الحمدﷲ! سپر پاور امریکہ کے وزیر خارجہ جو کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی-آئ-اے کے سابق سربراہ بھی ہیں مشرق وسطیٰ کے پانچ روزہ دورے کے بعد زبردست طریقے سے ناکام ہو کر امریکہ واپس روانہ ہو گئے_ ان کی بوتل میں جتنے بھی جِن اور ٹوکری میں جتنے خطرناک سانپ تھے وہ عربوں کو دکھائے گئے لیکن سب کچھ اکارت گیا_ اسکی بنیادی وجہ عرب حکمرانوں کی دو لحاظ سے پریشانی ہے_ ایک اسرائیل کے وزیراعظم کی کھلم کھلا بڑھکیں اور فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف بیان بازی ہے_ اصل میں تو نیتن یاہو یہ کام اپنے یہودی عوام کو مطمئن کرنے کیلئے کر رہا تھا لیکن اس نے عرب عوام میں پریشانی کو ہوا دی کہ وہ جاگ اٹھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے_ ایک طرف تو عرب حکومتیں دوستی کی بات کر رہی ہیں اور دوسری طرف اسرائیل اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کی بات بھی کر رہا ہے_ عوام کے اس معاملے میں اضطراب نے عرب حکمرانوں کو خاموشی سے اسرائیل کیلئے تر نوالہ بننے کے عمل کو عجیب مخمصے میں ڈال دیا ہے_ عرب حکمرانوں کی پریشانی کا دوسرا پہلو متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے درمیان F-35 جنگی طیاروں کے سودے میں اسرائیل کی فوجی قیادت کی ٹانگ اڑانے سے پیدا ہوا کہ عرب اس سے چونک اٹھے_ اس تمام معاملے نے عرب حکمرانوں اور عرب عوام کو ایک پیج پر نہ صحیح لیکن ایک طرح سے سوچنے کی راہ کے قریب کر دیا ہے_
اس صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کا یہودی داماد اب خود مشرق وسطیٰ کے دورے پر پہنچ رہا ہے_ اسکا یہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ فلسطین-اسرائیل کے معاملے میں deal of the century دراصل اسکی ہی تخلیق ہے اور دوسرا اس کے عرب حکمرانوں اور حکام کے ساتھ انتہائ قریبی تعلقات ہیں اور اس دورے کے نتیجے میں ہی علم ہوگا کہ عرب حکمرانوں اور عرب عوام کے درمیان انکے مفادات کے تحفظ کو لیکر جو قوت بنتی ہے اسکی طاقت زیادہ ہے یا جیرڈ کوشنر کی اسرائیل، امریکہ، عرب حکمرانوں اور حکام سے دوستی کی؟ اسی دوران امریکن اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے آئندہ کی کسی مجوزہ فلسطینی کا دارالحکومت یروشلم کو بنانے سے قطعاً انکار کر دیا ہے_ یہ معاملہ عرب حکمرانوں اور عوام میں مزید پریشانی کا باعث بنے گا جسکی وجہ سے جیرڈ کوشنر کے دورے کی ناکامی کے امکان کو بھی بڑھا دیا ہے_ اسے کہتے ہیں leak-bucket strategy یعنی اوپر سے ٹونٹی کھول کر نیچے سے بالٹی میں سوراخ کر دینا، ایسی بالٹی کیسے بھر سکتی ہے؟ دیکھا جائے تو یہ ﷲ کی طرف سے اسرائیل کی ناکامی کے اسباب کے علاوہ امت مسلمہ کیلئے سنبھلنے کا موقع بھی ہے_ اگر اسرائیل اس معاملے میں ناکام ہوتا ہے تو پھر وہ مختلف مسلم قوموں کے درمیان یا علاقائ جنگوں حتیٰ کہ نام نہاد تیسری عالمی جنگ کی طرف بھی حالات کو لے جا سکتا ہے_
بیان کردہ اس صورتحال میں سب سے اہم پہلو پاکستان فوج کے سربراہ جنرل باجوہ، آئ ایس آئ کے سربراہ کے دورہ سعودی عرب اور عمران خان کے بیان سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے_ بعض تجزیہ نگار اسے پاکستان کی اسٹریٹیجک اور سیاسی کامیابی سے بھی تعبیر کر رہے ہیں کہ آگے کی عرب-اسرائیل صورتحال میں پاکستان کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ جب عرب اجتماعی طور پر آخری فیصلہ کریں گے تو پاکستان کی حکمت عملی کی طاقت یا کمزوری اس میں نمایاں کردار ادا کرے گی_ اگر عرب پاکستان کی پلاننگ کو حالات کے مقابلے میں جاندار سمجھیں گے تو الگ بات ہوگی اور اگر اس میں سقم ہوگا تو عرب ممالک میں معاشرہ تقسیم ہو کر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو کوئ بھی رخ دے سکتا ہے_ اس صورتحال میں پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ امن کی خاطر آخری حد تک جانا چاہئے، چین بھی کسی قسم کی لڑائ نہیں چاہتا اور بھارت پاکستان کی اسی نیک نیتی کو موقع گردانتے ہوئے بھارتی مسلم اقلیت اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے_ یہی حال کم و بیش اسرائیل کا بھی ہے جو مسلم ممالک اور فلسطینیوں کو حقیر سمجھ کر من مانے بیان اور اقدامات کیلئے تلا بیٹھا ہے_ انہی حالات کے مد نظر افواج پاکستان بھی بھرپور طریقے سے اپنے دفاع کیلئے صف بندی کی کوشش میں مصروف ہیں_
بہر حال جنگ یا امن کا آخری فیصلہ اسرائیل ہی کرے گا کیونکہ اسے اپنی معاشی قوت، ٹیکنالوجی اور فوج پر بڑا ناز ہے اور جسے وہ ڈپلومیٹک سطح پر اپنی strength کی کامیابی کا نام دیتا ہے_ پاکستان اپنے حلیفوں سمیت امن کیلئے بھی مکمل طور پر تیار ہے اور دفاع کیلئے بھی_ پاکستان کو دنیا بھر میں اخلاقی برتری یہ بھی ہے کہ ایک تو وہ امن چاہتا ہے دوسرا عالم اسلام سمیت اسکا موقف فلسطینیوں کو لیکر انصاف پر مبنی ہے_ فتح ہر حالت میں امن و انصاف کی ہی ہوتی ہے_ FATF کے حوالے سے پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی تیاری بھی حریفوں کے پاس اسٹریٹیجک برتری کا ایک ہتھیار ہے، دیکھیں پاکستان اس سے کیسے نمٹتا ہے؟ میری رائے میں پاکستان کمپرومائز کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگا، اصل بات یہ ہے کہ عالم اسلام کو فلسطین کے حوالے سے قربانی کیا دینا پڑتی ہے اور اسرائیل کے اونٹ کو اپنے خیموں میں کس حد تک physically گھسنے سے روک سکیں گے؟ ہم میں سے بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ جسے ہم عالم اسلام سمجھتے ہیں یہ عالمی صیہونی خفیہ قوتوں کے سمندر پر تیرتا ایک Titanic ہے اور اسرائیل کو قبول کرنا اس جہاز میں ایک سوراخ کرنے کے مترادف ہوگا اور پھر یہ سفینہ خود بہ خود تیرنے سے محروم ہو جائے گا_ معاذﷲ!
No comments:
Post a Comment