نیکی اور بھلائ کا کوئ بھی عمل mutually exclusive نہیں ہوتا_ سوائے اسکے کہ کچھ اعمال بیک وقت اکٹھے سرانجام دینا ممکن ہی نہ ہو_ مثلاً دوران نماز وضو اور دوران وضو نماز نہیں پڑھ سکتے_ دوسری طرف فطرت کا ایک اصول مطابقت اور ہم آہنگی Synergy ہے_ جسے مینیجمنٹ کی زبان میں ایک جمع ایک تین بھی کہتے ہیں_ یعنی یہ طاقت ٹیم ورک کے بغیر پیدا ہو ہی نہیں سکتی_ کاروباری شراکت داری partnership کا تصور بھی اسی سے نکلا ہے_ کسی خطے میں بسنے والے افراد ایک قوم اور ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہیں_ قوم سے مراد کسی خاص افرادی گروہ کی لی جاتی ہے جس کی اقدار و روایات آپس میں مشترک ہوں_ ہیز کے خیال میں قومیت جب اتحاد اور حاکمانہ خود مختاری حاصل کرلیتی ہے تو قوم بن جاتی ہے_ اسکے کے مقابلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ جمہوریت کسی معاشرے میں تقسیم پیدا کرتی ہے اور اسکا نتیجہ گروہ بندی Factionism کی شکل میں برآمد ہوتا ہے_ اگر کسی قوم میں محض معاشرتی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے بارے میں approaches کے لحاظ سے اختلاف رائے پایا جاتا ہو تو یہ اختلاف کوئ برا نہیں بلکہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسرائیل اور بھارت وغیرہ میں مسائل پر اختلافات کو حل کرنے یا سب سے مناسب اور بہترین ترجیحات اور حل سامنے لانے کیلئے قانون ساز اداروں میں بحث کی جاتی ہے اور اسی بنیاد پر انھیں کامیاب جمہوریت کہا جاتا ہے_ ان ممالک میں جمہوریت کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ ان میں پائ جانے والی سیاسی پارٹیوں اور گروہوں کو کوئ بیرونی قوتیں عمومی طور پر خفیہ اور اعلانیہ طریقوں سے بروئے کار manipulate نہیں کرتیں اور نہ ہی ان کے اختلافات کو ہوا دیتی ہیں، سوائے اسرائیل کے جو امریکہ اور مغرب کے معاملات میں اثر انداز ہونے کی کوشش میں لگا رہتا ہے_ بہرحال ان ممالک کو ہر لحاظ سے متحرک معاشرے dynamic societies قرار دیا جاتا ہے_
اسکے مقابلے میں تمام اہم مسلم ممالک کے جمہوری یا بادشاہی نظام میں مذکورہ ممالک کے علاوہ دیگر ممالک بھی مذہبی، سیاسی پارٹیوں اور گروہوں اور انکے اختلافات کو متعدد طریقوں سے اس حد تک hi-jake کیئے رکھتے ہیں یہاں تک کہ ان ممالک کے مفادات کے مطابق انتخابی مراحل، حکومت سازی، قانون سازی اور دیگر معاملات طے نہ ہو جائیں_ اسی وجہ سے مسلم ممالک میں engineered election کی باز گشت سنائ دیتی ہے_ دھونس، دھمکی، لالچ اور trend setting نے مسلم ممالک کی سیاسی شخصیات، پارٹیوں، گروہوں اور طبقات کے اذہان میں یہ حقیقت راسخ کر دی ہے کہ اقتدار کا سنگھاسن ملک و قوم کی خدمت سے نہیں بلکہ غیر ملکی آشیرباد سے آتا ہے_ اسی وجہ سے یہ اپنے اختلافات کے تحت ملک بھر میں تماشہ کرکے اپنے کارکنان کو بھی اسی کی بھینٹ چڑھائے رکھتے ہیں_ جب انکی باری آتی ہے تو پھر یہ بکاؤ جتھے اپنے من پسند افراد کیلئے ملکی خزانے کا منہ کھول دیتے ہیں_ یہی وجہ ہے کہ نام نہاد جمہوری مسلم ممالک کی سیاسی پارٹیوں، گروہوں، کارکنان اور عوام کی اپنے اپنے علاقوں کے معاشرتی مسائل کی طرف توجہ ہونے کی بجائے محض ان ہی issues پر رہتی ہے جن کے بارے میں انھیں اپنے آقاؤں سے ہوم ورک ملتا رہتا ہے یعنی اپنے ملک و قوم کے لحاظ سے non-issues اور پھر ستم یہ کہ اس پورے کھیل کو third world democracies میں جمہوریت کی ناکامی سے تعبیر کیا جاتا ہے_ جبکہ ہمہ قسم میڈیا غیر جانبداری اور جمہوری اقدار کے فروغ کے نام پر ایسے طوفان بدتمیزی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا آیا ہے_
اس طرح سے جب پورا معاشرہ ہی polarization کا شکار ہو جائے تو پھر قومی اتحاد پارہ پارہ ہو جاتا ہے اور قوم پھر قوم نہیں رہتی، ٹکڑوں اور جزیروں islands کی شکل اختیار کر کے آپس میں بیگانی ہو کر ملکی ترقی، وسائل اور ہر سطح کے معاشرتی مسائل سے نابلد و لاتعلق ہو جاتی ہے_ پاکستان میں وسائل کے ضیاع، غیر ملکی مسائل کے انبار، قومی، صوبائ اور مقامی منصوبوں کے عدم تسلسل اور ہر نئ حکومت کا پچھلی حکومتوں کے منصوبوں کو منسوخ کر دینا اسی کا شاخسانہ ہے_ اس اندوہناک صورتحال میں جہاں عالمی سطح پر ملک و قوم کا منفی امیج سامنے آتا ہے بلکہ تقسیم در تقسیم عوام، سیاست کے اس گورکھ دھندے کے بارے نفسیاتی ہراسگی کا شکار ہو کر سیاسی اور معاشرتی عمل و تعامل activity اور interaction کو شجرۃ ممنوعہ سمجھ کر ہمہ قسم مقامی، شہری، صوبائ اور ملکی معاشی، سیاسی اور معاشرتی مسائل سے منہ موڑ کر مایوسی کا شکار ہو جاتی ہے اور اسے ہی قومی بے حسی سے تعبیر کیا جاتا ہے_ یہاں ایک سوال یہ بھی ابھرتا ہے کہ عوام تو مذہبی بنیاد پر بھی تو تقسیم ہوتے ہیں؟ اسکا سیدھا جواب ہے کہ جمہوریت کی طرح اسلام کا یہ تقاضہ نہیں ہے کہ معاشرے کو چنیدہ طبقات کے مفادات اور منافرت کی خاطر منقسم divided کر دیا جائے_ اسلام تو افراد کو ذاتی خواہشات سے بچ کر معاشرتی طور پر اکٹھے ہونے کی تحریک ہے جبکہ اگر جمہوریت میں سب ہی اکٹھے ہو جائیں تو دو یا دو سے زیادہ سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان الیکشن کیسے ہوگا؟ حزب اختلاف کہاں سے آئے گی؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ عوام میں تفرقہ عین جمہوری تقاضہ ہے_
پاکستان میں گزشتہ بتیس سال سے جاری اس جمہوری تماشے نے حکام، سیاستدانوں، مذہبی اور سماجی رہنماؤں کو تو کیا خود عوام کو ہی ان کے بنیادی حقوق اور روزمرہ کے معاشرتی مسائل سے بالکل لا تعلق کر کے پورے معاشرے کو شہریت، عمرانیات، سیاسیات اور بشریات کے پیمانے کے لحاظ سے معاشرتی مفلوج پن social paralyzation کا شکار کر دیا ہے_ سب سے خطرناک مسئلہ قومی زبان سے کٹتے چلے جانے کا درپیش ہے_ اہل مغرب کی ترقی کا راز پڑھنا اور سوچنا read and think ہے اور وہ اپنی اپنی قومی زبانوں میں اس عمل کو جاری رکھ کر اپنے عوام کے شعور میں اضافے کر کے ترقی کی منازل طے کرتے چلے جا رہے ہیں اور پاکستان کے عوام اردو اور انگلش کے پنڈولم میں جھول رہے ہیں_ مغرب یا کوئ اور قوم کب چاہے گی کہ پاکستان اپنی اصل سے جڑے؟ اس قومی عذاب کا سب سے بڑا ناجائز فائدہ پہلے عدالتوں، بیوروکریسی، سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں نے اٹھایا اور اب صحافی، دانشور حتیٰ کہ اساتذہ تک اٹھا رہے ہیں_ قوم کو اس دلدل سے نکالنا سب سے کلیدی حل طلب مسئلہ ہے_
دوسرا سنگین ترین مسئلہ عوام کو امریکہ اور برطانیہ کے دور دراز علاقے میں کسی بطخ کے الٹے پاؤں چلنے کی معلومات تو بخوبی طور پر ہونا ہے لیکن اپنی گلی اور محلے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز، بجٹ اور specifications سے جڑی موٹی موٹی معلومات تک کا علم نہ ہونا ہے_ جب ایک معاملے کا علم ہی نہیں ہوگا تو اداروں، حکام، مقامی منڈی، مارکیٹ، پیداواری عمل، حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعامل interaction سے جڑے قوانین، طریقہ کار اور بےقاعدگیوں کے علاوہ معیار اور مقدار quality اور quantity سے جڑے عملی پہلوؤں کا علم کیا ہوگا؟ اسی وجہ سے انھیں مقامی سیاست اور وسائل کی الف بے بھی معلوم نہیں ہو پاتی تو وہ ملکی سیاست اور وسائل سے جڑے معاملات کو عملی طور پر کیا سمجھ پائیں گے؟ اس سے ثابت ہوا کہ عوام کو مقامی اداروں، حکام، وسائل، مسائل، سیاست اور معاملات کا علم اندرونی ملکی استحکام حتیٰ کہ اسکی عالمی شناخت اور مفادات کی نگرانی اور تحفظ کا بھی ضامن ہے_
جمہوری سیاست اور مذہبی منافرت کی بنیاد پر پیدا ہونے والی تفرقہ بازی اور معاشرتی بے حسی کا تیسرا اہم پہلو عوام کے درمیان بلا وجہ کے تعصب کی بنیاد پر ہونے والی تقسیم کی شکل میں سامنے آتا ہے_ اس تقسیم کا نقصان انتہائ کلیدی اجتماعی معاشرتی اور شہری مسائل پر مقامی طور پر بھی اکٹھے ہو کر مسائل کے حل کے بارے میں سوچنے اور موثر لائحہ عمل اختیار کرنے کے بارے اکٹھے ہونے سے کترانا اور اپنی جان چھڑوانا یے_ جبکہ رسمی اور غیر رسمی مقامی تنظیم یا formal and informal local organization(s) کا وجود، تحرک اور تعامل کو سمجھنا اور اس سے جڑنا ہی تو ملکی ترقی کے عمل کو سمجھنے اور اس سے جڑنے کی ضمانت ہے_
مزید برآں قومی اور مقامی معاملات سے جڑے ان تین منفی اٹرات کے علاوہ تعلیم، صحت، فلاح و بہبود، شہری حقوق، کھیل، تفریح اور ثقافتی سرگرمیوں پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ بھی کسی طور پر کمی نہیں_ لیکن میرا مقصود محض ان پہلوؤں کو اس لحاظ سے اجاگر کرنے کا ہے کہ ان سے نبرد آزماء ہونے کیلئے مقامی کمیونٹی اور مقامی قیادت leadership کے وجود، نشونما اور انکے تحرک کے کلچر کی آبیاری کی افادیت اور اہمیت کے حوالے سے ایک اجمالی اور معروضی خاکہ آپ کے سامنے رکھ سکوں_ دیکھا جائے تو یہ اس سطح کے معاشرتی عمل، تحرک اور تعامل کو ملک و قوم کی capillaries میں زندگی کی رمک کی علامت سے بھی تشبیہ دینا کوئ غیر منطقی اور مافوق الفطرت بات نہیں ہے_ نامساعد ملکی حالات، حکومتی عدم تعاون، سیاستدانوں اور سماجی رہنماؤں کی مفاد پرستی کے باوجود مقامی عوامی قیادت ہمہ قسم منافرت، تفرقہ پرستی، طبقاتی بعد اور دیگر demographic تقسیم کے باوجود عوام کیلئے بہت ساری موثر اور بروقت effective and efficient سرگرمیوں کو منظم manage کر سکتی ہے_ بلکہ اگر باہمی اختلافات کی بنا پر لیکن مثبت مسابقت کے جذبے کے تحت اگر افراد اپنے اپنے طور پر ان مقامی تعمیری اور شعوری سرگرمیوں کو سرانجام دینا چاہیں تو بھی کوئ ہرج نہیں کیونکہ معاشرتی تحرک کو ہر حال میں یقینی بنانا ضروری ہے اور مقابلے کی مثبت فضا سے افراد مزید محنت کرکے خوب سے خوب تر مظاہر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں_ ملکی اور قومی قدرتی اور انسانی وسائل، اتحاد فکر و عمل اور ہمہ قسم و سطح کے مسائل پر ارتکاز ہی دراصل حقیقی قومی اتحاد کی منزل کے اہم ترین سنگ میل ہیں_ اپنی بساط، صلاحیت اور حالات کے مطابق میری ذاتی کوشش ہے کہ میں اسکے کچھ عملی مظاہر نمونہ کے طور پر سامنے لا سکوں؛ جو لوگ اس معاملے میں active ہونا چاہیں انکی تنظیم اور سرگرمیوں کے بارے میں انھیں facilitate اور guide کروں اور outreach حلقوں تک مقامی معاشرتی فکر و عمل کا یہ شعور پہچانے کا عمل جاری رکھوں_ لیکن یاد رکھئے! ایسے کاموں میں آسانی تب ہی ہو پائے گی جب ہم ہمہ قسم کی تفرقہ بازی سے بالا ہو کر صرف اور صرف ملک و قوم کے قدرتی اور انسانی وسائل کو بچانے، معاشرتی مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کیلئے self-motivated اور مرتکز focused ہوں گے_
جمہوری سیاست اور مذہبی منافرت کی بنیاد پر پیدا ہونے والی تفرقہ بازی اور معاشرتی بے حسی کا تیسرا اہم پہلو عوام کے درمیان بلا وجہ کے تعصب کی بنیاد پر ہونے والی تقسیم کی شکل میں سامنے آتا ہے_ اس تقسیم کا نقصان انتہائ کلیدی اجتماعی معاشرتی اور شہری مسائل پر مقامی طور پر بھی اکٹھے ہو کر مسائل کے حل کے بارے میں سوچنے اور موثر لائحہ عمل اختیار کرنے کے بارے اکٹھے ہونے سے کترانا اور اپنی جان چھڑوانا یے_ جبکہ رسمی اور غیر رسمی مقامی تنظیم یا formal and informal local organization(s) کا وجود، تحرک اور تعامل کو سمجھنا اور اس سے جڑنا ہی تو ملکی ترقی کے عمل کو سمجھنے اور اس سے جڑنے کی ضمانت ہے_
مزید برآں قومی اور مقامی معاملات سے جڑے ان تین منفی اٹرات کے علاوہ تعلیم، صحت، فلاح و بہبود، شہری حقوق، کھیل، تفریح اور ثقافتی سرگرمیوں پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ بھی کسی طور پر کمی نہیں_ لیکن میرا مقصود محض ان پہلوؤں کو اس لحاظ سے اجاگر کرنے کا ہے کہ ان سے نبرد آزماء ہونے کیلئے مقامی کمیونٹی اور مقامی قیادت leadership کے وجود، نشونما اور انکے تحرک کے کلچر کی آبیاری کی افادیت اور اہمیت کے حوالے سے ایک اجمالی اور معروضی خاکہ آپ کے سامنے رکھ سکوں_ دیکھا جائے تو یہ اس سطح کے معاشرتی عمل، تحرک اور تعامل کو ملک و قوم کی capillaries میں زندگی کی رمک کی علامت سے بھی تشبیہ دینا کوئ غیر منطقی اور مافوق الفطرت بات نہیں ہے_ نامساعد ملکی حالات، حکومتی عدم تعاون، سیاستدانوں اور سماجی رہنماؤں کی مفاد پرستی کے باوجود مقامی عوامی قیادت ہمہ قسم منافرت، تفرقہ پرستی، طبقاتی بعد اور دیگر demographic تقسیم کے باوجود عوام کیلئے بہت ساری موثر اور بروقت effective and efficient سرگرمیوں کو منظم manage کر سکتی ہے_ بلکہ اگر باہمی اختلافات کی بنا پر لیکن مثبت مسابقت کے جذبے کے تحت اگر افراد اپنے اپنے طور پر ان مقامی تعمیری اور شعوری سرگرمیوں کو سرانجام دینا چاہیں تو بھی کوئ ہرج نہیں کیونکہ معاشرتی تحرک کو ہر حال میں یقینی بنانا ضروری ہے اور مقابلے کی مثبت فضا سے افراد مزید محنت کرکے خوب سے خوب تر مظاہر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں_ ملکی اور قومی قدرتی اور انسانی وسائل، اتحاد فکر و عمل اور ہمہ قسم و سطح کے مسائل پر ارتکاز ہی دراصل حقیقی قومی اتحاد کی منزل کے اہم ترین سنگ میل ہیں_ اپنی بساط، صلاحیت اور حالات کے مطابق میری ذاتی کوشش ہے کہ میں اسکے کچھ عملی مظاہر نمونہ کے طور پر سامنے لا سکوں؛ جو لوگ اس معاملے میں active ہونا چاہیں انکی تنظیم اور سرگرمیوں کے بارے میں انھیں facilitate اور guide کروں اور outreach حلقوں تک مقامی معاشرتی فکر و عمل کا یہ شعور پہچانے کا عمل جاری رکھوں_ لیکن یاد رکھئے! ایسے کاموں میں آسانی تب ہی ہو پائے گی جب ہم ہمہ قسم کی تفرقہ بازی سے بالا ہو کر صرف اور صرف ملک و قوم کے قدرتی اور انسانی وسائل کو بچانے، معاشرتی مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کیلئے self-motivated اور مرتکز focused ہوں گے_
No comments:
Post a Comment