ترکی نے گریٹر ترکی کا جو نیا نقشہ جاری کیا ہے اسکے بارے پاکستان کی جانب سے محتاط ردعمل کے بارے میں بعض حلقوں نے انگلی اٹھائ ہے_ لازمی سی بات ہے پاکستانی حکام مقصدیت کے ساتھ تمام امکانات کا جائزہ لیکر ہی کوئ قدم اٹھائیں گے_ اس سلسلے میں چند بنیادی سوالات میں سے یہ ہیں کہ عالمی قوتیں ترکی کو من مانی کی کس حد تک اجازت دیں گی؟ ترکی مروجہ عالمی نظام میں رہتے ہوئے کس حد تک مزاحمت کا متحمل ہو سکتا ہے؟ پاکستان کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات پر کیا اثرات رونما ہوں گے؟ پاکستان عربوں کی مخالفت میں کس حد تک جا سکتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ترکی کی کامیابی کے امکانات بالکل کم ہوں اور کسی تصادم کی صورت میں پاکستان عرب ممالک کے ساتھ تعلقات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے؟ ایک بڑی اسلامی مملکت کے قیام کے سلسلے میں چین اور روس کس حد تک مغرب اور اسرائیل کے ساتھ مخاصمت مول لے سکتے ہیں؟ اگر عالمی نظام پر انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی گرفت اتنی ہی کمزور پڑ چکی ہے تو پھر عربوں کو امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ میں آنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر مسلم ممالک OIC کو فعال کرنے میں آزاد کیوں نہیں؟
میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ پاکستان شائد ترکی کا اس سطح تک ساتھ نہ دے جتنا تصور کیا جا رہا ہے یا ترکی امت مسلمہ کے بارے اس سطح پر نہیں جا رہا جس کے بارے میں عالم اسلام کے بعض حلقے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں_ اسکی واحد صورت یہ ہے کہ ترکی اور پاکستان غیر عرب ممالک میں اپنی public relationing کو انتہائ مضبوط کرنے کے علاوہ ہم خیال عرب ممالک اور عوام کو ایک لڑی میں پرو دیں_ یہ سب کچھ کرنا ناممکنات میں سے نہیں، اصل تو باقاعدہ اکٹھے ہو کر بیٹھنے، ایک ویژن مرتب کرنے، ترجیحات طے کرنے اور ذمہ داریاں بانٹنے کے حوالے سے مسائل پر غور فکر کرنا ہے_ کیا عجمی مسلم ممالک اسکے لیئے determined ہیں؟اگر مثبت جواب ہے تو یہی تحرک OIC کا اصل روح کے ساتھ بحالی کی صورت میں سامنے کیوں نہیں آ سکا یا آ سکتا؟ جن عوامل نے اسے ناممکن بنائے رکھا وہ کبھی بھی ترکی اور پاکستان کو یک جان دو قالب ہونے کے باوجود ایک موثر قوت نہیں بننے دیں گے_ اس لئے پاکستان کسی کے جذباتی نعروں کے پیچھے لگ کر عربوں کو UNDER-ESTIMATE کھبی بھی نہیں کرے گا_
جہاں تک عالم اسلام میں ترکوں کی مداخلت کے جواز کی بات ہے تو تاریخی طور پر مصر میں مملوک حکمرانوں کے خلاف سلطنت عثمانیہ نے پندرہویں صدی میں حملوں کا آغاز کیا جسکی بنیادی وجہ تجارتی مقاصد تھے تو عثمانیوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم جب مغربی اقوام پرتگلایوں وغیرہ نے مصریوں کو کمزور کرنا شروع کیا تو سلطنت عثمانیہ نے سلطان سلیم دوم کی سربراہی میں سولہویں صدی میں مصر کو اپنے قبضے میں لے لیا_ آج یہ صورتحال ہے کہ بعض حلقوں کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکہ نے عربوں کو اس کمزور حالت میں پہنچا دیا ہے کہ عرب حکومتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے_ بعض اسے عرب حکمرانوں کی اپنی نااہلی کا شاخسانہ بھی قرار دیتے ہیں_ وجہ خواہ کچھ بھی ہو، اسرائیل کی عرب ممالک میں مداخلت مسلم دنیا میں اضطراب کا اس حد تک باعث ہے کہ وہ گریٹر ترکی کی حمایت ضرور کرنا چاہیں گے کہ وہ مسلم دنیا کیلئے کوئ قائدانہ کردار اد کرے_
لیکن، عرب اپنے آپ کو اتنا کمزور تو نہیں سمجھتے کہ ترکی مرضی سے کچھ بھی کر سکے_ آخر سعودی عرب بھی G-20 اور OPEC کاایک بڑا رکن ہے_ تاہم ایک طرف ایران اور دوسری طرف گریٹر ترکی کے خطرے نے انھیں اس حد تک محصور کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکہ سے گلے ملنے میں کوئ رکاوٹ محسوس نہیں کرتے کیونکہ International Liberal Order کے تحت عرب حکمرانوں کے دیگر مسلم ممالک کی طرح مغربی ممالک، امریکہ اور اسرائیل یعنی یہودیوں سے قریبی تجارتی تعلقات ہیں_ مثلاً سعودی عرب کے پاس F-16 بنانے والی کمپنی Lockhead Martin کے حصص ہیں جبکہ پاکستان اور ترکی اب بھی انہی طیاروں کو اپنی جنگی فضائ قوت میں اہم ترین سمجھتے ہیں_ اسی طرح سعودی عرب کے پاس Facebook اور MacDonald کے حصص بھی ہیں اور پورا عالم اسلام ان دونوں برانڈز کے بغیر سانس لینے کا تصور بھی نہیں کرتا، خاص کر میکڈونلڈ تو طبقہ اشرافیہ کیلئے من و سلویٰ کا متبادل ہے اور Facebook تو پھر گھر گھر کی لونڈی ہے_ یہ تو معمولی نوعیت کی مثالیں ہیں_ بڑی بڑی امریکی یہودی ملٹی نیشنلز تمام مسلم ممالک میں چند کنٹری مینیجرز کے ساتھ Global Market کے ہیڈ تلے enjoy کر رہی ہیں_ پاکستان میں یہ موبی لنک، جاز، ٹیلی نار، سام سنگ، نیسلے، کوک، پیپسی اور نوکیا کس کی ملکیت ہیں؟ ان حالات میں ترکی، پاکستان اور ملیشیا کی کامیابی کے کتنے امکانات ہو سکتے ہیں؟ کاش اس وقت ہم OIC کی لاش پر نوحہ خوانی نہ کر رہے ہوتے!
No comments:
Post a Comment