Monday, August 3, 2020

انقلابی جذبات کی ہیکنگ اور ہائ جیکنگ

کسی بھی قوم کے نوجوان نفسیاتی کیفیت کے اعتبار سے انقلابی جذبات کی قوت سے مالا مال ہوتے ہیں_ جن اقوام کے حکام، ادارے اور ہمہ قسم رہنماء ان جذبات کو شعور کے ساتھ Manage کر لیتے ہیں وہ حالات کے نشیب و فراز کو زیادہ موثر حد تک جھیلنے کا قابل ہوجاتی ہیں_ مثلاً جاپان، امریکہ اور آسٹریلیا اپنے نوجوانوں میں بہترین مینیجرز بننے کی روح پھونکنے کی کاوشیں کرتے ہیں_ اسکے علاوہ امریکہ میں تو ایلیمنٹری کلاسز سے ہی بچوں میں لیڈرشپ اور انٹرپرینئرشپ کی روح پھونکنے کا التزام و انتظام شروع کر دیا جاتا ہے_ اس تصور کو leadership-develipment from gross-root level کہا جاتا ہے_ اسی وجہ سے اپنی تمام تر کمزوریوں اور ٹوٹ پھوٹ کے باوجود امریکی معاشرہ اندرونی خلفشار اور آفتوں سے تباہ ہو کر بھی ہر معاشرتی سطح پر لیڈرشپ اور اجتماعی کمیونٹی تعامل کی قوت سے پھر سے کھڑا ہو جاتا ہے_ دوسری طرف مسلم دنیا سمیت خصوصاً پاکستان کے بعض کج علم اور کج فہم نوجوان ہیں جو اپنی صلاحیتوں، اپنے روزمرہ، اپنے ماحول اور اپنی ہمہ قسم قیادت اور رہنماؤں کے اعمال پر غور کرنے کی بجائے بے ڈھنگے؛ ور غیر منطقی انداز میں خود اپنے ہی دفاعی اداروں پر تنقید برائے اصلاح کی بجائے تنقید برائے فساد کے مظاہر سوشل میڈیا پر بطور فیشن پھیلاتے نظر آتے ہیں_ جس زاویئے ستمے بھی سوچ لیں یہ ہماری اجتماعی غفلت کا ہی شاخسانہ ہے_ ہم ان نوجوانوں سے عقل و دانش کی امید کر بھی کیسے سکتے ہیں کیونکہ انکے cherry-picked دلائل ہی انکی سوچ کے ہیک اور ہائ جیک ہوؤے وے ہونے پر دلالت کرتے ہیں_ اگر انکی اپنی سوچ ہو تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ اس قسم کا طوفان بدتمیزی بلند کریں_ 

میں یہ سوچتا ہوں میری قوم، میرے ملک اور میرے دین کے نوجوانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنے ہی ملکی اداروں کے خلاف طرح طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں_ یا تو ہمارے بڑے اور ہم سوئے رہے یا اب ہم اپنوں سے لڑنے مرنے کو تیار ہیں؟ ہم غور کیوں نہیں کرتے کہ یمارے روئیے میں یہ دو ابتہائیں کیوں ہیں؟ ہمیں یہ انتہاپسندی چھوڑ کر معاملات کے حل کی مناسب راہیں تلاش کرنی چاہیئیں_ ہم آج بھی غفلت میں ڈوبی ہوئ قوم ہیں_ آپ کو معلوم ہے کہ ہماری مالی اور اخلاقی کمزوریوں کے سبب غیر ملکی طاقتوں نے ہمارے اداروں اور ہمارے تمام سسٹم میں مداخلت کرکے ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی_ اس دوران ملک کے مخلص طبقات نے ڈٹ کر ان سازشوں کا مقابلہ کیا اور ہم قوموں کے درمیان کچھ نہ کچھ سر اٹھانے کے قابل ہوئے_ اس دوران ہم میں سے ہی کچھ ابن الوقتوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ بھی دھوئے؛ بلاشبہ ان میں جرنیل، بیوروکریٹ، سیاستدان، دانشور، صحافی، میڈیا گروپس،اساتذہ حتیٰ کہ علماء بھی شامل ہیں_ اب دشمن نے یہ چال چلی کہ آپ نے، من حیث القوم، جو قوت پکڑی اسے ہمیں آپس میں ہی لڑوا کر ضائع کروا دیا جائے_ اس لیئے انھوں نے آپ کے اور دیگر کئ قسم کے نوجوانوں کے جذبات سے کھیلنے کا کھیل شروع کیا ہوا ہے_ 

میں آپ کا ذہن تبدیل تو نہیں کر سکتا، لیکن، آپ کو اتنا تو بتا سکتا ہوں کہ آپ لوگ عقلی اور منطقی اعتبار سے کہاں کھڑے ہیں_ میں آپ کو اپنے معاشرے کی کم عقلیاں بتاتا ہوں_ ذرا سوچیئے ہمارے ملک کی بیوروکریسی خصوصاً ریونیو آفس ہم سے روزانہ کتنی رشوت لیتا ہے؟ ہم پٹواری یا کمپیوٹر سیکشن سے ایک کاغذ بھی بغیر رشوت کے نہیں نکلوا سکتے_ ہمارے کلرک صرف پانچ ہزار رشوت نہ ملنے پر فائلیں دبا کر سینکڑوں لوگوں کو بے روزگار اور کئ لوگوں کے کاروبار تباہ کردیتے ہیں_ ہمارا محکمہ خوراک چند ٹکوں کی رشوت کے عوض ہمارے بچوں کو اور ہمیں زہریلے کیمیکل کھلانے پر بھی گرفت نہیں کرتا_ ہسپتال معدے اور گردوں کے امراض سے بھرتے جا رہے ہیں؛ مجال ہے جو ہم اس معاملے پر بولتے ہوں_ ہم اپنی آواز اس بیوروکریسی کے خلاف کیوں نہیں اٹھاتے؟ ہمارے ڈاکٹرز کس طریقے سے سرکاری وسائل استعمال کرکے پرائیویٹ کمائ پر لگے ہوئے ہیں اور حکومت کو بلیک میل کرکے جب مرضی ہڑتال کر دیتے ہیں؛ کس طرح سے یہ ڈاکٹرز ملکی اور غیر ملکی فارماسیوٹیکل کمپنیز کے ہاتھوں میں کھیل کر ہمیں کروڑوں روپے کے بلا وجہ کی دوائیاں دیکر اپنے کلینکس بنواتے ہیں، بچوں کی فیسیں بھرواتے ہیں اور غیر ملکی سیاحت کرتے ہیں_ ہم ان کے بارے میں چوں بھی نہیں کرتے چاہے ہمارے پیارے انکی اکڑ، ضد، بغض اور غفلت کی وجہ ہماری گود میں ہی دم توڑ توڑتے رہیں_ اسی طرح آج ہمارے اساتذہ تعلیم کے نام پر کم و بیش تمام یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں میں قوم کی بچیوں کی عزتوں سے کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں؛ کہاں گئ ہمارے پٹھانوں کی غیرت، پنجابیوں کی ذہانت، سندھیوں کی وڈیرہ شاہی اور بلوچوں کی سرداریاں؟ ہم اتنے بچے ہیں کہ ہمیں کچھ پتا ہی نہیں چلتا؟ ہمارے یہاں کے میڈیا گروپس اور متعدد صحافتی حلقوں میں شراب و شباب کا کلچر عام ہو چکا ہے، لیکن، ہمارے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی_ ہماری عدلیہ میں جج صاحبان کے ریٹس اب گلی کے بچے بچے کی زبان پر ہیں لیکن ہمارے گلے سے آواز بھی نہیں نکلتی_ ہمارے تھانے، صاحب کی ڈیلی اور منتھلی پوری کرنے کیلئے، کس طرح سے جرم اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتے ہیں؛ کیا ہم نے اس پر بھی غور کیا ہے؟ آپکا دشمن اور انکے ایجنٹ آپکے رہنماء آپ کو اس سب کا شعور دینے کی ادنیٰ سی کوشش بھی کریں گے؟ نہیں_ کیونکہ انکا آپ کی Nation-Building سے کیا فائدہ؟ وہ تو آپ کے ہمہ قسم نقصان میں سے اپنا مفاد تلاش کرتے ہیں_

یاد رکھئے! ایک اصلاح پسند، ایک انقلابی اور ایک غدار ہونے میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے اگر ہم عقل سے کام نہ لیں اور کسی کے پیچھے اندھا دھند ہو کر چل پڑیں یا اپنی خواہشات کے غلام بن جائیں_ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور روس وغیرہ کے عوام اپنی افواج سے اختلاف رائے نہیں رکھتے ہونگے؟ انکی عوام میں سے کوئ آپ سے مدد مانگنے یا کہنے آیا کہ آپ انکی فوج کے خلاف ڈھول اور بانسری بجانے میں انکی مدد کریں؟ آپ کے پڑوسی ملک بھارت میں علیحدگی کی چھوٹی بڑی کوئ دو درجن تحریکیں چل رہی ہیں کسی نے آپ سے رابطہ کیا کہ انکی قیادت یا ارکان کیلئے پاکستان میں پناہ یا تربیت کا بندوبست کریں؟ لیکن انھیں معلوم ہے کہ ایسا کرنا خلاف عقل اور غیر نتیجہ کن عمل ہے جو کہ اصل مقصد سے ہی ہٹا دیتا ہے_ افسوس! ہم مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ وائرس ہمارے اندر ہی کیوں گھسا ہوا ہے؟ یاد رکھئے! وقتی طور پر آپ کی قیادت غیروں کے ساتھ ملکر کتنے ہی مالی مفاد اٹھا لے اور سیر کر لے لیکن آپ اپنے سینوں میں اور ماتھے پر غداری کے داغوں کو مرتے دم تک محسوس کرتے رہیں گے_

اگر واقعی ہی کچھ کرنا ہے تو اپنے علاقے اور ملک میں اجتماعی کاموں کیلئے اکٹھے ہو کر تدریجی بہتری یا soft-revolution کیلئے اپنی اور اپنے عوام کی صلاحیت کو بڑھائیے اور شاہین بن کر جینے کی تمنا پیدا کیجئے_ میں نہیں کہتا کہ ہمارے اداروں میں فرشتے بیٹھے ہیں؛ آخر وہ انسان ہیں، انسان سے بھول بھی ہوتی ہے اور جان بوجھ کر مفاد پرستی بھی_ آپ کو معلوم ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ قوموں پر ﷲ کا عذاب ہوتا ہے جو کہ انکے اپنے گناہوں کی سبب ان پر آتا ہے_ ہمارا، من الحیث القوم گناہ ہماری غفلت اور جہالت ہے_ اسکی وجہ سے ہم دشمن کے پراپیگنڈے اور اپنے ابن الوقت رہنماؤں کے ہاتھوں اپنے حواس کھو کر انکے ہاتھوں کا کھلونا اور انکی خواہشات اور منصوبوں کا ایندھن بن جاتے ہیں_ یاد رکھئے! آپ کی رسی ہلانے والے یہ شاطر آپ کو مردار پر پلنے والے گِدھوں سے اوپر کا درجہ نہیں دیتے اور آپ بھی ایسی صورتحال میں پھنس کر واپسی کا راستہ کھو بیٹھتے ہیں_ دشمن اور انکے گماشتے آپ کو بند گلی میں پہنچا کر آپکی قوم اور اداروں کو آپ کے ہاتھوں سے ایسی ضرب لگاتے ہیں جو در اصل آپکے ملک اور آپ کی تہزیب پر ہی حملہ ہوتا ہے_ اگر آپ کے گھر میں کوئ اختلاف ہوجائے تو آپ گھر، گھرانے اور خاندان کو بچا کر ہی کوئ حل نکالتے ہیں یا سب کچھ آگ میں جھونک کر؟ مجھے امید ہے آپ اپنے logic اور rationality کو متوازن طور پر استعمال کرکے شاہین اور گدھ؛ مصلح، انقلابی اور غدار ہونے کے فرق کو سمجھ کر اپنے معمولات پر ضرور غور کریں گے_

No comments:

Post a Comment