Tuesday, August 18, 2020

موجودہ عالمی نظام میں دو مسلم بلاکس کی بحث

 نیوز اینکر عمران ریاض خان نے اپنی تازہ ترین وڈیو میں ترکی اور اسرائیل کے حوالے سے ترکی کی vindication کی مخلصانہ کوشش کی ہے اور انکا تجزیہ ہے کہ عربوں کا جھکاؤ یورپ کی طرف اور ترکوں کا جھکاؤ اسلام کی طرف ہو رہا یے_ آخر میں انکا کہنا ہے کہ فیصلہ عوام خود کر لے اور اپنی رائے دے_ میرے حساب سے اس وقت کی یہ پوری بحث illogical اور fraud ہے_ میرے اس دعوے کی کیا وجوہات ہیں، ملاحظہ فرمائیں_

یہ جو بین الاقوامی ںظام چل رہا ہے اس میں مسلم کاز کو اکیلے ہی آگے بڑھانا صرف ایک یا دو یا تین ممالک کے بس کی بات نہیں ہے_ دوسری طرف ترکی، عرب اور ایران تینوں قومیت پرستی Nationalism پر یقین رکھتے ہیں_ یہ تینوں اقوام pan-Islamism کی بجائے Nationalism-cum-Islam پر یقین رکھتی ہیں اور تینوں اپنے تہزیبی غلبے کی متمنی ہیں_ سودی عالمی معیشت، نظام تجارت اور بینکنگ سسٹم میں بھی تینوں برابر کے شریک ہیں_ تینوں کا کوئ ایک معاملہ بھی ایسا نہیں کہ ایک کو دوسرے سے بہتر سمجھا جائے_ اسکے مقابلے میں پاکستان خالص pan-Islamism پر یقین رکھتا ہے اور ایک نئ ابھرتی مسلم قوم ہے جو ترکوں، عربوں اور ایران تک سے بھی جذباتی طور پر برادرانہ اور مشفقانہ تعلق رکھتے ہیں_ جبکہ ایران نے بھارتی دہشتگرد کلبھوشن سنگھ کو host کیا_ پاکستان کو ایران اور عربوں نے فرقوں کا میدان جنگ بنائے رکھا_ پاکستانی عربوں اور ایران میں تقسیم ہوگئے اب پاکستانیوں کو ترکوں اور عربوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے جو کہ ٹوٹل فراڈ اور کسی عالمی کھیل کا حصہ ہے_ مسلم دنیا کا صرف ایک حل ہے OIC اور OIC._ جب تک یہ اصلی روح کے ساتھ بحال نہیں ہو جاتی مسلم دنیا بڑی عالمی اور خفیہ طاقتوں کے کھیل سے نہیں نکل سکے گی_ دوسروں کی جنگ لڑنے سے بہتر ہے OIC کیلئے لڑ مر لیں یا اکٹھے ہو کر بیٹھ جائین تاکہ کوئ راستہ نکلے_ دوسروں کے عالمی نظام میں ہر سڑک شاہراہ غلامان ہے_ عربوں کے ساتھ مل کر بھی International Liberal Order کی غلامی کرنی؛ ترکی، پاکستان،ملیشیا اور ایران کے ساتھ مل کر بھی اسی آرڈر کی غلامی کرنی تو اسلام کہاں ہے؟ مسلمانوں کا کیا ہے، سوائے لاشوں، الزامات، مایوسی اور عدم استحکام کے؟ اب بتائیں کہ مسلمان مسلم دنیا میں اپنی مرضی سے جی سکتے ہیں یا اپنا آرڈر لا سکتے ہیں؟ سب بکواس_ ابھی بہت دیر ہے_ اس لیئے قومیت پرستی کی جنگ ختم کر دیں اور اسکے لیئے ایک ہی antidote اور panacea ہے اور وہ OIC ہی ہے_ عربوں، ایرانیوں اور ترکوں کو بتا دیں_ ایسے مسلم ممالک کے blocks کی جنگ تو ایسے ہی ہے جیسے غلاموں کے جتھے ایک دوسرے ملک کے بادشاہ کی غلامی کو برقرار رکھنے کیلئے اتحاد کی تمنا کریں یا مرنے مارنے پر تیار رہیں_

No comments:

Post a Comment