فیس بک پر میرے ایک نو شناس نے اپنی وال پر لکھا "اب کہ مسلم امہ کو اکٹھا ہو جانا چاہئے_ ان جمہوریت کی زنجیروں کو توڑ کر ایک ہی نظام حکومت اور اسکے پرچم تلے رہنے کو ترجیح دینی چاہیئے_ لبنان ہو یا کشمیر یا پھر غربت میں گھری پاکستانی عوام سب کے مسائل کا حل ایک ہی"الخلافۃ علیٰ المنہاج النبوۃ" اسکے بعد انھوں نے کلمہ طیبہ لکھے ہوئے ایک جھنڈے کی تصویر بھی پوسٹ کی جسکے ساتھ لکھا "بے شک اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں_"
میں اس تحریر کا تنقیدی تجزیہ نہیں کر رہا البتہ اس طرف توجہ دلوانا چاہتا ہوں کہ مسلم دنیا میں موجودہ یا متوقع عالمی نظام میں معاملات کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے زیادہ تر کون کون سے ماڈلز پر رسمی اور غیر رسمی سوچ بچار چل رہی ہے_ ان میں ایک ماڈل تو ان حکومتوں، حکمران طبقوں اور ان سے جڑے عوام کا ہے جو اس نظام پر ریجھ چکے ہیں یا مجبوراً اسے قبول کر چکے ہیں یا کر لیں گے_ میرا خیال ہے ریاستی سطح پر کوئ ایک ملک بھی اس سے انحراف کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا یا ہو سکے گا یا پھر اپنی جغرافیائ شناخت کھو بیٹھے گا_ دوسرا ماڈل عوام کی سطح پر ہے جنھیں پرواہ ہی نہیں کل کیا تھا، آج کیا ہے اور کل کیا ہوگا_ بلکہ ان میں سے بعض کی سوچ یہ بھی ہے کہ یہ سب باتیں فضول ہیں، بس زندگی کے مزے اڑاؤ اور chill کرو_ بعض لوگ حکومتی حلقوں کی رضا پر ہی راضی ہیں کہ جیسے حکام کریں گے بس ٹھیک ہے_ عوام کا ایک طبقہ اس سارے نظام کی بساط کو یک لخت لپیٹنے کی تمنا بھی کرتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اس کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہے_ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ امت مسلمہ کی تاریخ میں یہ عجیب ترین دور ہے کہ نہ صرف یہ کہ دشمن طبعی طور پر مسلم ممالک کے اندر اور باہر سرگرم ہیں بلکہ نظریاتی طور پر اسے ہر طرف سے یلغار کا سامنا ہے_ جسکی سب سے خطرناک شکل اندرونی نظریاتی مباحث کے پاداش پیدا ہونے والے مختلف نقطہ نظر کے بارے باہمی عدم برداشت اور غیر ملکی پیادے بننے کے شوقین حلقوں کی جانب سے خلفشار کی صورت میں سر اٹھاتا رہتا ہے_ ان حالات میں ارباب حل و عقد اور دانشوروں کا فریضہ ہے کہ وہ ہمہ قسم انتہاؤں سے مسلم معاشرے، نوجوانوں اور وسائل کو بچانے پر متوازن اور غیر جذباتی انداز میں غور کرکے رہنمائ کریں_
حقیقت حال یہ ہے کہ مروجہ عالمی معاشی اور سیاسی نظام کے باعث تمام مسلم اقوام ایک nation-state system کے تحت عالمی نظام کی پابند ہیں_ یہ نظام عالمی مالیاتی اداروں، عالمی تجارتی نظام اور ملٹی نیشنلز کی مرہون منت ہے جسے ہم پیار سے "Capitalism" یعنی سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہیں؛ دارصل یہ دنیا کے ایک طبقے کی مادی خواہشات کا شاخسانہ ہے، جسکی رگ و پے میں سود اور جوا ودیعت کیئے ہوئے ہے اور جسے "مادیت" سے موسوم کیا جاتا ہے_ پہلے مسلم دنیا کے سیکولر، نان سیکولر اور قومیت پسند حکمران، لیڈرز اور جماعتیں یعنی نان-سٹیٹ عناصر اپنی اپنی ریاستوں کو، اکثر اپنے ملک کے انسانی اور قدرتی وسائل کی قدر کیئے بغیر، بہتری، تبدیلی اور انقلاب کے تصورات سے، ایک طاقت بنانے کی بزعم خود کوششیں کرتے رہے، لیکن، اس میں کسی ایک ملک کو بھی کامیابی نہ مل سکی_ درحقیقت اکثر نے حقیقی طور پر اپنے اپنے ممالک کو مضبوط کیا ہی نہیں تھا_ ہر اقدام نظریہ ضرورت یا بیرونی دباؤ اور امداد کی مرہون منت اٹھاتے رہے_ جنکا داؤ لگا مال و متاع سمیت پیا گھر سدھار گئے یعنی مغربی ممالک کا رخ کیا؛ عوام انقلابات اور تبدیلیوں کے ثمرات کی راہیں تکتے رہے اور اسی وجہ سے OIC منہ چڑاتی رہ گئ، حتیٰ کہ مسلم دنیا مل کر ایک میڈیا گروپ اور ٹی وی چینل بھی قائم کرنے کے قابل نہیں ہو سکی_ موجودہ عالمی نظام اور اسکے پاداش تھونپے گئے مسلم حکمران طبقات اور سسٹم کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کے یکلخت اتحاد اور خلافت کی طرف قدم کا تصور تو آسان ہے، میں بھی کرتا ہوں، لیکن، عملی طور پر ممکن نظر نہیں آتا_ فی الحال دیکھنا یہ ہے کہ نئے عالمی نظام کے تحت مسلم حکمران، حکمران طبقات اور ادارے کس کس کروٹ بیٹھتے یا بٹھائے جاتے ہیں_ اسکے بعد ہی مسلم تحریکیں کوئ لائحہ عمل بنا سکیں گی_ لیکن اب دیڑھ اینٹ کی مسجد، حلالہ اور متعہ کے سینٹرز اور شخصیات کے بتوں کی پوجا کا زمانہ گیا_ اب انتہائ سمجھدار، مخلص، باعلم، اتحاد پر یقین رکھنے والے، صابر، برداشت سے کام لینے والے اور ہمہ قسم قربانی دینے والے متوازن افراد اور تحاریک ہی میدان عمل میں اتر سکیں گی_ بہرحال مسلمان کسی صورت میں بھی اپنے حکمرانوں سے لڑائ نہ کریں کیونکہ اس سے ہماری اپنی سرزمین، قدرتی اور انسانی ذرائع اور اب تک کی حاصل کی گئ بہتری اور ترقی کو بھی بچانا ضروری ہے_ آپ زندہ ہیں تو دشمن آپ کو engage اور manage کرکے یا کرواکے اپنے ٹارگٹس بھی پورا کر رہا ہے اور آپکی مزاحمت اور جینے کی تمنا کا مقابلہ بھی کر رہا ہے؛ اگر آپس میں ہی لڑ کر ایک دوسرے کو کمزور اور نیست و نابود کردیں گے تو دشمن کو اس میں کیا مضائقہ ہو سکتا ہے؛ وہ تو پہلے ہی یہی خواہش رکھتا ہے_
سوال یہ ہے کہ عام مسلم کمیونٹی اب کیا کرے؟ سب سے پہلے یہ یاد رکھیں اسلام بنیادی اور غالب طور پر نظریات سے ہے مطلقاً جغرافیائ سرحدوں سے نہیں_ ہمیں اپنی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی کرنی ہے اور جغرافیائ سرحدوں کی بھی_ المیہ یہ ہے کہ عالمی قوتیں آپ کے اندر قومیت کا ایسا تصور نہیں چاہتیں جو انکے مقاصد اور کارخانہ حیات میں حائل ہو؛ ہاں انکے ہاں آپ کے لیئے قومیت کا تصور یہ ہے کہ آپ ایک علاقے میں اپنی دنیا میں مگن رہیں، اپنے انسانی اور قدرتی وسائل انکے لیئے جھونکے رکھیں؛ اگر آپ کے پڑوس میں کوئ ملک انھیں آنکھیں دکھانے کی کوشش کرے تو آپ بھی ان طاقتوں کے اشارے پر اپنے پرانے سرحدی، تاریخی، ٹقافتی، مذہبی،سمندری، سیاسی اور تجارتی جھگڑے کھڑے کرکے اس پڑوسی ملک کی آواز دبانے میں انکا ساتھ دیں_ ان حالات میں ملت اسلامیہ کے ہر فرد کو اپنی اور اپنے اہل و عیال کی متوازن تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا چاہیئے_ اسکے علاوہ اپنے اپنے علاقے کی کمیونٹی میں ہر لحاظ سے متحرک ہونا پڑے گا کیونکہ اگر آپ صرف مسجد میں ہی بیٹھے رہے تب بھی معاملہ حل نہیں ہوگا؛ صرف مارکیٹ اور کمیونٹی کی سرگرمیوں سے چپکے رہے تو بھی کافی نہیں_ غرض یہ کہ آپ کو کم از کم مقامی سطح پر متوازن اور اجتماعی زندگی کا ڈھنگ سیکھ کر آگے کا لائحہ عمل بنانا پڑے گا اور فطرت کے قریب ترین جانا ہوگا، ورنہ، آپ چار و ناچار ایک عالمی نظام کی کڑی نگرانی میں ویسے ہی جکڑے جائیں گے؛ آپ ویسے ہی مطالعہ کرنا اور سوچنا نہیں چاہتے تھے اب آپ کو اسکی مزید ضرورت ہی نہیں پڑے گی_ جب افراد اپنی ذات کو اور اپنے اہل و عیال کو سنبھالیں گے تو انکے محلے اور علاقے میں بہتری آئے اسی کو مقامی ترقی کے راستے کھلتے ہیں؛ مقامی ترقی کا شعور بیدار ہوگا تو علاقائ اور قومی ترقی کے راستے کھلتے چلے جائیں گے_ اسے ہی اندرونی استحکام کہتے ہیں اور جب آپ اپنے آپ کو علمی اور معاشرتی لحاظ سے تیار کرکے اپنے حکام اور حکمرانوں سے کام لینا سیکھ لیں گے تو آپ کی مخالف قوموں کو آپ کی طاقت کا علم ہوگا اور پھر آپ اپنے بین الاقوامی مسائل حل کرنے کے قابل ہوں گے_ اپنے آپ کو، اپنے، اپنے اہل عیال اور اپنے معاشرے کی معاشرتی تعلیم و تربیت کا کوئ نقصان بھی نہیں ہے_ کل کو آپ کی ریاست کو یا مسلم دنیا کو آپ کی ضرورت پڑی تو آپ اپنے آپ کو تیار پائیں گے_ اگر آپ اس سے غفلت کریں گے تو یاد رکھیئے کہ آپ کی مخالف قومیں آپ کے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے آپ کی اور آپ کی آئندہ نسلوں کی دماغی تربیت کر رہی ہیں؛پھر آپ انکے کام ہی آئیں گے اور اس صورت میں اسلام اور مسلمانوں کے درد کے رونے کا کوئ جواز رہ جاتا ہے؟ جب ہم خود ہی اپنا نہیں سوچیں گے دوسری قوموں کو کیا ضرورت ہے؟ مغرب ہو یا اسرائیل یا کوئ اور کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ آپ خود کفیل ہو کر اپنے مفادات کا تحفظ خود کر سکیں_ فی الحال اپنے باصلاحیت اور مخلص علماء، دانشوروں اور صحافیوں سے یہ معلومات تو لیں کہ آپ کے آس پاس ہو کیا کیا رہا ہے؟ کون کیا کر رہا ہے؟ اس میں آپ کے معاشرتی طبقات، ملک اور قوم کے بارے عالمی سطح پر کیا portfolio بنایا گیا ہے؟ اسکے بعد ہی سوچیں گے ناں کہ مسلم دنیا اور مسئلہ خلافت کہاں کھڑے ہیں؟ آپ کو سوچنا پڑے گا کہ اس متوقع نظام کے ساتھ چلنا ہے یا مخالف یا دونوں کو ساتھ ساتھ چلانا ہے؟ ساتھ چلانا ہے تو کب تک یا بس ایک دوسرے کو امیدیں دلوا کر مستقبل میں بہتری کا چکمہ دیکر ان عالمی قوتوں کے کارخانہ زندگی کو چلائے رکھنا ہے؟ جیسا کہ ہم سب گزشتہ سو سال سے پھنسائے گئے ہیں_ ہماری دعا ہے کہ ﷲ ہمیں، ہمارے عوام اور حکام کو اولیاۃ الرحمٰن میں رکھے اور اولیاۃ الشیاطین کے ٹیگ سے بچالے_ آمین!
No comments:
Post a Comment