور عالمی ادارے کرونا وائرس جیسے موذی امراض اور آئندہ کے "امکانی" جراثیمی حملوں سے "بچاؤ" کے "قابل" نہیں ہیں_
اس صورتحال میں چین کو تو ابھرتی ہوئ پر امن طاقت کے طور پر ہر لحاظ سے free-hand ہے ہی لیکن امریکہ اور مغربی کی اس "عالمی" سیاسی صورتحال سے نمٹنے کی determination کے بارے میں صورتحال مسلم ممالک سے کچھ کم نہیں ہے_ اسرائیل جس طرح سے امریکہ اور مغرب کی جڑوں میں بیٹھا ہے ان حالات میں امریکی stake-holders, یورپ اور یورپی یونین کا نہ ختم ہونے والا اختلاف اور اختلاف رائے بڑھتا ہی چلا جائے گا البتہ اپنے مخالفین کو ختم کروانے کیلئے ایک تیسری جنگ بھی "manage" کی جا سکتی ہے جسکا نشانہ آپس میں "الجھی" ہوئ دراصل الجھائ گئ مسلم ممالک کے عوام، سرزمین اور وسائل بنیں گے_ خفیہ عالمی قوتیں رہے سہے مسلم ممالک کو کمزور ترین سطح پر لے جا کر ابھرتی ہوئ طاقت کے ذریعے مغرب اور باقی دنیا پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہیں_ عالمی خفیہ طاقتوں کو مسلم ممالک کے کسی ممکنہ اتحاد اور مغرب کی عالمی معاملات میں اجارہ داری کے دوام کی خواہش سے خطرہ ہے جو کہ new-norms کے عالمی ماحول میں فِٹ نہیں ہو رہے اور یہ بات الگ چھبتی ہے کہ مسلم ممالک اپنے "دشمن" مغرب سے گٹھ جوڑ کرکے ایک نئ مصیبت کا بیج نہ بو دیں_ ان حالات میں عرب، ایران اور ترکی مسلم ممالک کی قیادت کرنے کے "اسلامی جذبے" کے پردے کی آڑ میں اپنی اپنی قومیت کے مفادات کے تحفظ اور بقاء سے نمٹنے کی کشمکش میں ہیں اسی لیئے انھیں بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ ابھرتی ہوئ "پر امن" قوت کا ساتھ دیں یا "دشمن" مغرب کا یا دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھے جائیں؟ اگر ان مسلم حلقوں کو امت مسلمہ اور عالم اسلام کا ادنیٰ سا بھی احساس ہوتا تو یہ OIC کو فعال بناتے اور آج یہ ادارہ نہ صرف مسلم دنیا بلکہ ابھرتی ہوئ "طاقت" اور مغربی ممالک کے ساتھ متوازن طریقے سے معاملات کرنے میں مسلمانوں کے کام آتی_
آج حالت یہ ہے کہ پورے عالم اسلام کی نہ تو اپنی کوئ مشترکہ،نیوز ایجنسی ہے اور نہ ہی کوئ میڈیا گروپ، نہ کوئ مشترکہ ٹی وی چینل ہے اور نہ ہی کوئ و قابل اعتماد سوشل میڈیا پلیٹ فارم_ اس سب کے باوجود مسلم دنیا اس جنگی ماحول، قدرتی آفات، بیماریوں، بھوک، افلاس اور نفسا نفسی کے چکر میں نہ آئیں بلکہ اب بھی OIC میں اسکی صحیح روح پھونک کر اسے فعال کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ، اس تمام نام نہاد عالمی کھیل کا مقصد یہ بھی ہے کہ اگر یہ مسلم ممالک، جن میں اکثر کی آزادی کو آئندہ چند سالوں میں ایک صدی مکمل ہونے والی ہے، مضبوط ہوگئے تو اسرائیل کی پوزیشن ان سب کے مقابلے میں کیا ہوگی؟ اس معاملے کا خصوصی جائزہ لینے کیلئے آج سے دو تین سال قبل امریکہ میں Zionists-Neocoms کانفرنس بھی ہوئ تھی_ لیکن مسلم دنیا نے اس پر توجہ نہیں دی تھی_ اس وقت پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ مذکورہ مسلم اقوام کی طرح قومیت پرستی یعنی Nationalism پر ارتکاز کرتا ہے تو اسکا اندر کا تانا بانا یعنی matrix تباہ ہوتا ہے کیونکہ اندر کے قوم پرست اس جذبے کو اپنے مفاد میں استعمال کریں گے اور پہلے ہی ملک دشمن قوتیں انکو اکساتی رہتی ہیں اور اگر پاکستان اسلام کی بات کرتا ہے تو مسلمانان پاکستان عالم اسلام اور OIC کی بات کرتے ہیں_ اصل مسئلے پر تو غور نہیں ہوتا بس ایران، سعودی عرب اور ترکی کے اسلام کے لبادے میں قومیت کے جھگڑے پر ہم پاکستان میں ہی اکھاڑہ بنا کر سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کر دیتے ہیں_
اب وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان ان ممالک سے سنجیدگی سے، تمام مصلحتوں، تقاضوں اور حالات کی نزاکتوں سے بالا ہوکر بات کرے اور یہی عالمی سیاست کی بھلبھلیوں سے نبرد آزما ہونے کا ٹھوس اور دیرپا راستہ ہے_ اگر پاکستان اس پر توجہ نہیں دیتا تو عالمی سیاست کا طوفان تھمنے کے بعد اسکا fall-out اپنے اندر بظاہر تعمیری نظریاتی تخریب کا latent-potential رکھے ہوگا اور اسے انارکی میں بدلنے میں کتنا وقت درکار ہوگا؟ خاص کر جب خفیہ قوتیں انقلاب اور بہتری کے نام پر اسے خاموشی سے بھڑکانے کیلئے ہمہ تن گوش ہوں؛ اور اس انارکی اور شورش کے پاداش کم و بیش تمام مسلم ریاستیں اپنی جغرافیائ حدوں کو کھو بیٹھنے کے اندیشے سے دو چار ہو جائیں گی_ پاکستان کی پوزیشن کم و بیش اس وقت سلطنت عثمانیہ کے آخری ادوار سے ملتی جلتی ہے، قدرت نے شائد عثمانیوں کیلئے options اور opportunities محدود کردیئے تھے، انکا انجام جو ہونا تھا ہوا، لیکن، پاکستان کو ﷲ تعالیٰ نے جو مواقع دیئے ہوئے ہیں اس عالمی سیاست کے مخمصے سے وہ تمام مسلم قوتوں کو سمیٹ کر ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے جیسے عالمی بھنور کی چکی میں سے اسرائیل ابھرا تھا_ فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان کی طاقت ہر حالت میں OIC کے جھنڈے تلے ہی اپنی بقاء کا ساماں کر پائے گی_ (تحریر: عبدالرحمٰن)
No comments:
Post a Comment