Thursday, August 20, 2020

عربوں کے بارے میں پاکستانیوں کا اضطراب اور ممکنہ حل

کافی عرصے سے عربوں کی امریکہ اور اسرائیل سے قربت کی جھوٹی سچی خبریں سننے کو ملتی رہی ہیں اور متحدہ عرب امارات کی اسرائیل سے شکست تسلیم کر لینے کے بعد تو عربوں کے خلاف ابلاغیات کا ایک طلاتم خیز سمندر سعودی عرب کے اعلان کے باوجود تھمنے کو نہیں آ رہا_ اس صورتحال میں حکمران، حکام اور مقتدر حلقوں کی اپنی assessnent, priorities اور reservations ہونگی لیکن عوامی سطح پر تذبذب اور انتشار دھیرے دھیرے بڑھ رہا ہے، جس سے نہ صرف یہ کہ مسلم ریاستوں اور امت مسلمہ میں تقسیم کے گہرے ہونے اور عوام میں بھائ چارے کی فضا کو خطرناک ترین حد تک نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے بلکہ اسکے سائے دھیرے دھیرے بڑھتے بھی ہیں؛ ایران، ترکی اور عرب دور بیٹھے رہیں گے لیکن دشمنان پاکستان ایسی صورتحال کو ہر طرح سے exploit کرنے میں کوئ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے_ مجھے حالیہ دنوں میں عربوں کے بارے خدشات پر مبنی ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا تو مجھے خیال آیا کہ میں عوام کو انکی توجہ مرکوز رکھنے پر اپنی رائے ضرور دوں_
اس مضمون کے تمام حقائق قریب النظر میں کم و بیش ٹھیک ہی ہو سکتے ہیں یا ٹھیک ہیں، لیکن، مسلم دنیا خاص تر عوام کو معلوم ہو کہ دنیا کے تمام ممالک کا ایک مشترکہ grey-area ہے جو کہ ایک حقیقت بھی ہے_ اسکا علم، ارباب حل و عقد، دانشوروں، خفیہ ایجنسیوں، دفاعی اداروں اور حکمران طبقوں کو بخوبی ہوتا ہے_ کسی بھی ملک میں یہ لوگ اپنے ملکی، قومی، خاندانی یا گروہی مفادات کے تحت پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں_ خواہ وہ پالیسیاں انکے دعوے کے مطابق ﷲتعالیٰ کی طرف سے الہام کہہ کر ہی کیوں نہ پیش کی جائیں لیکن اسے اس دور کی روح international order کے مطابقت کے مطابق ہی بنا سنوار کر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں سب ہی کم و بیش اپنا کردار اپنی وسعت یا کمزوریوں کے مطابق ادا کرنے کے پابند یا مجبور ہیں_
اب اسکے کچھ ممکنہ حل یہ ہیں کہ یا تو قوم نئے سرے سے، رسمی طور پر, سوچ بچار کرکے اس گرے ایریا کو جان کر اپنی ایک رائے قائم کرے_ دوسرا ریاست اپنی ترجیحات کا اعلان کردے اور عوام کو اسکے عواقب و فوائد سے آگاہ کرے_ عوام قطعی طور پر ایک رائے کا اظہار کرکے بس یک رخ ہوجائیں_ کوئ ریاست اس عالمی نظام اور اس grey-area سے جان چھڑالے_ چند ریاستیں ایک اتحاد قائم کرکے اس عالمی نظام سے جان چھڑائیں یا اس میں ہی bargaining کی صلاحیت اور قوت پیدا کر لیں_ ایک ماڈل انارکی یا اپنے تئیں آزادی کا بھی ہے جو داعش نے اپنایا ہوا ہے_ اس تمام صورتحال میں اگر ہر کسی کی اپنی ڈفلی اپنا راگ ہوگا تو معاشرے میں فکری تجرد، انتشار، مایوسی اور پریشانی بڑھے گی_ اگر ذہنی طور پر عیاش پاکستان کے طبقہ اشرافیہ کو اور انکے جھنڈے تلے ارباب حل و عقد، دانشوروں اور مقدر حلقوں، حکام اور حکمران طبقے, جنھوں نے ستر سال میں ملک کی پائ پائ لوٹ کر دنیا بھر میں empires کھڑی کر لیں, کو امت مسلمہ میں اتنے بڑے schism یعنی نفاق عظیم کا خطرہ لاحق ہوا وا ہے تو میدان میں نکلیں اور OIC کی غیر فعالی اور نااہلی کی حقیقی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کریں اور ادارے کو اپنی اصل روح میں بحال کرنے کی تگ و دو میں اپنا خون پسینا بہائیں_ قومیں لوٹنے اور ایک دوسرے کو دبا کر اور ورغلا کر رکھنے سے نہیں بنتیں_ مجھے تو ایسا کوئ غمگسار دور دور تک نظر نہیں آ رہا_ عربوں نے ہمیں محمد بن قاسم، طارق بن زیاد اور سلطان صلاح الدین ایوبی دیئے تھے تو کیا پورا ایٹمی پاکستان اور اٹھارہ کروڑ پاکستانی مسلم مل کر ایک OIC کو بحال نہیں کروا سکتے؟ جیسے آپ کی مجبوریاں ہیں اور آپ کے ہاں ﷲ، آرمی اور امریکہ کی صدا آتی رہی ہے اب عربوں میں ممکن ہے ﷲ، امریکہ اور اسرائیل نے جڑ پکڑی ہوئ ہو، جیسے ترکی میں پکڑی ہوئ تھی_
لیکن وہ حقیقت اپنی جگہ کہ عرب ہوں یا ترک، ایران ہو یا پاکستان، چین اور امریکہ سب عالمی خفیہ طاقتوں کے حمام میں ننگے ہیں_ اس مبہم صورتحال میں نہ مرکز واضح اور نہ ہی انتشار کی منزل_ مجھے ﷲ سے امید ہے کہ پاکستان کے دفاعی ادارے، اپنے عوام کے جذبات، مسلم دنیا اور موجودہ عالمی سیاست کی بساط پر مواقع اور خطرات سے ڈیل کرنے کیلئے اپنے تھؤرے بہت وسائل کا بھرپور استعمال کریں گے_ اپنے ذہن کو مرتکز رکھنے کیلئے مجھے تو پاکستان کے دفاعی اداروں پر بھروسہ ہے باقی نصیب ہوتا ہے قوموں کا جو ہتھیلی پر سرسوں جمانے سے نہیں بدلا کرتا_
Long-live! Pak Army and Defence Forces of Pakistan.

No comments:

Post a Comment