آج سے چند ہزار سال قبل سیارہ مریخ کے کسی ملک میں طاقتور ممالک نے ایک بہت بڑا شہر آباد کیا ہوا تھا_ ایک دن میں مریخ پر گھومتے ہوئے اس شہر میں داخل ہوگیا_ میرا ارادہ زمین پر واپس آنے کا تھا لیکن میرے دماغ میں لگی چِپ میں انٹرنیٹ کا پیکج ختم ہو گیا تھا تو مجھے انتظار میں وہیں رکنا پڑا_ میں نے کہیں آرام کرنے کی بجائے شہر کی سیر کا فیصلہ کیا_ کوئ دو تین گھنٹے بعد میں اس شہر کے ایک کونے سے گزرا تو لاتعداد عوام ایک بڑے سے اسٹیڈیم کے گرد چہل پہل میں مصروف تھی اور بعض لوگ پریشانی میں اسٹیڈیم کے دروازوں میں جھانکتے ہوئے ہاتھ بھی مل رہے تھے اور ایک دوسرے سے گلے مل کر رونے بھی لگتے تھے اور ان میں سے کچھ ہاتھ مَلتے، روتے اور پھر چہل پہل کرتے لوگوں کے ساتھ مل کر ہَلَّہ گُلَّہ بھی کرنے لگ جاتے_ میں کچھ دیر کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا اور بِل آخر میں نے اسٹیڈیم میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا_ اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں ریسلنگ کا ایک اکھاڑہ Ring بنا ہوا تھا اور اس میں کوئ دس بارہ پہلوان دو پہلوانوں کو کبھی بری طرح مارتے اور کبھی انکے جسم پر گُدگیاں کرکے ہنسانے کی کوشش کرتے_ مار کھا کھا کر وہ پہلوان آدھ موؤے ہو چکے تھے اور گُدگدی کی صورت میں انھیں بے حسی کے ساتھ ہنسنا بھی پڑتا تھا؛ مجھے مارنے اور ہنسانے کا یہ کھیل سمجھ میں نہیں آسکا_ بس میں دور کھڑا حیرانی سے یہ منظر دیکھتا رہا_ کچھ ہی دیر بعد مار کھانے والےایک پہلوان نے گُدگدی شروع ہوتے ہی اچانک سے ہنسنا شروع کر دیا اور اسی دوران اس نے رِنگ کے باہر کھڑے ایک اور پہلوان کو نامعلوم کیا اشارہ کیا کہ وہ بھی اس یکطرفہ مقابلے میں کود پڑا_ اسکے اندر داخل ہوتے ہی سارے پہلوان ان پر پِل پڑے اور انھیں خوب زدکوب کیا اور پھر ان تینوں کے ساتھ وہی مار اور ہنسی دلوانے کا کھیل شروع کر دیا_ میں نے حیران ہوتے ہوئے ساتھ کھڑے ایک تماشائ سے پوچھا یہ ریسلنگ کب ختم ہوگی؟ اس نے بتایا کہ یہ کھیل اسی طرح چلتا رہتا ہے_ یہ مار کھانے والے پہلوان ساتھ والے چھوٹے شہر کے رہنے والے ہیں اور ان کی برادری کے بڑے بڑے پہلوانوں کو تو اس رِنگ میں ہر وقت اس ریسلنگ میں یکطرفہ مار لگتی رہتی ہے البتہ یہ مارنے والے پہلوان وقت بہ وقت آرام کی غرض سے رنگ میں آتے جاتے رہتے ہیں_ میں نے پوچھا آخر یہ پہلوان اس رِنگ میں داخل ہی کیوں ہوتے ہیں؟ اس نے بتایا کہ اس دن سے کوئ سو سال قبل ایک شیطان نے ان دونوں پہلوان گروپوں کو ایک معاہدہ کے تحت اکٹھا کر دیا تھا بس یہ اسی شیطانی معاہدے کی پاسداری ہے_ اسکے علاوہ اس نے یہ بھی بتایا کہ کچھ عرصہ بعد مار کھا کھا کر ان میں سے بعض پہلوان اپنے شہر میں واپس چلے جاتے ہیں اور انھوں نے وہاں ایسا ہی ریسلنگ رِنگ بنایا ہوا ہے اور یہ وہاں اپنے سے چھوٹے پہلوانوں کو اسی طرح مارتے اور ہنساتے ہیں_ میں اس عجیب کھیل سے بڑی الجھن میں پڑا ہوا تھا کہ اچانک مجھے سگنل ملا کہ میرا انٹرنیٹ پیکج لگ چکا ہے_ ان رونے اور ہنسنے والے پہلوانوں اور انکو دیکھ کر ہاتھ مَلتے اور ایک دوسرے کے گلے لک کر رونے والے اور کچھ خوشی سے جھومتے تماشائیوں کو دکھ بھری نظروں سے دیکھتا ہوا اور ان ظالم پہلوانوں کو غصے سے دیکھتا ہوا میں اسٹیڈیم سے باہر نکل ہی رہا تھا کہ اچانک سے میرے دماغ میں وائبریشن ہوئ؛ میں نے ڈیوائس آن کرکے میسج پڑھا تو لکھا تھا کہ زمین پر لوٹتے ہی مجھے کڑی سزا دی جائے گی اور میرا جرم یہ تھا کہ میرے دل و دماغ میں مار کھانے والے پہلوانوں کیلئے دکھ اور مارنے والے پہلوانوں کیلئے نفرت تھی جو کہ new-norms کی سنگین خلاف ورزی تھی اور گواہی کے طور پر میرے visual-cortex کے اسکرین شارٹس اور اسی لمحے خارج ہونے والے enzymes اور harmones کی لسٹ بھی موجود تھی_ خیر میں کافی عرصے بعد زمین پر واپس آگیا اور فوراً ہی اپنے دماغ میں لگی چپ نکال کر پھینک دی اور عارضی طور پر اپنے ملک کے کسی دور دراز گاؤں میں رہنے کا فیصلہ کیا_ ایک دن میرے میزبان نے میری فراغت کو دیکھتے ہوئے عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور عالمی سیاسی نظریات پر پڑھنے کیلئے کچھ کتابیں لا دیں اور میں نے انکا مطالعہ شروع کر دیا_ جوں جوں میں کتابیں پڑھتا گیا مجھے عالمی سیاسی نظام، اقوام متحدہ جیسے ادارے، ترقی یافتہ اور تیسری دنیا، جنگ، امن، عالمی معیشت، عالمی تجارت carrot and stick جیسی پالیسیز کا علم بھی ہوتا گیا_ اسکے ساتھ ہی میرے ذہن میں وہ مریخ سیارے والے واقعات کی تصویر بھی گھومنے لگی اور جب میں نے تمثیل یعنی analogy قائم کی تو مجھے یہاں اور وہاں کے اکھاڑے، پہلوانوں، عجیب و غریب کُشتی اور تماشائیوں کی بے بسی کی حقیقت سمجھ میں آئ_ سچی بات ہے اب میں نہ زمین کا رہا کہ نہ ہی مریخ کا؛ اب میرا ارادہ ہے کہ چاند پر جانے والی پہلی فلائٹ میں ہی سیٹ ریزرو کروا لوں؛ شائد وہاں جا کر کچھ سکون ملے_ لیکن مجھے پتا چلا ہے کہ وہاں بھی یہی کچھ ہوگا کیونکہ وہاں پر بھی تو انسان ہی ہونگے اور قرآن کے الفاظ میں انسان جلدباز، جھگڑالو اور خواہشات کے پیچھے چلنے والا ہے_ میں نے کسی دور اندیش سے اسکا حل پوچھا تو اس نے کہا رب کے فیصلے تو رب ہی جانے لیکن مقتدر حلقوں یعنی ایلیٹ کلاس کا ٹارگٹ تو یہی ہے کہ معاشی بد حالی، طرح طرح کی جنگیں، بے ڈھنگی افواہیں، نت نئ بیماریاں، بھوک، افلاس اور مصنوعی آفات پھیلا کر ویکسین کے نام پر مخصوص دوائیاں اور سیکورٹی کے نام پر مائیکرو چپس اور نینو ٹیکنالوجی کے آلات فٹ کرکے غریب عوام کو زمین، خلا، مریخ سے لیکر چاند تک بری طرح سے جکڑ کر اپنی گرفت میں میں رکھا جائے_ ویسے بھی ہمیں سائنسی ترقی کا بہت شوق تھا اب Post-modern اور Nano-based slavery سے ڈر کیوں لگ رہا ہے؟ میں نے ایک لمحے کیلئے سوچا اور واپس اپنے شہر اور اپنے گھر لوٹ آیا_ مجھے گھر واپس آئے کوئ دن ہی گزرے ہونگے کہ گیٹ پر گھنٹی بجی اور کچھ ہی لمحوں بعد میرا بڑا پوتا بھاگتا ہوا میرا پاس آیا اور کہنے لگا وہ محکمہ صحت والے گیٹ پر آئے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ کے دادا نے ویکسین کے قطرے پی لیئے ہیں؟ ابھی میں خاموش ہی تھا تو وہ اگلی ہی سانس میں بولا، دادا جان! کل چِپ لگانے والے بھی پوچھ رہے تھے_ میں نے سوچا آپ کو یہ ساری کہانی سناؤں کہ کیا ہمارے پاس اس کا کا کوئ حل بھی ہے یا بس پہلوانوں کی لڑائ میں کمزور پہلوانوں اور کچھ نورا کُشتیوں کو دیکھ کر بس ہا ہو ہی کریں گے یا ہاتھ ہی ملتے رہیں گے؟ آج جس بے بسی نے ہمیں طرح طرح کے نہ ختم ہونے والے خوف اور غم میں مبتلا کیا ہوا ہے، یقیناً یہ خوف اور غم، رب کی نافرمانی کا ہی نتیجہ ہیں_ بے شک انسان نقصان میں ہے؛ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے_
No comments:
Post a Comment