سوشل لائف اور سوشل میڈیا میں بہت سے لوگ تو ایسے ہیں جنھیں معلوم ہی نہیں کیا سوچنا، کہنا اور کرنا ہے؛ ماشاءﷲ! لوگ انھیں سنتے بھی بڑی تعداد میں ہیں اور موصوف اسے اپنی کمیونٹی ڈیولپمنٹ کا شاخسانہ بھی قرار دیتے ہیں_ بہت سے ایسے ہیں جو منزل کا پتہ تو دیتے ہیں باقی انھیں نہ نشان راہ کا علم اور اور نہ دوسرے لوازمات کا انھیں بھی بڑی تعداد میں ہمنوا مل جاتے ہیں_ ایک وہ ہیں جنھیں حالات اور اسکے تقاضوں، نشانات راہ کا علم بھی ہے، وہ ان معاملات سے آگاہ بھی کرتے ہیں لیکن اپنے ذاتی زعم اور گروہی خول سے ہی نہیں نکلتے کہ موضوع پر کما حقہ روشنی ڈالنے کی زحمت کریں_ انھیں لوگ صاحب نظر اور فلسفی قرار دیکر ان سے چمٹے رہنے کو اپنی دانش کی معراج سمجھتے ہیں_ ایک وہ بھی ہیں جو ذاتی اور گروہی مفادات اور رعونت سے بالا ہو کر حالات کی نبض پر ہاتھ بھی رکھے ہوتے ہیں، نشان راہ اور منزل کا علم بھی ہوتا ہے اور فکر کو عمل میں ڈھالنے کی اہمیت کو بھی جانتے ہیں اور اسکی جزیات و ذیلیات تک بیان کرتے ہیں لیکن social activism اور nation building کیلئے عملی طور پر بالکل رغبت ہی نہیں رکھتے_ تاہم جب وہ لوگوں کو سمجھاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں آپ زیادہ فسفہ نہ جھاڑیں یا آپ بڑے فلسفی ہیں یا اپنا فلسفہ اپنے پاس ہی رکھیں_ افراد کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو مخلص اور قربانی دینے والے بھی ہیں اور ان معلومات کو فکری عمل اور فکری عمل کو معاشرتی عمل میں ڈھالنے کیلئے خود کو بھی وقف کرنے کیلئے تیار ہیں انکو ہمارے عوام و خواص فلسفی ہونے کی چھاپ و ٹھاپ دینے کے علاوہ صرف یہ جواب ھی دیتے ہیں کہ کون کرے؟ آپ کے پاس وقت ہوگا ہمیں اور بھی بہت سے کام ہیں_ کون سا معاشرہ؟ کون سی قوم؟ کون سی فلاح و بہبود؟ فلاں کو دیکھا ہے؟ مولوی یوں، سیاستدان یوں، پولیس یوں، فوج یوں اور عدالتیں یوں_ کچھ عوام. بھی اس قبیل کے مصلحین اور رہنماؤں کی کج فہمیوں اور کج رویوں کا شکار ہونے سے خوف بھی کھاتے ہیں اور کسی حد تک عوام اس میں حق جانب بھی ہیں_
ایسی صورتحال میں آخری دو اقسام کے ناصحین اور ان کے مستفضین معاشرے کو بس جہالت اور جمود کا شکار کہہ کر مایوس ہو جاتے ہیں_ یہ تمام صورتحال معاشرے کو فکری تجرد یعنی abstract conceptualization کا شکار کر دیتی ہے جسکا کہ ہم پاکستانی شکار ہیں_ اس دوران جہاں عوام دل بہلاوے کیلئے اول فول، تعصبات، غلو، مبہم خیالات، ورغلانے، گمراہ کرنے اور جھوٹی خبروں میں مگن ہوتے ہیں سمجھدار افراد بس معاشرتی جہالت اور بے راہروی پر کڑھتے، طنز کرتے اور مایوسی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں_ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں اصلاح کی بجائے تنقید برائے تنقید اور طنزیہ جفتوں کے ذریعے مسائل کو آشکار کرنے کا ذریعہ زور پکڑے ہوئے ہے_ اس چیز سے معاشرتی یاس social disappointment اور معاشرتی بے حسی social numbness پیدا ہوتی ہے_ یہ معاملہ معاشرتی شعور social awareness اور سیکھنے کے انفرادی عمل یعنی individual learning اور اجتماعی دانش collective intellectualism کے عمل کو ختم نہ بھی کرے انتہائ سستی کا شکار کر دیتا ہے_ ان حالات میں مایوس اہل فکر و عمل ذرا غور کریں کہ اسکا سبب بھی خود انکی اپنی کوتائیاں اور کوتاہ بینی ہی ہوتی ہے_ سوشل میڈیا کے اس بلبلے سے باہر گھریلو، مقامی، شہری، علاقائ، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کیا زندگی کا پہیہ بھی جام ہو چکا ہے؟ نہیں! ہم اپنی ذات اور گروہی خول میں مقید ہوں تو ہوں کاروبار زندگی کبھی نہیں رکتا_
ان حالات میں اہل دانش اور ارباب حل و عقد کا فرض ہے کہ بڑی عمیق نظری سے ہمہ قسم شخصیات، گروپس اور فورمز کا جائزہ لیکر عوام کی اس طرف رہنمائ کریں اور اگر وہ ایسے گروپس اور فورمز نہ پا سکیں تو آپس میں جڑ کر انھیں تلاش کریں یا قائم کرنے کی کوشش کریں تاکہ فکری انتشار و تجرد اور معاشرتی عمل و سرگرمیوں سے بے بہرہ یہ عوامی ہجوم ایک قوم کے طور پر سوچنا سیکھے_ اس سلسلے میں میرا دوسرا مشورہ یہ ہے کہ مقامی معاشرتی معاملات، مسائل، انکے حل، وسائل، عوامی اور سماجی تنظیموں کی اہمیت اور مقامی حکومتی اداروں کے بارے عوام کو آگاہی دی جائے_ تاکہ لوگوں کو روزمرہ زندگی میں جہاں جہاں جو مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ اسکے خد و خال اور ان سے نبرد آزما ہونے کے عمل کو سیکھ سکیں_
اس سے زیادہ معاشرتی تعامل اور معاشرتی شعور کو بڑھانے، معاشرتی جمود کو توڑنے، معاشرتی ارتکاز کی فضا قائم کرنے، عوام اور حکومت و حکام کے درمیان فاصلے کم کرنے، ریاست خودمختاری اور ریاست کے قدرتی و انسانی وسائل کی قدر و اہمیت کو سمجھنے اور ہر سطح پر پھیلی مایوسی کی دبیز چادر کو چھاٹنے کا معاشرتی فکر و عمل سے میل کھاتا tangent دوسرا طریقہ حکومتی اختیار ہوا کرتا ہے، لیکن، آپ حکومتی طرز عمل سیاستدانوں، غیر ملکی مداخلت یا جرنیلوں سے مایوسی کا اظہار نہ کیجئے بلکہ عوام کو ان سے کام لینے کا طریقہ سکھائیے اور یاد کیجئے ہم ہر وقت یہی تسبیح پڑھتے سنائ نہیں دیتے کہ جیسے عوام ہوں ویسے ہی حکمران ہوتے ہیں؟ اس سے ثابت ہوا کہ عوام کی اصلاح و تربیت سب سے اولِّین کام ہے اور یہی اہل دانش اور علماء کا کام ہے اور میں ان ہی سے مخاطب ہوں کہ علم و نور، شعور و آگاہی اور معاشرتی خیر و شر کا منبع اور مرجع آپ ہی تو ہیں؛ آپ کی تربیت کون کرے گا؟ یہ آپ ہی سوچ کر بتائیے، کچھ ہل چل آپ بھی کر ہی لیں اگر followers کی جھل مل سے کچھ لمحات نکل سکیں تو! (تحریر :ع
No comments:
Post a Comment