Tuesday, September 8, 2020

قومی ترقی کیلئے کس قسم کے شعور کی ضرورت ہے؟

ہمارے دوست علی قیصرانی بھی ہم سب پاکستانیوں کی طرح سسٹم کے بارے آہ و بکا کرتے ہوئے چار بنیادی پہلوؤں پر توجہ دلواتے رہتے ہیں_

1- معیار تعلیم اور صحت عامہ میں بہتری

2- طبقہ اشرافیہ کا منفی کردار

3- باکردار رہنماء اور قیادت کی ضرورت

4- عوامی شعور کی اہمیت

ویسے تو کسی قوم میں ذوق یقیں پیدا ہو جائے تو تدبیریں، شمشیریں اور زنجیریں سب قصہ پارینہ ہو جاتی ہیں، تاہم ماہر عمرانیات تبدیلی کی شعوری کوششوں سے بھی صرف نظر نہیں کرتے_ معاشرے میں ہمہ قسم مظاہر کے اثرات کا سائنٹفک اور شماریاتی جائزہ کوئ چیستان نہیں ہے_ تاہم تبدیلی کی چاہت میں ارباب حل و عقد اور عوام و خواص کو یہ بات ضرور مد نظر رکھنی چاہئے کہ تعلیم تحت الشعور ہوتی ہے_ اس سلسلے میں دو سطح کا شعور کس فرد، قوم اور ملک حتٰی کہ تہزیب کی کایا پلٹنے کیلئے کلیدی ہے ایک اجتماعی یا قومی سطح کا شعور اور دوسرا انفرادی یا فرد کی سطح کا شعور_ جتنا جتنا یہ شعور reversible reaction کی مانند متوازن شکل اختیار کرتا جاتا ہے معاشرہ اتنی ہی تیزی سے متوازن طور پر ترقی اور مفادات کے تحفظ کی راہ پر گامزن ہوتا چلا جاتا ہے_ 

عالم اسلام میں بہت ہی کم لوگ اس دور میں اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ اجتماعی شعور کے تحت فرد، قوم، ملک اور تہزیب کا ایک ویژن بنتا ہے اور اسکی روشنی میں ہی نظام تعلیم تشکیل پاتا ہے؛ ور پھر اسکی روشنی میں اداروں اور فرد کی سطح تک یہ شعور پھیلایا جاتا ہے جس سے معاشرے میں تحرک پیدا ہوتا ہے اور اسی سے فرد، معاشرہ، حکام اور ادارے ایک سمت میں حرکت کرنے میں ہمہ تن گوش ہوتے ہیں_ اسکی عملی مثال مغربی ثہزیب کی شکل میں ہمارے سامنے ہے_ یورپ کی نشاۃ ثانیہ Renaissance کے بعد مغرب نے اجتماعی شعور کے تحت مسلمانوں سے سیکھے ہوئے سائنسی افکارات کی بنیاد پر تعلیمی ادارے قائم. کیئے جس سے یورپ میں سائنسی انقلاب رونماء ہوا جو کہ industrial revolution کا موجب بنا_ اس کے تحت ہی یورپ نے پیداواری ذرائع، ٹیکنالوجی اور خام مال وغیرہ پر گرفت رکھنے کیلئے مغربی قومیت پرستی Nationalism کے ساتھ ساتھ Colonialism کا سہارا لیکر مسلم ممالک کی سرزمین کو قبضہ میں لیکر خاموشی سے یہاں کے قدرتی وسائل خام مال کی شکل میں اپنے اپنے ممالک میں برآمد کیئے اور بدلے میں دس کی چیز پانچ سو میں ہمیں بیچ کر ہمارے وسائل کو لوٹا گیا اور مسلم اقوام کو اپنے نشے میں مست کرکے اسے ترقی کا نام دیا گیا_ جب انھیں یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ شور بیٹھ کر بھی کام چلا لیں گے تو وہ یہاں پر نام نہاد آزادی کے چراغ جلوا کر مقامی لارڈز بلکہ مغرب کے مینیجرز کو حکمران طبقات کی شکل دیکر چلتے بنے_ 

جسے ہم آزادی کہتے ہیں مغرب کے اجتماعی شعور کے مطابق دراصل یہ neo-colonialism کا دور ہے جس میں مغرب نے اپنی نسلی خو کو کبھی بھی بالاۂے طاق نہیں رکھا_ اسکے ساتھ ساتھ آج سے تقریباً سو سال قبل جب مغرب کو محسوس ہوا کہ مغرب محض اپنی قومیت کی بنیاد پر Colonialism اور neo-colonialism کو جاری نہیں رکھ سکے گا تو انھوں نے مغربی قومیت کے چربے کو  عالمگیریت Universalism کے پردے میں بڑھا دینے کے تصور کو پروان چڑھانے کی بنیاد رکھنی شروع کی _ اسے World-System, One World, Internationsl Liberal Order, New World Order اور Globalization کا نام دیا جو کہ درحقیقت Western Political-Ecinomical World Order ہے_ اب آپ دیکھ لیں کہ اسی شعور کے تحت انھوں نے اپنا نظام تعلیم، صنعت و حرفت، نظام معیشت اور تجارت کو ترتیب دیا ہوا ہے_ مغرب نے کتنی خوبصورتی سے ہمیں اپنی قومی، استعماری، نو استعماری اور عالمگیر شعور سے نابلد رکھ کر ہمیں نامعلوم کون سے شعور اور ترقی کے سفر پر روانہ کیا ہوا ہے_ یہی وجہ ہے کہ نہ تو ہمیں اجتماعی شعور کا احساس اور نہ فرد کے شعور، تعلیم اور تربیت کی ہیئت اور خد و حال کا علم_ اسکی وجہ سے آج تک ہمیں اپنی منزل اور نشانات راہ کا علم ہو سکا_

ہم داستان گوئ کے خوگر اقبال اور جناح کی طرح کے مفکرین اور تجزیہ نگاروں کی findings کو مشکل کام سمجھ کر بس قصوں اور کہانیوں سے ہی تبدیلی آ جانے کی تمناء کیئے بیٹھے رہتے ہیں_ ہر چیز کی اپنی ایک حد اور ضرورت ہوتی ہے، خالی motivation سے کام نہیں چلا کرتا، معاشرتی ترقی اور استحکام کیلئے Social Articulation ایک ضروری عمل ہے_ تھوڑا سوچیئے! اس میں آپ کا کتنا حصہ ہے؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مسلم دنیا اب کیا کرے؟ اسی سلسلے میں مسلم دنیا کو اپنی تاریخ کو دوہراتے رہنے کی وجہ سے  nostalgia  کے طعنے دیکر دبانے کی تضحیکانہ کوشش جاری رہتی ہے، کیونکہ اسکے ساتھ ساتھ ہمارا موثر اور مناسب معاشرتی تحرک نظر نہیں آتا_ 

No comments:

Post a Comment