سیدھی سی بات ہے مشرق وسطیٰ میں عربوں، ترکوں اور ایرانیوں کو قومیت پرستی Nationalism کی بنیاد پر آپس میں لڑوا کر مشرق وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کی خاطر کھیل کے دوسرے بلکہ آخری مرحلے کے آخری منطقی معرکے کے شروع ہونے کا شدید امکان ہے_ اسکے لیئے ان مسلم اقوام کو مشرق وسطیٰ کا پولیس میں بننے کا الگ الگ خواب دکھایا جا رہا ہے_ اس معاملے میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ خفیہ سفارتکاری اور تینوں اقوام کا اپنی اپنی فتح کے امکانات اور اتحاد کی مضبوطی کی بنیاد پر فیصلے کا اہم کردار ہوگا_ یہی وجہ ہے کہ اس وقت حکمرانوں اور حکام کے خفیہ دوروں کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ، پردہ داری میں ورغلانا، چکمہ دینا، دھمکی دینا اور مکر جانا آسان ہوتا ہے_ اس دوران عوامی سطح پر مسلم دنیا میں ایرانیوں، ترکوں اور عربوں کے حمائتیوں کا ایک دوسرے کے خلاف بڑھتا بخار بھی آپس کی تباہی کے محرک stimuli سے کم نہیں_
اب سے پہلے اسرائیل نے عربوں اور ایران کو لڑوانے کی انتہائ کوشش کی لیکن پاکستان نے دونوں کے درمیان صلح کا کردار ادا کیا_ اس سے بھی بہت پہلے اور گزشتہ سال اسرائیل امریکہ کو ایران پر حملے کیلئے اکساتا رہا_ لیکن امریکہ عالمی سیاست میں اپنی ترجیحات کی وجہ سے آگے بڑھنے سے بچتا رہا_ اسرائیل کا مقصد خطے کو لڑائ میں جھونک کر اپنا مقصد حاصل کرنا تھا، لیکن، اس میں اسے کامیابی نہیں ہوئ_ اسکے بعد اسرائیلی منصوبہ سازوں نے سوچا ہے کہ عربوں کو ڈرا دھمکا کر ساتھ ملا لیا جائے اور خفیہ طور پر پورے معاملات کو اپنی گرفت میں لے لیا جائے_ غور طلب بات یہ ہے کہ ابھی اسرائیل کو عربوں نے قبول ہی نہیں کیا تو موساد اور دیگر اسرائیلی ایجنسیاں ان ممالک میں اپنی خفیہ مداخلت پر اتنا فخر کرتی ہیں اور اگر عرب ممالک اس سے شکست تسلیم کرکے ساتھ مل جائیں گے تو کتنے خطرناک نتائج نکلنے کا امکان ہے_ شائد عربوں کو کچھ کھیل سمجھ آ گیا ہے اسی لیئے ایک کے بعد ایک اسرائیلی trap میں پھنسنے پر کچھ روک محسوس ہو رہی ہے_ تاہم امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے پہلے اسرائیل عرب ممالک میں توڑ مروڑ کی مکمل کوشش کرے گا اور کر رہا ہے_ اگر عرب دوستی، چکمہ، دھونس، دھمکی، دھاندلی اور اسرائیلی دہشت گردی کے جال میں پھنس گئے تو ٹھیک ورنہ پھر اسرائیل ایران، ترکی اور عربوں کو مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی Power Politics اور hegemony کی بھینٹ چرھانے کا کھیل شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے_
اس سلسلے میں سب سے پہلے پاکستان اور پھر چین کا کردار انتہائ اہم ہے اور یہ دونوں ممالک ایشیاء کے کسی بھی خطے میں جنگ کو غیر ضروری خیال کرتے ہیں_ پاکستان کے آپشنز ہیں کہ غیر جانبدار رہے؟ تینوں میں سے کسی ایک کے ساتھ مل جائے؟ ترکوں اور ایرانیوں کے ساتھ مل کر عربوں سے لڑے؟ تینوں کو لڑائ سے باز رکھے؟ OIC کو ہنگامی طور پر سرگرم ہو کر بحال کروائے؟ اسرائیل کی پسندیدہ کسی بھی جنگ میں رکاوٹ اسرائیل اور امریکہ بلواسظہ اسرائیل دونوں کو قبول نہیں_ ایسی صورتحال میں بھارت کو پاکستان پر حملے کیلئے اکسانا اسرائیل کی سب سے اہم ضرورت اختیار کر سکتا ہے_ دیکھنا یہ ہوگا کہ چین اس معاملے میں کس طرح سے اپنا کردار ادا کرتا ہے_ خبروں کے مطابق چین مسلم دنیا کو پاکستان کے جھنڈے تلے اکھٹا کرنا چاہتا ہے اور اگر پاکستان غیر عرب ممالک کا ایک مضبوط اتحاد قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بھی عرب دنیا کو تحفظ ہی ملنے کا مکمل امکان ہے کیونکہ پاکستان غیر عرب ممالک کا اتحاد قائم کرکے عربوں سے تو لڑائ کا تو سوچ بھی نہیں سکتا_
اس تمام صورتحال میں کچھ بھی نہ بن آیا تو اسرائیل کسی نہ کسی طرح سے اپنے آپ کو معصومانہ طور پر محفوظ رکھ کر تیسری عالمی جنگ کا جوا بھی کھیل سکتا ہے_ اسکے لیئے پہلے پانچ فلیش پوائنٹس بتائے گئے تھے جن میں امریکہ اور ترکی، امریکہ اور شمالی کوریا، ساؤتھ چائینہ سمندر میں چین اور امریکہ، کشمیر پر پاک-بھارت جنگ کا امکان ظاہر کیا گیا، اب انکی تعداد چھ ہو گئ ہے جبکہ پورے مشرق وسطیٰ کو ہی آگ میں لپیٹنے کی تیاری ہے _ ان پوائنٹس میں سے تین یا چار کو اسرائیل آہستہ آیستہ ٹائم بم کے طور پر بالکل تیار حالت میں دھکیل رہا ہے_ وجہ چاہے کچھ بھی ہو اور کسی مسلم جتھے کی کامیابی، ملیا میٹ ہونے یا بچنے کے امکانات کم ہوں یا زیادہ اس پورے کھیل کا مقصد صرف اور صرف خطے میں اسرائیل کی بالادستی اور رہے سہے مسلم ممالک کو کمزور ترین حالت میں پہنچانے کے منصوبے کی تکمیل ہے_
No comments:
Post a Comment