Sunday, August 23, 2020

اک تحریر پڑھانے والوں کیلئے

ان دنوں میں شہر کے ایک پوش سکول کی آٹھویں کلاس کا ایک بے پرواہ اور شرارتی سا طالب علم تھا_ کوئ دن ہی گزرتا تھا کہ ہماری کلاس میں میری کلاس نہ لگتی ہو_ ٹیچرز مجھے کلاس کے درمیان کھڑا کر کے ہر لحاظ سے میری تہزیب کرتے اور میں کھیل کود اور دوستوں میں مگن رہنے والا مجال ہے مجھ پر کسی نصیحت، بے عزتی اور سختی کا اثر ہوتا ہو یا مجھے کوئ شرمندگی ہوتی ہو_ بالکل نہیں! یہ کوئ اچھی بات تو نہیں لیکن والدین اور اساتذہ کی توقعات، کوششوں اور قربانیوں کے علاوہ تعلیی اداروں کی حکمت عملیوں کے برعکس بعض اوقات بچوں کی اپنی ہی دنیا ہوا کرتی ہے_ بدقسمتی سے ہمارے یہاں جس میں کوئ جھانک ہی نہیں پاتا_ مجھے آج بھی بچوں کیلئے ایسی دنیا اچھی لگتی ہے جس میں وہ گھر، سکول اور گراؤنڈ میں والدین اور اساتذہ کی نگرانی کے ساتھ ساتھ اپنے کلاس فیلوز، بہن اور بھائیوں کے ساتھ لڑنے، بھاگنے دوڑنے، کھیلنے، چیزیں توڑنے بنانے، مَیلوں ٹھیلوں، شادی بیاہ کے فنکشنز، مینا بازار، نمائشوں، چڑیا گھر، نہر اور دریا، کھیتوں، باغوں اور بازاروں میں گھوم کر اپنی کہانی ٹیچرز کو لکھ کر دکھانے کا موقع ملے_ لیکن، mass-education نے عرصہ دراز سے بچوں کی اس بے خودی کو چھین لیا ہے_ سنا ہے سویڈن میں اسی طرح سے پڑھایا جا رہا ہے_ کاش ہمارے پاس بھی اتنے وسائل ہوں کہ ہم بچوں کو کلاس روم میں مقید کرنے کی بجائے carrot and stick کے ماحول میں گراؤندز، لیبارٹری اور لائبریری میں کھلا چھوڑ دیں_ 


خیر ایک دن میں حسب روایت کلاس ٹیچر کے کٹہرے میں کھڑا تھا اور کلاس میں سوشل ورک ڈے، جو کہ مہینے میں ایک مرتبہ آتا تھا، کے حوالے سے چہمہ گوئیاں بھی ہو رہی تھیں اور ٹیچر نے بزم ادب کا کوئ ذکر نکالا تو مجھے دیکھ کر ایک کلاس فیلو نے مسابقت بھرے لہجہ میں ٹیچر سے سوال کیا "رحمٰن" بھی بزم ادب میں حصہ لے گا؟" نہ تو میں سکول کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتا تھا اور نہ ہی مجھے اپنی دنیا سے فرصت ملتی تھی_ حصہ تو کیا ہی لینا تھا میں اس کلاس فیلو کے تجسس پر کہ کہیں میں اسکے ساتھ نمایاں نہ ہو جاؤ حیران ہوا، لیکن، میں نے فوراً ٹیچر کے چہرے کی طرف دیکھا_ وہ چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ لائیں اور میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے ہنستے ہوئے کہا "رحمٰن کا ادب سے کیا تعلق؟" میری ٹیچر کے چہرے پر مسکراہٹ، خفیف سی ہنسی اور انکی آنکھیں آج بھی مجھے یاد ہے کہ مجھے راہ راست پر آنے اور تعلیم و ادب کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حسرت سے بھری ہوئ تھیں_ لیکن موت کے جس کنوئیں کا میں کھلاڑی تھا مجھے پر کلاس کی اس گھٹن کا کیا اثر ہونا تھا_ لیکن قدرت کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں_ میں نے بچپن میں تو قصے، کہانیاں اور تاریخی ناول پڑھے ہی تھے لیکن اسکے بعد بیس سال کی عمر میں کتابوں سے ایسا لگاؤ ہوا کہ وہ آج تک نہیں ٹوٹا_ مجھے دین، فلسفہ، سیاست، تاریخ، معاشیات، مینیجمنٹ اور سائنس پڑھنے کا ایسا اتفاق ہوا کہ کتب بینی کے علاوہ ہزاروں کتابیں، آرٹیکلز اور مضامین کی skimming کا موقع ملا_ آج بھی میرا تعلق ادب و تعلیم سے نہیں لیکن بطور ایک social activist ان نزاکتوں کو اتہاء گہرائ سے سمجھنے کے باوصف رہنمائ ضرور کرتا رہتا ہوں اور اس میں مالک کائنات کے فیضان کرم کے ساتھ والدین اور ایسے ہی اساتذہ کی محنت، قربانیوں، شفقت اور دعاؤں کا بہت دخل ہے_


ہوا کچھ یوں بھی کہ میں بچپن سے شہر کے ایک مشہور سکول میں پڑھتا تھا_ ہماری قابل اور ذمہ دار میڈم چار سال سے ہماری میتھ کی کلاس بھی لے رہی تھیں_ انھوں نے پانچ سال ہمارا پیریڈ لیا اور ہر پیریڈ میں میرے پیٹ میں انھیں دیکھ کر خوف کے درد کی لہر ضرور اٹھتی تھی_ ستم یہ کہ جب انھوں نے الجبرا پڑھانا شروع کیا تو میری جان پر بن آئ_ ایک ماہ تک روزانہ وہ کلاس میں میری پٹائ کرتی رہیں اور مجھے کچھ سمجھ نہ آئ کہ کیوں مارتی ہیں_ نہ مجھے معلوم تھا کہ کیا سیکھنا ہے اور نہ ہی میں نے کبھی گھر پر ذکر کیا_ میں نے خود بھی نہیں سوچا کہ ایسا کیوں ہو رہا تھا_ پورے ایک ماہ بعد ایک دن وہ اچانک میری ٹیبل کے قریب آئیں اور کاپی نکالنے کو کہا_ میری کاپی پر انھوں نے دس منٹ میں بڑے پیار سے مجھے algebraic exponent، اسکے parts اور signs کے بارے میں سمجھایا_ وہ دن تھا اور آج، پھر مجھے زندگی میں کبھی الجبراء سے کوفت نہیں ہوئ_ لیکن میں آج بھی سوچتا ہوں کہ اتنی قابل اور disciplined ٹیچر نے مجھے پورے ایک ماہ تختہ مشق کیوں بنائے رکھا_ ایسا ہی رویہ وہ شروع میں بسے اختیار نہیں کر سکتی تھیں؟ یہ خیال رہے کہ میں بے پرواہ ضرور تھا لیکن نکمّا اور کند ذہن نہیں تھا_ ایک اندازہ میں اب لگاتا ہوں کہ ٹیچرز بعض اوقات لا شعوری طور پر اپنے طالب علموں کو اپنی ذہنی مصروفیت، نفسیاتی کیفیت، کمی اور کوتاہی کا شکار بھی بنائے رکھتے ہیں_ حکومت کو ٹیچرز پر خصوصی توجہ دینی چاہیئے کیونکہ کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ کوئ بھی نظام تعلیم اس وقت کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک ٹیچر motivated نہ ہو_


طلسم ہوشربا کی طرح میری بچپن کی شرارتوں کی ایک طویل داستان ہے_ لیکن وہ شرارتیں نہیں تھیں_ وہی تو میرے اندر کا سکول تھا جسمیں میں تنکے کی طرح اڑتا پھرتا تھا_ میں نہیں کہتا کہ بچے شتر بےمہار ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ولیئم ہیزیلٹ نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ rules and models destruct genius and arts_ ایک دن شرارت یہ کی کہ سکول کے پرنسپل کلاس کے دروازے پر ٹیچر سے کچھ بات کر رہے تھے اور میں اپنی جیومیٹری باکس سے وقفہ وقفہ سے ہلکا ہلکا کھڑاک کر رہا تھا_ پرنسپل نے پوچھا یہ کون ہے؟ کلاس میں میرے مخالف جتھے کی لاٹری کھل گئ_ سب نے chorus کے انداز میں میرا نام لے دیا_ بس پھر کیا تھا دو تھپڑ کھانے پڑے_ میری غلطی سنگین تھی کہ ڈسپلن توڑا تھا لیکن پھر بھی مجھ پر ہلکا ہاتھ رکھا گیا_ اگر مجھے مکَّوں اور ڈنڈوں سے مار مار کر لہولہان کر کے سکول سے روانہ کر دیتے تو کیا میں زندگی بھر کسی سکول میں تعلیم حاصل کرنے جاتا؟ بالکل نہیں_ اس لیئے کہتا ہوں corporal punishment بہت ہی نازک مسئلہ ہے اور ٹیچر کو اس سے خود ہی دور رہنا چاہئے، لیکن، کچھ نہ کچھ ہو لیکن انتہائ ضبط کے ساتھ_ بعض بچے نری مار نہیں پیار، نہیں سمجھ پاتے، جنھوں نے اپنی دنیا بسا کر باہر کی دنیا کو کبھی کبھی اپنی شرارتوں سے سجائے   رکھنا ہو_


No comments:

Post a Comment