محترم ڈی-جی آئ-ایس-پی-آر
السلام علیکم!
میں بطور ایک عام پاکستانی شہری آپ سے مخاطب ہوں امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے_
جناب من! گزشتہ ستر سال میں پاکستان کے دفاعی اداروں نے تمام تر نامساعد حالات، معاشی تحدید اور ہمہ قسم کمزوریوں اور خطرات کے باوجود ملکی سرحدوں کی زمین، فضا اور سمندر میں جو حفاظت کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے_ اسکے علاوہ اسلحہ سازی اور ایٹمی قوت کی منزل کا حصول ایک الگ داستان عظیم ہے_ ہمارے جن بنگالی بھائیوں کو دشمن کی طرف سے جس طرح سے ورغلایا گیا آج انکے سر پاکستان کے دفاعی اداروں کے بارے فخر سے بلند ہونے کے بعد دشمن کی پراکسی بننے کے پاداش جھکے جاتے ہیں_ افواج پاکستان کی تژویراتی وسعت، پروفیشنل صلاحیتوں، اسلام و پاکستان سے محبت اور انسانیت کی خدمت کے مدِ نظر ہی ہم عوام آج ملکی لسانی اور قومیت پرست؛ بعض متعصب سیاسی اور مذہبی طبقات کے دانت کھٹے کرنے میں اتہا طور پر عقلی، شعوری اور جذباتی لحاظ سے فخر محسوس کرتے ہیں اور یہی ملک، قوم اور افواج پاکستان کی طاقت کا اصل متاع اور climax ہے_
محترم! کل کی بات ہے کہ جنگ و حرب کے معمولات کی سرحدیں بحر و بر، فضا اور حساس علاقوں تک physical boundaries کی شکل میں موجود تھیں، لیکن، اب زمانے کی ترقی نے ایسی تیزی پکڑی ہے کہ طبعی سرحدوں کے دائرہ کار کے بڑھنے کے علاوہ یہ نظریاتی طور پر لامحدود طور پر بڑھ چکی ہیں_ خاص کر ان حالات میں کہ موبائل، انٹرنیٹ اور میڈیا ہر ذی شعور کی finger-tip کی ادنیٰ سی جنبش کا مرہون منت ہی رہ گیا ہے_ ان حالات میں حکومتی کنٹرول، اداروں کی good-will اور مانیٹرنگ کا نظام اپنی جگہ لیکن حکام کی جانب سے عوام کی حالات کے مطابق optimal-level تک ذہنی تربیت اور motivation حالات کی تبدیلیوں سے نبرد آزماء ہونے کا ایک اہم ترین تقاضہ ہے_ ہمارے یہاں نظام تعلیم کی ناہمواری، عدم توازن اور تعلیم سے جڑے معاملات کی الث پلٹ سے محض معیار تعلیم ہی متاثر نہیں ہوا بلکہ قوم کی cognitive اور citizen skills کے حوالے سے بہت کچھ کوتاہ نظری اور کوتاہ بینی کی نظر ہوگیا ہے_
آج جب ہم اکثر نوجوانوں کے گفتار اور gestures پر نظر ڈالتے ہیں تو علمی اور تربیتی سقم بدرجہ اتم نظر آتا ہے_ جناب دشمن کے benchmarks میں اس بات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے_ اس سلسلے میں، ہم اپنے سیاستدانوں، سیاسی، مذہبی جماعتوں اور NGOs سے تو ایسی کسی کاوش کی توقع نہیں کر سکتے کہ وہ عوامی شعور اور polarization کے خاتمے کیلئے رضاکارانہ طور پر قوم کی رہنمائ کریں، لیکن، ففتھ-جنریشن وار کی نزاکت کے تحت بطور عوام ہم پاکستان کے دفاعی اداروں کی توجہ اس طرف کروانا چاہتے ہیں کہ ہر تحصیل کی سطح پر پاکستان آرمی کی تمام کورز عوام کیلئے، لاگت کم رکھنے کی خاطر، تکلفات اور لوازمات سے بچ کر، دفاعی، عسکری اور شہری دفاع، جغرافیہ، قدرتی وسائل، کمرشل جغرافیہ، شہریت؛ بائیولوجیکل، ایٹمی، سائبر اور انفارمیشن کے Attacks کے دور میں پراپیگنڈہ سے بچنے کے بارے میں ایک یا دو ہفتے کی ورکشاپس کا سلسلہ وار یا مستقل بندوبست ضرور کریں_
مزید برآں اس سے متعلقہ ایک short-course ڈیزائن کرکے اسے آن لائن، پاکستان ٹیلی ویژن یا کسی ویب سائٹ کے ذریعے بھی منعقد کروایا جا سکتا ہے_ یہ بھی محل نظر رہے کہ اگرچہ حکومت و حکام کے عوام کی motivation کے اپنے instruments بھی ہوا کرتے ہیں اور انٹرنیٹ پر اسکا مواد بھی بے تحاشہ ہے، لیکن، قوم کو دفاعی اداروں سے integrate کرنے اور ملکی معاملات پر converge کرنے کے حوالے سے جو 360 ڈگری افادیت خود اداروں یا انکی سرپرستی میں ایک مربوط طریقے سے بروئے کار لانے میں ہے کسی اور ذریعے سے logically موثر نہیں ہوسکتی_ عوام میں abstract conceptualization کے خاتمے کا بھی یہ ایک بہترین ذریعہ ہے_ اسکا ایک فائدہ نوجوانوں کو تجارت اور دوسری اقوام سے معاملات کرتے ہوئے ملکی مفادات کی عمومی red-lines کے علم کے بارے میں بھی یقینی ہے_ یہ کوئ دور کی کوڑی، philosophical cliche یا psychological impulse نہیں بلکہ ہماری ہی کئ ہم عصر اقوام مثلاً اسرائیل، کیوبا اور شمالی کوریا وغیرہ میں یہ عمل طویل عرصے سے جاری ہے_
فقط
ایک پاکستانی شہری
No comments:
Post a Comment